Category Archives: ثقافت

محبت اور لذتِ آشنائی

محبت اور لذتِ آشنائی


تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر
انسانی جذبوں کا انسائیکلوپیڈیا کھولا جائے یا پھر جذبوں کی ابجد Alphabet بنائی جائے تو سب سے بلندی پر صرف ایک ہی جذبہ نظر آئے گا اور وہ ’محبت ‘ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔انسانیت کو عظمت کی بلندی پر پہنچانے میں محبت کا جذبہ پیش پیش ہے۔ اس حقیقت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا کہ محبت کی ڈوری کے بغیر رشتوں کے موتی مالاﺅں میں پروئے جا ئیں،بلکہ یہ صرف محبت کا ہی ثمر ہے کہ افراد ایک صحت مند معاشرہ کے محرک رکن بنتے ہیں اور انکے روابط امن و آشتی کے بندھن میں بندے رہتے ہیں جہاں نفرت کی پرچھائیاں نہیں پڑتیں۔
محبت کا جغرافیہ دیکھا جائے تو یہ جذبہ اپنی عالمگیریت اور آفاقیت کے باعث لازوال ہے اور کسی بھی طور عمر،رنگ و نسل اور علاقہ پر محیط نہیں، جبکہ لامحدود ہونے کا ساتھ ساتھ نہ صرف اس کرّہ عرض پر بسنے والی تمام مخلوق اس میں غرق ہے بلکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہوا ہے محو رقص ہے۔ اکیسویں صدی میں آج سائنس اس بات سے آگاہی رکھتی ہے کہ ٹھوس اشیاء کا کوئی وجود نہیں بلکہ ہر شے یا تو ذرات کا مجموعہ ہے یا پھر محو رقص Vibrating اور مرتعش ہے کیونکہ اس دنیا کی اساس ایک انتہائی کمترین ذرہ، الیکٹران ہے، جو یا تو ذرہ کی خاصیت کا اظہار کرتا ہے یا پھر لہر کی اور توانائی کی یہ لہریں اپنا رقص کسی نہ کسی طور ایک مرکز کے گرد جاری رکھے ہوئے جبکہ ایٹم اسکی ایک ادنیٰ سی مثال ہے ۔
محبت کی سائنس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے محبت میں انسانی بائیو کیمسٹری میں تبدیلی آتی ہے ، ذہن جب محبت کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے تو سائنسی تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خوشی کا عنصر شامل ہوتے ہوئے ایڈرنالائن نیورو ٹرانسمیٹر متحرک ہوجاتے ہیں اور دل کی دھڑکن تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ بے چینی کا اظہار بھی ہوتا ہے ، جبکہ دوسرے مرحلے میں محبت کرنے والوں کے اذہان اب ڈوپامائن نیورو ٹرانسمیٹر سے لبریز ہو جاتے ہیں جسکے باعث ایک نشے جیسی کیفیت کا احساس ہوتا ہے ، طبیعیت خوشی کے جذبے سے لبریز ہوجاتی ہے ’چاہنے اور پانے‘ کی تمنا جاگ اٹھتی ہے۔اضافی توانائیوں کا احساس ہوتا ہے ، نیند اور بھوک کی کمی پیدا ہوتی ہے جبکہ توجہ میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے جوکہ خوبصورتی ، لذتِ لاثانی اور اس محبت کے بندھن کی چھوٹے سے چھوٹے لمحے کی تفصیلات پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسی طرح تیسرے درجہ پر سیروٹونائن نیوروٹرانسمیٹر کا افراز ہوتا ہے اور ڈوب جانے کی کیفیت کا احساس ہوتا ہے اس کیمیکل کو محبت کا اہم عنصر کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خیالات اور سوچوں کے انداز کو تبدیل کرتا ہے کہ محبت کا پھول نظارہ جاناں میں کھوئے ہوئے محبوب کے آنگن کو کو مہکا دیتا ہے۔
محبت کی نفسیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جذبہ محبت سے سرشار فرد تصور ِ محبوب میں ڈوبا رہتا ہے اور اسی طرح ایک نظریہ کہ محبت اندھی ہوتی ہے بھی صادق نظر آتا ہے کہ اکثر اپنے محبوب کو آئیڈیل بناتے ہوئے اسکی اچھائیوں اور خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر مگر اسکی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پیش کرتا ہے۔محبوب کو تقدس کے آبگینوں میں سجاتا ہوا محسوس کرتا ہے کہ اس رشتے سے بڑھ کر اور بہتر رشتہ کوئی نہیں لہٰذا اس طرح دونوں ایک مضبوط ڈوری سے بندھ جاتے ہیں ۔ ان لمحات میں انسان محبت کے اگلے درجہ میں قدم رکھتا ہے جسے ’ قربت ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔
محبت کا رنگ انسانی چہرے پر ایک نکھار پیدا کرتا ہے جس کے باعث چہرہ پر کشش ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں گہری مستی چھا جاتی ہے،سوچوں میں ارتکاز اور آواز میں جادو کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔لمحات چاہے وصل کے ہوں یا فراق کے اک انجانی لذت کا احساس پیدا ہوتا ہے جبکہ فضاؤں میں بھی نظارہ محبوب کا سماں بندھ جاتا ہے۔ طبعیت میں ایک ٹھہراﺅ سا آ جاتا ہے ،جبکہ ہر آواز پردہ سماعت پر موسیقی کا سماں پیدا کرتی ہے اور ہر طرف خوبصورتی کا دور و دورہ ہوتا ہے ،خواب بھی رنگین ہوتے ہیں اور خیال بھی مرکوز ، اس دورِ انسانی کو افراد کا موسم بہار کہا جائے تو بجا ہوگا۔
کھو جانے والی اس کیفیت کو حاصل کرنے کیلئے کسی ’ مصنوعی پیار‘ کی ضرورت نہیں بلکہ دیدہ دل وا کیجئے اور ’ ذہنی تصاویر‘ کو تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی کا سہارا لیجئے ، جی ہاں! اپنے ذہن کے پردہ سکرین پر ’نفرت‘ کو ملاحظہ کیجئے اور پھر ان جڑی بوٹیوں کو ذہن سے اکھاڑ پھینکئے ، کرنا صرف یہ ہے کہ جہاں جہاں رشتوں میں اور معاملاتِ زندگی میں ’ نفرت‘ کی تصویریں نظر آ ئیں ، انہیں پہلے ذہن کی پردہ سکرین پر واضح کریں اور پھر سمیٹتے سمیٹتے ایک مہمل سے ذرہ کے برابر متصور کریں اور آخر میں دھوئیں کی طرح فضاؤں میں اڑا دیں۔اس طرح سے اب ’نفرتیں‘ بے وقعت ہوگئی ہیں۔
محبت کا مراقبہ بھی شناسائی کا ایک عمل ہے جس میں ایک فرد معاملہ محبت کے آمنے سامنے والے زاویہ پر ہوتا ہے۔ روح و قلب کو اس لازوال جذبہ سے سرشار کرنے کیلئے تو محبوب کا تصور ہی کافی ہوتا ہے ، محبوب کے خیال میں بے خیال ہونا ہی معنی رکھتا ہے۔ مجازی طور پر تو جس فرد کو یاد کرکے اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہو اور جو تنہائیوں کا ہمراز بن جائے ، انسان غیر اردی طور پر اس کے پیار میں مبتلا ہوتا ہے ، اور اسکا تصور اور یاد ایک انجانی خوشی کی کیفیت سے دوچار کرتی ہے جبکہ یہ غیر ارادی مراقبہ ء محبت کہلاتا ہے ، اور اگر افراد اس تجربہ سے نہ گزرے ہوں تو اس کا حصول صرف ایک طور ہی ممکن ہے کہ کسی بھی فرد سے چاہت اور اس کا تصور اپنے آپ ہی اس کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے۔
حقیقی محبت کا اگر ادراک حاصل کرنا ہو تو اس کائنات کی وسعتوں کو دیکھیں اور قدرت کے بے پناہ نظاروں کو ملاحظہ فرمائیں ، رب العزت نے انسان کیلئے کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر کوئی ساری زندگی بھی اس کا شکر ادا کرتا رہے تو کم ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے کہ وہ اپنے بندوں سے خود بھی محبت رکھتا ہے اور بندے بھی اس سے محبت رکھتے ہیں ۔
قران کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛
یحبھم و یحبونہ (المآئدہ:54)
اللہ ان سے محبت کرتا ہے ، وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں
وھوالغفورالودود(البروج:14 )
وہ بے حد بخشنے والا اور کمال محبت کرنے والا ہے
اسماالحسنٰی میں الودود، یعنی بڑا محبت کرنے والا، اس اسم مبارک کو تصور کریں ، اور دعا گو ہوں کہ الٰہی ہم کو اپنی محبت عطا کر اور جو کوئی تجھ سے محبت رکھتا ہے اس کی بھی محبت عطا کر اور اس عمل کوبھی محبت دے جو ہم کو تجھ سے قریب بنا دے۔اور باہمی محبت کو ترقی دیں ، محبت نفسانی و شہوانی کو پامال کرکے محبت روحانی وایمانی کو بڑھانے میں کوشاں رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛
الاَخِلَّائ یَومَئِذٍ بَعضھم لِبَعضٍ عَدواِلَّا المتَّقینَ (43:67)
(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے) (43:67)
یعنی قیامت کے دن سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ، ان کے سوا جن کی محبت کی بنیاد للہیت پر ہوگی۔

لذت آشنائی | محبت کا پیغام


لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ

اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ

سائبر ٹھگ؛موبائل ٹھگ؛لینڈ لارڈ ٹھگ؛فقیر نما ٹھگ؛ہینڈ فری ٹھگ؛کارپوریٹڈ ٹھگ؛سیاسی ٹھگ

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر
پرانے وقتوں میں سیدھے سادھے لوگوں کو کامیابی کے ساتھ لوٹنے والے افراد کو ٹھگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان میں کمال بات یہ ہوتی تھی کہ لوٹے جانے کے عمل میں موصوف سیدھے سادے لوگوں، یعنی شکار کی رضا مندی بھی شامل ہوتی تھی، کیونکہ ٹھگ کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں ہوتے بلکہ اسی دنیا کے باسی ،انتہائی چاپلوس اور گفتگو کے ماہر ہوتے ہیں جبکہ انکو چور ، ڈاکو اور رہزن کبھی بھی نہیں کہا جا سکتا ا لبتہ کسی نہ کسی طرح سے آپ انکو نوسرباز کہہ سکتے ہیں ۔ حضرت ٹھگ ایک معتدل قسم کی قوم ہے ، نہ تو یہ چوروں کی طرح بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ راتوں کو گھروں میں نقب لگاتے پھریں اور نہ ہی نڈر ڈاکوؤں کیطرح سر عام دندناتے ہوئے لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں بلکہ یہ دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے شکار کے ساتھ ہنسی خوشی کھاتے پیتے اور اسے لوٹ کر چلے جاتے ہیں کہ لٹنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ انکے اس کمال کے باعث میں انہیں اس نوع کی اعلیٰ قوم کہو نگا جو نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں مگر اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں اور کامیابی کا گراف دوسروں کی نسبت سے کئی گنا زیادہ ہے۔آج اکیسویں صدی میں ٹھگوں کی قوم میں اگر ایک طرف جدت آئی ہے تو دوسری طرف انہوں نے اپنے اندر کلاسیفکیشن بھی کر رکھی ہے۔ جبکہ ان کی یہ تقسیم نہ تو طبقاتی نوعیت کی ہے اور نہ ہی نظریاتی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد تک رسائی اور ان کو اپنی قربت سے فیضیاب کرنا ایسا امر ہے جو ترجیحی بنیادوں پر اس قوم کو متقسم کرتا ہے۔ انکی تمام اقسام کی معلومات تو کوزے میں بند نہیں ہو سکتی البتہ چیدہ چیدہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں؛
سائبر ٹھگ
موبائل ٹھگ
لینڈ لارڈ ٹھگ
فقیر نما ٹھگ
ہینڈ فری ٹھگ
کارپوریٹڈ ٹھگ
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
پرانے وقتوں کے ٹھگوں کا طریقہ کار کچھ دقیانوسی سا ہوتا تھا ، صرف نفسیاتی حربے استعمال کرکے اپنا ہدف حاصل کرتے تھے ، بچارہ لٹنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا تھا اور وہ چلتے بنتے تھے ، مگر جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی ٹھگوں نے بھی ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کر کے وقت کے ساتھ کندھے سے کندہ ملانا شروع کر دیا۔ آج کل سائبر ٹھگوں نے انٹرنیٹ پر ایک بہت بڑا بزنس شروع کیا ہو ا ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ اپکے ای میل باکس میں ایک میل موصول ہوتا ہے ۔ کوئی صاحب، یا صاحبہ اپنا تعارف کروانے کے بعد ایک بہت بڑی ڈیل آفر کرتے ہیں ۔ اپنے فون نمبر اور روابط بھی دیتے ہیں اور ریفرنس بھی، کہ کسی فرد نے اپنا بہت سا روپیہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنا ہے لہذا قرع آپکے نام نکلا ہے کیونکہ آپ انتہائی معتبر شخصیت ہیں ۔ کرنا یوں ہے کہ اپنے مکمل کوائف ای میل کر دیں۔ اس طرح سے یہ لوگ دوسروں کے اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور آن لائن کی سہولت سے لوگوں کا سرمایہ اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیتے ہیں یا پھر الجھا کر کچھ رقم بٹور لیتے ہیں۔
اسی طرح ایک دوسری قسم کا ٹھگوں کا گروہ انٹرنیٹ پر لوگوں کی لاٹریاں لگاتا پھر رہا ہے اور نہ جانے لاٹری نکالتے نکالتے کتنوں کا کباڑہ کر گیا ہے۔ ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بوگس ادارے وجود میں آتے ہیں ، کمال قسم کی ویب سائٹ بناتے ہیں اور لوگوں کو دوسرے ممالک سے منگوانے کے ورک پرمٹ آفر کرتے ہیں ۔ مزے دار بات یہ کہ ان پر کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے زبردست طریقہ سے لوٹتے ہیں کہ کسی کو شک ہی نہیں پڑتا ، اور کبھی شک پڑ بھی جائے تو ادارہ دو تین سو ڈالر لیجا چکا ہوتا ہے اور شکار ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔
اب اگر آج کل کے موبائل ٹھگوں کا تذکرہ نہ ہو تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ یہ جدید ٹھگ اپنا طریقہ واردات کچھ اس طرح سے شروع کرتے ہیں کہ کوئی بھی بھلا مانس ان کے جال میں آسانی سے پھنس جائے۔ اگر آپکے موبائل پر کسی انجانے فون نمبر سے کال موصول ہو اور یہ بتلایا جائے کہ آپکا دس لاکھ کا انعام نکل آیا ہے تو کیسا لگے گا؟ اس طرح کی کال موصول ہوتی ہے کہ میں فلاں کمپنی کے ہیڈ آفس سے کال کر رہا ہوں ، آج کمپنی نے ایک قرع اندازی کی ہے جس میں آپ خوش نصیب ٹھہرے ہیں ، آپکو بہت مبارک باد ، کیونکہ آپکا دس لاکھ کا کیش انعام نکلا ہے ، آپ ابھی فورا اسی نمبر پر کال بیک کریں تا کہ آپ کو مزید معلومات دی جا سکیں ۔ بچارہ خوش نصیب جو کہ سانس روکے ہوئے یہ سب کچھ سن رہا ہوتا ہے فورا بھاگم بھاگ ایک نیا کارڈ خرید کر اسے چارج کرتا ہے اور کال بیک کرتا ہے ، اب کسی نئے فرد سے بات ہوتی ہے جو کہ غالباً اپنا تعارف کمپنی کے منیجر کے طور پر کرواتا ہے۔ خوش نصیب ، بلکہ بیچارہ اس سے انعام وصول کرنے کے متعلق تفصیلات معلوم کرتا ہے اور اس طرح ان موبائل ٹھگوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے ۔ اس تمام لے دے کے دوران اس خوش نصیب کو کافی سارے کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے اور انعام کی لالچ ، ، نہیں بلکہ، انعام کی تگ و دو میں اچھی خاصی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جوانی انجانی اور دیوانی نہ ہو تو اسکو جوانی کون کہے؟ آج کل کے موبائل معاشرے میں اگر آپ کسی پارک کے پاس، یا پارک میں ، یا پھر سڑک کنارے کسی شخص کو اپنے آپ سے باتیں کرتا ، کبھی ہنستا اور کبھی غصہ کرتا دیکھیں تو کہیں غلطی سے پا گل نہ سمجھ بیٹھئے گا کیونکہ وہ ہینڈ فری لگا کر کسی سے موبائل پر بات کر رہا ہو گا۔ چلیں چھوڑیں کام کی بات کرتے ہیں، اکثر اوقات کسی فون نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے اور کسی اچھی آفر کے ساتھ بیلنس ، یا کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے ، یا پھر کبھی مس کال، جو ابھی تک کسی کی نہیں ہوئی ، موصول ہوتی ہے اور بات اپنے انجام پر بیلنس بڑھانے اور کارڈ چارج کروانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
گلی محلوں میں ٹھگی کے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں ، باربر شاپ یعنی حجام کی دوکان یا اسی طرح کی بیٹھک والی جگہوں پر اکثر ہینڈ فری قسم کے ٹھگ پائے جاتے ہیں ، انکا دوکان میں کوئی کام نہیں ہوتا بلکہ ہر گپ شپ میں اپنا لقمہ شامل کرتے رہتے ہیں انکے ساتھ کچھ انکی تعریف کرنے والے اور نقلی ضامن بھی موجود ہوتے ہیں ۔ چند روز کی گپ شپ میں کچھ شکار تلاش کرکے ان سے دوستی بنا لیتے ہیں اور لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق آفر کرواتے پھرتے ہیں ، کسی کی نوکری کا بندوبست ، کسی کے گھر کے کام اور کسی کو باہر ممالک میں بھجوانے کی حامی ، اس طرح یہ ٹھگ چند ہی دنوں میں لوگوں سے مختلف کاموں کے کروانے کے بہانے رقم بٹور کر ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
چند ایک لینڈ لارڈ ٹھگ لوگوں میں سستے پلاٹ بانٹتے پھرتے ہیں ، ہوتا یوں ہے کہ ایک صاحب اچانک وارد ہوتے ہیں اور بڑے خوش مزاج انداز میں آپکو اپنا تعارف کرواتے ہیں اور ساتھ ہی مبارک باد دیتے ہیں کہ ڈیر آپ تو بہت خوش نصیب ہو، کیونکہ فلاں سکیم میں آخری چند ایک پلاٹ رہ گئے تھے لہذا قرع اندازی کی گئی ہے اور تین میں سے ایک پلاٹ آپکے نام نکلا ہے ، بہت بہت مبارک ہو!!! آپکو یہ پلاٹ صرف ایک ڈیڑھ لاکھ میں مل جائے گا اب خوش نصیب ، خوشی سے پھولے نہیں سماتا کہ اتنی مہنگائی کے دور میں پلاٹ اور ہو بھی صرف ڈیڑھ لاکھ میں اور آو بھگت میں لگ جاتا ہے ۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی جی میں تو آپکی فائل بھی لے آیا ہوں ، آپ فائل رکھ لیں اور فلاں دن آکر موقع دیکھ لیں ۔ اب فائل لینے والا جب فائل حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ صاحب کہتے ہیں کہ اس فائل کی معمولی سی قیمت صرف چار سو روپے ہے آپ ادا کر دیں ۔اور سلسلہ چل پڑتا ہے ، موقع پر جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مزید ایک ہزار روپے اور ادا کر دیں کیونکہ خوش نصیب کی تو ابھی تک رجسٹریشن بھی ہونی ہے، اسطرح سے پیسے بٹور نے والے ٹھگ پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور آخر کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ جو پلاٹ انکے نام نکلا ہے کسی شورش زدہ علاقے میں شہری حدود سے باہر ہے اور اسکی قیمت ایک لاکھ بھی زیادہ ہے ۔
ایک اور قسم کے ٹھگ جنکو آپ فقیر نما ٹھگ کہ سکتے ہیں ان کا حال سنیں، کئی بار بڑے بڑے دفتروں میں جہاں کہ بڑے مرتبے کے لو گ بیٹھتے ہیں اچانک ملنگ نما لوگ دفتر میں گھس آتے ہیں ، بڑے بڑے منکے پہنے ہوئے ہٹے کٹے ملنگ صاحب آتے ہی اپنا تعارف کچھ اس طرح سے کرواتے ہیں ، ” مستان شاہ کا پھرا ہے ، غصہ تھوک دو ، تمہارے زندگی میں بہت کامیابی ہے صرف غصہ نہ کیا کرو “، اور ساتھ ہی ایک عدد آٹو گراف بک آپکی خد مت میں پیش کر دیں گے جس میں بڑے بڑے لوگوں کے کمنٹس لکھے ہوتے ہیں ، اب اپنے شکار کو مرغوب کرنے کیلئے انکے پاس کچھ شبدے بھی پائے جاتے ہیں ، اکثر اوقات اپنا کرشمہ دکھانے کیلئے آ پنے شکار سے پانچ سو کا نوٹ لیکر اور اسے مٹھی میں بند کرکے اس میں سے پانی کے قطرے نکالتے ہیں اور اسی طرح سے کچھ اور شبدے دیکھا کر کمزور عقیدہ لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے بٹور تے ہیں ۔
اسی طرح ان ٹھگوں میں ایک انتہائی معتبر طبقہ بھی موجود ہے ۔ یہ لوگ شاہانہ انداز میں اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں ، آپ انکو کارپوریٹڈ ٹھگ کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ یہ کارپوریٹ لیول پر کام کرتے ہیں ، انکا طریقہ واردات سب سے مختلف ہے ، کسی بھی بڑے بزنس مین کو اچانک ایک فون کال موصول ہوتی ہے اور ایک بہت بڑا آرڈر بک کروایا جاتا ہے یعنی بڑی تعداد میں اشیا ء خریدنے کی دلچسپی ظاہر کی جاتی ہے ۔ مگر بزنس مین کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت بھی دی جاتی ہے ۔ اب بچارہ بزنس مین اتنے بڑے خریدار کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ، وہ کسی بھی کمٹ منٹ کے تحت گاہک کے پاس جا پہنچتا ہے ۔ کارپوریٹڈ ٹھگ اپنے اڈے شہروں سے کچھ فاصلے ہر بناتے ہیں جیسے لا ہور کے ساتھ بھائی پھیر و وغیرہ، تاکہ ڈیل میچور کر سکیں ۔ انکا ڈسا ہو ا بزنس مین ہمیشہ کیلئے برباد ہو جاتا ہے۔ اب بزنس کی غرض سے آئے ہوئے فرد کو باس سے ملوا نے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر پہلی ملاقات میں باس کی بجائے چند ایک اور آئے ہوئے مہمانوں سے کروائی جاتی ہے جو کہ لفظوں کے جال میں پھنسانے کے ماہر ہوتے ہیں، اور اس طرح آنے والے بزنس میں کو جوا ء کھیلا جاتا ہے جس میں پہلی بار کچھ رقم کی جتوا دی جاتی ہے مگر بزنس میں کو پیسے دیے نہیں جاتے بلکہ امانتاً رکھوا لیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ابھی کھیل نامکمل ہے ، آپ جتنی رقم لاوء گے، یعنی شو کرواوء گے اتنی یہاں سے لیجا سکتے ہو۔ اب بزنس میں اپنی پھنسی ہوئی رقم رکھوا کر اور مزید پیسے لا کر اس کھیل کا حصہ بن جاتا ہے اور اس طرح سے جوئے میں اپنی پونجی ہار بیٹھتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا کیونکہ یہ وہ سب کچھ اپنی مرضی سے ہار چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے اسٹام پیپر تک سائین کروا لئے جاتے ہیں۔ اسطرح سے ہارا ہوا بزنس مین کسی کو بتانے کے قابل بھی نہیں رہتا کہ اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ۔
ایسے کئی اور اقسام کے ٹھگ گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ، جیسے گھروں میں عورتوں کا آکر پیسے ڈبل کرنے کی آفر کے بعد پیسے اور زیور بٹور لینا وغیرہ، آئیے ایک جدید انتہائی تعلیم یافتہ ٹھگ سے ملاقات کا آنکھوں دیکھا حال آپکی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ 2اگست2008 شام تقریباً 6 بجے ایک صاحب میرے آفس میں تشریف لائے اور آتے ہی اتنی بے تکلفی سے ملے اور سلام کیا جیسے مدتوں سے جاننے والے ہیں۔ پھر گفتگو کی سلائس پر مکھن کے دو کوٹ کئے اور اپنا تعارف کروایا کہ “میں راولپنڈی کے ایک کالج میں پروفیسر ہوں، کیمسٹری پڑھاتا ہوں اور کچھ طلبا کو وظیفے پر مختلف ملکوں میں تعلیم کی غرض سے بھجوانا ہے لہذا اس غرض سے لاہور صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ہمارے کالجز کا پورے پنجاب میں ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور اس لحاظ سے ہر ایک سیشن میں کم از کم ایک سو طلبا و طالبات کے داخلے آپکو مل جا یا کریں گے”
وہ صاحب گفتگو اور لباس سے قطعی طور پر مہذب انسان لگ رہے تھے جبکہ معلومات کا ایک گنجینہ بھی تھے ۔ مجھے کاروبار سے بڑھ کر انکی شخصیت نے زیادہ متاثر کیا۔ اپنی مسحور کن گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بھی انکے کالجز ہیں ۔ اور اتنے بڑے نیٹ ورک کے بیرون ممالک تعلیم کے معاملات نبٹا نے کیلئے کسی اچھے اور تجربہ کار ایڈوائزر کی ضرورت ہے ۔ اتنی مرنجا مرنج گفتگو کہ کوئی قربان ہی ہوجائے ، مجھے احساس ہوا کہ ایک اچھی کاروباری ڈیل اور اچھی شخصیت کی مسحور کن ماحول میں انکو کچھ کھلانا پلانا بھول ہی گیا ہوں۔
میں نے فورا ان صاحب کیلئے چائے اور کھانے کا انتظام کیا ۔ کاروباری معاملات پر مزید بات چیت جاری رہی ، ان صاحب سے میری بھی بے تکلفی سی ہونے لگی ، میں نے ان سے انکا وزٹنگ کارڈ مانگا جو فورا انہوں نے پیش کر دیا
Fahim Asad Jaral
M.Sc Chemistry
M.BA Marketing
Cell: ………..
انکے گلابی رنگ کے کارڈ پر نہ تو کسی ادارے کا نام اور نہ ہی ایڈریس لکھا ہوا تھا مگر کمال کی شخصیت اور کمال کی معلومات کہ جو بات کرو جواب حاضر ۔ لہذا میں نے انکے کام کیلئے حامی بھر لی اور باہمی شرائط طے کرنی شروع کر دیں ۔ مگر فہیم اسد جرال صاحب بولے کہ یہ شرائط تو طے ہوتی رہیں گی ، آپ کیونکہ ایک تعلیمی ادارہ بھی چلا رہے ہیں ، لوگوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں اور آپ سے دوستی بھی ہو گئی ہے لہذا میں آپکو ایک اور بزنس بھی دلا دیتا ہوں ، آپ ایک عدد درخواست ہمارے ڈائریکٹر صاحب کے نام لکھ دیں ۔ یہ درخواست ایک ٹینڈر سے متعلق ہے جسکی آخری تاریخ کل ہے ۔
انہوں نے مجھے لکھوانا شروع کر دیا ، بہترین انگلش کے الفاظ کا چناﺅ اور پیراگراف کہ میں حیران ہو گیا۔ درخواست مکمل کر نے کے بعد انہوں نے اس پر میرے دستخط کروائے اور اپنے پاس رکھ لی۔اب گفتگو کسی اور موضوع پر چل پڑی کہ اچانک جرال صاحب نے کہا کہ مجھے ایک ہزار روپیہ عنائیت فرما دیں جو کہ درخواست کے ساتھ بطور فیس جمع کروانا ضروری ہے۔ میں کیونکہ ان کو ایک معتبر اور قابل اعتماد شخصیت مان چکا تھا لہذا کسی اچنبھے کا اظہار نہ کیا اور ایک ہزار روپے کے دینے کی فورا حامی بھر لی۔ پھر بات چیت اپنی دلچسپیوں کی ڈگر پر چل پڑی کہ چند ہی لمحوں میں فہیم جرار صاحب نے یاد دہانی کروائی کہ مجھے انہیں ایک ہزار روپیہ دینا ہے۔
انکے اتنی معمولی رقم کیلئے دوبارہ تذکرے پر کچھ حیرانی ہوئی مگر میں نے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔ جرار صاحب نے بھی گفتگو جاری رکھتے ہوئے تیسری بار مجھ سے ایک ہزار روپے کا تذکرہ کیا جو کہ اب واقعی اہمیت کا حامل تھا کہ ایک چھوٹی سی رقم کیلئے اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔ مجھے انکی شخصیت اور کاروباری معاملہ کی نوعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ہزار روپیہ دینا کوئی مشکل کام تو نہیں لگا مگر کچھ شک گزرا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔
بات کا پانسا پلٹتے ہوئے میں نے کہا جناب جرار صاحب آپ کیوں فکر کرتے ہیں ، یہ تو معمولی سی رقم ہے ، ہم نے تو ابھی بہت سے بزنس کے معاملات میں آگے چلنا ہے ، آپ ایسے کریں کہ اتنی سی رقم آپ خود سے جمع کروا دیں ۔ یہ سننا تھا کہ جیسے ان کو کرنٹ لگ گیا ہو، انکے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا جو کہ میرے لیے اور بھی حیرت کی بات تھی ۔ اب میری آنکھیں کھلنے لگیں کہ نہ جان نا پہچان اور میں تیرا مہمان ، میں کس شخص سے وقت ضائع کر رہا ہوں جو کہ صرف ایک ہزار کے کھیل میں آسمان کی قلا بیں ملا رہا ہے ۔
جرار صاحب کا طلسم ٹوٹ چکا تھا مگر میں نے محسوس نہیں ہونے دیا ، میرا یہی اصرار تھا کہ وہ خود ہی سے درخواست اور اسکی فیس جمع کروا دیں ۔ اب اس بچارے کی حالت دیکھنے والی تھی ، چہرہ پہ پسنے کے قطرے نمودار ہونے لگے کہ ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور بو کھلائے ہوے بولے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے ، پھر ملاقات ہوگی ۔ اور اپنی فائلیں سنبھالے نکل گئے جبکہ میں انکی آنیاں اور جانیاں ملاحظہ کرتا رہا۔ انکے نکلتے ہی میں نے سوچا کہ دیکھوں موصوف کے پاس کونسی گاڑی ہے لہذا کھڑکی سے ملاحظہ کیا تو جناب سڑک کنارے کھڑے ایک موڑ بائک والے سے لفٹ مانگ رہے تھے ، حالانکہ گپ شپ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انکے پاس ایک عدد گاڑی کا بھی ہے ۔ اب میں نے سوچا انکے وزٹنگ کارڈ پر لکھے ہوئے موبائل تو دیکھوں کہ کسی اور کا نہ ہو،جب فون کیا تو جناب کا فون بند تھا ۔ اس واقع کے بعد کبھی گمان ہوتا تھا کہ میں سمجھنے میں غلطی کر گیا اور کبھی خیال ہو تا کہ ایک ٹھگی سے بچ گیا ، اسی شش و پنج میں ایک روز پھر فون ملایا تو مل گیا ، حضرت موجود تھے اور بولے یار آپ بھی کمال کے شخص ہیں، آجکل میں پنڈی میں موجود ہوں پھر کبھی ملاقات ہوگی خدا حافظ، مختصر سی بات کی اور ۔۔۔ اور پھر کبھی ملاقات نہ ہوئی ۔۔ آج وزٹنگ کارڈز کو ترتیب میں لگاتے ہوئے مجھے پھر وہی کارڈ نظر آیا اور ذہن میں وہی پرانی تصویریں اور واقعات گھومنے لگے کہ جسے میں اکیسویں صدی کا ٹھگ ہی کہوں تو بجا ہوگا۔
انکی تفصیلات اس لئیے لکھ دیں ہیں کہ اگر آپ ان سے مل چکے ہیں تو آپ میری شش و پیج ختم کر دیں اور اگر کبھی شرفِ ملاقات حاصل ہو تو کسی کاروباری دھوکے میں نہ آجائے گا۔۔۔ایسی شخصیات سے ملاقات نصیبوں والوں کو ہی ہوتی ہے اور جن کو یہ شرف حاصل ہو وہ کسی سے تذکرہ بھی نہیں کرتا بلکہ تذکرہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ لہذا اپنے اردگرد نظر دوڑایں اور شک کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیں تو ممکن ہے نظر آجائے کہ ایسا ہی کوئی معاملہ درپیش ہو؟
یہ سارا عمل ایک اصول پر قائم ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ، لہذا لوگ تھوڑا سا پیسا لگا کر بہت سا حاصل کرنے کی لالچ میں تھوڑے سے بھی جاتے ہیں، جیسے پہلے وقتوں میں ایک شخص ایک بڑی سی دوکان کے باہر اپنے ہاتھ میں ایک سکہ لیے کھڑا تھا،دوکاندار نے دیکھا اور نظر انداز کر گیا۔ اب کافی دیر بعد وہ شخص جانے لگا مگر اس نے سکہ دوکاندار کی طرف اچھال دیا تو دوکاندار اسے روک کر پوچھنے لگا ، بھئی یہ کیا ہے ، تو وہ شخص بولا سنا تھا پیسا پیسے کو کھینچتا ہے لہذا میں اپنا سکہ لیکر تمہاری دوکان کے باہر گلے کے پاس کھڑا رہا اور دیکھتا رہا کہ کب میرا سکہ تمہارے گلے سے پیسے کھینچے گا ، مگر کافی دیر کھڑا رہنے کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی لہذا مایوس ہو کر میں نے اپنا سکہ بھی تمہارے گلے میں پھینک دیا ۔ اب دوکاندار مسکرایا اور بولا بھئی بات تو ٹھیک ہے کہ پیسہ پیسیے کو کھنچتا ہے مگر زیادہ پیسہ کم پیسے کو کھینچتا ہے نہ کہ کم زیادہ کو ، دیکھو میرے پیسوں نے تمہارے سکے کو کھنچ لیا!!
ان سب معاملات میں کسی قانونی تحفظ کی تو بات دور ، ان معاملات کی گرداب سے بچ نکلنا ہی غنیمت جانئے ۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی لالچ میں اندھا ہو جاتا ہے ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے ۔ اسی طرح سے جلدی کے تمام معاملات اور انجان لوگوں سے مراسم ہمیشہ کسی اندھے کنوئیں میں لا پھینکتے ہیں۔ یہاں افراد کی تربیت بہت ضروری ہے کہ وہ اس خواہ مخواہ کی پریشانی سے بچ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ٹھگوں سے بچائے رکھے البتہ اگر آپ اسی طرح کے کسی معاملہ سے گزر چکے ہیں تو امید ہے کہ اسکو دوسروں سے شیئر کریں گے تا کہ آپکے دوست و احباب کسی ناقابل تلافی نقصان سے بچے رہیں ۔


لذتِ آشنائی

محمدالطاف گوہر

محمدالطاف گوہر

لذتِ آشنائی

تحریر: محمد الطاف گوہر
آنکھوں میں چھپا ہوا انتظار اور یاسیت کا عالم، لگتا ہے زندگی یہاں سے سسکتی ہوئی گزر رہی ہے۔مکمل سکوت اور ہو کا عالم ہے، جیسے پت جھڑ کے موسم میں کچھ باقی ماندہ پتے ہلکی سی ہوا چلے تو اپنا دامن شاخوں میں چھپا لیتے ہیں کہ شاید پھر بہار آئے اور پھر سے ہرے بھرے ہو جائیں ، مگر یہ سرد و خشک ہوا پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتی اور اپنی لپیٹ میں سب کچھ اڑا لیجاتی ہے۔
ان نیم واوں آنکھوں میں کو نسا انتظار چھپا ہے؟ زندگی کتنے رنگ و زاویے بدلتی ہے، کبھی مثلث بناتی ہے تو کبھی دائرہ مگر انجام سے بے خبر نہیں اور اپنی انتہا کو ضرور چھوتی ہے، جبکہ ہر اک ابتدا کا ایک انجام مقدر ہے جو ٹل نہیں سکتا ۔ اگر یہ زندگی مثلث میں سفر کرتی ہے تو اک اٹھان سے شناسا ہوتی ہے اور عروج کا مقام دیکھتی ہے مگر اچانک اسے ڈھلان کا احساس ہوتا ہے اور آخر زوال سے ناطہ جوڑ لیتی ہے۔ اور جب کبھی دائرہ میں سفر کرتی ہے تو پھر ہر لحظہ کروٹیں بدلتی ہے اور وہی سفر دوہراتی ہے اور آخر زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ہر بہار پت جھڑ کو چھوتی ہے اور اپنا انجام خزاں میں دیکھتی ہے یہ صرف اور صرف قدرت کا نظام ہے جو ازل سے رواں دواں اور فنا و بقا کا تسلسل ہے۔
شجر پہ آخر ی لٹکتا پتہ بھی اس امید میں ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بہار آجائے اور وہ پھر سے ہرا بھرا ہو جاؤں ، مگر فنا اسے اپنی اٹل حقیقت سے روشناس کرواتی ہے جو کہ اسکی اصل منزل اور انجام ہے۔ کیا فنا اتنی ظالم ہے کہ اسکا ہر درس تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں؟ ایسا نہیں ہے! بلکہ حقیقت شناس زاویہ تو ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ ہر فنا اک نئی بقا کا نقطہ آغاز ہے ۔ ایک ایسا لاثانی آغاز کہ جیسے ہر نئے روزکا چڑھتا ہوا سورج اک نئے دن کی نوید سناتا ہے اور گزشتہ رات کی فنا کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔ مگر اکثر ہم اس گزشتہ رات کے دامن میں لپٹی ہوئی نئی صبح کی صدا سننے سے قاصر رہتے ہیں اور رات کی گمنامی میں گم ہو جاتے ہیں۔
زندگی اپنا سفر کبھی نہیں روکتی ، کبھی سسکتے صحراؤں سے گزرتی ہے تو خزاں کا نظارہ پیش کرتی ہے اور کبھی سرسبزوشاداب وادیوں سے گزرتی ہے تو لطف و کرم کا منظر پیش کرتی ہے اور بہار کا سما ں بندہ جاتا ہے یہ سماں بھی کتنا دلربا ہے کہ لمحات مسرتوں سے لبریز ہوجاتے ہیں اور لذت کا چشمہ قلب سے جاری ہو جاتا ہے جسکا ادراک صرف اور صرف اس تجربہ سے گزرنے والوں کو ہو سکتا ہے ۔ہر آواز موسیقی کی طرح پرد ہ سماعت پر وارد ہوتی ہے،زندگی اٹھکھیلیاں کرتی نظر آتی ہے ،خوشبو کی طرح فضاؤں میں بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ۔ ممکنات کے دروازے کھلے نظر آتے ہیں جبکہ قاہ او ر آہ بھی لذت سے معمور ہوتے ہیں ۔
اور کبھی زندگی کا گزر سنگلاخ چٹانوں سے ہو تو نئی امنگوں اور توانائیوں کو جنم دیتی ہے اور کبھی ریتلے اور تپتے صحراؤں سے ہو تو ہر طرف ہو کا عالم چھا جاتا ہے اور کبھی اسکا گزر گاتی ہوئی آبشاروں سے ہو تو لطف و کرم کے جام انڈیلتی ہے اور کبھی برفیلے پہاڑوں کا سفر درپیش ہو تو سست روی اور تکان کا منظر دکھائی دیتا ہے اور ہر حال میں اپنا سفر جاری و ساری رکھے ہوئے ہے۔
مگر ایک بار تو اسے تپتی دھوپ میں اک سایہ دار درخت کے نیچے روکا دیکھا !!!! کہیں آنکھوں کا دھوکا تو نہیں !!!! وقت بھی رک چکا تھا !!!! یہاں زندگی کو وصل و قربت کی لاثانی لذتوں سے سرشار ہوتے اور الفتوں کے جام انڈیلتے دیکھا۔لمحوں کو اس لذت آشنائی کے صدف میں گوہر ہوتے دیکھا۔ صدیوں بعد وقت کو سستانے کا موقع حاصل ہوتے دیکھا۔اجنبی راہوں نے مدت بعد اک شناسا چہرہ دیکھا جبکہ ہر طرف بہار ہی بہار تھی ۔ لمحے اپنی موج میں غرق تھے کہ اچانک زندگی نے جست بھری اور رخت سفر باندھ لیا ، پھر کبھی نفرتوں کی شاموں میں اور کبھی خوشیوں کے ہنگاموں میں اپنا سفر جاری رکھا۔
وہ لمحے جو زندگی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے چلتے ہیں ، وہ بھی کب تک ؟ آخر کہیں تو انکا سفر ختم ہونا ہے۔کبھی تو یہ لمحے مسرتوں سے لبریز ہوتے ہیں اور کبھی دکھوں اور اذیت کا مزہ چکھتے ہیں، تو کبھی لطف و کرم کا!!! کیا یہ لمحے پانی کی سطح پہ تیرتے بلبلے کیطرح اپنا وجود ختم کر دیں گے؟ نہیں !! یہ تو جلتی شمیں ہیں جو دیئے سے دیا جلائے رکھتی ہیں ، یہ تو بدلتی رتیں ہیں جو بہاروں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں ۔
توڑ دو ذہن کی ان حدوں کو جو فنا میں لپٹی بقا کا تصور کرنے سے قاصر ہیں !!!
توڑ دوں ان خود ساختہ حد بندیوں کو جو اس آشنائی کے دور میں بھی شناسا ہونے سے روکتی ہیں !!!
اس موڑ سے آگے منزل ہے ، مایوس نا ہو درتا جا
ایک نوید سحر ، اک نئی کونپل آخر کس طرح ممکن ہے؟ اگر زندگی اپنا سفر جاری نہ رکھے تو کچھ بھی ممکن نہیں۔اگر اک نئی صبح کی آمد آمد ہے تو اک رات بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی۔ ہر رات اک نئی صبح دیکھتی ہے اور ہر اندھیرا روشنی کا منہ چومتا ہے ۔ ہر لمحہ اک نئی کروٹ بدلتا ہے کیونکہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اور ہم ہر لمحہ اک نئی جگہ پہ دریافت ہوتے ہیں۔ہر ماضی اک نئے حال سے روشناس ہوتا اور ہر حال ایک مستقبل کا ادراک کرتا ہے ، ہر بقا اپنی فنا دیکھتی ہے اور ہر فنا کے دامن سے اک بقا کا نمو ہوتا ہے ، یہی قانون قدرت ہے اور یہی درس کائنات کے ذرے ذرے کو معلوم ہے ۔


لذت آشنائی- ایک تعارف


لذت آشنائی کا یہ سلسلہ تو میرے بچپن کا ساتھی ہے، جہاں میں نے زندگی کے خوبصورت لمحوں کو قید کیا ہوا ہے مگر اسکو لکھنے کا باقاعدہ سلسلہ گذشتہ برس 2008 ماہ رمضان المبارک میں پہلے پہل صرف پرسنل ڈائری کی شکل میں شروع کیا ،اس سوچ کے مد نظر کہ اگر کوئی پھل درخت پہ لگا پک جائے تو اسے اتار لینا چاہئے ورنہ گل سڑ جاتا ہے ، لہذا اسے باقاعدہ ایک تحریر کی شکل دینی شروع کر دی، قلم تھا کہ خود بخود چلتا جاتا تھا اور روانی تھی کہ ہاتھ رکنے کا نام نہیں لیتا تھا ۔ جب اس تحریر کا نام تجویز کرنا چاہا تو جو کیفیت لکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتی تھی اس کو آشکار کرنے کو دل چاہا جس لذت میں میں ڈوبا ہوا رہتا ہوں اسی کو نام دے دیا، ” لذت آشنائی” جس کے سامنے مجھے دنیا کی ہر لذت ہیچ لگتی ہے۔
مصروفیات روزگار اور ذمہ داریوں کے باعث لکھنے کا سلسلہ صرف ماہ رمضان 2008 تک محدود رہا مگر اچانک ایک دن ان تحاریر کو جو ابھی تک فقط ذاتی ڈائری تک محدود تھیں ، پبلش کروانے کی سوجھی اور اپنی ڈائری کے چند صفحات کو اقساط بنا کر اردو پوئنٹ ڈاٹ کام کو بجھوا دیا جس کے توسط سے مجھے پوری دنیا میں متعارف ہونے کا موقع ملا اور بہت زیادہ پزیرائی بھی ہوئی ؛ جسکے باعث میں اردو پوائنٹ ڈاٹ کام کا بہت زیادہ مشکور ہوں۔اسکے ساتھ ساتھ ہماری ویب ڈاٹ کام کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس سلسلہ کو ” پر اسرار بندے ” کے نام سے اپنی ویب سائٹ پہ پبلش کیا اور چند اقساط کی اک لڑی باندھ دی ؛ اسکے علاو روزنامہ ” نوائے وقت-لاہور” کا مشکور ہوں جنہوں نے 2008 اکتوبر میں ” ملی ایڈیشن ” میں تسلسل کے ساتھ شائع کر کے مجھے ایک رائٹر کے طور پہ متعارف کروا دیا۔ جبکہ اسکا تسلسل ،گاہے بگاہے ، ابھی تک قائم ہے ؛
آج اگر دوبارہ ” لذت آشنائی ” کا سلسلہ شروع کیا ہے تو صرف ماہ رمضان کی برکت کے سبب سے اور ان تشنہ لبوں کو سیراب کرنے کیلئے کہ جو گزشتہ ہر تحریر پڑھنے کے بعد آنے والی قسط کا شدت سے انتظار کرتے تھے ، امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا ، ساتھ ساتھ آپکی آرا کا شدت سے انتظار رہے گا۔


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers