Category Archives: بچوں کی دنیا

لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
دل کے پیدائشی نقص کے بچوں کے علاج کی رجسٹری
سائنس و ٹیکنالوجی
امریکہ میں ڈاکٹر، دل کے پیدائشی نقص میں مبتلا بچوں کا علاج اب سرجری کی بجائے خون کی شریان میں ایک باریک ٹیوب ڈال کر اسے دل تک پہنچا کے کر رہے ہیں۔ یہ نیا طریقہ علاج طویل عرصے کے لیے کتنا مفید ہوسکتا ہے، یہ جاننے کے لیے طبی ماہرین نے ایسے بچوں کی صحت کا ان کی بلوغت کی عمر تک پہنچنے کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایک ڈیٹا بیس تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رجسٹری سے مستقبل کے ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے بہتر علاج میں مدد مل سکے گی۔
پانچ ماہ کے ایک بچے کا، جو دل کے نقص کے ساتھ پیدا ہوا تھا، شریان کے راستے دل میں باریک ٹیوب پہنچا کر علاج کیا گیا۔ یہ بچہ امریکہ میں ہرسال پیدا ہونے والے ان 36 ہزار بچوں میں سے ایک تھا، جن کے دل میں پیدائشی طورپرنقص موجود ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اب ایسے بچوں کا علاج اوپن ہارٹ سرجری کی بجائے دوسرے طریقوں سے کررہے ہیں۔ امراض قلب کے ایک ماہر ڈاکٹر جیرارڈ مارٹن کہتے ہیں کہ گذشتہ چار سال کے دوران ڈاکٹروں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ دل کے پیچیدہ آپریشن ٹیوب کے ذریعے کیسے کیے جاسکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ آپ کاٹ پِیٹ کے بغیر دل کی خرابی دور کرسکتے ہیں۔ آپ کو جسم میں چیرا دینے کی بھی ضرورت نہیں رہی ، اور مریض بھی تکلیف نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر جیرارڈ مارٹن چلڈرن نیشنل میڈیکل سینٹر سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے دل کی بیماری کی بعض صورتوں میں اس طریقہ علاج کے طویل مدتی اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹر مارٹن امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے ساتھ مل کر آئی ایم پی اے سی ٹی کے نام سے ایک نیا ڈیٹا بیس تیار کررہے ہیں ۔ اس ڈیٹا بیس میں دل کے ان مریضوں کا ایک طویل عرصے تک ریکارڈ رکھا جائے گا جن کا ٹیوب کے طریقے سے علاج کیا جائے گا۔ ڈاکٹر مارٹن کہتے ہیں کہ بہت سے مریضوں کا ان کے بچپن سے بلوغت کی عمرتک کا ریکارڈ رکھنے سے ڈاکٹر یہ جان سکیں گے کہ یہ طریقہ علاج کتنا مؤثر ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوسکے گا کہ جب ہم مرض کی اس کیفیت کا علاج کریں گے تو اس کا حقیقی نتیجہ کیا ہوگا۔ڈاکٹر مختلف بیماریوں کے علاج کے بعد ایک طویل عرصے تک مریضوں پر اس کے اثرات پرنظر رکھنے کے لیے اس طرح کا ڈیٹا بیس استعمال کرتے ہیں۔ ایل ڈیوس کی عمرا س وقت صرف تین ماہ تھی جب اس کے دل کا آپریشن ہواتھا۔ ان کے معالج ڈاکٹر رچرڈ جونز ، ڈیوس اور دوسرے ہزاروں مریضوں کی کیفیت کے بارے میں ابھی تک سرجری کے ایک ڈیٹا بیس کے رپورٹ حاصل کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جونز کہتے ہیں کہ یہ معاملہ آپریشن کے مرحلے سے خیریت کے ساتھ گذرنے اور اس کے بعد کے چند دنوں یا چندہفتوں میں مریض کی صحت کی خبر رکھنے کا نہیں ہے بلکہ ڈاکٹروں کو کئی عشروں تک اپنے مریضوں کی صحت کے بارے میں جاننا چاہیے۔ ڈیوس کی والد ہ ہوپ ڈیوس کہتی ہیں کہ اس ڈیٹا بیس کے ذریعے مستقبل میں دل کے نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی ۔ وہ کہتی ہیں اس ڈیٹا بیس کے ذریعے انہیں نہ صرف صحت کی دیکھ بھال کی بہتر سہولتیں حاصل ہوں گی بلکہ ان کے پاس اس حوالے سے سائنسی معلومات بھی زیادہ ہوں گی۔اور ہوسکتا ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے کہ انہیں ڈیوس کی طرح کے علاج کے مرحلے سے نہ گذرنا پڑے اوران کا زیادہ آسانی سے علاج ہوسکے۔
ڈاکٹر جیرارڈ مارٹن کہتے ہیں کہ دل کے نقص میں مبتلا بچوں کے ٹیوب کے ذریعے طریقہ علاج کا ڈیٹا بیس سے ڈاکٹروں کو اپنے مریض کے علاج کے بارے میں فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے گی اور وہ مختلف اسپتالوں میں ایسے مریضوں کے طویل عرصے تک جانے والے ریکارڈ سے بہتر فیصلے تک پہنچ سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیٹا بیس سے آنے والی نسلوں زیادہ صحت مند زندگی گذارنے میں مدد مل سکے گی۔
بشکریہ VOA
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Family, Health, People, معلوم, کالم, تحقیقات, صلاحیت, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, گھریلو امور, انسان, ایجادات, بچوں کی دنیا, تحقیقات, خواتین کی دنیا, خبریں, زندگی, صحت و تندرستی, عمومی بحث
بچوں کو بولنے میں مشکل
سائنس و ٹیکنالوجی
ایک چوتھائی لڑکوں کو بولنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کا اندازہ یو گوو آن لائن سروے میں ایک ہزار پندرہ والدین کا انٹرویو کرنے پر معلوم ہوا کہ نصف بچوں کو کم عمری میں بولنے میں مسئلہ درپیش ہوتا ہے جس کے لیے ماہرین کی خدمات لی جاتی ہیں۔ یہ سروے برطانیہ کے پہلی ’کمیونیکشن مہم‘ کا حصہ تھا جس میں معلوم ہوا کہ کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو تین سال کی عمر تک پہنچنے تک ایک لفظ بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ سروے ٹیم کی مس جین گروس کا کہنا ہے کہ بچوں میں یہ مسئلہ بہت زیادہ ہے اور ان کی جلد مدد کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ کسی سے رابط کرنے کی صلاحیت بنیادی اہلیت اور اس میں دوسری چیزیں نیچے رہ جاتی ہیں۔ بول چال سیکھنا سب سے اہم مہارت ہے اور اکیسویں صدی میں بچوں کو اس میں مہارت حاصل کرنا ہو گی۔ ایسے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے جو بولنے کے عمل کو سیکھنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اورخاص طور لڑکوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔یہ لازمی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے ایسے بچوں کو پیشہ وار ماہرین کی مدد فراہم کی جائے ۔ سروے میں شامل دس میں سے چھ لوگوں نے کہا کہ شروع کے سالوں میں بچوں میں بولنے کی صلاحیت، سننا اور چیزوں کو سمجھنا سب سے اہم مہارت ہے۔ سروے میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ تصویری کتابیں دیکھتے ہیں اور انھیں کہانیاں اور نرسری کے معیار کی نظمیں سنائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے زبان( بولنا) بہتر ہوتی ہے۔ سروے کے مطابق بچوں کی اکثریت جو اکیاون فیصد بنتی ہے چھ ماہ کی عمر سے پہلے اپنے والدین کے ساتھ تصویری کتابوں کو دیکھنے سے لطف اندوز نہیں ہوتے ہیں لیکن تین ماہ یا اس سے بڑی عمر کے اٹھارہ فیصد بچے ایسے عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سروے میں پچانوے فیصد والدین کو اپنے بچوں کا پہلا لفظ یاد تھا۔ پندرہ فیصد بچوں کا پہلا لفظ ڈاڈا، تیرہ فیصد ڈیڈی، دس فیصد ماما، آٹھ فیصد ممی کہتے ہیں۔اس کے علاوہ کیٹ دو فیصد اور ڈوگ ایک فیصد ادا کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بچوں کو ما کے مقابلے میں لفظ ڈا ادا کرنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے۔ سروے میں شامل والدین کے مطابق اوسطً دس سے گیارہ ماہ کی عمر میں جا کر بچے پہلا لفظ بولتے ہیں۔ ایسے بچوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے جو نو ماہ تک پہلا لفظ بولتی ہیں جبکہ چار فیصد بچے ایسے ہیں جو تین سال تک پہلا لفظ نہیں بولتے ہیں۔
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Education, Family, Health, People, Science & Technology, آج, تحقیقات, زندگی, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, Family, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, گھریلو امور, انسان, بچوں کی دنیا, تحقیقات, خبریں, سائنس و ٹیکنالوجی, صحت و تندرستی, عمومی بحث
ہما الطاف گوہر ایک انٹرویو
Huma Altaf Gohar’s Interview
[Youtube=http://www.youtube.com/watch?v=6VYuTYUwWKk]
ہما الطاف گوہر سے ایک انٹرویو ، پہلی جماعت کی طالبہ ہے ، اپنی کلاس میں پہلی تین پوزیشن میں رہتی ہے، روزانہ سونے سے پہلے اسکا ایک سوال ہوتا ہے ، آو اللہ کی باتیں کریں اور پھر باتیں سناتے ہوئے سو جاتی ہے، ہر روز ایک نئی بات جو پہلے والی بات سے آگے سے شروع اور نیند پر ختم ۔۔۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
Like this:
Be the first to like this post.
2 comments | tags: Articles, Culture, Family, People, ویڈیوز, یو ٹیوب, آج, اللہ, اسلام اور دور جدید, بچوں, زندگی | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, ویڈیوز, کالم, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, انسان, اسلام, اسلام و معاشرہ, بچوں کی دنیا, تحقیقات, تعلیم و تربیت, تعارف, خواتین کی دنیا, خبریں, زندگی, شخصیات, عمومی بحث
بچوں کے رونے پر نیا تحقیقی انکشاف ;
بچے اپنی مادری زبان میں روتے ہیں
کچھ عرصہ قبل تک سمجھا جاتا تھا کہ بچوں کا رونا دراصل کسی ذہنی کاوش کا نتیجہ نہیں ہوتا مگر حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ بچے روتے بھی دراصل اپنی مادری زبان میں ہیں۔

بچے اپنی مادری زبان میں روتے ہیں

روتا ہوا بچہ
فرانس اور جرمنی میں مشترکہ طور پر ہونے والی اس تا زہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچے دراصل اپنے مادری لہجے میں روتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق اپنی پیدائش کے ابتدائی دنوں میں ہی فرانسیسی بچے، جرمن بچوں سے مختلف انداز میں روتے ہیں کیونکہ ان کی آواز کے سُر دھیمے پن سے بلندی کی طرف جاتے ہیں، جبکہ جرمن بچوں کی آواز کے اونچے سُر بتدریج دھیمے ہوتے جاتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ دونوں زبانوں کے درمیان لہجے یا بولتے ہوئے آواز کے زیر و بم میں نمایاں فرق ہے۔ سائنسی تحقیقی جریدے کرنٹ بائیالوجی “Current Biology” میں

بچے اپنی مادری زبان میں روتے ہیں
چھپنے والی اس تحقیق کے مطابق بچے اپنا مادری لہجہ دراصل رحم مادر ہی میں اپنا لیتے ہیں۔
جرمنی کی Wuerzburg یونیورسٹی، جرمن میکس پلانک انسٹیٹیوٹ کے انسانی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ادارے Max Plank Institute for Human Cognitive and Brain Sciences اور انسانی ذہانت، زبان دانی اور سائیکالوجی پر تحقیق کرنے والے فرانسیسی ادارے کی مشترکہ تحقیق کے مطابق بچہ دراصل پیدائش سے قبل ہی زبان سیکھنا شروع کردیتا ہے۔
اس تحقیق کا مقصد دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش تھی کہ بچوں میں بے ربط رونے کا عمل کب زبان دانی کی ابتدا بنتا ہے۔ اس تحقیق کے لئے نومولود فرانسیسی اور جرمن بچوں کی رونے کی آوازیں ریکارڈ کرکے ان کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔مشاہدے میں شامل بچوں میں سے جیسے ہی کوئی بچہ بھوک، تکلیف یا کسی اور وجہ سے رونا شروع کرتا، محققین کی ایک ٹیم اپنے مائیکروفونز اور ریکارڈنگ سسٹم کے ساتھ ان کی صوتی شکایت ریکارڈ کرنے کے لئے موجود ہوتے۔
Wuerzburg یونیورسٹی کی محققہ کیتھلین ورمکے کے مطابق ہم نے پہلی مرتبہ اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ بولنے کا عمل دراصل پہلی مرتبہ رونے سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔
یہ بات بہت پہلے ثابت ہوچکی ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے حمل کے آخری تین مہینوں میں نہ صرف اپنی ماں کی آواز پہچاننا شروع کر دیتے ہیں بلکہ وہ اپنی مادری اور دیگر زبانوں میں تمیز بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی معلوم ہو چکی ہے کہ نومولود بچے اپنی پیدائش کے چند مہینوں کے اندر ہی رونے کے دوران اپنی آواز میں اتار چڑھاؤ بھی سیکھ جاتے ہیں۔
خاتون محقق ورمکے کے مطابق اس سلسلے میں اب تک خیال یہ تھا کہ نومولود بچے اپنے آوازیں نکالنے کے عمل کو شعوری طور پر کنٹرول نہیں کرسکتے۔ بلکہ ان کے رونے میں آواز کا زیر و بم محض
ان کے سانس لینے کے دوران پیدا ہونے والے دباؤ کا مرہون منت ہوتا ہے۔ لیکن یہ مفروضہ اب غلط ثابت ہوگیا ہے۔
میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ہیومن کوگنیٹیو اینڈ برین سائنسز سے تعلق رکھنے والی محققہ انگیلا فرائیڈیریسی نے اس تحقیق کے لئے خاص طور پر جرمن اور فرانسیسی بچوں کے انتخاب کی وجہ یہ بتائی کہ ان دونوں زبانوں کے لب ولہجے، ردھم اور زیر و بم میں فرق بہت نمایاں ہے۔ فرانسیسی زبان میں زیادہ الفاظ ایسے ہیں جن کو ادا کرتے ہوئے بولنے والا ان کے آخری حصے پر stress یعنی دباؤ دیتا ہے جس سے تان اوپر جاتی ہے۔ جبکہ جرمن زبان میں بات اس کے برعکس ہے۔
مثال کے طور پر فرانسیسی بچے “پا پا” بولتے ہوئے پہلے ’پا‘ کو آہستہ یا نرم انداز سے ادا کرتے ہیں جبکہ دوسرے ’پا‘ کو ادا کرتے ہوئے سُر بلند ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف جرمن بچے اس کے برعکس پہلے ’پا‘ پر زیادہ سٹریس دیتے ہیں اور دوسرا ’پا‘ قدرے نرم انداز سے بولتے ہیں۔ اور یہ بالکل ان کی مادری زبان کے عین مطابق ہوتاہے۔
محققین کے مطابق زبان کے سُروں سے متعلق ابتدا میں ہی پیدا ہوجانے والی یہ حساسیت دراصل بعد ازاں ان کے لئے مادری زبان سیکھنے کے عمل میں بہت معاون ہوتی ہے۔
کیتھلین ورمکے کا کہنا ہے کہ بچوں میں زبان سیکھنے سے متعلق ان نئی معلومات سے دراصل بچوں میں بولنے کے حوالے سے کسی بھی خرابی کی بروقت تشخیص میں مدد ملے گی۔ نتیجتاﹰ اس طرح کی کسی خرابی کی صورت میں اسے ابتدا میں ہی بذریعہ علاج درست کیا جاسکے گا۔
ورمکے اور ان کے ساتھی محقق اپنے تحقیقی نتائج کو مزید پرکھنے کے لئے اب وسیع پیمانے پر مزید تحقیق کر رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ پہلے ہی دنیا کے مختلف ملکوں کے بچوں کے رونے کی آوازیں ریکارڈ کر چکے ہیں اور اب ان کا تجزیہ جاری ہے۔
بشکریہ DWD
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Family, Health, بچوں, تحقیقات, زندگی, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, انسان, ایجادات, بچوں کی دنیا, تحقیقات, تعلیم و تربیت, ثقافت, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, سائنس و ٹیکنالوجی, عمومی بحث