Category Archives: خواتین کی دنیا

محبت اور لذتِ آشنائی

محبت اور لذتِ آشنائی


تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر
انسانی جذبوں کا انسائیکلوپیڈیا کھولا جائے یا پھر جذبوں کی ابجد Alphabet بنائی جائے تو سب سے بلندی پر صرف ایک ہی جذبہ نظر آئے گا اور وہ ’محبت ‘ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔انسانیت کو عظمت کی بلندی پر پہنچانے میں محبت کا جذبہ پیش پیش ہے۔ اس حقیقت سے قطعی طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا کہ محبت کی ڈوری کے بغیر رشتوں کے موتی مالاﺅں میں پروئے جا ئیں،بلکہ یہ صرف محبت کا ہی ثمر ہے کہ افراد ایک صحت مند معاشرہ کے محرک رکن بنتے ہیں اور انکے روابط امن و آشتی کے بندھن میں بندے رہتے ہیں جہاں نفرت کی پرچھائیاں نہیں پڑتیں۔
محبت کا جغرافیہ دیکھا جائے تو یہ جذبہ اپنی عالمگیریت اور آفاقیت کے باعث لازوال ہے اور کسی بھی طور عمر،رنگ و نسل اور علاقہ پر محیط نہیں، جبکہ لامحدود ہونے کا ساتھ ساتھ نہ صرف اس کرّہ عرض پر بسنے والی تمام مخلوق اس میں غرق ہے بلکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہوا ہے محو رقص ہے۔ اکیسویں صدی میں آج سائنس اس بات سے آگاہی رکھتی ہے کہ ٹھوس اشیاء کا کوئی وجود نہیں بلکہ ہر شے یا تو ذرات کا مجموعہ ہے یا پھر محو رقص Vibrating اور مرتعش ہے کیونکہ اس دنیا کی اساس ایک انتہائی کمترین ذرہ، الیکٹران ہے، جو یا تو ذرہ کی خاصیت کا اظہار کرتا ہے یا پھر لہر کی اور توانائی کی یہ لہریں اپنا رقص کسی نہ کسی طور ایک مرکز کے گرد جاری رکھے ہوئے جبکہ ایٹم اسکی ایک ادنیٰ سی مثال ہے ۔
محبت کی سائنس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے محبت میں انسانی بائیو کیمسٹری میں تبدیلی آتی ہے ، ذہن جب محبت کے جذبے سے سرشار ہوتا ہے تو سائنسی تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خوشی کا عنصر شامل ہوتے ہوئے ایڈرنالائن نیورو ٹرانسمیٹر متحرک ہوجاتے ہیں اور دل کی دھڑکن تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ بے چینی کا اظہار بھی ہوتا ہے ، جبکہ دوسرے مرحلے میں محبت کرنے والوں کے اذہان اب ڈوپامائن نیورو ٹرانسمیٹر سے لبریز ہو جاتے ہیں جسکے باعث ایک نشے جیسی کیفیت کا احساس ہوتا ہے ، طبیعیت خوشی کے جذبے سے لبریز ہوجاتی ہے ’چاہنے اور پانے‘ کی تمنا جاگ اٹھتی ہے۔اضافی توانائیوں کا احساس ہوتا ہے ، نیند اور بھوک کی کمی پیدا ہوتی ہے جبکہ توجہ میں ٹھہراﺅ آ جاتا ہے جوکہ خوبصورتی ، لذتِ لاثانی اور اس محبت کے بندھن کی چھوٹے سے چھوٹے لمحے کی تفصیلات پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسی طرح تیسرے درجہ پر سیروٹونائن نیوروٹرانسمیٹر کا افراز ہوتا ہے اور ڈوب جانے کی کیفیت کا احساس ہوتا ہے اس کیمیکل کو محبت کا اہم عنصر کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ خیالات اور سوچوں کے انداز کو تبدیل کرتا ہے کہ محبت کا پھول نظارہ جاناں میں کھوئے ہوئے محبوب کے آنگن کو کو مہکا دیتا ہے۔
محبت کی نفسیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جذبہ محبت سے سرشار فرد تصور ِ محبوب میں ڈوبا رہتا ہے اور اسی طرح ایک نظریہ کہ محبت اندھی ہوتی ہے بھی صادق نظر آتا ہے کہ اکثر اپنے محبوب کو آئیڈیل بناتے ہوئے اسکی اچھائیوں اور خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر مگر اسکی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پیش کرتا ہے۔محبوب کو تقدس کے آبگینوں میں سجاتا ہوا محسوس کرتا ہے کہ اس رشتے سے بڑھ کر اور بہتر رشتہ کوئی نہیں لہٰذا اس طرح دونوں ایک مضبوط ڈوری سے بندھ جاتے ہیں ۔ ان لمحات میں انسان محبت کے اگلے درجہ میں قدم رکھتا ہے جسے ’ قربت ‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔
محبت کا رنگ انسانی چہرے پر ایک نکھار پیدا کرتا ہے جس کے باعث چہرہ پر کشش ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں گہری مستی چھا جاتی ہے،سوچوں میں ارتکاز اور آواز میں جادو کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔لمحات چاہے وصل کے ہوں یا فراق کے اک انجانی لذت کا احساس پیدا ہوتا ہے جبکہ فضاؤں میں بھی نظارہ محبوب کا سماں بندھ جاتا ہے۔ طبعیت میں ایک ٹھہراﺅ سا آ جاتا ہے ،جبکہ ہر آواز پردہ سماعت پر موسیقی کا سماں پیدا کرتی ہے اور ہر طرف خوبصورتی کا دور و دورہ ہوتا ہے ،خواب بھی رنگین ہوتے ہیں اور خیال بھی مرکوز ، اس دورِ انسانی کو افراد کا موسم بہار کہا جائے تو بجا ہوگا۔
کھو جانے والی اس کیفیت کو حاصل کرنے کیلئے کسی ’ مصنوعی پیار‘ کی ضرورت نہیں بلکہ دیدہ دل وا کیجئے اور ’ ذہنی تصاویر‘ کو تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی کا سہارا لیجئے ، جی ہاں! اپنے ذہن کے پردہ سکرین پر ’نفرت‘ کو ملاحظہ کیجئے اور پھر ان جڑی بوٹیوں کو ذہن سے اکھاڑ پھینکئے ، کرنا صرف یہ ہے کہ جہاں جہاں رشتوں میں اور معاملاتِ زندگی میں ’ نفرت‘ کی تصویریں نظر آ ئیں ، انہیں پہلے ذہن کی پردہ سکرین پر واضح کریں اور پھر سمیٹتے سمیٹتے ایک مہمل سے ذرہ کے برابر متصور کریں اور آخر میں دھوئیں کی طرح فضاؤں میں اڑا دیں۔اس طرح سے اب ’نفرتیں‘ بے وقعت ہوگئی ہیں۔
محبت کا مراقبہ بھی شناسائی کا ایک عمل ہے جس میں ایک فرد معاملہ محبت کے آمنے سامنے والے زاویہ پر ہوتا ہے۔ روح و قلب کو اس لازوال جذبہ سے سرشار کرنے کیلئے تو محبوب کا تصور ہی کافی ہوتا ہے ، محبوب کے خیال میں بے خیال ہونا ہی معنی رکھتا ہے۔ مجازی طور پر تو جس فرد کو یاد کرکے اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہو اور جو تنہائیوں کا ہمراز بن جائے ، انسان غیر اردی طور پر اس کے پیار میں مبتلا ہوتا ہے ، اور اسکا تصور اور یاد ایک انجانی خوشی کی کیفیت سے دوچار کرتی ہے جبکہ یہ غیر ارادی مراقبہ ء محبت کہلاتا ہے ، اور اگر افراد اس تجربہ سے نہ گزرے ہوں تو اس کا حصول صرف ایک طور ہی ممکن ہے کہ کسی بھی فرد سے چاہت اور اس کا تصور اپنے آپ ہی اس کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے۔
حقیقی محبت کا اگر ادراک حاصل کرنا ہو تو اس کائنات کی وسعتوں کو دیکھیں اور قدرت کے بے پناہ نظاروں کو ملاحظہ فرمائیں ، رب العزت نے انسان کیلئے کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ اگر کوئی ساری زندگی بھی اس کا شکر ادا کرتا رہے تو کم ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے کہ وہ اپنے بندوں سے خود بھی محبت رکھتا ہے اور بندے بھی اس سے محبت رکھتے ہیں ۔
قران کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛
یحبھم و یحبونہ (المآئدہ:54)
اللہ ان سے محبت کرتا ہے ، وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں
وھوالغفورالودود(البروج:14 )
وہ بے حد بخشنے والا اور کمال محبت کرنے والا ہے
اسماالحسنٰی میں الودود، یعنی بڑا محبت کرنے والا، اس اسم مبارک کو تصور کریں ، اور دعا گو ہوں کہ الٰہی ہم کو اپنی محبت عطا کر اور جو کوئی تجھ سے محبت رکھتا ہے اس کی بھی محبت عطا کر اور اس عمل کوبھی محبت دے جو ہم کو تجھ سے قریب بنا دے۔اور باہمی محبت کو ترقی دیں ، محبت نفسانی و شہوانی کو پامال کرکے محبت روحانی وایمانی کو بڑھانے میں کوشاں رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ؛
الاَخِلَّائ یَومَئِذٍ بَعضھم لِبَعضٍ عَدواِلَّا المتَّقینَ (43:67)
(جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے) (43:67)
یعنی قیامت کے دن سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ، ان کے سوا جن کی محبت کی بنیاد للہیت پر ہوگی۔

لذت آشنائی | محبت کا پیغام


لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت

خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت

ماہرین کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ چہرے کے خدوخال،آنکھیں،ناک اور منہ کی

بناو ٹ میں توازن ہی چہرے کی دلکشی کو وضع کرتا ہے۔

تحریر:محمد الطاف گوہر

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی؛ حسن و خوبصورتی صدیوں سے انسانی کمزوری رہی ہے ؛ فرد چاہے عمر کسی بھی حصے میں ہو جہاں اسے اپنے روزگار اور دوسرے محرکات مجبور کرتے ہیں کہ وہ جمود سے دور رہے اسی طرح اسے اپنی صحت و خوبصورتی کا خیال بھی نت نئے لوازمات سے دوچار کرتا رہتا ہے۔ کبھی وہ حسن و جمال سے گھائل ہوتا ہے تو کبھی گھائل کرنا بھی پسند کرتا ہے ۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اسے نت نئے تجربات سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ نئی سے نئی تدابیر کرتا چلا جاتا ہے۔
خواتین تو اپنے حسن کو قائم رکھنے کی رسیا ہیں ؛ وہ جوانی کیا جو نخرے سے بیگانی ہو؛ ادا نہ ہو اور ادائیں نچھاور کون کرے؟ حسن ہے تو جلوہ ہے اور ان سب کیلئے چہرے کی دلکشی ایک بنیادی عنصر ہے۔ خوبصورتی صرف گوری رنگت کا نام نہیں بلکہ چہرے کے وہ خدوخال ہیں جو خوامخوہ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹوکے سائنسی ماہرین نے خواتین کی دلکشی اور خوبصورتی کا پوشیدہ راز دریافت کرلیا ہے۔ماہرین کے مطابق خواتین کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اور ان کی آنکھوں سے منہ تک کا فاصلہ ان کے چہرے کی دلکشی و خوبصورتی میں جاذب نظری اور نکھارکا باعث بنتاہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے کے بناوٹی خدوخال کا متوازن ہونا انہیں دوسروں کی نظروں میں پرکشش بناتا ہے۔ ایک خاص پیمائشی حساب سے آنکھوں اور منہ کے درمیان کا فاصلہ چہرے کی لمبائی کا36فیصد ہونا چاہیے جبکہ آنکھوں کا درمیانی فاصلہ چہرے کی چوڑائی کا46فیصد ہونا چاہیے۔ماہرین کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ چہرے کے خدوخال،آنکھیں،ناک اور منہ کی بناو ٹ میں توازن ہی چہرے کی دلکشی کو وضع کرتا ہے۔
البتہ یہ بات بھی ضروری نہیں ایک فرد کتنا گورا چٹا ؛ خوبصورت ہے ؛ اگر اسکا چہرہ پر کشش ہے تو اسکی رنگت سانوالی بھی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ بازار میں دنیا بھر کی کاسمیٹکس کا انبار لگا ہوا ہے اور خواتین کیلئے بعض اوقات انتخاب کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر ان تمام کے ہوتے ہوئے بھی چہرے کے خد وخال تبدیل نہیں ہو سکتے البتہ ایک اچھا میک اپ کرنے والا یعنی بیوٹیشن جس تناسب سے میک اپ کرتا ہے اسکے باعث اکثر خدوخال کو نمایاں کیا جاسکتا ہے۔
ورزش؛ تازہ ہوا میں سیر و تفریح ؛ بےفکری؛ چنچل پن ؛ اچھی خوراک اور ہنس مکھ عادات؛ ایسے جواہرت ہیں جو ایک فرد کی شکل و شباہت ارو شخصیت کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اگر گفتار شیریں ؛نرم اور دلکش ہو تو پھر یہ خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔
پیار کا موسم افراد کی زندگی کا موسم بہار ہے ؛ پیار میں چہرہ دلکش ہوجاتا ہے اور آنکھیں جھیل جیسی گہری ہوجاتی ہیں ؛محبوب کا تصور کوئے جاناں کے پھیرے کاٹتا دل کو لبھاتا ہوا چہرے سے عیاں ہوتا ہے ؛

کون کہتا ہے کہ محبت کی زباں ہوتی ہے
یہ حقیقت چہرے سے عیاں ہوتی ہے


خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت

ایک بار دیکھا ہے ، بار بار دیکھنے کی خواہش ہے، حصہ دوم

ایک بار دیکھا ہے ، بار بار دیکھنے کی خواہش ہے،
حصہ دوم

تحریر : محمد الطاف گوہر

واقعی آج کی رات دیدار کی رات ہوگی؟ مجھے اپنی سماعت پر شک ہونے لگا اور والہانہ انداز میں پوچھا ، تو جواب میں ایک مہکتا خوشبو کا جھونکا میری سانسوں کو گرماتا ہوا اور باد صبا کی لے پر تھرکتا تھرکتا دریا کی مست موجوں کا ہمراہی ہو گیا۔ ایک ہلکی سی سرگوشی میں جواب ملا” ہاں ، آج کی رات دیدار کی رات ہوگی” ، اس مدھر آواز نے، جو ابھی کسی نام اور رشتے کی ڈوری سے نہ بندھی تھی ، مجھے چونکا دیا۔ اک انجانی خوشی کے احساس سے میرے خوابوں کا آنگن لبریز ہوگیا۔
وقت تو جو جیسے تھم گیا تھا اور ایک ایک پل گھنٹوں پر بھاری لگ رہا تھا، ابھی تو شام نہیں ہوئی رات کب ہوگی؟ انہی سوچوں میں مگن تھا کہ اچانک اک سرگوشی نے چونکا دیا ” میرا انتظار کرو گے؟ ” ، کیوں نہیں ، اسے کیا بتلاتا کہ انتظار کی کشتی پر تو کب کا سوار ہو چکا تھا ، “ضرور کروں گا” ۔ پھر ایک خاموشی سی چھا گئی ایک طویل وقفے کے بعد میں گویا ہوا” چلتا ہوں ” آج کی شام بہت بوجھل ہے ، پل پل بھاری ہو گیا ہے ، اب مجھے چلنا چاہیے ، اور اسطرح شام سے پہلے ہی گھر کی راہ لی۔
رات کے کھانے پر بے چین طبعیت نے سیر ہوکر کھانے بھی نہ دیا اور نیند تو کوسوں دور بھاگ چکی تھی ، ہر آہٹ پر آنکھ کھول کر بے تاب نظریں نظارہ جاناں کیلئے تڑپ جاتیں ،جبکہ بے قرار قلب کو پہلی بار انتظار کی لذت کا احساس ہوا اور دھڑکن تھی کہ بے قابو ہوئی جارہی تھی۔ رات کا پہلا پہر ہوا جبکہ اس نئی کیفیت سے پہلی بار شناسائی ہوئی اور بے قراری کے عالم میں بستر چھوڑ کر کمرے کا دروازہ کھولا اور صحن میں آ گیا، گھر کے آنگن کو موتیا ، گلاب اور رات کی رانی نے مہکا یا ہوا تھا ، اور کھلے آسمان پر چاند اپنی پوری آب و تاب سے دمک رہا تھا۔
انتظار کی گھڑیاں طویل ہوا چاہ رہی تھیں مگر نہ کوئی صبا اور نہ کوئی سرگوشی ، یہ کیسا امتحان ہے؟ وقت پر لگا کر اڑ کیوں نہیں جاتا؟ وہ کب آئے گی؟ رات تو بیتی جارہی ہے ، دیدار کب ہوگا؟ نہ جانے کس کس طرح خدشات پانی پر کسی بلبے کی طرح ظاہر ہوتے اور خود ہی دم توڑ جاتے ، اگر ایک طرف فضا میں چاندنی نے اک جال سا تان رکھا تھا تو دوسری طرف خشبو کے جھونکے مجھے نیند کی وادیوں کیطرف دھکیل رہے تھے۔ آخر نیند نے آ لیا اور شب کے بیتنے کا ملال ہونا شروع ہو گیا ، کیا اس نے دھوکا دیا؟ اگر نہیں آنا تھا تو مجھے کیوں کہا تھا ” آج کی رات دیدار کی رات ہے؟” ، انہی سوچوں میں گم مایوسی سے اداسی کا رخت سفر باندھا ؛
؎ اے چاند ڈوب جا کہ طبعیت اداس ہے
آخر اس انتظار کی طوالت کو راہ میں چھوڑ کر نیند کے جھونکوں کی ہمراہی کی اور بستر پر دراز ہو گیا کہ ” اب وہ نہیں آئے گی”، ابھی سوئے کچھ دیر ہوئی تھی کہ تقریباً رات اڑھائی بجے اچانک آنکھ کھل گئی، حیرت ہوئی کہ اتنی گہری نیند بھک سے کیسے اڑ گئی؟ اندھیرے کمرے میں اک روشنی کا احساس ہوا، اور آنکھیں ملتا ہو ا بستر پر بیٹھ گیا۔
اچانک جیسے اک بجلی سی کوند گئی ہو اور اک روشن ، حسن و جمال کا پیکر چہرہ آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا ، اس حسن کی تمازت نا قابل برداشت لگ رہی تھی ، ہمت کرکے پوچھا کون ہو؟ تو صرف اک مسکراہٹ نے مجھے مبہوت کر دیا، “خود ہی بلاتے ہو اور خود ہی پہچانتے نہیں؟” بے تکلف سا جواب ملا، اہ ، یہ تو ہی آواز ہے جس نے میری زندگی کو محو رقص کر رکھا ہے، اور والہانہ انداز میں گویا ہوا، ” تم وہی ہو جو ہر شام کو میرے ساتھ ہوتی ہو؟ ” ہاں ” میں “وہی ہوں”، ؛ “تیری شاموں کی گہنانے والی ، تیرے دل میں اترنے والے لب لہجے کی دیوانی ، تیری گہری آنکھوں کی مستی کے اس پار جانے کی تمنا رکھنے والی ” ، میں گم سم حیرت کے سمندر میں ڈوبا سن رہا تھا اور اس حسن کے پیکر کے سامنے قوت گویائی جیسے جواب دی گئی تھی، اس مدھر آواز کا جادو تو پہلے سے ہی مجھے غلام کر چکا تھا اور اس جلوے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی کہ زبان گنگ سی ہو گئی۔
وصل کی ہوائیں چلنے لگیں اور الفتوں نے سارے جام انڈیل دئے، دھڑکنیں تھمنے لگیں ، دنیا و مافیا سے بیگانگی نے باہیں پھیلا دیں اور قربتوں کی گھٹائیں برسنے لگیں، سانسیں خوشبو سے معطر ہوگئیں ، مگر کیا ہوا؟ ہم کہاں ہیں ؟ حواس کو بحال کرکے دیکھا تو پاوں کے نیچے زمین نظر نہ آئی، نہ خواب تھا نہ خیال تھا، فضاؤں میں معلق کسی نئی دنیا کی آغوش میں محو سفر ۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers