Category Archives: شعروشاعری

لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


محبت، رقص اور عبادت

محبت، رقص اور عبادت

اور جب کبھی بے خبر لمحوں کو میں self کی قدروں کا ادراک ہوا، تو وہ آشنائی کی لذت میں محو ہوکر قیام پذیر ہو گئے جبکہ زندگی بھی اپنا سفر تبدیل کر کے اسکے گرد رقص کرنے لگی ۔ معاملات کی تگ و دو اپنے اختتام کو پہنچی اور زندگی نے اپنی خواہ مخواہ کی دوڑ ختم کر کے اپنا سر محبت چوکھٹ پہ رکھ دیا اور کائنات کے رقص دائمی کا حصہ بن گئی

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

خیر اگر ایک سانس لیتی ہے تو شر ایک سانس چھوڑتا ہے ، جبکہ انکا جنگ و جدل ازل سے جاری ہے البتہ لمحے انکے درمیاں اٹکے ہوئے رہتے ہیں، مگر زندگی کے متوازی اور کندھے سے کندھا ملائے کبھی خیر کے دامن میں پناہ لیتے ہیں تو کبھی شر کے، لمحوں کو اپنا سفر جاری رکھنے کیلئے اک سواری کی احتیاج ہے لہذا وہ کبھی خیر کے دامن میں اور کبھی شر کا بازوؤں میں سمٹے رہتے ہیں ۔
زندگی کی کلی نے محبت کی گود میں جنم لیا تو اسکی مہک بقا (سلامتی) کا پیغام لیکر ہر سو پھیل گئی جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ نا صرف اس سے مامور ہوا بلکہ محو رقص ہو گیا ۔ لمحوں نے بھی رخت سفر باندھا ، مگر نا آشنائی کا دور دورہ ہے اور آگاہی سے بھی قربت نہیں لہذا کبھی خوابیدگی کا عالم ہے اور کبھی آشنائی کا ۔ جبکہ بقا کی لذت سے سرشار لمحوں نے قیام کیا اور خوابیدہ لمحے سیل رواں کے تھپیڑوں میں بہتے کسی کائی کیطرح عدم سدھار گئے۔
میں کا بار عزیز اٹھا ئے ہوئے خیرو شر کی راہوں پہ چلتے ہوئے لمحے اکثر اس کے لازوال حسن سے نا آشنا رہے ۔ کبھی تو اس گراں قدر میں کا جلوہ معاملات کی تگ و دو میں پنہاں رہا اور کبھی نیم خوابی کے عالم میں یہ جلوہ اک رنگیں خواب کیطرح سراب بن کے رہ گیا۔ اور جب کبھی بے خبر لمحوں کو میں کی قدروں کا ادراک ہوا، تو وہ آشنائی کی لذت میں محو ہوکر قیام پذیر ہو گئے جبکہ زندگی بھی اپنا سفر تبدیل کر کے اسکے گرد رقص کرنے لگی ۔ معاملات کی تگ و دو اپنے اختتام کو پہنچی اور زندگی نے اپنی خواہ مخواہ کی دوڑ ختم کر کے اپنا سر محبت چوکھٹ پہ رکھ دیا اور کائنات کے رقص دائمی کا حصہ بن گئی۔ اگر پھولوں میں خوشبو ،پھلوں میں رس، موسم میں انگڑائی، ہواؤں کی اٹھکھیلیاں ،زمین میں جاری چشمے اور سبزہ ،آسمانوں پہ بادل اور چہروں پہ انجان مسرت ہے تو محبت کے مرہون منت ہے۔جبکہ معاملات زندگی میں محبت کا جذبہ انسانیت کیلئے سب سے عظیم تحفہ ہے، اس کے باعث تمام دراڑیں اور خلا پر ہو جاتے ہیں اور خیر و شر کی جنگ جو کہ ازل سے ابد کی طرف گامزن ہے، ا س میں بھی اعتدال واقع ہوتا ہے ۔ یہی وہ منزل ہے جہاں لذت بیکراں کا وصل حاصل ہوتا ہے اور کائنات سے مربوط ایک دائمی رقص سے شناسائی ہو جاتی ہے۔
خیر و شر کے سوار زندگی کے ہمسفر لمحے معاملات پر دو اقسام کی رسائی رکھتے ہیں ، مثبت اور منفی اور اگر یہ کسی شے تک منفی زاویہ یا رویہ سے پہنچ کرتے ہیں تو یہ عمل میں لئے ایک برا بیج ثابت ہوتا ہے اور اگر اس کو ختم نہ کیا جائے تو آہستہ آہستہ ایک تنا آور درخت بن کر انسان کو پریشانی کے تاریک غار میں پھینک دیتا ہے جبکہ علاوہ ازیں بدعملیاں اور منفی جذبے اور رویے (حسد، لالچ، مکر، فریب، دھوکہ دہی، نفرت اور خوامخواہ کے خوف وغیرہ) وہ زنگ ہیں جو قلوب پہ ملمع کاری کی طرح تہہ در تہہ چڑھتے رہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ باہر کی روشنی اندر دکھائی نہیں دیتی اکثر اوقات خوش بختی، سکون اور راحت باہر سے دستک دیتے ہیں اور اندر آنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں مگر اندر کے یہ دشمن اِنہیں گھسنے نہیں دیتے۔ لمحوں کو محفوظ کرنے کا عمل اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ آپ کا علم کتنا ہے؟ یعنی جتنا علم زیادہ ہو گا اتنی دنیا بڑی ہو گی اور علم کے مطابق عمل پذیر ہوگا۔البتہ اگر علمِ نافع ہو تو عمل صالح ہو گا اور اگر علم اس کے تضاد میں ہو گا تو عمل بھی بد عملی کی شکل اختیار کر جائے گا۔ تمام وہ بداعمال جو ایک انسان سے وقوع پذیر ہوتے ہیں ان سے وہ طرح طرح کی پریشانیوں اور بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ عبادات میں دراصل میں اپنے گذشتہ لمحات کے اندر لکھنے اور پڑھنے کے عمل گزر رہی ہوتی ہے، اگر ایک طرف توبہ گناہوں اور بد عملیوں کے اثرات کا قلع قمع کررہی ہوتی ہے تو دوسری طرف مثبت جذبے اور رویے اپنے اعلیٰ درجوں پہ قیام پذیر ہو رہے ہوتے ہیں۔اور ان کے ثمرات ہماری زندگی کو حالت مثبت کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں۔ انسان کی تمام پریشانیاں اور تکالیف اسکے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں جبکہ عبادت ایک ایسا عمل ہے جو کہ انسان کو واپسی کی طرف لانے کا موجب بنتا ہے جس کے باعث ایک انسان اپنے قلب و سوچ کو شفاف کرتا ہے جو کہ منفی سوچ اور عمل کے باعث زنگ آلودہ ہو چکا ہوتا ہے۔ جب زندگی کے تسلسل کا عمل چلتا ۔ہے تو انسان خیر و شر دونوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے اور عبادات جو کہ اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں ایک انسان کو اس کے زندگی کے تسلسل کو قدرتی انداز میں رکھنے کا باعث بنتی ہیں.جبکہ بندہ اپنے ربّ کے سامنے عجزو انکساری کررہا ہوتا ہے اور اس کے اندر کی حالت بھی تبدیل ہورہی ہوتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ انسان اپنے ربّ کی نعمتوں کا شکر ادا کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر تا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اللہ بندے کے گناہوں کو بخش دے ، صالحین میں شامل کرے اور د نیا میں خاتمہ ایمان پہ ہو اور آخرت میں بخشش عطا فرما دے۔

Bookmark and Share


مرزا اسد اللہ غالب کے 212 ویں یوم پیدائش پر متعدد تقریبات کا انعقاد

مرزا اسد اللہ غالب کے 212 ویں یوم پیدائش پر متعدد تقریبات کا انعقاد

نابغہ روزگار شاعر مرزا غالب کے یوم پیدائش پر دار الحکومت دہلی میں دو روزہ تقریبات منائی گئیں۔ اس موقع پر چاندنی چوک سے غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ نکالا گیا۔ کتھک رقاصہ اوما شرما نے غالب کی غزلوں پر رقص پیش کیا۔ قلمکار اور دانشور پون ورما نے غالب پر مضمون پیش کیا اور ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے غالب کے انداز میں خطوط غالب کی قرآت کی

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت غالب
دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے

ایک خبر کے مطابق اور27,26 دسمبر کو دوروزہ یوم غالب تقریبات کے دوران چاندنی چو ک کے ٹاون ہال سے گلی قاسم جان میں واقع غالب کی حویلی تک کینڈل مارچ میں معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار گلزار، ڈائرکٹر وشال بھاردواج، ان کی اہلیہ اور گلوکارہ ریکھا بھاردواج، رقاصہ اوما شرما، قلمکار پون ورما اور بڑی تعداد میں دہلی کی ادب نواز اور غالب پسند شخصیات موجود تھیں۔

مرزا اسد اللہ غالب

اس موقع پر گلزار نے کہا کہ غالب کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ ہے کہ ہم شمع روشن کرکے غالب کی حویلی تک جاتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ یہ روایت ہمیشہ زندہ رہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں نے مرزاغالب سیرئیل بناکر اسکرین پر غالب کی زندگی بنا دی لیکن میں کہتا ہوں کہ غالب نے میری زندگی بنا دی۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ غالب کی حویلی کو ایک میوزیم میں تبدیل کیا جائے۔
پون ورما نے کہا کہ جس تہذیب و ثقافت سے غالب کا رشتہ تھا وہ ہماری شاندار روایت کا حصہ ہے اور غالب صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور طرز زندگی کی علامت ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ جس قوم نے اپنے ادیبوں اور فنکاروں کی قدر نہیں کی اسے کبھی ترقی نہیں ملی۔وشال بھاردواج نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کینڈل مارچ کے توسط سے ہم نے غالب کے سفر کی دریافت نو کی ہے۔چاندنی چوک سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ وجے گوئل نے غالب کی حویلی کی خستہ حالی پر رنج و غم کا اظہار کیا اور اس کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔مارچ کے شرکا نے غالب کی حویلی کے غلط استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور اس کے تحفظ پر زور دیا۔

مرزا اسد اللہ غالب

واضح رہے کہ چند روز قبل غالب کی حویلی میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی تھی جس کے سبب حویلی میںچاروں طرف گندگی پھیل گئی تھی۔ اس پر غالب نواز لوگوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔اس مارچ میں ایڈووکیٹ عبد الرحمن نے غالب کا لباس اور ان کے جیسی ٹوپی پہن کر شرکت کی اور اعلان کیا کہ وہ غالب پر ایک فلم بنائیں گے جس کو اگلے سال یوم غالب پر لندن میں ریلیز کیا جائے گا۔ادھر دوسرے روز کی تقریبات کے دوران کتھک رقاصہ اوما شرما نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں غالب کی چنندہ غزلوں پر رقص پیش کرکے ناظرین کو محظوظ کر دیا۔
یہ پروگرام غالب میمورئیل موومنٹ کے زیر اہتمام انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز، دہلی حکومت، ساہتیہ کلا پریشد، ایس جی فاونڈیشن اور بھارتیہ سرن سنگیت کے اشتراک سے منعقدہوا۔
اوما شرما نے ’شمع جلتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے، ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے، تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ‘ وغیرہ غزلوں کی رقص کے ذریعے تشریح کرکے تفہیم غالب کے نئے گوشے وا کیے۔
اوما شرما کے شاگردوں نے غالب کی نظم ”چراغ دیر“ (بنارس کو خدا محفوظ رکھے چشم بد بیں سے) کی خوبصورت پیشکش کے ذریعے غالب کی مذہبی رواداری کو اجاگر کیا۔اس پروگرام میں پون ورما نے اپنی تصنیف ’غالب، شخصیت اور فن‘ کے بعض اقتباسات پیش کیے ۔دوسرے روز کی آخری تقریب غالب اکیڈمی میں منعقد ہوئی جس میں معروف ڈرامہ نگار انیس اعظمی نے خطوط غالب کو ڈرامائی انداز میں پڑھ کرلوگوں کے دل جیت لیے۔
انھوں نے 1852سے1868تک کے خطوط غالب کو اس انداز میں پیش کیا کہ اس دور کا پورا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔انیس اعظمی نے منشی ہرگوپال تفتہ، تفضل حسین خاں، پیارے لال آشوب، گوبند سہائے، نواب امین الدین احمد خاں، میر مہدی مجروح، عزیز الدین ، خواجہ غلام غوث خاں اور رامپور کے نواب میر حبیب نواب کو لکھے خطوط کی اس انداز میں قرات کی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے غالب خود آکر اپنے خطوط پڑھ رہے ہیں۔

مرزا اسد اللہ غالب

ان خطوط سے اس دور کی تاریخ پر بھی اجمالاً روشنی پڑتی ہے۔خیال رہے کہ انیس اعظمی ملک کے مختلف شہروں میں سو سے زائد مرتبہ خطوط غالب کی بہ زبان غالب قرات کرکے تفہیم غالب کو ایک نئی جہت دے چکے ہیں۔اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر خواجہ حسن ثانی نظامی نے کہا کہ غالب نے حضرت علی کی شان میں جو قصائد لکھے ہیں وہ بے مثال ہیں اور اگر غالب کسی دوسرے مذہب کے پیرو ہوتے تو مولا علی ان کے دیوتا ہوتے۔غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ غالب کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ 1857کی لڑائی ہے۔ ان کے بعد کوئی ایسا شاعر موجود نہیں جو پہلی جنگ آزادی کے حالات قلمبند کرتا۔انھوں نے مزید کہا کہ غالب اپنے خطوط کو چھپوانا نہیں چاہتے تھے تاہم ان کی زندگی ہی میں ’عود ہندی‘ اور ’اردوئے معلی‘ کی اشاعت ہو گئی تھی۔
بشکریہ VOA

26

پروین شاکر

پروین شاکر

26 دسمبر کو پروین شاکر کی پندرہویں برسی

پروین شاکر

اسلام آباد: محبت کی خوشبو کو شعروں میں سمونے والی شاعرہ پروین شاکر کی پندرہویں برسی ہفتے کے روز منائی گئی۔بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے بعد نسائی شاعری کی ایک نئی شناخت طلوع ہوئی۔ پروین شاکر اس منظر نامے پر ماہِ تمام کی طرح چمکتی نظر آتی ہیں۔ پروین سے پہلے کسی شاعرہ نے نسوانی جذبات کو اتنی نزاکت سے بیان نہیں کیا۔

پروین شاکر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر استاد اور سرکاری ملازم بھی رہیں۔پروین شاکر چوبیس نومبر 1952ء میں کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انگلش لٹریچر اور زبانی دانی میں گریجوایشن کیا۔
آپ سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔
1990میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میںہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ایک ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ جس سے بعد میں طلاق لے لی۔ 26دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔
شاعری:
انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
کتابیں:
خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار اور ماہ تمام مجموعہ کلام ہیں۔
ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
پروین نے الفاظ اور جذبات کو ایک انوکھے تعلق میں باندھ کر سادہ الفاظ میں نسائی انا،خواہش اور انکار کو شعر کا روپ دیا۔ان کی شاعری میں روایت سے انکار اور بغاوت بھی نظر آتی ہے۔
ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
پروین کی شاعری کلیوں کی مسکراہٹ، چڑیوں کی چہکار، بارش کی کن من، ہجر و فراق کے گیتوں اور بہار کی سرگرشیوں سے عبارت ہے۔انہوں نے اپنی شاعری میں صنف نازک کے جذبات کی تصویریں بنائیں اور اس کے دکھوں اور کرب کو نظموں میں ڈھالا۔
دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں
دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
میری طلب تھا ایک شخص، وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
پروین شاکر جہاں زندگی،رنگ اور خوشبو سے اپنی تمام تر سچائیوں کے ساتھ محبت کرتی رہیں ،وہیں انہیں اپنی موت کا بھی یقین تھا اور بہت پختہ یقین۔
موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دل میں کیوں
کیا محبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے
تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
واقعی پروین شاکر نے ٹھیک کہا تھا۔ ان کو ہم سے بچھڑے پندرہ برس بیت گئے مگر ان کی شاعری خوشبو کی طرح کو بہ کو پھیل چکی ہے۔

بشکریہ آج


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers