Category Archives: سیاست

لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


محترمہ بینظیر بھٹو، ایک شخصیت، ایک سیاستدان

محترمہ بینظیر بھٹو، ایک شخصیت، ایک سیاستدان

ستائیس دسمبر کو پاکستان میں مقبول سیاسی لیڈر بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی

تحریروتحقیق:محمد الطاف گوہر

ہر طرف سناٹا سا چھایا ہوا تھا، ہو کا عالم اور سڑکوں پر بھیڑ اتنی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یا الٰہی ما جرا کیا ہے ؟ شام کے وقت جب دفتر سے گھر کی راہ لی تو ہر طرف دھوئیں کے بادل دکھائی دئیے ، ہر طرف لوگوں کا جم غفیر تھا کہ حیرت کی انتہا نہ رہی ، لاہور کی سڑکوں پر اتنا ہجوم پہلے کبھی نہ دیکھا تھا،چہروں سے لگتا تھا کہ جیسے گہری خاموش نگاہیں کسی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں اور سوالیہ نشان بنے خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی ہیں، ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے تو کبھی اسطرح کی کیفیت اور معاملہ دیکھنے کو نہ ملا تھا۔
بے خبری کا عالم تھا،کیونکہ آج خبریں سننے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ میرا خیال تھا کہ اس علاقہ میں کوئی گھمبیر واقعہ ہو گیا ہے جو ساری آبادی امڈ آئی، مگر جب ایک سڑک سے دوسری سڑک تک آیا تو کوئی تبدیلی نظر نہ آئی اور ہر طرف ایک سا سماں تھا ، میرا چہرہ سوالیہ نشان بن گیا کہ ایسی کونسی افتاد ٹوٹ پڑی کہ ہر طرف لوگ ہی لوگ جمع ہیں ۔ ملکی پیمانے پر کوئی بات لگتی ہے جو اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں مگر عرصہ دراز سے ہمارے ملک میں تو سیاست تو دفن ہو چکی تھی کیونکہ امریت کا دور دورہ تھا، البتہ ایک نئی بساط پچھائی گئی اور سارے مہرے نئے سرے سے امپورٹ کئیے گئے تھے ، عوام میں نئے سرے سے جمہوریت کی صدا بلند کی جارہی تھی ، انہی سوچوں میں مگن میں نے ایک مجمع کے پاس گاڑی روکی اور پوچھا بھی ماجرا کیا ہے؟ تو وہ شخص حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی عجیب سی بات کر دی ، اور غمناک لہجے میں بولا ” آ پکو نہیں پتا کہ آج محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل ہو گیا” ، اسکی بات سن کر مجھے واقعی بہت صدمہ ہوا جیسے کہ فیملی کا کوئی فرد انتقال کر گیا ہو، اس شخص سے دوسرا سوال کیا کہ ” کیا آپ سب لوگ پیپلز پارٹی کے ہیں ؟” تو وہ بولا بھئی میں اور میرے دوست کسی پار ٹی سے نہیں مگر ہمیں اس واقعہ کا گہرا صدمہ ہوا ہے اور افسوس کی خاطر جمع ہوئے ہیں کہ ” اس بات سے قطع نظر کہ محترمہ ایک خاتون تھیں، وہ ایک نڈر،عظیم لیڈر ، کامیاب شخصیت اور سیاسی لیڈر تھیں”۔
دسمبر، 2007۔ پاکستان کی سحر انگیز سیاسی شخصیت کی مالک سابق وزیرِ اعظم، بے نظیر بھٹو کو ان کی انتخابی مہم کے دوران قتل کر دیا گیا۔ انھوں نے ملک سے فوجی حکومت ختم کرنے اور جمہوریت بحال کرنے کا عہد کیا تھا۔ پھر ان کے بعد انکے شوہر آصف علی زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی نے فتح سے ہمکنار کروایا اور گذشتہ سال پرویز مشرف کے سبکدوش ہونے کے بعد وہ ملک کے صدر بن گئے۔ آج ستائیس دسمبر کو پاکستان میں سیاسی لیڈر بے نظیر بھٹو کے قتل کی دوسری برسی پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دو سال قبل آج ہی کے دن، پاکستان کی دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والی بے نظیر کو راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ ان کے قتل سے جڑے معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔ مقامی تحقیقی اداروں کے علاوہ برطانیہ کے سکاٹ لینڈ یارڈ، امریکہ کی ایف بی آئی کے علاوہ اقوام متحدہ کے خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے بھی سانحہ کی تفتیش میں حصہ لیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری کی حکومت بہت کمزور ہے۔ تجزیہ کار ملک کی خراب اقتصادی حالت اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس میں مسٹر زرداری اور ان کی کابینہ کے کچھ ارکان کے خلاف کرپشن کے کیس دوبارہ کھولنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ ملک میں وکلا ء اور بہت سے عام پاکستانیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔ جہاں تک دو برس قبل بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان میں جمہوریت کا تعلق ہے، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورتِ حال مِلی جُلی ہے۔حالات اب بہت بہتر ہیں کیوں کہ پاکستان میں اب سویلین انتظامیہ ہے، عدلیہ بحال ہو چکی ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے نزدیک پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں اب تک مضبوط نہیں ہوئی ہیں۔ سویلین حکومت کو جمہوری ادارے تعمیر کرنے اور کرپشن پر قابو پانے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنی چاہیئے۔
وکیپیڈیا ایک تجزیہ میں لکھتا ہے کہ “محترمہ کے کچھ متنازعہ بیانات کے باعث پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کردیا۔ جیسا کہ انکے بیانات میں؛ لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی؛ ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کاروائی کی اجازت دے دیں گی؛ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو پوچھ گچھ کے لئے امریکہ کے حوالے کردیں گی۔ جبکہ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہو گئ کہ کرسی کے حصول کیلئے امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک جا سکتی ہیں۔”
ملک پاکستان میں اگر ایک طرف ادارے مضبوط ہو رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی کھیل بھی جاری ہے، دعاگو ہیں کہ پاکستان کو ایسے اچھے لیڈر ملیں جو اس ملک کو انتشار اور بدامنی کے فضا سے نکال کر پرسکون اور کامیابی کی راہ پر ڈال سکیں اور جس مقصد اور بنیادوں ہر یہ ملک آزاد ہوا تھا کہ “مسلمان اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں” اور پاکستان کی اساس اسلامی بنیادوں پر ڈالی گئی ، اس پر قائم رہتے ہوئے عوام کے مسائل حل کر سکیں، آمین!


بینظیر بھٹو

بینظیر بھٹو

بینظیر بھٹو
بینظیر
تاریخ پیدائش: 21 جون 1953
جائےپیدائش: کراچی
وفات: 27 دسمبر 2007 راولپنڈی

بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988ء میں پاکستان کی وزیراعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کو ختم کرتے ہوئے نئے الیکشن کروائے گئے۔

بینظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو 21 جون، 1953 میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ بینظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم Lady Jennings Nursery School اور Convent of Jesus and Mary کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال Rawalpindi Presentation Convent میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے Jesus and Mary میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969ء میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے Radcliffe College میں داخلہ کیا۔ بے نظیر بھٹو نے Harvard University سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ اس دوران بے نظیر آکسفورڈ یونیورسٹی یونین کی صدر بھی رہیں۔

حالات زندگی

بینظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی۔ لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور ساتھ ہی بے نظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ انھوں نے اٹھارہ ماہ تک قید اور نظر بندی کی مشکلات کے ساتھ ساتھ آمرانہ اقدام کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازعہ کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ ١٩٨١ میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف ١٤ اگست ١٩٨٣ سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر ١٩٨٣ میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا، لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ ١٩٨٤ میں بے نظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انھوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے انھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لاء اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل ١٩٨٦ میں بے نظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو ١٩٨٧ میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے روشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ ١٧ اگست ١٩٨٨ میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ ١٦ نومبر ١٩٨٨ میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر ١٩٨٨ میں ٣٥ سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بد عنوانی کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیراعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر نے غلام اسحاق خان کے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر 1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بدامنی اور بد عنوانی اور ماورائے عدالت قتل کے الزمات لگا کر بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔

بدعنوانی کے الزامات اور مقدمات

آپ اور آپ کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات لگے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہوئے۔[1] اکتوبر 2007ء میں بینظیر امریکی امداد سے پرویز مشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔[2][3]

بینظیر نے فوجی آمر پرویز مشرف کی طرف سے 3 نومبر 2007ء کو ہنگامی حالات کے نفاذ اور منصف اعظم افتخار محمد چودھری کو ہٹانے کی درپردہ حمایت کی۔[4]تاہم بیان بازی کی حد تک بینظیر نے اس فوجی اقدام پر کچھ عرصہ تنقید کی، مگر بعد میں کھلم کھلا حمایت کی۔[5]

قبل از قتل

بے نظیر نے اپنے بھائی مرتضٰی کے قتل اور اپنی حکومت کے ختم ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی جلا وطنی اختیار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں دبئی میں قیام کیا۔ اسی دوران بے نظیر، نواز شریف اور دیگر پارٹیوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر لندن میں اے آر ڈی کی بنیاد ڈالی۔ اور ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا۔ ان کی جلاوطنی کے دوران ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی۔ جب 14 مئی 2006ء میں لندن میں نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان میثاقِ جمہوریت پر دستخط کر کے جمہوریت کو بحال کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ دوسری پیش قدمی اس وقت ہوئی جب 28 جولائی 2007ء کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن تقریباً ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18 اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں ١٥٠ کو موت کی نیند سلا دیا گیا، جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ قیامت صغریٰ کے اس منظر کے دوران بے نظیر کو بحفاظت بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔

کتابیں

daughter of east

قتل

27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بینظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے، اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بینظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔[6] بینظیر کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے 19 سالہ بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔[7]

2 نومبر 2007ء کو ڈیوڈ فراسٹ سے بات چیت میں بینظیر نے دعوی کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کو عمر شیخ نے قتل کر دیا تھا۔[8]عمر شیخ کو پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں برطانوی خفیہ ایجنسی MI5 کا ایجنٹ بتایا ہے۔

حوالہ جات

  1. ^ روزنامہ دا ایج، آسٹریلیا، 31 دسمبر 2007ء، “Corruption shadow casts Bhutto in a different light”
  2. ^ روزنامہ نیشن، 11 اکتوبر 2007ء، “Benazir to escape Swiss court trial”
  3. ^ انڈیپینڈنٹ، 8 اکتوبر 2007ء، “Britain and US in ‘safe return’ deal for Bhutto”
  4. ^ روزنامہ نیشن، 4 نومبر 2007ء، “‘Phone call’ that led to emergency”
  5. ^ روزنامہ ڈان، “کامران شافی:Boycott, that’s what “
  6. ^ روزنامہ نیشن، 28 دسمبر 2007ء، “Nation outraged at Benazir’s assassination”
  7. ^ انڈیپنڈنٹ، 31 دسمبر 2007ء، “Tariq Ali: My heart bleeds for Pakistan. It deserves better than this grotesque feudal charade”
  8. ^ یو ٹیوب
  9. وکیپیڈیا
سیاسی دفاتر
خالی

عہدے پر پچھلی شخصیت

محمد خان جونیجو

وزیراعظم پاکستان
1988 – 1990
جانشین
غلام مصطفی جتوئی (نگران)
ان کے بعد نواز شریف
پیشرو
محبوب الحق
وزیر خزانہ پاکستان
1988ء تا 1990ء
جانشین
سرتاج عزیز
پیشرو
محمود ہارون
وزیر دفاع پاکستان
1988ء تا 1990ء
جانشین
غوث علی شاہ
پیشرو
معین الدین قریشی (نگران)
وزیراعظم پاکستان
1993ء تا 1996ء
جانشین
معراج خالد (نگران)
ان کے بعد نواز شریف
پیشرو
سید بابر علی
وزیر خزانہ پاکستان
1994ء تا 1996ء
جانشین
نوید قمر
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو
نصرت بھٹو
چئیرپرسن پاکستان پیپلز پارٹی
1982–1984 نصرت بھٹو کی جگہ قائم مقام چئیرپرسن

1982 – 2007
جانشین
بلاول بھٹو زرداری
بحیثیت شریک چئیرمین
جانشین
آصف علی زرداری
بحیثیت شریک چئیرمین

وکیپیڈیا


پاکستان نے 2000-2010 میں کیا کھویا کیا پایا؟

پاکستان نے 2000-2010 میں کیا کھویا کیا پایا؟


پاکستان گزشتہ دہائی میں بہت سے نشیب و فراز سے گزرا ؛ کبھی حالات نے جھنجھوڑا اور کبھی واقعات نے مگر آفرین ہے عوام پر کہ ہر حال میں سینہ سپر رہی؛ پر آشوب ناگہانی نے خوف و ڈر جیسے الفاظ کے معنی بدل کے رکھ دیئے اور قوم کے غیور پختہ عزم اپنے فرائض کو سر انجام دیتے رہے؛ جہاں پاکستان کو وجود اغیار کی نظروں میں کھٹکتا ہے وہاں قوم کے جوان بچے اسے ترقی وکامرانی کی کیطرف لیجانے کا عہد کئے ہوئے ہیں۔

تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر

Dec. 17 Officials barred from leaving Pakistan
Dec. 9 Pakistan arrests 5 men missing in U.S.
Five people arrested in Pakistan had been reported missing in the United States, and police are confident they were planning terrorist acts

* World in Dec. 9

Elsewhere: Baghdad, Dec.8: Car bombs killed at least 127 people
Dec. 5 Taliban claims mosque strike. Rawalpindi
Nov.12 Blast ‘hits security HQ’. Peshawar

Elsewhere: West Bank, Nov.5: Abbas will not seek re-election
Nov.1 35 dead in explosion Rawalpindi: An explosion ripped through commercial Cannt area , killing at least 25 people, as they lined up to collect their monthly salary
Oct.28 Car bomb kills at least 100 in market Peshawar: A car packed with 150 kilograms of explosives detonated at Meena Bazaar, killing at least 90 people and injuring more than 200 others

Elsewhere: Kabul, Oct.27: 3 U.N. staff killed in firefight
Oct.24 Pakistan takes key Taliban town of Kotkai. Tribal Areas
Oct.17 Major Pakistani ground offensive begins. Tribal Areas

Elsewhere: Maldives, Oct.16: Cabinet meets underwater
Oct.14 38 killed as police offices attacked. Lahore
Oct.12 41 dead in Swat Valley blast. NW Pakistan
Oct.10 Armed militants hold hostages at army HQ. Rawalpindi

Elsewhere: Japan, Sep.15: Hatoyama takes over as PM
Aug.7 Pakistani Taliban leader ‘killed’ Tribal Areas: There are growing indications that Pakistan’s most wanted man, Taliban leader Baitullah Mehsud, has been killed by a US missile

Elsewhere: Western China, Jul.5: Scores killed in China protests
May.30 Pakistan secures key Swat Valley city [Map of Mingora West Pakistan] NW Pakistan: The Pakistani security forces have taken back the city of Mingora from the Taliban, calling it a significant victory in its offensive

Elsewhere: North Korea, May.26: N. Korea fires short-range missiles

Elsewhere: North Korea, May.25: N. Korea conducted second nuclear test
May.15 Thousands flee fighting. West Pakistan

Elsewhere: Hong Kong, May.1: Flu hotel sealed off
Apr.22 Taliban claims victory near Islamabad. NW Pakistan

Elsewhere: Turkey, Mar.27: Bodies found at helicopter crash site

Reference

http://www.mapreport.com


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers