اور پھر نکلو کسی کی دعا لو اور کسی کو دعا دو، کسی الجھن سے نکلو اور کسی کی الھجن سلجھاو۔ کسی سے کام لو اور کسی کے کام آو
نباتات و جمادات کا سکوت تو اس حیرت کا پیش خیمہ کہ جس نے ان کو باندھ دیا ، اس ارض وسماں کے رقص کو دیکھو کہ کس نے انہیں وجد سے ہمکنار کر دیا ؟ ہر شے محو حیرت ہے کہ اسے اپنا ہوش نہیں اور اپنے کام میں غرق ہے ، بس اک انسان اس شرف سے ہمکنارہے کہ وہ سکوت سے وجد تک سفر کرے
دھوکا اور وہ بھی اپنے ساتھ ، ہنوز دلی دور است
مگر کب تک؟ اورسب ہی چلے گئے اس زمین کے باسی جب واپسی کا وقت ہوا
اور پھرزندگی کی شام ہو جاتی ہے مگر شام نہیں ہوتی
ع تے کہر جاندی نے ڈرنا
Advertisement

