Category Archives: تعارف

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔


لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


شوبز شخصیات کے ڈی این اے سے تیار کردہ پرفیوم کی فروخت

ڈی این اے DNA

لندن:شوبز کی دنیا کی مشہور و نامور شخصیات کے ڈی این اے سمپل سے تیار کردہ پرفیوم فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کردیے گئے۔ ان پرفیوموں کی تیاری میں مشہور شخصیات کے بالوں سے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے شامل کیے گئے ہیں۔ جن شہرت یافتہ شخصیات کے ڈی این اے سے تیار کردہ پرفیوم مارکیٹ میں آچکے ہیں ان میں مائیکل جیکسن، ایلوس پریسلے، مارلن منرو اور نپولین بونا پارٹ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ الکوحل کے بغیر ایلو ویرا سے تیار کردہ ان پرفیوم میں ایلوس پریسلے کا پرفیوم فروخت کے لحاظ سے اوّل نمبر پر، جب کہ مائیکل جیکسن دوسرے نمبرپر ہے۔

بچپن کے جذباتی صدمے ڈی این اے میں تبدیلی پیدا کر کے خود کشی اور دیگر ذہنی اور جسمانی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں:ماہرین

ایک خبر کے مطابق -ٹورنٹو ۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بچپن کے جذباتی صدمے کے اثرات انسان کے ڈی این اے میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان جذباتی صدموں کی وجہ سے بعض اوقات مستقل ”اعصاب زدگی“ لاحق ہو جاتی ہے۔ یہ صدمے جسمانی چوٹ یا زخم کی صورت میں بھی لاحق ہوتے ہیں جس سے جسم کے درجہ حرارت گرنے سے سرا سمیگی پیدا ہو جاتی ہے۔ مانیئریال میگ گل یونیورسٹی اور ”ڈگلس انسٹی ٹیوٹ ٹرایوس ان چائلڈ ہڈ اینڈ منیئل کیئر “ کی اس مشترکہ تحقیق میں انسان کے جین کے کام کرنے کے طریقہ کار اور خود کشی کے رجحان کوبھی دیکھا گیا۔ اس تحقیق میں 36 افراد کا مطالعہ کیا گیا جن میں سے 12 افراد کو لاحق ذہنی جذباتی صدمے ،12 افراد کو خودکشی کے رجحان میں مبتلا ہونے اور بارہ افراد کو دیگر چوٹوں کے شواہد ملے۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ جن افراد کے ساتھ بچپن میں جنسی تشدد یا جسمانی تشدد ہوا ان کے جین کی ساخت بدل چکی تھی۔ ماہرین نے دیکھا کہ ڈی این اے کو کنٹرول کرنے والے نظام ”بائیو تھلمیک پیچیوٹری ایڈرنل“ (ایچ پی ا ے) پر دباﺅ بڑھنے سے ان افراد میں خود کشی کے رجحانات بڑھ چکے تھے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بچپن کے جذباتی صدموں کے اثرات کو دور کرنے کیلئے باقاعدہ علاج معالجے کی اشد ضرورت ہے۔

ڈی این اے، تخلیق الہی کا کرشمہ

ڈی این اے (DNA ) کی معلومات تک پہنچنا سائنس کی تاریخ کا بڑا اہم سنگ میل ہے۔ سائنس جو خدا کی منکر ہوگئی تھی اب خدا کا اقرار کیا چاہتی ہے۔ دنیائے سائنس نے مان لیا ہے کہ چارلس ڈاروَن کے تصورِ ارتقا نے انسانیت کے ١٥٠ سال خراب کیے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ڈی این اے کی تفصیل بتائی جائے کہ اس دریافت نے کس طرح خدا کے قریب ہونے کا راستہ ہموار کیا ہے، ہم یہ بتاتے چلیں کہ ١٩ ویں صدی میں تین بڑی طاقتور آوازیں گونجتی رہی ہیں جن میں سے ہر آواز کے لاکھوں پیروکار پیدا ہوئے۔ ان میں ایک آواز کارل مارکس کی تھی جس نے تمام دنیا کے محنت کشوں اور کاری گروں کو یک جہتی کا پیغام دیا۔ اس کے تصورات اتنے جامع قرار پائے کہ تاریخ، معاشیات و مالیات، سیاست اور معاشرے کے مکمل احاطے کے ساتھ علم و دانش کے بے اندازہ شعبوں کو متاثر کرگئے۔ یہ انقلاب برپا کرنے اور اپنی دنیا آپ تبدیل کرنے والے خیالات تھے جو اپنی ابتدائی شکل میں ١٩٤٨ء میں اشتراکی منشور (Communist Manifesto) کی شکل میں سامنے آئے۔ یہ مادہ پرست پس منظر میں صرف دولت کی تقسیم پر سماج کی تعمیر کا وہ خواب تھا جس کی تعبیر روس میں بڑے پیمانے پر آزمائی گئی۔ روئے زمین پر اس تصور کے کروڑوں پیروکار پیدا ہوئے اور اس کی ہم نوائی میں زندگی کی تعبیر پھر سے کی جانے لگی۔ خدا ناشناس علمی عنوانات، روشن خیالی، ترقی پسندی، آزاد خیالی، عورتوں کے حقوق جیسے سیکڑوں خوب صورت الفاظ تراشے گئے جو عام آدمی کو خوش کرنے اور ایک معیاری انصاف پسند دنیا بنانے کا ولولہ انگیز طوفان تھا جو بڑے بڑوں کو بہا لے گیا۔ روس کے خاتمے کے ساتھ یہ اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے تمام ہم نوا اور پیروکار اپنے اپنے بلوں میں واپس جانے کے راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوگئے۔
دوسری آواز فرائڈ کی تھی جو ٨٨٢١ء میں شعور اور تحت الشعور کی بحث کے ساتھ اُبھری، اس نے تجربات سے ثابت کیا کہ بھولی ہوئی یادیں اور تجربات تحت الشعور میں محفوظ ہوجاتے ہیں اور ان کو واپس یاد دلایا جاسکتا ہے۔ ان تجربات کو کرنے کے لیے اس نے نفسیاتی تجزیے (psychoanalysis) کا وہ تجرباتی طریقہ پیش کیا کہ رومانی دنیا کے انسانی ذہن کے لیے لامحدود وسعتوں تک ترقی کرسکنے کے امکانات وا کردیے۔ یورپ، امریکا اور دنیا بھر میں نفسیاتی تجزیے کی تجربہ گاہیں کھل گئیں۔ فرائڈ کی سب سے زیادہ مشہور تشریح اس کا لبیڈو (Libido) نظریہ تھا جس کے لاتعداد ہم نوا اور بے اندازہ مخالفین بھی سارے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ لبیڈو نظریہ کے تحت انسان اپنی تمام نشوونما میں پیدا ہوتے ہی یعنی ماں کا دودھ مانگنے کے وقت سے موت کی آخری ہچکی تک ایک جنسی تسکین کا متمنی رہتا ہے۔ جنسی لذت کی کمی اور زیادتی کے تجربات کے تحت ہی انسان کی تمام جسمانی، ذہنی، دماغی، عملی اور دانش مندی کی کارفرمائیاں وجود پاتی ہیں۔ اس نظریے کو انسان کے تمام اوامر زندگی پر محیط کرنے کی کوشش عالمی پیمانے پر کی گئی۔ یہ خود پسندی (Narcissism) تھی، یعنی وہ نفسی کیفیت جس میں انسان اپنی ہی ذات کو کامل اور خود اپنے ہی عشقِ ذات میں محو رہنا کافی سمجھتا ہے۔ اپنی جسمانی لذتوں کے پانے میں گم ہوجانے اور اسی کو مرکز حیات اور مقصد کائنات سمجھنے اور سمجھانے والوں کی یہ شديد گونج مختلف ناموں سے ٩١ ویں صدی میں اٹھی اور پوری ٠٢ ویں صدی میں گونجتی رہی اور بالآخر ١٢ ویں صدی کے آتے آتے غلط اور بے بنیاد ثابت کردی گئی۔
تیسری آواز ڈاروَن کی تھی جس نے انسان کو بندر کا رشتے دار بتایا اور فلسفہ ارتقا کے دیوانے گھر گھر نظر آنے لگے۔
٢٠٠٠ء میں یہ ثابت ہوا کہ جب روشنی کی رفتار کو کئی گنا بڑھایا گیا تو اس تجربے کے دوران سائنس دان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس تجربے میں تاثیر (effect) اس کے سبب (cause) سے پہلے ہوئی۔ ایک اخبار نے لکھا کہ یہ ثابت ہوا کہ کسی سبب سے پہلے اس کی تاثیر کا ہونا ممکن ہے۔ اب تک خیال تھا کہ کسی بھی اثر، انجام، نتیجہ یا حاصل کو پانا اس کے سبب، وجہ یا علّت کے ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔ یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ کسی واقعے کی انتہا اس کی ابتدا سے پہلے بھی ممکن ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ واقعہ خود اپنے آپ میں ایک تخلیق (creation) ہے۔ یہ کسی دوسرے واقعے کا ردعمل نہیں ہے۔ اب تک جو کہا جاتا رہا ہے کہ ہر عمل کسی عمل کا ردعمل ہے یا یہ کہ There is reaction to every action، یہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ ٢٥ جون ٠٠٠٢ء کو یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک قدیم چڑیا کا فوسل (fossil) جو لاکھوں سال بعد دریافت ہوا وہ بھی چڑیا ہی تھا یعنی لاکھوں سال پہلے سے اب تک اس چڑیا میں کوئی ارتقا (evolution) نہیں ہوا۔ آج کی چڑیا بھی بالکل وہی چڑیا ہے جو لاکھوں سال پہلے تھی۔ ٠٠١٢ء میں انسانی جینوم (genome) پراجیکٹ مکمل ہوا جس میں زندگی کے حیاتیاتی میک اپ (biological makeup) کا مکمل نقشہ تیار کیا گیا جو اس صدی کا بڑا سائنسی کارنامہ ہے۔ اس پراجیکٹ کے نتیجے میں یہ بات اور واضح ہوگئی کہ خدا کی تخلیق جو انسان کی شکل میں ودیعت کی گئی ہے وہ زندہ اشیا میں سب سے عظیم تخلیق ہے۔ ماہرین ارتقا کوشش کر رہے ہیں کہ انسانی جین (gene) اور جانوروں کے جین میں مشابہت کی افواہ پھیلا کر کچھ مواد اپنے مطلب کا نکالنے میں کامیاب ہوجائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دانش وروں اور سائنس دانوں کی بڑی تعداد نظریہ تخلیق کی حامی (creationist) ہوتی جارہی ہے جن کا یہ اعتراف ہے کہ دنیا کسی عظیم قوت کی قوتِ تخلیق سے وجود میں آئی ہے۔ بتدریج ترقی کے مراحل سے گزرتی ہوئی اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچی ہے۔ آیندہ جو مختصر تفصیلات بیان ہوں گی ان کی روشنی میں آپ خود اندازہ لگا سکیں گے کہ خدا ناشناس سائنس اب اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے اور ١٢ ویں صدی انسان کو اپنے کھوئے ہوئے خدا سے پھر ملا دے گی۔

ڈی این اے زندگی کا کوڈ

ڈی این اے میں موجود فرمانِ الٰہی جب سائنس کی سمجھ میں آنے لگا تو سب سے پہلے یہ مانا جانے لگا کہ زندہ اشیا ایسی مکمل اور پیچیدہ ترتیب و ترکیب کا مرکب ہیں کہ یہ حادثاتی طور پر کسی اتفاق کے تحت وجود میں نہیں آسکتیں جب تک یہ کسی بڑے ماہر اور قادر مطلق بنانے والے کی کارگزاری نہ کہی جائے۔ اگر کسی مقام پر اینٹ، پتھر، گارا، مٹی، قالین، ایرکنڈیشنر، ٹی وی اور ریفریجریٹر اور دیگر سامان موجود ہو اور پھر اچانک ایک حادثہ یا اتفاقی واقعہ ایسا ہوجائے کہ یہ سب مل کر بادشاہ سلامت کا محل بن کر اُبھر آئے، یہ جادو کی کہانی تو ہوسکتی ہے ایک سائنسی حقیقت کبھی نہیں ہوسکتی۔ اب ڈی این اے میں چھپے ہوئے تین بلین (١٠٩ ٣ x) یا ٣ ارب کیمیائی حروف کو decode کرنا اور انسانی ڈی این اے میں موجود ٥٨ فی صد ڈاٹا صحیح ترتیب و سلسلے (sequence) میں لانا ممکن ہوگیا۔ اتنا اہم اور کامیاب پراجیکٹ بھی اس کے لیڈر ڈاکٹر فرانسس کولنز (Francis Collins) کے بقول ابھی پہلا قدم ہے جو ڈی این اے میں چھپی معلومات حاصل کرنے کی طرف اٹھایا گیا ہے۔ معلومات کے اس ذخیرے کو حاصل کرنے میں اتنا زمانہ کیوں لگا اس سوال کا جواب ملے گا اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ڈی این اے میں کس نوعیت کی معلومات پوشیدہ ہیں۔

ڈی این اے کی دنیا

ڈی این اے ہمارے جسم کے ٠٠١ ٹریلین (١٠١٤ ، یا ٠٠١ کھرب) خلیوں میں سے ہر ایک خلیے کے مرکزے (nucleus) میں بڑی حفاظت سے موجود ہوتا ہے۔ ہر خلیے کا قطر ٠١ مائی کرون (micron) ہوتاہے۔ مائی کرون m٦-١٠ کو کہتے ہیں۔ گویا میٹر کا دس لاکھ واں حصہ یا ملی میٹر کا ایک ہزارواں حصہ۔ اتنے چھوٹے خلیے کے درمیان ڈی این اے محفوظ ہوتا ہے۔ اس ڈی این اے میں انسانی جسم کی ساخت اور بناوٹ کی تمام تر تفصیلات اتنی وسعت، گیرائی اور گہرائی کے ساتھ لکھی ہوئی ہیں کہ اس کا وجود اللہ رب العزت کی صناعی کی اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اپنے سمجھنے کے لیے ان معلومات کو صرف سلسلہ ترتیب میں لاکر انسان پھولا نہیں سما رہا ہے۔ اس علم کو ایک عظیم الشان شعبہ علم سے وابستہ کر کے اس کو جینیات (enetices) کا نام دیا گیا ہے۔ ١٢ ویں صدی کی یہ علمی شق ابھی گھٹنوں چلنے کی عمر میں ہے۔ اس میدان میں ابھی اور نہ جانے کیا کیا انکشافات ہونے ہیں۔

ڈی این اے میں زندگی

آج مثلاً ٥٢ سال کی عمر میں ہم اپنا سراپا آئینے میں دیکھیں تو یہ بے داغ جسم، یہ حسین و پُرکشش شکل و شباہت، یہ صحت و تندرستی، یہ علم و دانش سے آراستہ ذہن و عقل کس طور ترقی کرتے ہوئے اس حال کو پہنچیں گے، یہ علم ٥٢ سال اور ٩ ماہ پہلے اس ڈی این اے میں لکھ دیا گیا تھا جو ماں کے پیٹ میں سب سے پہلے بار آور شدہ بیضے (fertilized egg) کے خلیے کی شکل میں نمو پایا تھا۔ اتنا ہی نہیں ہماری لمبائی چوڑائی، وزن، ناک نقشہ، چہرہ مہرہ، بالوں اور آنکھوں کا رنگ، جلد کی رنگت، خون کی قسم وغیرہ نطفہ ٹھیرنے سے شروع ہوکر موت تک روز بروز ماہ بہ ماہ، سال بہ سال تبدیلیوں کا حال ایک مکمل تسلسل کے ساتھ ڈی این اے میں موجود رہتا ہے۔ مثلاً اس میں لکھا رہتا ہے کہ کب کب خون کا دباؤ زیادہ ہوگا اور کب کم رہے گا۔ کب سر کا پہلا بال سفید ہوگا اور کب دُور کی اور قریب کی نظر کمزور ہو جائے گی۔

انسانی خلیے میں ضخیم انسائی کلوپیڈیا

ہم معلومات کے ذخیروں کو انسائی کلوپیڈیا کی طرز پر جانتے ہیں۔ ڈی این اے میں پوشیدہ معلومات کا ذخیرہ کوئی معمولی ذخیرہ نہیں۔ ایک ڈی این اے میں موجود معلومات کو اگر کتابی شکل میں منتقل کیا جائے تو یہ برطانوی انسائی کلوپیڈیا کے ٠١ لاکھ صفحات پر مکمل ہوگا۔
ذرا تصور کریں کہ انسانی جسم کے ٠٠١ ٹریلین خلیوں میں سے ہر خلیے کے مرکزے کے اندر ایک مالیکیول (molecule) جس کا نام ڈی این اے ہے، ملتا ہے۔ اس کا سائز ایک ملی میٹر کا ایک ہزارواں حصہ ہے اور اس میں وہ معلومات درج ہیں جو دنیا کے سب سے بڑے انسائی کلوپیڈیا بریٹانیکا سے ٠٤ گنا زیادہ ہیں جو اسی انسائی کلوپیڈیا جیسی ٠٢٩ جلدوں میں سما سکے گا، جس میں متعدد معلومات کی ٥ بلین (١٠٩ x ٥) قسمیں یا جزئیات (pieces) محفوظ ہیں۔ اگر ہر ایک جز کو پڑھنے پر صرف ایک سیکنڈ صرف کیا جائے اور ٤٢ گھنٹے متواتر پڑھنے کا سلسلہ رہے تو اسے ایک بار پڑھنے کے لیے ٠٠١ سال لگ جائیں گے۔ ٠٢٩ جلدوں کی ان کتابوں کو اگر ایک دوسرے کے اُوپر سجایا جائے گا تو ٠٧ میٹر اونچا کتابوں کا مینار تیار ہوجائے گا۔ یہ سب معلومات اس ذرے میں سما دی گئی ہے جو پروٹین، چربی اور پانی کے چند مالیکیولوں سے مرکب ہے۔
جی جی تھامسن نے لکھا تھا کہ ہماری زمین پر کل جان دار اشیا ایک ہزار ملین ہیں۔ ان تمام اشیا کی معلومات ڈی این اے کی شکل میں جمع کی جائے تو چائے کے ایک چمچے میں آجائیں گی اور پھر بھی جگہ خالی رہے گی۔

خلیے میں دانائی

جسمِ انسانی کے سارے ٠٠١ ٹریلین خلیے عجب حکمت اور دانش مندی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ یہ بظاہر بے جان ایٹموں کا مجموعہ ایک بے روح شے ہونا چاہیے۔ ہم اگر تمام عناصر کے ایٹم جمع بھی کرلیں، ان کو کسی بھی ترتیب سے لگا لیں مگر وہ دماغ، وہ سمجھ بوجھ اس ذخیرہ ایٹم سے حاصل نہیں کرسکتے جو کسی عمل کو سلیقے، سلسلے اور ترتیب کے ساتھ انجام دینے کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح ہر عقل و سمجھ بوجھ والے کام کے لیے ضروری ہے کہ کسی دانش مند نے اس کام کو انجام دیا ہو، وہ کمپیوٹر ہو یا کوئی اور کام ہو، اسی طرح ڈی این اے بھی اپنے بنانے والے سے عقل و دانش اور سمجھ بوجھ لے کرآیا ہے۔

ڈی این اے کی زبان اور قوت گویائی

ہماری زبان میں ‘الف’ سے ‘ے’ تک حروف تہجی ہیں۔ انگریزی زبان A سے Z تک ٦٢ حروف سے بنتی ہے۔ ڈی این اے کی زبان میں صرف چار حروف ہیں: A-T-G-C۔ ان میں سے ہر ایک حرف ان خاص بنیادوں (bases ) میں سے ایک ہے جو نیوکلیوٹائیڈس (nucleotides) کہلاتے ہیں۔ دسیوں لاکھ bases ایک ڈی این اے میں قطار در قطار ایک بامعنی ترتیب اور سلسلے کی کڑی بنائے رکھتے ہیں اور یہ سب مل کر ایک ڈی این اے کا مالیکیول بناتے ہیں۔
A،T،G اور C میں سے کوئی بھی دو مل کر ایک اساسی جوڑا بناتے ہیں جسے اساسی جوڑا (base pair ) کہا جاتا ہے۔ یہی اساسی جوڑے اُوپر تلے جمع ہوکر جین بن جاتے ہیں۔ ہر جین جو کسی مالیکیول ڈی این اے کا ایک حصہ ہوتا ہے، انسانی جسم کے کسی نہ کسی حصے کے بارے میں معلومات محفوظ کیے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ اس جسمانی حصے کی نمایاں خصوصیات، وضع قطع، ڈیل ڈول، ہیئت، خدوخال، صورت، شکل، حلیہ، رنگ و روپ جو کسی فردِ خاص کی انفرادیت سے متعلق مفصل کیفیت کہی جاسکتی ہے، اس جین میں درج ہوتی ہے۔ اب انسان کی لاتعداد خصوصیات ہیں۔ یہ لمبائی ہو، آنکھوں کا رنگ ہو، ناک منہ کی ندرتیں ہوں یا کان بڑا یا چھوٹا ہو، یہ سب جین میں موجود پروگرام کے مطابق بنتے اور سنورتے جاتے ہیں اور جسم کا ہر ہر حصہ جین کے حکم کے مطابق پروان چڑھتا ہے۔
ایک انسانی خلیے کے ایک ڈی این اے میں ٢ لاکھ جین ہوتے ہیں۔ ہر جین مخصوص نیوکلیوٹائیڈس کے بالکل انفرادی سلسلہ ترتیب سے بنا ہوتا ہے۔ ان نیوکلیوٹائیڈس کی تعداد اس پروٹین کی قسم پر منحصر ہوتی ہے جس سے یہ وجود پاتا ہے۔ پروٹین کی یہ تعداد ٠٠٠١ سے ایک لاکھ ٦٨ ہزار تک ہوسکتی ہے۔ اس جین میں جسم انسانی میں موجود ٢ لاکھ قسموں کی پروٹین کا کوڈ بھی چھپا ہوتا ہے اور وہ نظام بھی موجود رہتا ہے جس کے تحت یہ تمام پروٹین ضرورت کے مطابق جسم میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایک جین بے چارہ ڈی این اے کا صرف ایک معمولی سا حصہ ہے۔ ٢ لاکھ جینز میں محفوظ معلومات یا کوڈ ڈی این اے میں موجود کل معلومات کا صرف ٣ فی صد ہی ہوتی ہیں۔ ٧٩ فیصد دفتر علم ابھی ہماری بساط آگہی کے لیے پر دئہ راز میں ہے۔ یہ بات تو مان لی گئی ہے کہ یہ ٧٩ فیصد علم جس تک ابھی انسان کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے، انسانی خلیے کی بقا اور ان مکانیات (mechanisms) سے متعلق جو انسانی جسم میں انتہائی پیچیدہ عوامل کے کنٹرول کا باعث ہوتے ہیں بڑی ناگزیر معلومات رکھتے ہیں۔ صرف ٣ فی صد معلومات کا پتا ملنے پر عقل انسانی حیران ہے، دانش و فکر پر سکتہ طاری ہے، ابھی مزید ٧٩ فی صد پوشیدہ معلومات تک پہنچنا ایک لمبا سفر ہے جو جاری ہے۔
جین خود بھی کروموسوم (chromosomes) میں واقع ہوتے ہیں۔ جنسی خلیے کے علاوہ ہر انسانی خلیے میں ٦٤ کروموسوم ہوتے ہیں۔ ہر کروموسوم ایک کتاب علم کی طرح ہے کہ ایک انسان کے متعلق تمام معلومات ٤٦ جلدوں کی کتابوں میں بند رہتی ہے، اور یہ سب بسیط معلومات کا وہ خزانہ ہے کہ جسے ورقِ کتاب پر لایا جائے تو برطانوی انسائی کلوپیڈیا کی ٠٢٩ جلدوں تک پھیل جائے۔
ہر انسان کے ڈی این اے میں حروف A، T، G اور C کا سلسلہ (sequence ) مختلف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روے زمین پر جتنے انسان پیدا ہوچکے ہیں اور قیامت تک جو اسی طرح پیدا ہوتے رہیں گے، وہ تمام کے تمام ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ذرا سوچیں کہ ہر انسان کے تمام اعضا کا نام مختلف نہیں ہے، یعنی آنکھ، ناک، منہ، دل، گردہ وغیرہ سب کے پاس ہے۔ پھر بھی ہر شخص کچھ ایسے خاص انفرادی اور بڑے تفصیلی طریقے پر پیدا ہوا ہے کہ سب کے سب ایک خلیے کے تقسیم در تقسیم ہونے کے عمل سے پروان چڑھنے کے باوجود ایک ہی بنیادی بناوٹ رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
ہمارے تمام اعضا ایک منصوبے کے تحت پروان چڑھے ہیں جو ہمارے جین میں لکھا ہوا ہے۔ سائنس دانوں نے جو خاکہ مکمل کیا ہے اس کے تحت جسم کے مختلف اعضا کو کنٹرول کرنے والے جین کی تعداد مختلف ہے۔ مثلاً ہماری کھال کو جو جین کنٹرول کرتی ہیں ان کی تعداد ٥٥٩٢ ہے۔ اسی طرح دماغ کو ٠٣٩٩٢، آنکھ کو ٤٩٧١، لعابِ دہن کو ٦٨١، دل کو ٦١٢٦، سینے کو ١٠٠٤، پھیپھڑوں کو ١٨٥١١، جگر کو ٩٠٣٢، آنتوں کو ٨٣٨٣، دماغی پٹھوں کو ١٩١١ ، اور خون کے سیل کو ٢٩٢٢ جین کنٹرول کرتے ہیں۔
ڈی این اے کے حروف کا سلسلہ ترتیب انسانی بناوٹ کی تمام تر تفصیلات طے کرتا ہے۔ معمولی سے معمولی تفصیل بھی اس کے احاطے میں ہے۔ صرف آنکھ، ناک، چہرہ مہرہ اور ظاہری حسن و جمال ہی نہیں، ایک سیل میں نصب ڈی این اے انسانی جسم میں موجود ٠٦٢ ہڈیوں، ٠٠٦ پٹھوں (muscles) اور ٠١ ہزار auditory muscles (کان سے متعلق پٹھے) کے نیٹ ورک اور ٠٢ لاکھ optic nerves (آنکھ سے متعلق) اور ٠٠١ بلین nerve cells اور تمام کے تمام ٠٠١ ٹریلین خلیوں کا مکمل ڈیزائن اپنے اندر سمائے ہوئے ہوتا ہے۔
اس وسیع سمندر کا اندازہ لگایئے اور علم کی کائنات کی سب سے پیچیدہ مشین ‘آدمی’ کے جسم و عقل اور فہم و ادراک کے پروان چڑھنے کا علم حیرت انگیز طور پر ایک ڈی این اے میں قطار در قطار جمع کردیا گیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ڈی این اے کے حروف کے سلسلہ ترتیب (sequence ) میں ذرا بھی نقص رہ جائے تو ممکن ہے آپ کی آنکھیں چہرے پر ہونے کے بجاے آپ کے گھٹنے پر نمودار ہوجائیں اور آپ کے ناک، کان، ہاتھ پاؤں، سر اور کمر اپنے موجودہ مقام سے ہٹ کر کسی بے ہنگم جگہ پر وارد ہوجائیں، ڈی این اے کا یہ مکمل نظام آپ کے بے داغ ڈیل ڈول اور ہر اعتبار سے مکمل انسان ہونے کا ضامن ہے۔
اب اگر کوئی کہے کہ ڈی این اے کا منظم سلسلہ کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے یا ناگہانی واقعہ ہے تو کوئی کم عقل بھی یہ بات نہ مانے گا۔ اتفاقات کا امکان یا احتمال، ریاضی میں امکان (probability) کے حساب سے معلوم کیا جاتا ہے۔ یہ وہ نسبت ہے جو کسی اغلب حالت کو جملہ ممکنہ حالات سے ہو۔ آج ریاضیات نے یہ بھی حساب لگا دیا ہے کہ محض اتفاق سے ایک ڈی این اے کے ٢ لاکھ جین میں سے کسی ایک جین کی بھی ترتیب اس مخصوص سلسلے سے ہموار ہوجانے کی نسبت صفر کے برابر ہے۔
فرانسس کرِک (Francis Crick) کو ڈی این اے کی ریسرچ پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ خود بڑا پکا حامی ارتقا تھا مگر کہتا ہے کہ: ”ایک انصاف پسند انسان، ان معلومات کی روشنی میں جو اب تک ہمارے پاس ہیں، صرف اتنا کہہ سکتا ہے کہ ایک خاص معنی میں، انسانی زندگی کی ابتدا اس وقت تو ایک کرشمہ ہی معلوم ہوتی ہے”۔
خیال رہے کہ بچوں میں (Haemophilia Leukemia) ڈی این اے کے کوڈ میں خرابی واقع ہوجانے سے ہوتا ہے۔ کینسر کی تمام قسمیں اسی نازک توازن کے بگڑ جانے سے ہوتی ہیں۔ یہ خرابی کسی بھی ایک ڈی این اے کے کسی ایک اساسی جوڑے میں توازن نہ ہونے سے ہوجاتی ہے۔ یہ خرابی C، G،T،A حروف میں مثلاً ایک بلین ١٨٦ ملین ٧٥٤ ہزار اور ٢٣٦ ویں اساسی جوڑوں میں ہوسکتی ہے۔ اتنی کثیر تعداد میں اساسی جوڑے، ہر خلیے میں ڈی این اے اور تمام ٹوٹتے بنتے اور تقسیم در تقسیم ہوتے خلیوں میں توازن برقرار رکھنے کا نظام بھی ڈی این اے کے کوڈ میں چھپا ہوتا ہے۔

ڈی این اے کا اپنی نقل بنانے کا عمل

ڈی این اے کی تحیر خیز دنیا میں اپنی ہی نقل یا خود ساختہ نقشِ ثانی بنانے (self replication) کا عمل انتہائی تیزی سے جاری رہتا ہے، سب جانتے ہیں کہ انسانی جسم کی ابتدا ماں کے پیٹ میں ایک خلیے سے ہوتی ہے۔ پھر یہ خلیہ تقسیم ہوجاتا ہے اور نئے خلیے وجود میں آتے جاتے ہیں جو کہ ایک سے دو، دو سے چار، اور اسی طرح ٤-٨ ، ١٦-٣٢ ، ٤٦ – ١٢٨ کی نسبت سے تقسیم ہوکر جنم لیتے جاتے ہیں۔
خلیہ تقسیم ہوکر دوسرا خلیہ بناتا ہے اور ہر خلیے کو ایک ڈی این اے چاہیے اور ڈی این اے کی کڑی خلیے میں ایک ہی ہوتی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر تقسیم ہوتا ہوا خلیہ اپنا ہم شکل ڈی این اے خود پیدا کرتا ہے۔ ہر خلیہ ایک خاص سائز کا ہوتا ہے۔ تقسیم ہوکر دوسرا خلیہ بنانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ خلیے میں شعور اور یہ ایقان کہاں سے آیا، خلیے کے ساتھ ساتھ ڈی این اے کی تقسیم کا خفیہ عمل بڑے دل چسپ طریقے پر ہوتا جاتا ہے۔
ڈی این اے کا مالیکیول جو شکل میں ایک چکردار زینے کی طرح ہوتا ہے تقسیم ہوکر دو حصوں میں zip کی طرح کھل جاتا ہے۔ یہ دونوں طرف سے غائب ادھورے حصے اسی اطراف میں موجود مادہ سے اپنی انوکھی تکمیل کو پہنچتے ہیں اور ایک سے دوسرا ڈی این اے وجود میں آجاتا ہے۔ تقسیم کے ہر دور میں خاص پروٹین اور خامرہ کسی ماہر روبوٹ (robot) کی طرح کام کرتے رہتے ہیں۔ تمام تفصیل کا ذکر ممکن ہے مگر اس کے لیے بہت سے صفحات بھی ناکافی ہوں گے۔
خامرے (enzymes) وہ کارندے ہیں جو ہر قدم پر یہ چیک کرتے ہیں کہ کوئی غلطی اگر ہوگئی ہے تو فوری طور پر اس کی اصلاح ہوجائے۔ ہر منٹ میں ٣ ہزار اساسی جوڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور نگرانی کرنے والے خامرے ضروری ترمیم، اصلاح اور ردوبدل بھی کرتے جاتے ہیں تاکہ نئے پیدا ہوئے ڈی این اے میں غلطی کا امکان نہ رہے۔ اس لیے ڈی این اے کے حکم سے مرمت کرسکنے والے زیادہ خامرے پیدا ہوتے ہیں۔ گویا ڈی این اے میں خود اپنی حفاظت کا، اپنی افزایشِ نسل کا اور نسلوں کو محفوظ اور برقرار رکھنے کا مکمل پروگرام کوڈ کیا ہوا ہوتا ہے۔
اب دیکھیے کہ خلیے پیدا ہوتے ہیں اور مرتے جاتے ہیں۔ آپ کے جسم میں جو خلیے چھے ماہ پہلے تھے ان میں سے آج ایک بھی باقی نہیں ہے۔ ان کی عمر بہت کم ہوتی ہے، میرے سب خلیے مرچکے ہیں مگر میں زندہ ہوں اس لیے کہ ہر خلیے نے بروقت اپنا ہمزاد پیدا کرنے کا عمل مکمل کرلیا تھا۔ یہ عمل انتہائی مہارت سے مکمل ہوتا ہے کہ کسی غلطی کا امکان ٣ بلین اساسی جوڑوں میں سے صرف ایک میں ہوسکتا ہے اور یہ غلطی بھی بڑے اعلیٰ تکنیکی انداز میں سنوار دی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ خامرے جو پل پل ٹوٹتے بنتے بکھرتے اور سنورتے ڈی این اے کو پیدا کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں وہ دراصل مختلف قسم کی پروٹین ہیں جن کے پیدا ہونے کی ترتیب اورسلسلہ بھی اسی ڈی این اے میں کوڈ کیا ہوا ہے اور اسی ڈی این اے کے حکم کے تابع ان کا نظام عمل چلتا ہے جس کی افزایش کی دیکھ بھال ان کو کرنی ہے۔

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آر ہی ہے دما دم صدائے کن فیکون

فلسفہ ارتقا کہتا ہے کہ انسان درجہ بہ درجہ کچھ فائدہ مند اتفاقات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ خامرے اور ڈی این اے کا بیک وقت وجود میں آتے جانا اور ان کا انوکھا تال میل کسی بڑے تخلیق کار (Creator) کا کارنامہ ہے اور وہ ہستی اللہ کی ہے، دنیا بھر کے دانش ور یہ حقیقت جانتے جارہے ہیں۔
سائنس کے پاس جواب نہیں ہے کہ ڈی این اے میں یہ معلومات کہاں سے آئیں، ہر زندہ شے، مچھلی، کیڑے مکوڑے، چرند و پرند اور انسان کے ڈی این اے مختلف کیوں ہوتے ہیں، خود ڈی این اے کا وجود اور ابتدا کیسے ہوئی۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے آر این اے کی ایک علیحدہ دنیا کا پتا چلا کہ خامرے کو آر این اے چلاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
خلاصہ یہ کہ زندگی دینے والے عناصر در عناصر مالیکیول، خلیہ، ڈی این اے، آر این اے، خامروں اور ہزاروں پروٹین سب جمع کرلیے جائیں تو بھی زندگی نہیں ملتی۔ تھک ہار کر ماننا پڑتا ہے کہ زندگی صرف تخلیق (creation) کے ذریعے ممکن ہے اور یہ خالق (Creator) کون ہے؟
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس کے علم میں سے کسی کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے”۔ (البقرہ ٢:١٥٥) (بہ شکریہ ماہنامہ الفرقان، لکھنؤ، نومبر ٢٠٠٧ئ)


مرزا اسد اللہ غالب کے 212 ویں یوم پیدائش پر متعدد تقریبات کا انعقاد

مرزا اسد اللہ غالب کے 212 ویں یوم پیدائش پر متعدد تقریبات کا انعقاد

نابغہ روزگار شاعر مرزا غالب کے یوم پیدائش پر دار الحکومت دہلی میں دو روزہ تقریبات منائی گئیں۔ اس موقع پر چاندنی چوک سے غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ کتھک رقاصہ اوما شرما نے غالب کی غزلوں پر رقص پیش کیا۔ قلمکار اور دانشور پون ورما نے غالب پر مضمون پیش کیا اور ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے غالب کے انداز میں خطوط غالب کی قرآت کی

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت غالب
دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے

ایک خبر کے مطابق اور27,26 دسمبر کو دوروزہ یوم غالب تقریبات کے دوران چاندنی چو ک کے ٹاون ہال سے گلی قاسم جان میں واقع غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ میں معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار گلزار، ڈائرکٹر وشال بھاردواج، ان کی اہلیہ اور گلوکارہ ریکھا بھاردواج، رقاصہ اوما شرما، قلمکار پون ورما اور بڑی تعداد میں دہلی کی ادب نواز اور غالب پسند شخصیات موجود تھیں۔

مرزا اسد اللہ غالب

اس موقع پر گلزار نے کہا کہ غالب کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ ہم شمع روشن کرکے غالب کی حویلی تک جاتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ یہ روایت ہمیشہ زندہ رہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نے مرزاغالب سیرئیل بناکر اسکرین پر غالب کی زندگی بنا دی لیکن میں کہتا ہوں کہ غالب نے میری زندگی بنا دی۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غالب کی حویلی کو ایک میوزیم میں تبدیل کیا جائے۔
پون ورما نے کہا کہ جس تہذیب و ثقافت سے غالب کا رشتہ تھا وہ ہماری شاندار روایت کا حصہ ہے اور غالب صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور طرز زندگی کی علامت ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس قوم نے اپنے ادیبوں اور فنکاروں کی قدر نہیں کی اسے کبھی ترقی نہیں ملی۔وشال بھاردواج نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کینڈل مارچ کے توسط سے ہم نے غالب کے سفر کی دریافت نو کی ہے۔چاندنی چوک سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ وجے گوئل نے غالب کی حویلی کی خستہ حالی پر رنج و غم کا اظہار کیا اور اس کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔مارچ کے شرکا نے غالب کی حویلی کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے تحفظ پر زور دیا۔

مرزا اسد اللہ غالب

واضح رہے کہ چند روز قبل غالب کی حویلی میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس کے سبب حویلی میںچاروں طرف گندگی پھیل گئی تھی۔ اس پر غالب نواز لوگوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔اس مارچ میں ایڈووکیٹ عبد الرحمن نے غالب کا لباس اور ان کے جیسی ٹوپی پہن کر شرکت کی اور اعلان کیا کہ وہ غالب پر ایک فلم بنائیں گے جس کو اگلے سال یوم غالب پر لندن میں ریلیز کیا جائے گا۔ادھر دوسرے روز کی تقریبات کے دوران کتھک رقاصہ اوما شرما نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں غالب کی چنندہ غزلوں پر رقص پیش کرکے ناظرین کو محظوظ کر دیا۔
یہ پروگرام غالب میمورئیل موومنٹ کے زیر اہتمام انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز، دہلی حکومت، ساہتیہ کلا پریشد، ایس جی فاونڈیشن اور بھارتیہ سرن سنگیت کے اشتراک سے منعقدہوا۔
اوما شرما نے ’شمع جلتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے، ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے، تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ‘ وغیرہ غزلوں کی رقص کے ذریعے تشریح کرکے تفہیم غالب کے نئے گوشے وا کیے۔
اوما شرما کے شاگردوں نے غالب کی نظم ”چراغ دیر“ (بنارس کو خدا محفوظ رکھے چشم بد بیں سے) کی خوبصورت پیشکش کے ذریعے غالب کی مذہبی رواداری کو اجاگر کیا۔اس پروگرام میں پون ورما نے اپنی تصنیف ’غالب، شخصیت اور فن‘ کے بعض اقتباسات پیش کیے ۔دوسرے روز کی آخری تقریب غالب اکیڈمی میں منعقد ہوئی جس میں معروف ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے خطوط غالب کو ڈرامائی انداز میں پڑھ کرلوگوں کے دل جیت لیے۔
انھوں نے 1852سے1868تک کے خطوط غالب کو اس انداز میں پیش کیا کہ اس دور کا پورا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔انیس اعظمی نے منشی ہرگوپال تفتہ، تفضل حسین خاں، پیارے لال آشوب، گوبند سہائے، نواب امین الدین احمد خاں، میر مہدی مجروح، عزیز الدین ، خواجہ غلام غوث خاں اور رامپور کے نواب میر حبیب نواب کو لکھے خطوط کی اس انداز میں قرات کی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے غالب خود آکر اپنے خطوط پڑھ رہے ہیں۔

مرزا اسد اللہ غالب

ان خطوط سے اس دور کی تاریخ پر بھی اجمالاً روشنی پڑتی ہے۔خیال رہے کہ انیس اعظمی ملک کے مختلف شہروں میں سو سے زائد مرتبہ خطوط غالب کی بہ زبان غالب قرات کرکے تفہیم غالب کو ایک نئی جہت دے چکے ہیں۔اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر خواجہ حسن ثانی نظامی نے کہا کہ غالب نے حضرت علی کی شان میں جو قصائد لکھے ہیں وہ بے مثال ہیں اور اگر غالب کسی دوسرے مذہب کے پیرو ہوتے تو مولا علی ان کے دیوتا ہوتے۔غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ غالب کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ 1857کی لڑائی ہے۔ ان کے بعد کوئی ایسا شاعر موجود نہیں جو پہلی جنگ آزادی کے حالات قلمبند کرتا۔انھوں نے مزید کہا کہ غالب اپنے خطوط کو چھپوانا نہیں چاہتے تھے تاہم ان کی زندگی ہی میں ’عود ہندی‘ اور ’اردوئے معلی‘ کی اشاعت ہو گئی تھی۔
بشکریہ VOA

26

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers