
لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت
ماہرین کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ چہرے کے خدوخال،آنکھیں،ناک اور منہ کی
بناو ٹ میں توازن ہی چہرے کی دلکشی کو وضع کرتا ہے۔
تحریر:محمد الطاف گوہر
نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی؛ حسن و خوبصورتی صدیوں سے انسانی کمزوری رہی ہے ؛ فرد چاہے عمر کسی بھی حصے میں ہو جہاں اسے اپنے روزگار اور دوسرے محرکات مجبور کرتے ہیں کہ وہ جمود سے دور رہے اسی طرح اسے اپنی صحت و خوبصورتی کا خیال بھی نت نئے لوازمات سے دوچار کرتا رہتا ہے۔ کبھی وہ حسن و جمال سے گھائل ہوتا ہے تو کبھی گھائل کرنا بھی پسند کرتا ہے ۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اسے نت نئے تجربات سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ نئی سے نئی تدابیر کرتا چلا جاتا ہے۔
خواتین تو اپنے حسن کو قائم رکھنے کی رسیا ہیں ؛ وہ جوانی کیا جو نخرے سے بیگانی ہو؛ ادا نہ ہو اور ادائیں نچھاور کون کرے؟ حسن ہے تو جلوہ ہے اور ان سب کیلئے چہرے کی دلکشی ایک بنیادی عنصر ہے۔ خوبصورتی صرف گوری رنگت کا نام نہیں بلکہ چہرے کے وہ خدوخال ہیں جو خوامخوہ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹوکے سائنسی ماہرین نے خواتین کی دلکشی اور خوبصورتی کا پوشیدہ راز دریافت کرلیا ہے۔ماہرین کے مطابق خواتین کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اور ان کی آنکھوں سے منہ تک کا فاصلہ ان کے چہرے کی دلکشی و خوبصورتی میں جاذب نظری اور نکھارکا باعث بنتاہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے کے بناوٹی خدوخال کا متوازن ہونا انہیں دوسروں کی نظروں میں پرکشش بناتا ہے۔ ایک خاص پیمائشی حساب سے آنکھوں اور منہ کے درمیان کا فاصلہ چہرے کی لمبائی کا36فیصد ہونا چاہیے جبکہ آنکھوں کا درمیانی فاصلہ چہرے کی چوڑائی کا46فیصد ہونا چاہیے۔ماہرین کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ چہرے کے خدوخال،آنکھیں،ناک اور منہ کی بناو ٹ میں توازن ہی چہرے کی دلکشی کو وضع کرتا ہے۔
البتہ یہ بات بھی ضروری نہیں ایک فرد کتنا گورا چٹا ؛ خوبصورت ہے ؛ اگر اسکا چہرہ پر کشش ہے تو اسکی رنگت سانوالی بھی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ بازار میں دنیا بھر کی کاسمیٹکس کا انبار لگا ہوا ہے اور خواتین کیلئے بعض اوقات انتخاب کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر ان تمام کے ہوتے ہوئے بھی چہرے کے خد وخال تبدیل نہیں ہو سکتے البتہ ایک اچھا میک اپ کرنے والا یعنی بیوٹیشن جس تناسب سے میک اپ کرتا ہے اسکے باعث اکثر خدوخال کو نمایاں کیا جاسکتا ہے۔
ورزش؛ تازہ ہوا میں سیر و تفریح ؛ بےفکری؛ چنچل پن ؛ اچھی خوراک اور ہنس مکھ عادات؛ ایسے جواہرت ہیں جو ایک فرد کی شکل و شباہت ارو شخصیت کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اگر گفتار شیریں ؛نرم اور دلکش ہو تو پھر یہ خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔
پیار کا موسم افراد کی زندگی کا موسم بہار ہے ؛ پیار میں چہرہ دلکش ہوجاتا ہے اور آنکھیں جھیل جیسی گہری ہوجاتی ہیں ؛محبوب کا تصور کوئے جاناں کے پھیرے کاٹتا دل کو لبھاتا ہوا چہرے سے عیاں ہوتا ہے ؛
کون کہتا ہے کہ محبت کی زباں ہوتی ہے
یہ حقیقت چہرے سے عیاں ہوتی ہے

خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, Science & Technology, معلوم, کالم, تحقیقات, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, اردو ادب, تفریحات, تحقیقات, تعلیم و تربیت, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, سائنس و ٹیکنالوجی, عمومی بحث
سن 2009ء ادب و ثقافت کی د نیا کے چند اہم واقعات
زمانہ کی گردش جاری ہے اور ایک سال ختم ہو گیا۔ ماہ سال کی تقویم میں انسان شکست و فتح، غم اور مسرت کی میراث کے ساتھ مسلسل سفر میں ہے، اسی میں اِس کی بقا بھی ہے اور انجام بھی،
بات کرتے ہیں فلم نگری کی، یوں تو سال 2009ء کے دوران کئی فلموں نے بڑی کامیابی حاصل کیں لیکن ایک فلم ایسی تھی، جس کا نام ہر زباں پرتھا، اس فلم نے اس وقت سب کو حیرت میں ڈال دیا جب اس پر آسکرز کی بوچھاڑ ہوئی۔ اکیاسویں آسکرایوارڈ کے لئے ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ کو بہترین فلم کی کیٹگری سمیت دس شعبوں میں نامزد کیا گیا تھا اور اس فلم نے بہترین فلم کے شعبے کے ساتھ ساتھ کل آٹھ آسکر انعامات اپنے نام کئے۔ اس فلم میں معروف موسیقار اے آر رحمان کے ترتیب دیئے گئے میوزک پر انہیں دو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ رحمان نے اپنی موسیقی پر آسکر انعامات حاصل کرنے کے بعد کہا کہ ایک فنکار کو کام توقعات کے بغیر کرنا چاہیے اور یہ کہ انہیں اس بات کا قطعاً یقین نہیں تھا کہ ’’سلم ڈاگ ملینئیر‘‘ میں اُن کی موسیقی کو اتنی داد ملے گی۔ یہ فلم بھارتی مصنف اور سفارت کار وکاس سوا روپ کے ناول ’کیو اینڈ اے‘ پر بنائی گئی ہے ۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسےغریب بھارتی نوجوان کی کہانی ہے جو کسی طرح ’ہو وانٹس ٹو بی آ ملینئیر‘ کے ہندی ورژن ’کون بنے گا کروڑپتی‘ میں حصہ لیتا ہے اور دو کروڑ روپے کا انعام جیتنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
کنگ آف پاپ مائیکل جیکسن کی موت کو موسیقی کی دنیا کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان خیال کیا گیا ہے۔ تنازعات اور مالی مشکلات میں گھرے 50 سال مائیکل جیکسن اپنی موت سے قبل رواں سال کے دوران اپنے پچاس کنسرٹس کا سلسلہ شروع کر رہے تھے اور اس سلسلے میں پہلا کنسرٹ 13 جولائی 2009ء کو لندن میں شیڈول تھا۔ جیکسن کا شمار دنیا کے کامیاب ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ انہیں تیرہ گریمی ایورڈ ملے اور ان کے گانوں کے تقریباً 750 ریکارڈز فروخت ہوئے۔ 1982ء میں مائیکل جیکسن کا شہرۂ آفاق البم ’تھرلر‘ مارکیٹ میں آیا، اس نے پاپ میوزک میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ اسے دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم قرار دیا جاتا ہے۔ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اس البم کی پینسٹھ ملین کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مائیکل جیکسن کی مختلف میوزیکل ریہرسلز پر بنی فلم This is It کو بھی بین الاقوامی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ جیکسن کی اسٹوڈیوز میں ریکارڈنگ اور کنسرٹس کی ریہرسلز پر بنائی گئی یہ فلم ننانوے ملکوں میں ایک ساتھ ریلیز ہوئی۔
ہالی وڈ کے مایہ نازاداکار پیٹرک سویزی ستمبر کے مہینے میں انتقال کر گئے تھے۔ سویزی سرطان کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ انہوں نے فلمی کیرئیرمیں کئی فلموں میں کام کیا تاہم ان کے کیرئیرکی کامیاب ترین فلم ڈرٹی ڈانسنگ، ‘گھوسٹ’ سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں۔ اس فلم کو اکیڈمی ایوارڈ کے لئےبھی نامزد کیا گیا تھا۔ سویزی میں جنوری 2008ء میں لبلبے کے سرطان کے چوتھے مرحلے کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ سرطان ان کے جگر میں پھیل چکا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دو برس اور زندہ رہیں گے۔
ادب کے نوبل انعام کو عالمی ادب میں سب سے اہم ترین انعام سمجھا جاتا ہے۔ اس مرتبہ جرمن نژاد ادیب ہیرتھا مولر اس انعام کی حقدار ہوئیں۔ جیوری کے مطابق شاعری پر خصوصی توجہ اور بے ساختہ نثر ہیرتھا مولر کے فن کی انفرادیت ہیں اور اِس سے اُن کے ادب کو جلا ملی ہے۔ مولرکا تعلق بنیادی طورپر رومانیہ کی جرمن اقلیتی آبادی والے قصبے نٹسکی ڈورف سے ہے۔ انعام یافتہ مصنفہ سترہ اگست 1953ء کو رومانیہ کے اُس قصبے میں پیدا ہوئیں، جہاں جرمن زبان بولی جاتی ہے۔ ہیرتھا کو نوبل اعزاز کے ساتھ ساتھ چودہ لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی ایک کروڑ سویڈش کرونر کی رقم بھی ملے گی۔
کیا عالمی اقتصادی بحران کے سائے میں شروع ہونے والے سال 2009 ویسا ہی رہا جیسا اس کے بارے پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں؟ یہ جواب دینا مشکل ہے لیکن شروع ہونے والے سال 2010ء سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں.
بشکریہ DWD
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Article, Articles, Blog, Culture, Family, کالم | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, ادب و ثقافت, تفریحات, تحقیقات, خبریں, عمومی بحث
کتابیں رکھنے کے لیے منفرد ترین الماریاں
جنگ نیوز کیمطابق؛ لندن ، سینٹرل مانیٹرنگ . . . کتا بوں کو پڑھنے کے شوق کے سا تھ انھیں

جدید الماری ، نئی طرز کی شلف کیسا تھ
حفاظت سے رکھنا بھی ایک فن ہے۔ جدت اور آرٹ کے امتزاج سے تیا ر کردہ ان شیلفوں میں رکھیں گئیں کتا بیں مزید دلکش نظر آرہیں ہیں۔ یہ تصا ویر دنیا بھر سے انو کھے اور دلچسپ بُک شیلفوں کی ہیں جنھیں لکڑی اور پلاسٹک سے تیارکیا گیا ہے۔ان شیلفوں کا منفرد انداز اور رنگ نا صرف انھیں دل کش بنا تا ہے، بلکہ کتا بوں کے علا وہ ان میں دیگر اشیاء بھی رکھی جاسکتی ہیں۔
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, تفریحات, تحقیقات, خبریں
کرد تنازعہ پر ترک فلم باکس آفس پر ’سپر ہٹ‘
علٰیحدگی پسند اور مزاحمتی تحریکوں میں شاعری، تھیئٹر اور سنیما بھی اپنا کردار نبھاتے ہیں۔ ’بریتھ: لانگ لِو دی مدرلینڈ‘ یعنی ’سانس: زندہ باد مادر وطن‘ نامی اس فلم نے ہالی وُڈ ’بلاک بسٹرز‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے ترک فوج اور امن پسند گروہوں کی جانب سے بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

مسلح تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کی رکن ہلال کردستانی پہاڑ پر قائم ایک تربیتی کیمپ میں
کسی بھی سیاسی تنازعے کے مختلف پہلو اور وجوہات جاننے کے لئے ادب کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ ترکی کے سنیما نے پہلی مرتبہ ملک میں پچیس سال سے جاری کرد تنازعے پر ایک فلم بنائی، جو ’باکس آفس‘ پر زبردست ’ہٹ‘ ثابت ہوئی ہے۔
علٰیحدگی پسند اور مزاحمتی تحریکوں میں شاعری، تھیئٹر اور سنیما بھی اپنا کردار نبھاتے ہیں۔ ’بریتھ: لانگ لِو دی مدرلینڈ‘ یعنی ’سانس: زندہ باد مادر وطن‘ نامی اس فلم نے ہالی وُڈ ’بلاک بسٹرز‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے ترک فوج اور امن پسند گروہوں کی جانب سے بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
گزشتہ دوماہ کے دوران ترکی میں اس فلم کو تقریباً 24 لاکھ افراد نے دیکھا ہے۔ اسی لئے اس بات میں کوئی حیرت نہیں کہ اس وقت یہ فلم ترک ’باکس آفس‘ پر تیسری پوزیشن پر قائم ہے۔ فلم ’بریتھ: لانگ لِو دی مدرلینڈ‘ نے چھٹی ’ہیری پاٹر‘ فلم کو بھی پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نہ ہی حب الوطنی کے جذبے اور نہ ہی فوجیوں کو ہیرو کے طور پر دکھایا گیا ہے بلکہ اس میں گزشتہ پچیس سال سے جاری کُرد تنازعے اور سڑکوں پر روز مرہ کے تشّدد اور اس کے اثرات پر زیادہ دھیان دیا گیا ہے۔ یہ فلم اس گرما گرم بحث کا بھی حصہ ہے، جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آخر غلطی کہاں ہوئی اور کس طرح خون خرابے پر قابو پایا جا سکتا ہے؟
فلم پر تبصرہ کرنے والے بعض ناقدین کے مطابق ’بریتھ: لانگ لِو دی مدرلینڈ‘ ترک سنیما کی پہلی جنگ مخالف فلم ہے۔ ناقد عطیلا دورسے نے کہا کہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر تنازعے کے دوران ان کے بچوں، بھائیوں، رشتہ داروں اور ہم وطنوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑا۔’’یہ فلم لوگوں کے جذبات کو چھورہی ہے۔‘‘
ہدایت کار Levent Semerci کی اس فلم میں سن 1990ء میں ایک فوجی چھاوٴنی کے اندر لوگوں کو درپیش مشکلات کے بارے میں اہم معلومات ملتی ہیں۔ انیس سو نوے کی دہائی میں ترک فوج اور علیٰحدگی پسند کردوں کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر تھی۔
انقرہ حکومت اور مسلح کرد علیٰحدگی پسندوں کے درمیان گزشتہ پچیس برسوں سے جاری خونریز جھڑپوں میں اب تک 45 ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ شورش کے دوران فریقین کی طرف سے حقوق انسانی کی سنگین خلاف ور زیاں بھی ہوئی ہیں۔
ترک فوج اس فلم کو اپنے نظریے سے دیکھ رہی ہے جبکہ امن کے حامی کارکن اسے اپنی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
اس فلم میں ایک فوجی دن میں ہی اپنی گرل فرینڈ کے بارے میں خواب دیکھتا ہے اور فوراً اس کے منہ سے یہ جملہ نکلتا ہے:’’میری محبت، تم ہی میری مادر وطن ہو۔‘‘ اپنی محبوبہ کے کانوں کے بالکل نزدیک اس سرگوشی کے ساتھ ہی یہ فوجی بیدار ہوجاتا ہے اور تنازعے کی اصل حقیقت اور تلخی سے واقف ہوجاتا ہے۔

عراقی دارالحکومت بغداد کا ایک سنیما گھر
ترکی میں ایک اور فلم “Iki Dil Bir Bavul” بھی بے حد پسند کی گئی ہے۔ گزشتہ آٹھ ہفتوں میں اب تک تقریباً 80 ہزار افراد اس فلم کو دیکھ چکے ہیں۔
ابھی حال ہی میں ترکی کی ایک عدالت نے کردوں کی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کر دی۔ اس پارٹی پر مسلح علٰیحدگی پسند کرد تنظیم ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کے ساتھ گہرے روابط کا الزام عائد کیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد ترکی میں ایک بار پھر تشّدد بھڑک اٹھا۔
ایک اور فلم ہدایت کار ازگر دوگان کے مطابق کرد تنازعے پر روشنی ڈالنے کے لئے غیر جانبدار کوشش رائیگاں نہیں جائے گی تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسی سوچ کہ فلمیں زمینی حقائق کو تبدیل کر سکتی ہیں، گستاخی کی عکاسی کرتی ہے!
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Culture, Education, نوجوان, تحقیقات | posted in Article, Articles, Blog, Culture, متفرقات, معلومات, ادب و ثقافت, تفریحات, ثقافت, خبریں