انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
::::: میری سالگرہ پر پاک نیٹ کے چاہتوں ، محبتوں اور خلوص بھرے الفاظ کا شکریہ ::::
بیس نومبر میری سالگرہ دن ہے جسے آپ نے نہ صرف یاد رکھا بلکہ اپنے خلوص اور چاہت کا اظہار بھی کیا؛ بہت شکریہ آپ سب کی دلپذیر چاہتوں کا ، مجھے آپکے خلوص بھرے جذبے کے جواب میں لکھتے ہوئے اپنے پاس الفاظ کمی محسوس ہو رہی ہے ۔ پاک نیٹ جسے میں محبتیں بانٹنے کی جگہ سمجھتا ہوں اسکے مہمان، میزبان اور ممبران میرے لیے محترم ہیں، یہ آپ سب کی چاہت کا نتیجہ ہے کہ میرا قلم ، بلکہ کی بورڈ رقص میں رہتا ہوا نقش پا چھوڑتا جاتا ہے۔
زندگی نے میرے اوپر پہلا احسان یہ کیا کہ مجھے خود رو ڈگر سے ہٹا کر حقیقت پسندی پر مائل کیا جبکہ اس راہ پر چلتے ہوئے زندگی مجھے محبت کی سرسبز و شاداب وادیوں میں لے گئی ، جہاں لمحات خوبصورت ہوئے تو انکو محفوظ کرتا رہا ، زندگی نے دوسرا احسان میرے اوپر اس وقت کیا جب اسرارِ نفس کو مجھ پر آشکار کیا جبکہ تیسرا احسان کہ نسبت کا دیا جلایا اور میں لذتِ آشنائی سے ہمکنار ہوا۔
اب سارے احسانوں کا بدلہ تو چکا نہیں سکتا البتہ زندگی کو آشکار کرتے کرتے تحاریر کا ڈھیر لگتا رہا۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور آپکی دعاؤں سے مجھ میں لکھنے کی لگن اپنے تسلسل میں ہے۔مجھے لکھنے کیلئے کسی خاص وقت ، کیفیت یا ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ
منعم بکوہ و دشت بیاباں غریب نیست
ہر جاہ کہ خیمہ زن بار گاہ ساخت
(منعم ایک بادشاہ تھا، اسکے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ پہاڑ ، جنگل ، بیاباں میں بھی وہ غریب نہیں بلکہ جہاں چاہتا ہے قیام کرتا ہے اور اپنی بادشاہت سجا لیتا ہے)
سالگرہ کے موقع پر ا فراد اپنے رابطوں اور الفتوں کے چینل سے سگنل تلاش کرتے ہوئے اپنی خوبصورت یادوں کے جھروکے میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں کہ وصل کی مہک اور یادوں کی چاندنی راہ تک رہی ہوتی ہیں ۔
قدرت کے تمام تحفوں میں سے خوبصورت تحفہ پر خلوص دوست ہیں جو منزل تک پہنچنے میں رہبری کرتے اور الفتوں کی چھاوں بنے رہتے ہیں جبکہ انکا ساتھ کبھی بھی تکان کا احساس ہونے نہیں دیتا ۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ پاک نیٹ پر مجھے ایسے ہی دوست ملے ہیں جو دکھ سکھ ، خوشیاں بانٹتے ہوئے فاصلے سمیٹ رہے ہیں۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے
ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ “دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام” کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے ۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ]) کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔
اقبال کے آبا ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔
علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیے۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا۔ اور اس شوق کو فروغ دینے میں مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔
ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔
1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔
شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔
اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ
* شکوہ
* جواب شکوہ
* خصر راہ
* والدہ مرحومہ کی یاد میں
تصورات و نظریات
* خودی
* عقل و عشق
* مرد مومن
* وطنیت و قومیت
* اقبال کا تصور تعلیم
* اقبال کا تصور عورت
* اقبال اور مغربی تہذیب
* اقبال کا تصور ابلیس
* اقبال اور عشق رسول
محمد الطاف گوہر۔لاہور
بشکریہ: ویکیپیڈیا
پاک ڈاٹ نیٹ ۔ محبتیں بانٹنے کی جگہ ، سالگرہ پر خصوصی تحریر
قومی و ملی جذبے سے سرشار لوگ اگر ایک جگہ پر آپکو ملیں تو اسے آپ بے جھجک ” پاک نیٹ” کہ سکتے ہیں۔
ہر لحظہ اک نئی روش اور نیا انداز کہ یہاں کے باسی کسی جمود کا شکار نہیں بلکہ زندگی کے بھرے جام ہیں ،اگر کوئی سیراب ہونا چاہے تو اسکو کبھی تشنگی کا احساس نہ رہے۔
اس چمن میں آپکو اردو کے تمام گل ملیں گے جو آپکی روح تک کو تازہ کر دیں گے
تحریر:محمدالطاف گوہر
کبھی محبتوں کے سائے اور کبھی الفتوں کی شاموں میں ایک مقام، جہاں آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوئے ، شامل ہو سکتے ہیں ۔ اس مقام محبت ، چاہت اور دوستیوں کے شہر میں آپکو ہر وقت گرم جوشی سے ویلکم کہا جاتا ہے۔اس چمن میں آپکو اردو کے تمام گل ملیں گے جو آپکی روح تک کو تازہ کر دیں گے کہ ایک بار اگر کوئی بھولا بھٹکا مسافر یہاں سے گزر کرے تو اسے منزل نظر آئے۔
ہر لحظہ اک نئی روش اور نیا انداز کہ یہاں کے باسی کسی جمود کا شکار نہیں بلکہ زندگی کے بھرے جام ہیں ،اگر کوئی سیراب ہونا چاہے تو اسکو کبھی تشنگی کا احساس نہ رہے۔ یہ مقام آپکے باہر نہیں بلکہ آپکے من میں ہے اور اسے آپ “پاک نیٹ ” کے نام سے موسوم کریں گے۔دنیا کے کونے کونے سے محبتیں بانٹتے ، قومی و ملی جذبے سے سرشار لوگ اگر ایک جگہ پر آپکو ملیں تو اسے آپ بے جھجک ” پاک نیٹ” کہ سکتے ہیں۔
میرا گزر اس چمنِ مروت سے کچھ عرصہ پہلے اپنے مضامین کی تلاش میں سرچ انجن کی بدولت ہوا، اس فورم پر آکر میں نے محسوس کیا کہ یہاں زندگی کا رقص اردو کے گرد جاری ہے تو تکیہ کرلیا۔اور چند ہی ماہ میں اپنے 100 سے زائد مضامین اس چمن کی زینت کر دیئے۔ پاک نیٹ ایک ایسا فورم ہے جسکا چہرہ ایک کتاب جیسا ہے جبکہ لفظ پڑھنا میری عادت ہے، لہذا یہاں پر روکنا ناگزیر ہوگیا۔
پاک نیٹ کے انٹرنیٹ اعدادوشمار کے مطابق روزانہ چالیس ہزار سے زائد لوگ سے صفحات پڑھتے ہیں جبکہ بیس ہزار سے زائد لوگ اسے وزٹ کرتے ہیں۔ان میں سے 91۔7% لوگ پاکستان سے، 2۔9% لوگ انڈیا سے ، 1۔2% امریکہ سے اور 4۔2% باقی دیگر ممالک سے شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
آج یہ پاکستانی قوم اور ملت اسلام کی روشن شمع اپنا قد بلند کر رہی ہے اور روشنی بڑھاتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے ، اس سالگرہ کے موقع پر اس کی انتظامیہ، ممبران اور مہمانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ یہ کامیابیوں کا سفر اپنی آب و تاب سے جاری رہے گا۔۔۔
خیر اندیش
محمد الطاف گوہر- لاہور
شکیل آفریدی نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کی تصدیق کرنے کے لیے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کی جعلی مہم چلائی تھی۔