
لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق

" لذتِ آشنائی"
Like this:
Be the first to like this post.
13 comments | tags: Articles, Blog, Education, Health, People, Politics, Science & Technology, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, نوجوان, کالم, کتاب, پراسرارعلوم, آج, اسلام اور دور جدید, تلاش, تحقیقات, صلاحیت, عقل, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بین الاقوامی امور, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
کوئی ہے جو سڑک پار کرا دے؟
پاکستانی عوام کی آواز ہے کہ ہمیں دہشت گردی اور مہنگائی کے بحران کی سڑک پار کرا دو اور سہو لتوں اور امن کی منزل تک پہنچا دو
ہمارے آس پاس لاتعداد ایسے ہی سوالوں سے بھرے خاموش چہرے امید لگائے ہمارے رسپانس, جواب کے منتظر ہیں، جبکہ ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ سب کچھ دیکھتے ، جانتے بجھتے ہوئے بھی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ معاملات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔غرض مند کی مجبوری کو سمجھنا تو درکنار ، اسے بھکاری سے بھی بد تر خیال کرتے ہیں
مزہ تو پھر ہے کہ بندہ اپنی زندگی کے سارے مراحل کامیابی کے ساتھ طے کرے اور مساوات ، یکجہتی اور بھائی چارے کو اہمیت دے۔ جبکہ تمام مذاہب تو اجتماعیت اور بھائی چارے کی دعوت دیتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کے تقدس کو شامل حال رکھتے ہیں۔
تحریر:محمدالطاف گوہر
سڑک کے کنارے کوئی انتظار رہا ہے کہ ” کوئی ہے جو سڑ ک پار کرا دے؟” مگر کونسی سڑک؟ اور کون سوال کر رہا ہے کہ مجھے سڑک پار کرا دو؟ کیا پھر کوئی بھٹکا مسافر کسی رہبر کی راہ تک رہا ہے یا پھر کوئی اندھا سڑک کنارے اپنی سفید لاٹھی ٹکائے کسی کی انتظار میں ہے؟
نہیں بلکہ
* غریب کہتا ہے کہ مجھے غربت کی سڑک پار کرا دو اور خوشحالی کی منزل تک پہنچا دو
* بیمار کہتا ہے کہ مجھے بیماری کی سڑک پار کر اکے صحت کی منزل تک پہنچا دو
* مظلوم کہتا ہے کہ مجھے ظلم سڑک کی پار کرا دو اور انصاف کی منزل تک پہنچا دو
* بے روزگار سوال کرتا ہے کہ مجھے بے روزگاری کی سڑک پا کرا دو اور روزگار کی منزل تک پہنچا دو
* نوجوان سوال کرتا ہے کہ مجھے عظمت کے خوابوں کی سڑک پار کرا کے ایک شاندار مستقبل کی منزل تک پہنچا دو
* بوڑھا سوال کرتا ہے کہ مجھے اذیّتوں اور کمزوریوں کی سڑک پار کرا دو اور دوبارہ جوانی تک پہنچا دو
( جو جا کر نہ آئے جوانی دیکھی ۔۔ جو آکر نہ جائے بڑھاپا دیکھا)
* گناہوں میں ڈوبا ہوا سوال کرتا ہے کہ کوئی ہے جو مجھے برائی کی سڑک پار کرا دے اور خیر کی منزل تک پہنچا دے
* عاشق کہتا ہے کہ مجھے فراق کی سڑک پار کرا دو اور وصل کی منزل تک پہنچا دو
* پاکستانی عوام کی آواز ہے کہ ہمیں دہشت گردی اور مہنگائی کے بحران کی سڑک پار کرا دو اور سہو لتوں اور امن کی منزل تک پہنچا دو
* قوم کہتی ہے کہ ہمیں سیاسی یکسانیت کی سڑک پار کرا دو اور کسی لیڈر سے ملا دو
* قاری ایک رائٹر سے سوال کرتا ہے کہ کوئی ہے جو لا یعنی ، خیالی نظریات اور فلاسفی کی سڑک پار کرا دے اور عملی زندگی کی سچائیوں سے ہمکنار کرا دے ؛
” اگر دنیا کو ایک معصوم چڑیا کی نظر سے دیکھا جائے جس کے
گھونسلے میں پڑے ہوئے بچے ایک سانپ کھا رہا ہے تو دنیا ہمیں
کتنی ظالم دکھائی دے گی مگر اسی لمحے اِس بھوکے سانپ
کی نظر سے دنیا کو دیکھا جائے تو دنیا کتنی مہربان نظر آئے گی
کہ بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا ملا ہے مگر ہمیں اِن نقطہ نظر سے کیا لینا دینا؟ “
کیا ہمیں معلوم ہے کہ یہ سوال کرنے والے ہم سے کس انداز میں سوال کرتے ہیں؟ کبھی شکوہ زباں پہ ہوتا ہے اور کبھی چہرے سے عیاں ہوتا ہے مگر کوئی سمجھنے کی کوشش تو کرے!!!
ہمارے آس پاس لاتعداد ایسے ہی سوالوں سے بھرے خاموش چہرے امید لگائے ہمارے رسپانس, جواب کے منتظر ہیں، جبکہ ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ سب کچھ دیکھتے ، جانتے بجھتے ہوئے بھی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔ معاملات سے پہلو تہی کرتے ہیں۔غرض مند کی مجبوری کو سمجھنا تو درکنار ، اسے بھکاری سے بھی بد تر خیال کرتے ہیں۔ غریب رشتہ دار اور دوست احباب کی صرف زبانی کلامی خیریت دریافت نہ کریں بلکہ اگر صاحب استطاعت ہیں تو انکی مدد کریں،اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا پھر ہی ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو ان میں شامل کریں ؟
کیا خیال ہے آپکا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال کرنے والے کو کیسے پہچانا جائے اور اسکی کیسے مدد کی جائے کیونکہ متوسط طبقہ ہی سب سے زیادہ معاملات کی زد میں رہتا ہے مگر یہ طبقہ سفید پوشی کا دامن نہیں چھوڑتا اور ؟۔۔۔۔۔
جی یہی تو جاننے کی کوشش ہے کہ ہر کسی کے معاملے کو ہر کوئی کس طور حل کر سکتا ہے جبکہ ہر مسلہ کا حل اسی دنیا میں موجود ہے ، ایک امیر آدمی اگر صرف اپنے پالتو جانور پر لاکھوں خرچ کر سکتا ہے تو کیا کسی غریب کی چھوٹی سی مشکل حل نہیں کر سکتا؟
عیش و عشرت کی ایک رات کا بجٹ کتنے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے؟
ایک برس پہلے ایک فرد کو میں نے دیکھا جو کہ بڑھاپے کی عمر میں کسی بیماری کا شکار تھا وہ دونوں ہاتھ آسمان کیطرف بلند کرکے معافی مانگ رہا تھا اور ڈاکٹر سے التماس کر رہا تھا کہ جہلم میں میری میلوں کے حساب سے زمین ہے جو آپ لے لیں اور ہسپتال بنا لیں مگر مجھے اس بیماری سے نجات دلا دیں ، مگر کچھ حاصل نہیں اور کسی نا معلوم بیماری کا شکار چل بسا!!!!
ہمارے ارد گرد چلتے پھرتے عبر ت کے نشان موجود ہیں مگر ان سے بھی سبق نہیں سیکھتے !!!
“اس خطہء زمین پہ ہم روزانہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ لادے ہوے
صبح کو آتے ہیں ، دن گزارتے ہیں اور رات کو واپس چلے جاتے ہیں
کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں؟ کتنی عجیب بات ہے
کہ ایک مختصر سے لمحے کو رہنے کی زندگی کیلئے شاندار محلات تعمیر
کرتے ہیں اور شانِ طولانی دیکھئے کہ انا (خود پسندی) کی ملمع کاری
بھی سمندر میں اٹھتی ہوئی لہر کی طرح ہے جو اپنے ہی شور میں یہ
بھول گئی ہے کہ آخر اِسے پھر واپس اِسی سمندر میں مل جانا ہے
تو پھر اتنا تلاطم کیسا؟ اور اتنا بپھرنا بھی کیا؟آخر سر اٹھاتی ہوئی
موجیں (لہریں) ہی کناروں سے اپنا سر پھوڑ تی ہیں
وگرنہ گہرے سمندر تو از لوں سے خاموش اور ساکن رہے ہیں۔”
یہی لوگ ہوتے ہیں جب تندرست ہوتے ہیں تو ان کی گردنیں تنی ہوتی ہیں اور عام مخلوق انہیں کیڑے مکوڑے نظر آتی ہے اور جب خود کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں تب انہیں احساس ہوتا ہے۔ اور اگر یہی لوگ مستقل طور پہ کسی ایک غریب خاندان کی کفالت کا ذمہ ا ٹھالیں تو یقین کیجئے کہ پاکستان کے حالات بدل جائیں۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبرت کے نشانوں کو توہم روزانہ دیکھتے ہیں !
ایک صاحب کو دیکھتا ہوں کہ انکا سارا جسم جل چکا ہے اور لنگڑا کر چلتے ہیں ابھی ادھیڑ عمر شروع ہوئی ہے تو میں نے پوچھا کیا ہوا؟تو جناب نے فرمایا کہ نوجوانی میں عشق کر بیٹھا اور حالت یہ تھی کہ معشوق نے دھوکا دیا تو خود کشی کی کوشش کی مگر بچ گیا اور اب پچھتاتا ہوں کہ کیا کر بیٹھا مگر اب کیا فائدہ ، اگر کسی نے مجھے اس وقت سمجھایا ہوتا تو آج اس حالت کو نہ پہنچتا!!
اگر ایسے لوگوں کو کسی نے راہنمائی کی سڑک پار کرا دیا ہوتا تو کیا کسی اچھے حالات میں نہ ہوتا؟
بالکل اچھے حالات میں ہوتا!!!
ہم لوگ اجتماعی بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب بھی کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہماری سوچ یہی ہوتی ہے کہ ، دفعہ کرو کیا ضرورت ہے پرائے پھڈوں میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔۔
ایک دوست عدنان صاحب نے اپنا ایک سچا واقعہ سنایا;
“ایک دفعہ ہم کچھ نیٹ فرینڈز جنڈانوالہ گئے (وسیم اور خلیل بھائی سے ملنے) وہیں ہمارا رابطہ ایک اور نیٹ فرینڈ سے ہوگیا جو کہ غالباً سرائے عالمگیر میں رہتا تھا تو جب ہم نے اسے بتایا کہ ہم جنڈانوالہ میں ہیں تو وہ بھی آنے کو تیار ہوگیا اب ہم تمام دوستوں نے اس کو کھاریاں اڈا سے receive کرنے کا پروگرام بنایا اور وسیم بھائی کی گاڑی میں کھار یاں بس سٹاپ کے لئے روانہ ہوگئے۔ چونکہ وہ دوست مجھے نہیں جانتا تھا اس لئے میرے دماغ میں شرارت آئی کہ کیوں نہ اس کو بکرا بنایا جائے۔ چونکہ مجھے وہ بھائی شکل سے نہیں جانتا تھا سو میں نے اس سے شرارت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب جونہی ہم کھاریاں بس سٹاپ پہ پہنچے تو وہ دوست وہاں انتظار کررہا تھا باقی ساتھیوں نے مجھے اشارے سے بتادیا کہ ہمارا شکار یعنی کہ ہمارا دوست وہ کھڑا ہے۔ وہ شکل سے دیکھنے میں کافی معقول بندہ ہے اور باریش ہے۔ اب میں اس کے پاس گیا میں نے جا کر اس کا نام پوچھا جونہی اس نے اپنا نام بتایا میں نے اس سے کہا کہ میں پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ سے ہوں اور آپ کے خلاف شکایت ہے کہ آپ سائبر کرائمز میں ملوث ہو آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا۔
اب جب اس نے یہ بات سنی تو بھاگنے لگا لیکن میں نے اس کو دبوچ لیا اور اس بندے نے وہاں شور مچانا شروع کردیا کہ بچاﺅ بچاﺅ لیکن اللہ معاف کرے وہاں پہ سینکڑوں افراد آ جا رہے تھے لیکن کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی”
اب ایسے حالات میں آپ خود اندازہ کرلیں کہ ہم کس قدر بے حس ہو چکے ہیں اور اس کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ لوگوں کے پاس وقت کی کمی ہے اور ہر کوئی جلدی میں ہوتا ہے اور اس طرح کے واقعات میں ملوث ہونا پسند ہی نہیں کرتے لوگ کہ خوامخواہ وقت کا ضیا ہے, اللہ نہ کرے اگر ایسا ہی واقعہ ہمارے کسی دوست یا بھائی یا کسی فیملی ممبر کے ساتھ ہوجائے اور ہم خاموشی سے وہاں سے گزر جائیں ؟
آج کے دور کی تیز رفتار زندگی میں تو یہ بات سولہ آنے درست ہے ، ہمارے پاس تو بیمار ہونے کے لئے بھی ٹائم نہیں ، ساری زندگی سمیٹنے کے دوڑ اور بڑھاپے میں جب عقل آتی ہے تو ملال۔۔۔ مگر کس کام کا؟
بطور مسلم ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی معافی تو اللہ تعالیٰ دے دیں گے مگر جب بندوں کے حق مارے ہونگے ان کو کیا جواب دیں گے ؟ کیونکہ حقوق العباد کا معاملہ تو بندوں کے درمیان ہے ،اور مزہ تو پھر ہے کہ بندہ اپنی زندگی کے سارے مراحل کامیابی کے ساتھ طے کرے اور مساوات ، یکجہتی اور بھائی چارے کو اہمیت دے۔ جبکہ تمام مذاہب تو اجتماعیت اور بھائی چارے کی دعوت دیتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کے تقدس کو شامل حال رکھتے ہیں۔
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | posted in Articles, ملکی امور, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, پیار کی بہار, اسلام و معاشرہ, حقوق العباد, سیاست