Category Archives: خواتین

لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق

" لذتِ آشنائی"
Like this:
Be the first to like this post.
13 comments | tags: Articles, Blog, Education, Health, People, Politics, Science & Technology, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, نوجوان, کالم, کتاب, پراسرارعلوم, آج, اسلام اور دور جدید, تلاش, تحقیقات, صلاحیت, عقل, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بین الاقوامی امور, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
ایک بار دیکھا ہے ، بار بار دیکھنے کی خواہش ہے،
حصہ سوم
تحریر : محمد الطاف گوہر
یہ ماجرا کیا ہو گیا؟ یہ میں کہاں آ گیا؟ نہ ہی زمیں یہ اور نہ آسماں ہے ؟ وصل کے گہرے سمند ر میں ڈوب کر اگر ایک طرف وقت گزرنے کا احساس دم توڑ چکا تھا تو دوسری طرف الفت کی وادیوں میں محو پرواز تھا ، جبکہ قربت اپنی تمام تر رعنائیاں نچھاور کر رہی تھی۔ زمیں کی گرفت سے آزاد فضاؤں میں محو پرواز ، کبھی خوف کے سائے اور کبھی حیرت کا سماں بندھ رہا تھا کہ میری سوچوں کا تسلسل اس آواز پہ ٹوٹا ” کہاں کھو گئے ہو؟” ،” اک پری زاد کے محبوب ہو ، فضائیں اب تیرے قدموں کی دھول ہوں گی” ، واقعی اس بات کا نظارہ ہو رہا تھا کہ اس میں کوئی شک والی بات نہ رہی۔
کیا مجھے اپنی طاقت دکھا رہی ہو ؟ میں نے پوچھا ، تو مسکرا کر بولی ” ایسے مت کہو، تجھے محبت کی وادیوں تک لیجا رہی ہوں ” ، ” انسانوں میں بسنے والی محبت نے اپنی ناقدری کے باعث زمین سے دور اپنا ایک علیحدہ گلستان بسا رکھا ہے، جہاں پیار کے پنچھی اپنی اپنی میٹھی دھن میں نغمے گاتے ہیں، جہاں الفت کی گھنی چھاوں میں وصل اپنی شامیں بھول جاتی ہے، جہاں خوشیوں کی تتلیاں مروت کی پھولوں پر چہکتی ہیں ، جہاں نفرت کے کانٹوں کی کوئی جگہ نہیں ” ، ” ان وادیوں کی ملکہ پاکیزگی کے جڑے موتیوں کا تاج سجائے جب لذت لاثانی کے تخت پر براجمان ہوتی ہے تو کبھی آفتاب اور کبھی مہتاب اپنی تمام رعنائیوں کو اسکے قدموں پر نچھاور کرتے ہیں”۔
میں مدتوں سے ان وادیوں کی دیوانی ہوں ، پہلی بار جب ان سے شناسا ہوئی تو بسیرا کر لیا ، مگر اک روز زمین کا رخت سفر باندھا جب آکاش پر گھنگور گھٹا چھائی ہوئی تھی، رم جھم ہوا چاہتی تھی، قدرت کے لازوال نظاروں میں کھوئی ہوئی اک دریا کنارے کسی کو تن تنہا پانی میں پاوں ڈالے موج مستی کے سمندر میں غرق دیکھا تو جھٹ فضاؤں کو پھلا ندا اور وہاں جا پہنچی ۔ دیکھا کہ اک دریا باہر بہہ رہا ہے اور ایک جھیل سی گہری آنکھوں کے پیچھے ٹھاٹھیں مار رہا ہے، اس کے پاس سے گزرتے پانی کا نغمہ تو میں نے محبت کی وادیوں میں سنا تھا ، اور یہاں کا منظر بھی وہی تھا ، حیرت ہوئی اور سکوت کیا، اور جب تم اپنی محویت کی کشتی میں سوار تھے تو انتظار کیا ، چند روز کی قربت نے محبت کی وادی بھلا دی تو تیرے غلامی کے سوا چارہ نہ ہوا، بہت مجبور ہوئی تو مخاطب کیا اور اب کہ جدائی کا تصور محال ہے” ۔
” آج میں محبت کے گلستاں کو تجھ سے شناسائی کرانا چاہتی ہوں کہ ابھی بھی انسانوں کی بستی میں نم ہے، اے میرے محبوب تیری قربت کے لمحات میری زندگی کا حاصل ہیں اور تیرے ساتھ گزرتے لمحے میری روح تک کو سیراب کئے ہوئے ہیں”۔
باتوں باتوں میں مجھے اس پری زاد نے محبت کی وادیوں کی سیر کروائی اور جب “عشق” کے چشمے پر پہنچے تو دونوں نے خوب سیر ہو کر پیاس بجھائی اور اس وادی کے پاس “شوق” کے ٹیلے کیطرف محو پرواز ہوئے، پری زاد نے بہت کوشش کی مگر “شوق” کی بلندی سے عاجز ہوکر ہمت ہار دی اور واپسی کا ارادہ کیا، جب میں گھر پہنچا تو ابھی رات جواں تھی، حیرت ہوئی کہ اتنا سفر کیا مگر وقت جیسے رک گیا ہو ، پری زاد نے اجازت مانگی اور نظروں سے او جھل ہو گیا۔
حیرت کے سمندر میں غرق کہ یہ ہوگیا، زمین و آسمان اب دو قدم کے فاصلے پہ آ گئے اور ایک سلسلہ پھر کچھ ہوں چل پڑا کہ کبھی آدھی رات کو اور کبھی رات کے آخری پہر زمین و آسمان میں ہم اپنی قربتیں بانٹنے لگے، جبکہ معمولات زندگی میں بھی تبدیلی آنے لگی، اب کالج جانے میں اور پڑھنے میں دل نہ لگتا تھا ، دن تھا کہ گزارنا مشکل تھا ، پچھلے پہر دریا کنارے پانی کی مچلتی موجوں کا نظارہ کرنا اور دیدہ دل وا کرکے قدرت کے شہکار مناظر کی دلربائی میں کھویا رہنا،جبکہ پچھلی رات کو پیار کی رعنائیاں سمیٹنا ایک معمول بن گیا۔ حالانکہ معمولات میں کالج کی پڑھائی،کرکٹ کھیل کود، لائبریری، رات کو کلب میں بیڈ منٹن وغیرہ شامل تھے جو کہ اب بالکل سراب بن کر رہ گئے تھے کیونکہ زندگی کے اس نئے رنگ نے باقی سب رنگ ڈھنگ بدل کے رکھ دیئے ۔
زندگی پیار کے نغموں سے لبریز ہوئی تو ہر آواز سماعت کو مہکانے لگی، درختوں پر بیٹھے پنچھی ، پتوں سے لدی شاخیں ، پانی پہ اٹھتی موجیں ، گھاس پر شبنمی موتی دلربائی کا شہکار نظر آنے لگے، آہ و قاہ مسرتوں سے شناسا ہوئے جبکہ ہر طرف بہار کا دور و دورہ تھا کہ اک روز رات گزر گئی مگر پری زاد نہ آیا، وہ صیاد نہ آیا۔۔۔۔
جاری۔۔
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Culture, People, کالم, زندگی | posted in Article, Articles, Blog, متفرقات, معلومات, نوجوان, پیار کی بہار, انسان, ادب و ثقافت, اردو ادب, تحقیقات, حسن و خوبصورتی, خواتین, زندگی, عمومی بحث, عشق
خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت
ماہرین کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ چہرے کے خدوخال،آنکھیں،ناک اور منہ کی
بناو ٹ میں توازن ہی چہرے کی دلکشی کو وضع کرتا ہے۔
تحریر:محمد الطاف گوہر
نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی؛ حسن و خوبصورتی صدیوں سے انسانی کمزوری رہی ہے ؛ فرد چاہے عمر کسی بھی حصے میں ہو جہاں اسے اپنے روزگار اور دوسرے محرکات مجبور کرتے ہیں کہ وہ جمود سے دور رہے اسی طرح اسے اپنی صحت و خوبصورتی کا خیال بھی نت نئے لوازمات سے دوچار کرتا رہتا ہے۔ کبھی وہ حسن و جمال سے گھائل ہوتا ہے تو کبھی گھائل کرنا بھی پسند کرتا ہے ۔ خوب سے خوب تر کی تلاش اسے نت نئے تجربات سے گزرنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ نئی سے نئی تدابیر کرتا چلا جاتا ہے۔
خواتین تو اپنے حسن کو قائم رکھنے کی رسیا ہیں ؛ وہ جوانی کیا جو نخرے سے بیگانی ہو؛ ادا نہ ہو اور ادائیں نچھاور کون کرے؟ حسن ہے تو جلوہ ہے اور ان سب کیلئے چہرے کی دلکشی ایک بنیادی عنصر ہے۔ خوبصورتی صرف گوری رنگت کا نام نہیں بلکہ چہرے کے وہ خدوخال ہیں جو خوامخوہ دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹوکے سائنسی ماہرین نے خواتین کی دلکشی اور خوبصورتی کا پوشیدہ راز دریافت کرلیا ہے۔ماہرین کے مطابق خواتین کی آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ اور ان کی آنکھوں سے منہ تک کا فاصلہ ان کے چہرے کی دلکشی و خوبصورتی میں جاذب نظری اور نکھارکا باعث بنتاہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے کے بناوٹی خدوخال کا متوازن ہونا انہیں دوسروں کی نظروں میں پرکشش بناتا ہے۔ ایک خاص پیمائشی حساب سے آنکھوں اور منہ کے درمیان کا فاصلہ چہرے کی لمبائی کا36فیصد ہونا چاہیے جبکہ آنکھوں کا درمیانی فاصلہ چہرے کی چوڑائی کا46فیصد ہونا چاہیے۔ماہرین کی اس تحقیق نے ثابت کیا کہ چہرے کے خدوخال،آنکھیں،ناک اور منہ کی بناو ٹ میں توازن ہی چہرے کی دلکشی کو وضع کرتا ہے۔
البتہ یہ بات بھی ضروری نہیں ایک فرد کتنا گورا چٹا ؛ خوبصورت ہے ؛ اگر اسکا چہرہ پر کشش ہے تو اسکی رنگت سانوالی بھی بھلی معلوم ہوتی ہے۔ بازار میں دنیا بھر کی کاسمیٹکس کا انبار لگا ہوا ہے اور خواتین کیلئے بعض اوقات انتخاب کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر ان تمام کے ہوتے ہوئے بھی چہرے کے خد وخال تبدیل نہیں ہو سکتے البتہ ایک اچھا میک اپ کرنے والا یعنی بیوٹیشن جس تناسب سے میک اپ کرتا ہے اسکے باعث اکثر خدوخال کو نمایاں کیا جاسکتا ہے۔
ورزش؛ تازہ ہوا میں سیر و تفریح ؛ بےفکری؛ چنچل پن ؛ اچھی خوراک اور ہنس مکھ عادات؛ ایسے جواہرت ہیں جو ایک فرد کی شکل و شباہت ارو شخصیت کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور اگر گفتار شیریں ؛نرم اور دلکش ہو تو پھر یہ خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔
پیار کا موسم افراد کی زندگی کا موسم بہار ہے ؛ پیار میں چہرہ دلکش ہوجاتا ہے اور آنکھیں جھیل جیسی گہری ہوجاتی ہیں ؛محبوب کا تصور کوئے جاناں کے پھیرے کاٹتا دل کو لبھاتا ہوا چہرے سے عیاں ہوتا ہے ؛
کون کہتا ہے کہ محبت کی زباں ہوتی ہے
یہ حقیقت چہرے سے عیاں ہوتی ہے

خواتین کے چہرے کی دلکشی کا راز دریافت
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, Science & Technology, معلوم, کالم, تحقیقات, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, اردو ادب, تفریحات, تحقیقات, تعلیم و تربیت, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, سائنس و ٹیکنالوجی, عمومی بحث
محبت، رقص اور عبادت
اور جب کبھی بے خبر لمحوں کو میں self کی قدروں کا ادراک ہوا، تو وہ آشنائی کی لذت میں محو ہوکر قیام پذیر ہو گئے جبکہ زندگی بھی اپنا سفر تبدیل کر کے اسکے گرد رقص کرنے لگی ۔ معاملات کی تگ و دو اپنے اختتام کو پہنچی اور زندگی نے اپنی خواہ مخواہ کی دوڑ ختم کر کے اپنا سر محبت چوکھٹ پہ رکھ دیا اور کائنات کے رقص دائمی کا حصہ بن گئی
تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر
خیر اگر ایک سانس لیتی ہے تو شر ایک سانس چھوڑتا ہے ، جبکہ انکا جنگ و جدل ازل سے جاری ہے البتہ لمحے انکے درمیاں اٹکے ہوئے رہتے ہیں، مگر زندگی کے متوازی اور کندھے سے کندھا ملائے کبھی خیر کے دامن میں پناہ لیتے ہیں تو کبھی شر کے، لمحوں کو اپنا سفر جاری رکھنے کیلئے اک سواری کی احتیاج ہے لہذا وہ کبھی خیر کے دامن میں اور کبھی شر کا بازوؤں میں سمٹے رہتے ہیں ۔
زندگی کی کلی نے محبت کی گود میں جنم لیا تو اسکی مہک بقا (سلامتی) کا پیغام لیکر ہر سو پھیل گئی جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ نا صرف اس سے مامور ہوا بلکہ محو رقص ہو گیا ۔ لمحوں نے بھی رخت سفر باندھا ، مگر نا آشنائی کا دور دورہ ہے اور آگاہی سے بھی قربت نہیں لہذا کبھی خوابیدگی کا عالم ہے اور کبھی آشنائی کا ۔ جبکہ بقا کی لذت سے سرشار لمحوں نے قیام کیا اور خوابیدہ لمحے سیل رواں کے تھپیڑوں میں بہتے کسی کائی کیطرح عدم سدھار گئے۔
میں کا بار عزیز اٹھا ئے ہوئے خیرو شر کی راہوں پہ چلتے ہوئے لمحے اکثر اس کے لازوال حسن سے نا آشنا رہے ۔ کبھی تو اس گراں قدر میں کا جلوہ معاملات کی تگ و دو میں پنہاں رہا اور کبھی نیم خوابی کے عالم میں یہ جلوہ اک رنگیں خواب کیطرح سراب بن کے رہ گیا۔ اور جب کبھی بے خبر لمحوں کو میں کی قدروں کا ادراک ہوا، تو وہ آشنائی کی لذت میں محو ہوکر قیام پذیر ہو گئے جبکہ زندگی بھی اپنا سفر تبدیل کر کے اسکے گرد رقص کرنے لگی ۔ معاملات کی تگ و دو اپنے اختتام کو پہنچی اور زندگی نے اپنی خواہ مخواہ کی دوڑ ختم کر کے اپنا سر محبت چوکھٹ پہ رکھ دیا اور کائنات کے رقص دائمی کا حصہ بن گئی۔ اگر پھولوں میں خوشبو ،پھلوں میں رس، موسم میں انگڑائی، ہواؤں کی اٹھکھیلیاں ،زمین میں جاری چشمے اور سبزہ ،آسمانوں پہ بادل اور چہروں پہ انجان مسرت ہے تو محبت کے مرہون منت ہے۔جبکہ معاملات زندگی میں محبت کا جذبہ انسانیت کیلئے سب سے عظیم تحفہ ہے، اس کے باعث تمام دراڑیں اور خلا پر ہو جاتے ہیں اور خیر و شر کی جنگ جو کہ ازل سے ابد کی طرف گامزن ہے، ا س میں بھی اعتدال واقع ہوتا ہے ۔ یہی وہ منزل ہے جہاں لذت بیکراں کا وصل حاصل ہوتا ہے اور کائنات سے مربوط ایک دائمی رقص سے شناسائی ہو جاتی ہے۔
خیر و شر کے سوار زندگی کے ہمسفر لمحے معاملات پر دو اقسام کی رسائی رکھتے ہیں ، مثبت اور منفی اور اگر یہ کسی شے تک منفی زاویہ یا رویہ سے پہنچ کرتے ہیں تو یہ عمل میں لئے ایک برا بیج ثابت ہوتا ہے اور اگر اس کو ختم نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ ایک تنا آور درخت بن کر انسان کو پریشانی کے تاریک غار میں پھینک دیتا ہے جبکہ علاوہ ازیں بدعملیاں اور منفی جذبے اور رویے (حسد، لالچ، مکر، فریب، دھوکہ دہی، نفرت اور خوامخواہ کے خوف وغیرہ) وہ زنگ ہیں جو قلوب پہ ملمع کاری کی طرح تہہ در تہہ چڑھتے رہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ باہر کی روشنی اندر دکھائی نہیں دیتی اکثر اوقات خوش بختی، سکون اور راحت باہر سے دستک دیتے ہیں اور اندر آنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں مگر اندر کے یہ دشمن اِنہیں گھسنے نہیں دیتے۔ لمحوں کو محفوظ کرنے کا عمل اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ آپ کا علم کتنا ہے؟ یعنی جتنا علم زیادہ ہو گا اتنی دنیا بڑی ہو گی اور علم کے مطابق عمل پذیر ہوگا۔البتہ اگر علمِ نافع ہو تو عمل صالح ہو گا اور اگر علم اس کے تضاد میں ہو گا تو عمل بھی بد عملی کی شکل اختیار کر جائے گا۔ تمام وہ بداعمال جو ایک انسان سے وقوع پذیر ہوتے ہیں ان سے وہ طرح طرح کی پریشانیوں اور بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ عبادات میں دراصل میں اپنے گذشتہ لمحات کے اندر لکھنے اور پڑھنے کے عمل گزر رہی ہوتی ہے، اگر ایک طرف توبہ گناہوں اور بد عملیوں کے اثرات کا قلع قمع کررہی ہوتی ہے تو دوسری طرف مثبت جذبے اور رویے اپنے اعلیٰ درجوں پہ قیام پذیر ہو رہے ہوتے ہیں۔اور ان کے ثمرات ہماری زندگی کو حالت مثبت کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں۔ انسان کی تمام پریشانیاں اور تکالیف اسکے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں جبکہ عبادت ایک ایسا عمل ہے جو کہ انسان کو واپسی کی طرف لانے کا موجب بنتا ہے جس کے باعث ایک انسان اپنے قلب و سوچ کو شفاف کرتا ہے جو کہ منفی سوچ اور عمل کے باعث زنگ آلودہ ہو چکا ہوتا ہے۔ جب زندگی کے تسلسل کا عمل چلتا ۔ہے تو انسان خیر و شر دونوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے اور عبادات جو کہ اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں ایک انسان کو اس کے زندگی کے تسلسل کو قدرتی انداز میں رکھنے کا باعث بنتی ہیں.جبکہ بندہ اپنے ربّ کے سامنے عجزو انکساری کررہا ہوتا ہے اور اس کے اندر کی حالت بھی تبدیل ہورہی ہوتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ انسان اپنے ربّ کی نعمتوں کا شکر ادا کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر تا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اللہ بندے کے گناہوں کو بخش دے ، صالحین میں شامل کرے اور د نیا میں خاتمہ ایمان پہ ہو اور آخرت میں بخشش عطا فرما دے۔

Like this:
Be the first to like this post.
2 comments | tags: Articles, Culture, Education, Family, Health, People, Science & Technology, نوجوان, کالم, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, آج, اللہ, اسلام اور دور جدید, تلاش, تحقیقات, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, قوتِ خیال, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, پیار کی بہار, پراسرار علوم, انسان, ایجادات, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام اور دور جدید, تاریخ, تحقیقات, تصوف, خواتین, خبریں, رقص, روح, سائنس و ٹیکنالوجی, شعروشاعری, عمومی بحث, عبادات, عشق