Category Archives: ایجادات
لذتِ آشنائی
ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دور اور خلفاء راشدین، ملکہ وکٹوریہ کے دور میں نادر سکے
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دور اور خلفاء راشدین ، ملکہ وکٹوریہ کے دور میں نادر سکے
اجنیانوالہ (نمائندہ وقت J-49) گوجرانوالہ شیخو پورہ روڈ پر واقع آٹھ سو سال سے آباد قدیم قصبہ ارتالی ورکاں میں تین صدیاں دیکھ کر انتقال کرنے والے ولی کامل حافظ الحاج عبدالقادر ؒ کے مکتب میں نبی آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور خلفاء راشدین مختلف سلطنتوں کے بادشاہوں اور ملکہ وکٹوریہ کے ادوار کے نادر 57سکے اصلی حالت میں موجود ہیں سن 2ھ 3ھ 12ھ 13ھ کے سکوں پر تاجدار ِ مدینہ محمد ﷺ عربی کا کلمہ طیبہ صحابہ اکرام ؓ کی خلافت میں جاری ہونے والے سکوں پر چارو ں خلفائے راشدین کے نام مبارک حضرت ابوبکر صدیق ؓ عمر بن خطاب ؓ عثمان غنی ؓ اور علی المر تضے ؓ کے نام ان رائج الوقت سکوں پر ثبت ہیں حافظ عبد القادر ؒ مرحوم کے بیٹے حافظ خلیل الرحمان نے بتایا کہ ان کے والد حافظ عبد القادر ؒ نے مولوی حافظ محمد عمر ؒ کے گھر میں آنکھ کھولی ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اسی آبائی قصبہ میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور مقامی خاندانی مسجد کا انتظام سنبھال کر درس و تدریس کا کام شروع کر دیا جہاں پر انہوں نے ساری زندگی بچوں اور بڑوں کو قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کی تعلیم دیتے رہے اور زندگی کے آخری ایام میں بھی ان کی صحت قابل رشک تھی آپ نے ہمیشہ صحت مند اور سادہ غذا کو پسند فرمایا ۔ حافظ الحاج عبدالقادر کے ساتھ بیٹے اور دو بیٹیں ہیں جن کی اولاد میں سے 35حافظ قرآن ہیں آپ کے مکتب میں موجود اسلامی نادر سکے پشت در پشت چلے آرہے ہیں جو اس وقت گدی نشین حافظ خلیل الرحمان کے پاس موجود ہیں ایسے قدیم سکے دنیا کے کسی میوزیم میں موجود نہیں ہیں آپ ؒ کے ہاتھوں سے تحریر کردہ قرآن پاک کا نایاب نسخہ بھی موجود ہے آ پ ؒ کی درجن سے زائد کتب تفسیر نفیس الامین کے نام سے پنجاب یونیورسٹی میں بطور سلیبس بھی پڑھائی جاتی ہیں اسلامی سکوں کی زیارت کیلئے لوگ دور دراز کے علاقوں سے ہر سال 7فروری کو آپ حضرت حافظ الحاج عبدالقادر کے سالانہ عرس مبارک کے موقع پر مزار شریف ارتالی ورکاں گوجرانوالہ شیخو پورہ روڈ پہنچ کر زیارت سے مستفید ہوتے ہیں ۔
مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر
مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر
اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تزکیہ خود کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں
کسی “صاحب ِ نظر ” کی چوکھٹ کی جسکے درو دیوار بھی “لذتِ سکوں” میں غرق
تحریر و تحقیق:محمدالطاف گوہر
کوانٹم فزکس اور ذہنی قوت کے مربوط روابط انکے آپس میں لازم و ملزوم ہونے کے راز کو آشکار کر رہے ہیں، جسکے مطابق تمام مادی اشیا کے اجزائے ترکیبی بنیادی طور پر وہ ذرات ہیں جو انہیں ٹھوس شکل اختیار رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کوانٹم فزکس اس اصول پر بنیاد کرتی ہے کہ مادہ کا کمترین ذرہ ، الیکٹران دوہری خاصیت کا حامل ہے یعنی کبھی ذرات کی شکل اور کبھی لہر کی شکل میں اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے ، جبکہ سائنسی تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ مادہ کے کمترین ذرات کبھی ذرے کی شکل میں اور کبھی لہر کے طور پر اپنا اظہار کرتے ہیں مگر ایک ہی وقت میں دونوں خصوصیات کا اظہار اکٹھا نہیں کرتے جبکہ انکے اس رویے کا انحصار مشاہدہ کرنے والے پر ہوتا ہے۔
بلاشبہ مادی اشیا ایک انتہائی کمترین ذرہ ، الیکڑان سے مرکب ہیں لہذا اس دنیا کی اساس یہی ذرات اس سارے جہاں میں بکھرے ہوئے ہر طرف موجود ہیں اور یہی اشیا کو مادی شکل دینے کیلئے بنیادی ٹکڑوں کا کردار ادا کر رہے ہیں، یہی انسانی جسمانی ساخت کی بنیاد ہیں اور یہی ذمہ دار ہیں ان گھروں کے جن میں ہم رہتے ہیں اور انہی کی بدولت ہمیں وہ گاڑیاں میسر ہیں کہ جن میں ہم گھومتے پھرتے ہیں اور اس دولت کے بھی جو بینکوں میں جمع ہے، حتیٰ کہ ہماری تمام حقیقتیں ان کمترین ذرات سے اٹی پڑی ہیں جبکہ یہ ذرات اپنا ردعمل اسی طرح سے کرتے ہیں جیسا ہم انکے بارے میں مشاہدہ، دھیان رکھتے ہیں۔
ہم اس مادہ کی ان عالمگیر لہروں سے اسی طرح لفظ بالفاظ متاثر ہوتے ہیں ، جیسا ہم اسکے بارے میں مشاہدہ کرتے ہیں، با الفاظ دیگر کسی بھی شے کی اصلیت و حقیقت کا مشاہدہ دراصل ہمارے لیے حقیقت بنتا ہے۔ یہ ایسا ہی عمل ہے جیسے کسی جنگل میں کوئی درخت گرتا ہے اور اگر اسکے پاس اگر کوئی سننے والا کوئی نہ ہو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسکے گرنے کی آواز پیدا ہوئی تھی؟یہاں سائنسی تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ یقیناً آواز پیدا نہیں ہوئی ، کیونکہ درخت صرف اسی صورت میں آواز پیدا کر سکتا کہ اگر اسکا مشاہدہ ، دھیان کیا جائے ورنہ اگر اسکی طرف توجہ نہ دی جائے تو یہ کسطرح سے ممکن ہے کہ وہ آواز پیدا کرتا ؟ لہذا مشاہدہ ، دھیان، خبرداری ، بیداری یعنی توجہ دینے کا عمل مشاہدہ کہلاتا ہے بالفاظ دیگر سے آپ بیدار رہنے کا عمل بھی کہ سکتے ہیں۔
ہمارا دھیا ن اور بیداری اسی طرف ممکن ہے جس طرف ہم متوجہ ہوتے ہیں اور سائنسی تجربات ، ڈبل سلٹ ایکسپیریمنٹ،سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری توجہ مادہ کے کمترین ذرہ کے رویہ کو متاثر کرتی ہے لہذا یہ بات واضع طور پر سامنے آتی ہے کہ تمام مادی اشیا کا چال چلن ہماری توجہ،دھیان،سے متاثر ہوتا ہے جبکہ یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ ہماری توجہ کا ہی کمال ہے جو کچھ ہم اس دنیا میں اپنی ملکیت میں رکھے ہوئے ہیں اور ہماری توجہ ہی ہمارے لیے ہماری مادی دنیا کا وجود تشکیل دیتی ہے ،ہر شے جو ہمارے دھیان اور توجہ میں ہے ہمارے خیالات ،تخیل کے باعث وجود پاتی ہے ، جانتے بوجتے ہوئے یا انجانے میں، شناسائی میں یا پھر نا آشنائی کے عالم میں ، لہذا یہ بہت اہم ہے کہ ہم اسی طرف متوجہ ہو جائیں جسکے بارے میں ہم خیال کر رہے ہیں اور وہی کچھ سوچیں کہ جیسا ہم سوچنا چاہتے ہیں ، ہمارے خیالات ہماری موجودہ حالت اور اصلیت کے ماخذ ہیں اور اگر ہم اپنی موجودہ زندگی اور حالت سے مطمئن نہیں تو آج سے ہی نئے طریقے سے سوچنا شروع کر دیں ، نئی ذہنی تصاویر بنائیں ، نئے تصورات کو جنم دیں کہ یہ طریقہ ہمیں ہستی کے نئے وجود میں لا کھڑا کرے اور اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تذکیہ کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں کسی “صاحب ِ نظر ” کے چوکھٹ کی جسکے درو دیوار بھی “لذتِ سکوں” میں غرق ہیں اور یہ ” فیضِ نظر” کا کمال ہے کہ انسانی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے ، از لوں سے سسکتی ہوئی زندگی کو سکون سے آشنا کرنے والی نظر اگر اپنی موج میں شکستہ حال اور خزاں برد پر پڑتی ہے تو اسے بہار سے ہمکنار کرتی ہے اور اگر جلال میں ہریالی پر پڑتی ہے تو اسے خس و خاشاک کر دیتی ہے ، اور جو منظورِ نظر ہو جائے اسکو مسرتِ لازوال سے ہمکنار کرتی ہے۔
جس طرف نظر دوڑائیں “توجہ” کی جلوہ آرائی اپنے حسن و جمال کا شاندار نظارہ پیش کر رہی ہے ، سمندروں پر پڑتی ہے تو انکا سینہ چیر کر راہیں دریافت کرتی ہے ، اگر دریاوں پر پڑتی ہے تو پل باندھ دیتی ہے ، پہاڑوں پر پڑتی ہے تو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے ، میدانوں پر پڑتی ہے تو انہیں محلات میں تبدیل کر دیتی ہے ، آسمانوں پر پڑتی ہے تو فاصلے سمیٹتی ہے اور اگر انسانوں پر پڑ جائے تو زندگیاں بدل دیتی ہے۔
چاند کا فیضِ نظر جب زمیں پر ہوا تو سمندر چاندنی کی تاب نہ لا سکے اور اپنے اندر سے بیش و قیمت موتی و گوہر کناروں کی نظر کر گئے ، سورج کا فیضِ نظر جب زمیں پر ہوا تو زندگی نے انگڑائی لی جبکہ زمیں نے سونا اگلا اور زندگی نے سفر کرنا شروع کیا مگر رات کا فیضِ نظر ہوا تو زندگی نے استراحت فرمائی اور دن کے فیض ِ نظر نے لمحوں کو وقت سے آشکار کیا اور بادلوں کا فیضِ نظر ہے کہ ہریالی نے زمین کو مخملی قالین بنا دیا۔
آج جب تو نے مجھے پوچھا کہ “فیض” کیا ہے اور ” نظر، توجہ” کیا ہے تو ، اے سالک ِ راہ حق ، یہ مجھ پر آشکار ہوا کہ معاملات زندگی پر تو “فیضِ نظر” کی عنایات ہیں ورنہ یہ سلسلہ زندگی کبھی کسی گرداب کی نظر ہوتا اور کبھی گہری کھائی کی۔جب کوئی انسان اپنے آپ سے آگاہی حاصل کرتا ہے تو اسے ” لذتِ آشانی” کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ اور جس کے من کی دنیا میں اگر چشمہ خودی پھوٹ پڑے تو زندگی تپتے صحراوں سے نکل کر سکون کی گھنی چھاوں میں آ جاتی ہے اور اندر کا عکس بدل جاتا ہے اور باہر بھی شاہکارِ قدرت کا نظارہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونے سے کشف وجدان کے دھارے اور علم و عرفان کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور زندگی خزاں سے موسمِ بہار میں آ جاتی ہے۔ اِس آگہی کی لذت ایک شخص تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ بیرونی دنیا پہ بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے کہ آسمانوں سے مینہ برستا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور قدرت کی طرف سے شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور اِس کائنات کا ذرہ ذرہ اِس لذت سے معمور ہوتا ہے کہ جن کا الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے اِسی کے دم سے پھلوں میں رس بھرا جاتا ہے اور پھولوں میں خوشبو۔ بیماروں کو شفا ملتی ہے اور یہ نظر جس طرف اٹھتی ہے بہار ہی بہار آ جاتی ہے اور اِس نظر کی موج میں آنے والا ہر پل اپنے اوپر ناز کرتا ہے اور ہر فنا اپنی بقاءدیکھتی ہے۔
اِس زمین میں زرخیزی آتی ہے با الفاظِ دیگر اِس خود ی(Self)کا کیا کہنا کہ جو لذت آشنائی سے لبریز ہے اور ہم اِس کا تذکرہ قرآن کریم سے دیکھتے ہیں۔ سورة الکہف (آیت 60 تا 86) جہاں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ میں ، کس شان سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا تذکرہ کیا ہے جسے اللہ نے اپنا فضل اور علم بخشا ہے۔ (آیت 79 تا 86) دیکھیں کس طرح سے (بندے کی) میں سے ہم اور ہم سے اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا گیا ہے (میں نے چاہا، ہم نے چاہا اور تیرے اللہ نے چاہا) حالانکہ اِس واقعہ میں جو بیان کیا گیا ہے سارے کے سارے واقعات ایک بندہ کے ہاتھ سے سرزد ہو رہے ہیں مگر اِن کی توجیہہ میں ”میں“ سے اللہ تک کی رسائی کا پتہ ملتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا۔ اِس واقعہ میں شریعت اور طریقت کا شاندار امتزاج بیان کیا گیا ہے اور ایک بندے کی ”میں“ کا اللہ سے تعلق بیان کیا گیا ہے اور آشنائی کی لذت سے مامور دیے تو ابد تک کیلئے روشنی بن جاتے ہیں اگر ایک طرف یہ روشنی دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے تو دوسری طرف انکے فیضِ نظر کے باعث زندگی کی راہیں روشن ہوتی ہیں، یہ فیضانِ نظر کا کمال ہے کہ زندگیاں سکون کی دولت سے مالا مال ہوتی ہیں،، جبکہ ہماری زندگیوں میں روشنی اِنہی چراغوں کے دم سے ہے ، ورنہ کائنات کا ردِعمل ہر ظلم و زیادتی اور آہ پہ آندھی، طوفان اور زلزلوں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے، کیونکہ کائنات ہر کرب کا اور مظلوم کی آہ کا جواب ضرور دیتی ہے۔
اے زندگی تو احسان مان ان افرادکا ، جنکے فیضِ نظر کے باعث تواذیتوں اور کرب سے نجات پاتی ہے اور اگر کوئی گمراہی کے گھپ اندھیرے میں بھٹک جاتا ہے تو یہ نظر یں اسکی راہیں روشن کرتے ہوئے آگاہی کا پیش خیمہ بنتی ہیں ، اگر آگاہی کے مراحل طے کرنا دشوار ہوتو اسکی منزل آسان کرتی ہیں اور اگر کوئی روشن چراغ بننا چاہے تو اسکی ٹمٹماتی لو کودرخشاں کرتیں ہیں ۔مگر حیرت ہے اس پہ جو چاند کی تڑپ رکھتی ہوئی سمندر کی لہروں سے ، سونا اگلتی زمین کا سورج سے ، شاندار نظارہ پیش کرتی قوس و قزح اور سرسبز ولہلاتے کھیتوں کا بارش سے جو ربط ہے ، اس سے تو واقف ہیں مگراک ” صاحب ِ نظر” کے “حال” سے ناواقف ہے ۔
(یہ مضمون میری زیر طبع کتاب ” لذتِ آشنائی” جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اسکا ایک باب ہے ، آپکی آرا اور تبصرہ کا انتظار رہے گا)







