Category Archives: تعلیم و تربیت

نسبت ﷺ

نسبت ﷺ

اللھمہ صلی علی محمد النبی الامی وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم

اس کائنات کی نسبت اک آواز سے ہے ، جس سے ہم آواز ہو کر اس کائنات کا ذرہ ذرہ ارتعاش میں ہے، اور ایک محبت؛ نسبت کی طاقت ہے جو سب کو باندھے ہوئے ہے, آئیے اس آواز سے ہم آواز ہو کر اس نسبت لاثانی سے ہمکنار ہو جائیں اور اس کائنات کی آواز کو سمجھیں اور اس محبت میں غرق ہو کر لذت لا ثانی سے سرشار ہو جائیں؛

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

زندگی کے لمحے نہ گنو بلکہ لمحوں میں زندگی تلاش کرو کیونکہ یہ تو وہ شمع ہے جو اِک بار جل جائے تو بجھتی نہیں بلکہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ دیے سے دیا جلائے بٹتی چلی جاتی ہے۔ یہ روشن چراغ اگرچہ تمام دنیا کا اندھیرا دور نہیں کر سکتے مگر اپنے اِرد گرد اندھیرا بھی نہیں ہونے دیتے۔ خودی (میں، Self) کا دیا تو نسبت کی لو سے روشن ہوتا ہے۔
پھولوں کو خوشبو کی نسبت نے باقی کر دیا تو کانٹوں کو اذیت کی نسبت نے فانی بنا دیا ؛ جبکہ لمحوں کو زندگی سے نسبت ہوئی تو دو ممکنہ راہوں کے مسافر بنے۔ کچھ ناآشنائی کے راہوں پہ چل کر بے نشاں منزل کی راہ میں گم ہو گئے ؛ ناہموار ؛ سنسان؛ غیر شفاف ؛ بے ذائقہ ؛ بے رنگ اور اذیتوں سے بھرپور گھاٹیوں کا پانی پیا اور بحر زندگی میں پرکاہ کی مانند بہتے طوفانوں کے تھپیڑے کھاتے کسی انجانے گرداب میں دھنستے اتھاہ گہرائیوں میں غرق ہو کر فنا تک جا پہنچے۔ اور کچھ لمحے شناسائی کی لذت سے سرشار ہو کر محفوظ ہو ئے اور اطمینان کی سرسبز و شاداب وادیوں کے راہی بنے؛ جبکہ ہموار؛ خوش ذائقہ؛ خوش رنگ ” شفاف“ مسرتوں سے لبریز گھاٹیوں کا پانی پیا اور بحر زندگی سے عافیت و کامیابی کے ساحل تک پہنچ کر باقی ہو گئے۔
کبھی پانی کی نسبت ہواﺅں سے ہوئی تو بادل بنے ؛ اور کبھی پانی کی نسبت دریا سے ہوئی تو موج نے جنم لیا؛ کبھی ہواوں کی نسبت بادلوں سے ہوئی تو گھٹاوں نے جنم لیا۔ اگر روشنی کی نسبت خورشید سے ہوئی تو کرنوں نے جنم لیا اور کبھی روشنی کی نسبت ماہتاب سے ہوئی تو چاندنی بن گئی۔ اگر ہواوں نے صبح سویرے کی نسبت حاصل کی تو نسیم سحر بن گئیں۔
نسبت بھی کیا رنگ بکھیرتی ہے ؛ ایک ہی مقام کی مٹی کندن بن کر اگر خیر کی ہمسفر بنتی ہے تو باعث برکت بن جاتی ہے اور اگر شر کی ہمسفر بنتی ہے تو باعث زحمت بنتی ہے۔ اس نسبت کے کیا کہنے جسکے باعث ایک طرف پتھروں کو مقام رحمت بنا دیا تو دوسری طرف مقام ذلت؛ یہ سب کچھ نسبت کا ہی کمال ہے ۔
زندگی کی کٹھن راہوں پر اور بھول بلیوں میں اگر نسبت کا عمل دخل نہ ہو تو منزل کسطرح معلوم ہو گی؟ یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی بندوں کی زبان سے بیان کی ہے کہ
”تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ انکا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ نہ ان کا راستہ جن پر تیرا غضب ہوا؛ اور نہ ہی گمراہوں کا راستہ۔“ (الفاتحہ5،6،7)
یعنی اللہ کے انعام یافتہ بندوں کا راستہ اگر ہمیں مل جائے تو منزل مل جاتی ہے ورنہ گمراہی اور یہ نسبت کا ہی کمال ہے کہ راہی منزل پاتا ہے۔ جبکہ بندہ کی اپنے رب سے نسبت کلمہ کے باعث ہے۔
لاکہ ہر شے کی نفی اور ہر نسبت ناطہ توڑا یہ پہلا مقام ؛ اور پھر اللہ سے نسبت جوڑی کہ وہی معبود برحق ہے یہ دوسرا مقام ؛ اور اللہ سے نسبت جوڑنے کے بعد اگلا مقام….
دیدہ دل وا ءکیجئے کہ مقام آگہی ہے اور کہیں بے خبری میں گزر نہ ہو جائے !!!
خیر یعنی اللہ کے انعام یافتہ بندوں کی نسبت کا مقام بھی عجب ہے۔
اگر کتے کی نسبت خیر سے ہو تو جنت کا باسی بنتا ہے!
پانی کی نسبت خیر سے ہو جائے تو آب زم زم بن جاتا ہے!
پہاڑوں کی نسبت خیر سے ہو جائے تو کبھی صفا و مروا اور کبھی کوہ طور بن جاتے ہیں!
جن راہوں کی نسبت خیر سے ہو جائے تو وہ راہیں طواف بن جاتی ہیں!
مگر ایک اور بھی نسبت ہے کہ قلم میں اس کو بیان کرنے کی سکت نہیں۔ ان الفاظ کے موتیوں کو تحریر کی لڑیوں میں پرونے سے قبل گھنٹوں رقت طاری رہی اور پھر جا کر ہمت پیدا ہوئی ۔
اگر لفظوں کی نسبت کالی کملی ﷺ والے سے ہوئی تو وہ قرآن بن گئے!
اگر خطہءزمیں کی نسبت آپ ﷺ سے ہوئی تو وہ مکہ اور مدینہ بن گئی!
وہ گنبد جو آپ ﷺ کی نسبت میں آ گیا وہ گنبد خضرا بن گیا!
اگر علی t کی نسبت آپ ﷺسے ہوئی تو علی حیدر کرار رضی اللہ عنہ بن گئے!
اگرابوبکر t کی نسبت کالی کملی ﷺ والے سے ہوئی تو ابوبکر صدیق t بن گئے!
وہ مقام جو کالی کملی ﷺ والے کو پسند آجائے مقام مسجو د، یعنی قبلہ بن جاتا ہے!
اور وہ بے ادب، جسکی آواز آپ ﷺ کو ناگوار گزرے ، تو اسکا ایمان بھی غارت و برباد ہو جاتا ہے کہ اسکو پتہ بھی نہیں چلتا! (سورت الحجرات: 2)

بلغ العلٰے بکمالہ کشف الدجٰے بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ صلوا علیہ و آلہ

نسبتِ سرکار میسرہوتونہاں خانہ ءدل بھی منور ہوجاتاہے، نسبت ہی دین ہے، نسبت نہیں تو دین بھی نہیں، نسبت کے بغیر تو نمازنماز نہیں بنتی۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آتا ہے کہ ”اقیموا الصلوة“نماز پڑھواپنی عربی دانی پر نازاں فصحاء ِ عرب متحیر کھڑے ہیں کہ حکمِ صلوہ کیسے بجا لائیں،نہ طریقِ صلوہ بتایا گیا اور نہ ہی تعدادِ رکعات بتائی گئیں،فصاحت و بلاغت دیارِ یار کی طرف دیکھ رہی ہیں اور زبانِ حال سے کہہ رہی ہیں، نسبتِ محبوب کے بغیر فرض کی بجا آوری کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ سکوتِ محض میں بالآخر ایک نحیف آواز مرتعش ہوتی ہے، فصاحت و بلاغت سوالی بنکر مفہومِ لغت جاننا چاہتی ہے، سوال ہوتا ہے ” کیف نصلی یارسول اللہ” آقا ہم کیسے نماز پڑھیں؟کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ اس فریضہ کو کیسے ادا کریں۔۔پورا قرآن خاموش ہے، الحمد سے والناس تک کہیں بھی ادائیگی کا طریقہ بیان نہیں کیاگیا۔جواب آتا ہے ، ” صلوا کما رایتمونی اصلی“ مجھے دیکھو جس طرح میں پڑھتا ہوں ویسے ویسے تم بھی پڑھ لو۔

شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب

یعنی میری اداوں کی ترتیب کو یاد کرلو جس طرح میں کرتاہوں ویسے ویسے کرتے چلے جاو تمھاری نماز بن جائے، لہٰذا نسبتِ محبوب کے بغیر نماز نمازہی نہیں ہے، نماز تو محبوب کی اداوں کا نام ہے،جس محبوب کی ادائیں رب کی عبادت بن جائیں ، اس محبوب کے خیال سے رب کی عبادت میں خلل کیونکر پڑ سکتا ہے؟ کسی عاشق سے پوچھو کہ یہ ماجرا کیا ہے تو جواب ملتا ہے کہ یہی نسبت ہے۔

مجھے کیا خبر تھی رکوع کی، مجھے ہوش کب تھا سجود کا
تیرے نقشِ پا کی تلاش تھی کہ میں جھک رہا تھا نماز میں

نسبت کا مقام جاننا چاہتے ہوتو ذرا مناسک حج کی طرف بھی دیکھو، دورانِ حج کیاجانے والا ہر عمل کسی نہ کسی کی یاد کو زندہ رکھنے کی سعی ہے، ذرا صفا ومروہ کودیکھو جن کے بارے میں ارشاد ہوا : ”ان الصفاوالمروہ من شعائراللہ“ کہ صفا و مروہ میری نشانیاں ہیں۔ میری نشانیاں؟ مگر کیسے؟ باری تعالیٰ کیا کبھی تو ان پر اترا، کیاکبھی ان پر چلا؟ چڑھنااترنا،یمین ویسارتو مخلوق کے لیے ہیں اور توتو وراء الورائ۔ پھر یہ صفا و مروہ تیری نشانیاں کیونکر اور کیسے؟ جواب آیا میرے بندے یہی تو سمجھاناچاہتاہوں کہ میں ان علائقِ بشریہ سے پاک ہوں، مگر جہاں میرے محبوبوں کے قدم لگ جائیں، اس جگہ کو میں اپنی نشانیاں بنادیتاہوں،۔ بلکہ یہاں تک فرمایا کہ : والبدن جعلناھالکم من شعائراللہ: کہ وہ قربانی کے جانور جو تم اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہو،اس نسبت کی وجہ سے وہ بھی اللہ کی نشانیاں بن جاتے ہیں،۔یہاں پر تو کرم کی یہ انتہا ہے کہ اگر جانور محبوب سے منسوبہوجائیں تو اللہ کی نشانیاں بن جاتے ہیں تو پھر کیا خیال ہے ان بندوں کے بارے میں کہ جنھیں دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے؟
حج کی تیاری کی تو خاص لباس کا حکم آگیا کہ ان سلا لباس پہنوں؟ آخر کیوں؟ سلے ہوئے کپڑے میں زیادہ ہے حفاظت ہے، تو ان سلا کیوں؟ جواب آیا یہ میرے ابراہیم کی سنت اس کی نسبت کو نبھاو، آپ نے احرام باندھ لیا پھر کہا کہ خبر دار “اصطباغ” بھی کرنا، یعنی دایاں کندھا ننگا رکھنا، باری تعالیٰ میں تو بڑا امیر ہوں، مکمل جسم ڈھانپنے کے لیے کپڑا خرید سکتا ہوں، پھر کندھاکیوں ننگا کروں؟ جواب آتاہے طواف کرتے ہوئے میرے ابراہیم کا کندھا بھی ننگا تھا، بس نسبتِ خلیل کو زندہ کرو۔جناب طواف کرتے ہوئے پہلے تین چکر اکڑ کر،شانے ہلاہلاکر تیزی کے ساتھ چلاجاتا ہے اسے ”رمل“ کہتے ہیں۔جناب اکڑ کر چل رہے اور وہ بھی خداکے گھر میں؟ آخر کیوں؟ اسی خداکاتو حکم ہے کہ ”و لا تمش فی الارض مرحا“ کہ زمین پر اکڑ کر مت چلو۔ یہ کیا ہے کہ خداکو منانے کے لیے آنے والے آج اسی کے گھر میں، میزاب رحمت کے نیچے،حطیم کے ارد گرد اکڑ کر چل رہے ہے، آخر وجہ کیاہے؟ جواب آتا ہے ذرا میرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فاتحانہ شان کےساتھ مکہ میں داخلہ تو دیکھو ، جب کل کفارو مشرکین ارد گرد کھڑے ہوکر جانثار صحابہ کو دیکھ رہے تھے تو آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ طواف کرتے ہوئے پہلے تین چکر اکڑ کر چلو تاکہ کفار کے دلوں پر تمھارا رعب و دبدبہ طاری ہو جائے، اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ فرمان و ادا رب تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اب اکڑ کر چلنا حج کا حصہ بن گیا، آج بھی وہ نسبتِ یار زندہ ہو رہی ہے۔ ذرا آگے چلیے، طواف سے فارغ ہوئے تو حکم آگیا کہ ”وَاتَّخِذوا مِن مَّقَامِ اِبرَاھِیمَ مصَلیٰ “اور (حکم دیا کہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے کھڑے ہونے کی جگہ کو مقامِ نماز بنا لو” مگر کیوں؟ جواب آیا مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو ابراہیم علیہ السلام نے مجھ سے میرے حبیب کو مانگاتھا،اس پتھر کی نسبت دعائے میلادِمحبوب کے ساتھ ہے، بس اس نسبت کو زندہ کرو،۔ ذرا آگے چلے پھر حکم آگیا کہ حجر اسود کو بوسہ دو،۔حجرِ اسود کو بوسہ؟مگر کیوں؟ میں ایسا کیوں کروں،جواب آیا، یہ نسبت والا پتھر ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی کہا تھا کہ اے حجر اسود ”انی اعلم انک حجر لن تضرنی ولا تنفع“ میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے نہ مجھے نفع دے سکتا ہے اور نہ ہی نقصان، ” ماقبلتک “میں تمھیں ہرگز نہ چومتا، مگر پھربھی چوم رہاہوں تو صرف اس لیے کہ ” ولولاانی رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقبلک ثم قبلہ“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمھیں چومتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ نے بوسہ لیا۔
اس کائنات کی نسبت اک آواز سے ہے ، جس سے ہم آواز ہو کر اس کائنات کا ذرہ ذرہ ارتعاش (Vibration) میں ہے، اور ایک محبت؛ نسبت کی طاقت ہے جو سب کو باندھے ہوئے ہے, آئیے اس آواز سے ہم آواز ہو کر اس نسبت لاثانی سے ہمکنار ہو جائیں اور اس کائنات کی آواز کو سمجھیں اور اس محبت میں غرق ہو کر لذت لا ثانی سے سرشار ہو جائیں۔
ان اللّٰہ و ملائکتہ یصلّون علی النبی یا ایھا الذین آمنوا صلّوا علیہ وسلّموا تسلیما۔ (القرآن)
”بے شک اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتے بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔“
اللھم صلی علی محمد النبی الامی وعلی آلہ واصحابہ وبارک وسلم ۔


دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی


اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی


کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔


محبت اور لذتِ آشنائی

محبت اور لذتِ آشنائی


تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر
انسانی جذبوں کا انسائیکلوپیڈیا کھولا جائے یا پھر جذبوں کی ابجد Alphabet بنائی جائے تو سب سے بلندی پر صرف ایک ہی جذبہ نظر آئے گا اور وہ ’محبت ‘ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔انسانیت کو عظمت کی بلندی پر پہنچانے میں محبت کا جذبہ پیش پیش ہے۔ اس حقیقت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا کہ محبت کی ڈوری کے بغیر رشتوں کے موتی مالاﺅں میں پروئے جا ئیں،بلکہ یہ صرف محبت کا ہی ثمر ہے کہ افراد ایک صحت مند معاشرہ کے محرک رکن بنتے ہیں اور انکے روابط امن و آشتی کے بندھن میں بندے رہتے ہیں جہاں نفرت کی پرچھائیاں نہیں پڑتیں۔
محبت کا جغرافیہ دیکھا جائے تو یہ جذبہ اپنی عالمگیریت اور آفاقیت کے باعث لازوال ہے اور کسی بھی طور عمر،رنگ و نسل اور علاقہ پر محیط نہیں، جبکہ لامحدود ہونے کا ساتھ ساتھ نہ صرف اس کرّہ عرض پر بسنے والی تمام مخلوق اس میں غرق ہے بلکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہوا ہے محو رقص ہے۔ اکیسویں صدی میں آج سائنس اس بات سے آگاہی رکھتی ہے کہ ٹھوس اشیاء کا کوئی وجود نہیں بلکہ ہر شے یا تو ذرات کا مجموعہ ہے یا پھر محو رقص Vibrating اور مرتعش ہے کیونکہ اس دنیا کی اساس ایک انتہائی کمترین ذرہ، الیکٹران ہے، جو یا تو ذرہ کی خاصیت کا اظہار کرتا ہے یا پھر لہر کی اور توانائی کی یہ لہریں اپنا رقص کسی نہ کسی طور ایک مرکز کے گرد جاری رکھے ہوئے جبکہ ایٹم اسکی ایک ادنیٰ سی مثال ہے ۔
محبت کی سائنس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے محبت میں انسانی بائیو کیمسٹری میں تبدیلی آتی ہے ، ذہن جب محبت کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے تو سائنسی تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خوشی کا عنصر شامل ہوتے ہوئے ایڈرنالائن نیورو ٹرانسمیٹر متحرک ہوجاتے ہیں اور دل کی دھڑکن تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ بے چینی کا اظہار بھی ہوتا ہے ، جبکہ دوسرے مرحلے میں محبت کرنے والوں کے اذہان اب ڈوپامائن نیورو ٹرانسمیٹر سے لبریز ہو جاتے ہیں جسکے باعث ایک نشے جیسی کیفیت کا احساس ہوتا ہے ، طبیعیت خوشی کے جذبے سے لبریز ہوجاتی ہے ’چاہنے اور پانے‘ کی تمنا جاگ اٹھتی ہے۔اضافی توانائیوں کا احساس ہوتا ہے ، نیند اور بھوک کی کمی پیدا ہوتی ہے جبکہ توجہ میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے جوکہ خوبصورتی ، لذتِ لاثانی اور اس محبت کے بندھن کی چھوٹے سے چھوٹے لمحے کی تفصیلات پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسی طرح تیسرے درجہ پر سیروٹونائن نیوروٹرانسمیٹر کا افراز ہوتا ہے اور ڈوب جانے کی کیفیت کا احساس ہوتا ہے اس کیمیکل کو محبت کا اہم عنصر کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خیالات اور سوچوں کے انداز کو تبدیل کرتا ہے کہ محبت کا پھول نظارہ جاناں میں کھوئے ہوئے محبوب کے آنگن کو کو مہکا دیتا ہے۔
محبت کی نفسیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جذبہ محبت سے سرشار فرد تصور ِ محبوب میں ڈوبا رہتا ہے اور اسی طرح ایک نظریہ کہ محبت اندھی ہوتی ہے بھی صادق نظر آتا ہے کہ اکثر اپنے محبوب کو آئیڈیل بناتے ہوئے اسکی اچھائیوں اور خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر مگر اسکی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پیش کرتا ہے۔محبوب کو تقدس کے آبگینوں میں سجاتا ہوا محسوس کرتا ہے کہ اس رشتے سے بڑھ کر اور بہتر رشتہ کوئی نہیں لہٰذا اس طرح دونوں ایک مضبوط ڈوری سے بندھ جاتے ہیں ۔ ان لمحات میں انسان محبت کے اگلے درجہ میں قدم رکھتا ہے جسے ’ قربت ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔
محبت کا رنگ انسانی چہرے پر ایک نکھار پیدا کرتا ہے جس کے باعث چہرہ پر کشش ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں گہری مستی چھا جاتی ہے،سوچوں میں ارتکاز اور آواز میں جادو کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔لمحات چاہے وصل کے ہوں یا فراق کے اک انجانی لذت کا احساس پیدا ہوتا ہے جبکہ فضاؤں میں بھی نظارہ محبوب کا سماں بندھ جاتا ہے۔ طبعیت میں ایک ٹھہراﺅ سا آ جاتا ہے ،جبکہ ہر آواز پردہ سماعت پر موسیقی کا سماں پیدا کرتی ہے اور ہر طرف خوبصورتی کا دور و دورہ ہوتا ہے ،خواب بھی رنگین ہوتے ہیں اور خیال بھی مرکوز ، اس دورِ انسانی کو افراد کا موسم بہار کہا جائے تو بجا ہوگا۔
کھو جانے والی اس کیفیت کو حاصل کرنے کیلئے کسی ’ مصنوعی پیار‘ کی ضرورت نہیں بلکہ دیدہ دل وا کیجئے اور ’ ذہنی تصاویر‘ کو تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی کا سہارا لیجئے ، جی ہاں! اپنے ذہن کے پردہ سکرین پر ’نفرت‘ کو ملاحظہ کیجئے اور پھر ان جڑی بوٹیوں کو ذہن سے اکھاڑ پھینکئے ، کرنا صرف یہ ہے کہ جہاں جہاں رشتوں میں اور معاملاتِ زندگی میں ’ نفرت‘ کی تصویریں نظر آ ئیں ، انہیں پہلے ذہن کی پردہ سکرین پر واضح کریں اور پھر سمیٹتے سمیٹتے ایک مہمل سے ذرہ کے برابر متصور کریں اور آخر میں دھوئیں کی طرح فضاؤں میں اڑا دیں۔اس طرح سے اب ’نفرتیں‘ بے وقعت ہوگئی ہیں۔
محبت کا مراقبہ بھی شناسائی کا ایک عمل ہے جس میں ایک فرد معاملہ محبت کے آمنے سامنے والے زاویہ پر ہوتا ہے۔ روح و قلب کو اس لازوال جذبہ سے سرشار کرنے کیلئے تو محبوب کا تصور ہی کافی ہوتا ہے ، محبوب کے خیال میں بے خیال ہونا ہی معنی رکھتا ہے۔ مجازی طور پر تو جس فرد کو یاد کرکے اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہو اور جو تنہائیوں کا ہمراز بن جائے ، انسان غیر اردی طور پر اس کے پیار میں مبتلا ہوتا ہے ، اور اسکا تصور اور یاد ایک انجانی خوشی کی کیفیت سے دوچار کرتی ہے جبکہ یہ غیر ارادی مراقبہ ء محبت کہلاتا ہے ، اور اگر افراد اس تجربہ سے نہ گزرے ہوں تو اس کا حصول صرف ایک طور ہی ممکن ہے کہ کسی بھی فرد سے چاہت اور اس کا تصور اپنے آپ ہی اس کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے۔
حقیقی محبت کا اگر ادراک حاصل کرنا ہو تو اس کائنات کی وسعتوں کو دیکھیں اور قدرت کے بے پناہ نظاروں کو ملاحظہ فرمائیں ، رب العزت نے انسان کیلئے کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر کوئی ساری زندگی بھی اس کا شکر ادا کرتا رہے تو کم ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے کہ وہ اپنے بندوں سے خود بھی محبت رکھتا ہے اور بندے بھی اس سے محبت رکھتے ہیں ۔
قران کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛
یحبھم و یحبونہ (المآئدہ:54)
اللہ ان سے محبت کرتا ہے ، وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں
وھوالغفورالودود(البروج:14 )
وہ بے حد بخشنے والا اور کمال محبت کرنے والا ہے
اسماالحسنٰی میں الودود، یعنی بڑا محبت کرنے والا، اس اسم مبارک کو تصور کریں ، اور دعا گو ہوں کہ الٰہی ہم کو اپنی محبت عطا کر اور جو کوئی تجھ سے محبت رکھتا ہے اس کی بھی محبت عطا کر اور اس عمل کوبھی محبت دے جو ہم کو تجھ سے قریب بنا دے۔اور باہمی محبت کو ترقی دیں ، محبت نفسانی و شہوانی کو پامال کرکے محبت روحانی وایمانی کو بڑھانے میں کوشاں رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛
الاَخِلَّائ یَومَئِذٍ بَعضھم لِبَعضٍ عَدواِلَّا المتَّقینَ (43:67)
(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے) (43:67)
یعنی قیامت کے دن سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ، ان کے سوا جن کی محبت کی بنیاد للہیت پر ہوگی۔

لذت آشنائی | محبت کا پیغام


لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers