Category Archives: صحت و تندرستی

لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


صدیوں پر محیط راز آشکار ہونے کو ہے , مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی

مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی

عظیم راز جو آشکار ہونے کو ہے

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

راز جو از لوں سے پنہاں رہا اور ہر دور کے دانشور اسکی تلاش میں سر گرداں رہے مگر اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے والے بہت کم لوگ ہوئے۔ وہ راز اگر کسی دنیا کے متلاشی نے حاصل کیا تو اس کو دفن کر گیا ، کسی نے اس کی حرص کی اور کوئی اس پر طاقت سے غلبہ پانے کا خواہشمند رہا اور وہ سربستہ راز صدیوں سے عالم انسانیت کیلئے موضوع تجسس بنا رہا۔ اس کو پانے کی تگ و دو میں انسان نے نہ جانے کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائیں مگر ماسوائے چند ایک خوش نصیبوں کے کسی پہ بھی آشکارہ نہ ہو سکا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس راز کے کرشمے اکثر انسانی زندگی کا حصہ بنتے رہے مگر انسان آج تک اس گتھی کو سلجھا نہ پایا۔ اس تگ و دو میں نہ جانے کتنی زندگیاں صرف ہوئیں ؟
اگر کسی کوا سکا ادراک ناآشنائی کے دور میں ہوا تو وہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو گیا اور کوئی نظارہء جاناں سمجھ بیٹھا مگر آشنائی کی لذت کا کیا کہنا جسکی منزل بھی واضع اور سفر بھی خوب کہ ہر شے کی حقیقت کی سوجھ بوجھ بھی آسان ، اس پہ آشکارہ ہوا تو اس نے دلوں پر بلکہ زندگیوں پر حکومت کا سماں باندھ دیا اور باقی خالی ہاتھ رہ گئے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس حقیقت کا اظہار ازل سے ادیان سلامتی کرتے آئے ہیں مگر انکو اہمیت دینا اور زندگیوں میں شامل کرنا تو کجا ، بند اک مقدس طاق میں رکھ دیا اور کھول کر سمجھنا گوارہ نہ کیا گیا۔ اس راز کو سمجھنا ہی اس کے آشکار ہونے کیلئے کافی ہے۔ اس تیز رفتار زندگی کی دوڑ جسکی منزل اسکے بھاگنے والے خود کو بھی معلوم نہیں کیا ہے؟ اگر اسے سستانے کے کچھ لمحے ملیں تو کسی اور طرف بھی توجہ دے۔ اس حقیقت سے نا آشنا لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کے سانپوں میں گھرے رہے ، کبھی صبح ڈ سے جاتے اور کبھی شام کو مگر پھر بھی نہیں سمجھ سکے۔
اب جبکہ سائنسی انکشافات نے ذہن کے بند دریچے کھولنے شروع کر دیئے اور ذہنی پستی کی آنکھیں چکا چوند کر دیں مگر عقل سے عاری پھر بھی اپنی زندگی کے راستے متعین کرنے سے قاصر رہے۔ کوانٹم فزکس ،میٹا فزکس اور روحانیت کے موضوعات اب قلا بیں ملانی شروع کر چکے کیونکہ سچائی از لوں سے ایک ہے ، ہر سچائی کے متلاشی کی منزل ایک ہوتی ہے مگر اصل راستہ تو وہی اچھا ہے جو کم از کم وقت میں طے ہو؟
آج کا دور پتھروں کا دور نہیں مگر پھر بھی کچھ پتھر موجود ہیں جو سچائی سمجھنا نہیں چاہتے ، ایک انسان کی نظر اب محدود نہیں رہی بلکہ لا محدود ہے حتی کہ وہ گھر بیٹھے نہ صرف اس کی رسائی کرہء ارض تک محیط ہے بلکہ کہکشاؤں کی خبر رکھتا ہے اور سارے یہ کمالات اس کی دسترس میں ہیں علم نافع سے فیض یاب ہے ۔ انسانی کمالات کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس نے قوانین قدرت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اپنی سوچوں کی نہج کو ان سے ہمکنار بھی کیا اور انسانیت کیلئے عظیم راہنما اور محسن ثابت ہوئے۔ اگر آج ہم کسی تپتی اور آگ برساتی دھوپ میں ایک راحتوں ، سہولتوں سے بھرے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہیں تو کس کے باعث؟ آج اگر ہم صدیوں پر محیط فاصلے چند گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں تو کیسے؟ آج اگر اذیت میں مبتلا کوئی فرد اپنی تکلیف سے بچ کر صحت کیطرف لوٹتا ہے تو کیسے؟ اس مسیحائی کا صلہ کس کیلئے؟
آئیے آج اس راز عظیم کے گل فشانیوں سے پردہ اٹھائیں اور زندگیوں کو اس لذت آشنائی کی مہک سے لبریز کر دیں۔ اس پنہاں راز کو آشکار کرنے میں لاتعداد انسانی زندگیاں صرف ہو گئیں مگر کبھی تو معمولات زندگی نے اسے نظروں سے اوجھل رکھا اور کبھی تفکرات بے معنی اس پر چھائے رہے۔ یہ ایسا راز ہے کہ اسکا افشاں ہونا انسانی زندگی میں ایک نئی کھڑکی ، ایک نیا چینل کھلنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا بیج ہے اگر انسانی ذہن میں بو دیا جائے تو کائنات کی تمام خوبصورتیاں اور کامیابیاں ہاتھ باندھے استقبال کیلئے کھڑی ہوں۔
ایک طرف اگر انسانیت اذیت کے دور سے گزر رہی ہے اور تو دوسری طرف کچھ لوگ سکون کی لذتوں سے مالامال بھی ہیں، جنکو اپنی حاصل کی ہوئی دولت کو انسانیت کی خدمت کیلئے پیش کر دینا چائیے، اور یہی طریقہ ہے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے شکر اد کرنے کا کہ دوسروں کو بھی ان میں شامل کرے۔ ورنہ اکثر اوقات حقیقت کے متلاشی اپنی کم علمی کے باعث مافیا کی بھینٹ چڑھ جاتے جو از لوں سے انسانیت کا دشمن اور شیطانیت کا دوست رہا ہے اور ایک ایسے راستے پہ چلا دیتا ہے جسکی منزل سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں۔ میری تحریروں کے موضوعات بھی زیادہ تر ایسی کٹھن راہوں پہ چراغ جلانے کی ایک کو شش ہے۔
ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور اس چنگل میں پھانسنا ہے جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو ایسے گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں اور اپنے قیمتی آنسو کسی فضولیت کی راہ میں بہا تے ہیں۔ ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کا خوبصورت جواز بناتے ہوئے اسے شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ا نکے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیا سے کم نہیں۔ آئیے ایک ایسی لذت سے آشکار ہوں جو صدیوں پر محیط ہے۔ بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنار ہونے کیلئے اپنے ذہن کے دریچے کھول دیں اور اپنی توانائیاں خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے کیلئے اپنی راہوں کو روشنی کے قمقموں سیراب کر لیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں۔ اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکو پچھاڑ دیں کی کبھی بھولے سے بھی ان راہوں کی مسافر نہ بنے۔ پوری طرح متوجہ ہوں اور چند لمحوں کیلئے زندگی کی دوڑ کو ٹھہرا دیں کہ اک مقام آگاہی کا گزر ہے اور سیراب ہونا ہے۔ اگر کہیں بے خبری سے گزر گئے تو اس کی تلافی ممکن نہیں۔ جی!!! اچھی طرح سے سمجھیں اور ذہن میں نقش کر لیں کہ ہم روزانہ جانتے نا جانتے ہوئے کسی بھی کمپیوٹر کی طرح پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور ہر وہ بات جو سمجھ آجائے وہ ذہن انسانی کا حصہ بن جاتی ہے ا ور یہی وہ لمحے ہیں جو محفوظ ہو رہے ہوتے ہیں جبکہ اکثر ہم اس سے نا آشنا رہتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ہمارے ذہن کونسے قانون اور قاعدے کے تحت یہ اثرات قبول کرتے ہیں یا پروگرام ہوتے ہیں ؟ تو اسکا جواب ہے ہمارے عقائد اور یقین ہیں جنکے بل بوتے ہمارے ذہن تیار ہوتے ہیں یعنی جو کچھ ہم اخذ کرتے ہیں اسکا دارومدار ان پہ ہوتا ہے۔ مگر آج آپکو ایک نئے زاویئے سے اس پہلو سے آشنا کرتا ہوں۔ وہ پہلو کہ جسے آج جدید سائنس کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے ، جسے زندگی کی کامیابیوں سے ہمکنار لوگوں کی زندگی پہ لکھے گئے حالات میں سے بھی تلاش کیا جا رہا ہے ،جسے صرف خواص کے سوچنے کے انداز میں بھی تلاش کیا جا رہا ہے ، کتابوں پہ کتابیں لکھی جا رہی ہیں مگر اسکی بھول بلیاں کبھی کبھی شعوریت کے دائرے میں محدود رہتی ہیں۔
اس فطرت کا حسین شہکار اور راز جو آشکار ہونے کو ہے ، وہ ہے قدرت کا قانون جاذبیت، قانون کشش، قانون مقناطیسیت، جس کا عمل دخل نہ صرف انسانی زندگی کے ہر لمحہ پر محیط ہے بلکہ اس کائنات کے کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہو ا ہے۔ ہمارے ذہن جو کچھ ہمارے لئے محفوظ کرتے رہتے ہیں ہماری زندگی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ یعنی ہم اپنی زندگی کو یا تو کامیابیوں کے راستے پہ ڈالتے ہیں یا پھر ناکامیوں کے جو صر ف اسی کے باعث ہے جو ہم پہلے سے ہی ذہن کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔یعنی ہمارے ذہن میں بسے رہنے والے وہ خیالات جو ہم فراموش نہیں کر سکتے وہی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہماری زندگی کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ قدرت کا قانون کشش اس طرح سے کام کرتا ہے جیسے بہتے پانی کو معلوم ہے کہ بلندی سے نیچے کیطرف بہنا ہے ، جیسے سیب کی بیج کو معلوم ہے کہ میرے ساتھ آم نہیں لگ سکتا۔ آج اگر آپ کو یہ راز معلوم ہوگیا تو یقین جانے زندگی کسی سایہ دار درخت کی گھنی چھاوں میں آجائے گی۔ ہماری انفراد ی زندگیاں اکثر مسائل میں الجھی رہتی ہیں اور ہم سمجھ نہیں پاتے کہ الجھنیں سلجھ کیوں نہیں رہیں ، اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ مسائل اور پریشانیوں کا حل کس طرح سے ہو سکتا ہے تو یقیناً ہم لذت بیکراں سے ہمکنار ہو جائیں گے۔ کوشش کروں گا کہ ان کیفیتوں کو الفاظ کے احاطہ میں لے آؤں جن کے باعث زندگی قرار پائے۔ آج دنیا کے بہت سے خطوں میں انتہائی خاص اور مہنگے سیمینار میں اگر شمولیت کا موقع ملے تو پتہ چلے گا کہ اس قانون قدرت کو کس طرح سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں، اگر دولت مند ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر ذہن کا دولت مندی کا تھرمو سٹیٹ بحال کریں اور اسکو سو درجہ پر لیجائیں۔ اگر لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو اپنے اندر محبت کا بیج بو دیں کیونکہ اندر کے خیالات کسی بھی مقناطیس کی خصوصیت سے کم نہیں۔ ہماری زندگیوں کے راستے ہمارے ذہن میں بیٹھے ہوئے خیالات کے مرہون منت ہیں ، جیسی سوچ ہوگی ویسے ہی حالات سے واسطہ رہے گا۔ اور اگر کوئی اپنے اندر نفرت ، کدورت ، کینہ اور لالچ پالے ہوئے ہے تو کیا خیال ہے اسکے اثرات بدل سکتے ہیں؟ اور پھر شکوہ کریں کہ ہماری قسمت ہی ایسی تو کیا خیال ہے کی ہم صحیح کہ رہے ہیں ؟ مائنڈ سائنس کی تحقیقات اور طریقہ کار میں جو عوامل شامل ہیں ان میں بھی اس بات کو اہمیت حاصل ہے کہ انسانی ذہن ایک مقناطیس کیطرح سے کا م کرتا ہے اور ہر وہ شے اپنی طرف کھینچتا ہے جس کا عکس پہلے سے ہی اس کے اندر موجود ہو۔ لہذا آپ پہلے اس سے آگاہ ہوں کہ آپ کے ذہن میں کونسی ہنڈیا پکتی رہتی ہے کیونکہ اسی کا آپ نے پکا کھانا ہے !!!!
ایک چھوٹی سی مشق حاضر ہے جو پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ کر دے گی اور صرف چند لمحوں میں حقیقت کھل جائے گی مگر کچھ نئی حقیقتوں سے بھی آشکار کر دے گی کہ اس وقت آپ کس ڈگر پہ چل رہے ہیں ، آیا اپنے لئیے خوشیاں اکٹھی کر رہے ہیں یا پھر مسائل بڑھا رہے ہیں۔۔۔
ایک کاغذ لیکر اس کے درمیاں میں ایک متوازی، عمودی لکیر کھینچیں اب دو کالم کے اس کاغذ پر دائیں طرف وہ کچھ لکھیں جو آپکو نا پسند ہو ، ناپسند خیالات ، ناپسند باتیں جن سے آپ اپنی زندگی کو دور رکھا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح بائیں کالم میں وہ باتیں ، خیالات جو آپ کو پسند ہیں اور آپ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ لکھنے کے بعد دیانت داری سے موازنہ کریں کہ سارا دن ، یا عمومی طور پر، یا غیر ارادی طور پر کونسی باتیں، خیالات آپکے ذہن پر محیط رہتے ہیں؟
اب موازنہ کریں کہ قدرت کا کشش کا قانون ہماری زندگیوں پہ کسطرح سے محیط ہے ؟ اگر ہم ہر وقت وہ باتیں اور خیالات اپنے ذہن پہ طاری رکھتے ہیں جن کو ہم اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہا پھر نا چاہتے ہوئے ان میں الجھے رہتے ہیں تو کسطرح ممکن ہے کہ ہم اپنے لئے خوشحالی، صحت اور سکون تلاش کر سکیں جو کہ ہمارے پاس آنے کیلئے ایک طریقہ کار سے وضع ہو چکا؟
یعنی جیسی سوچ و فکر میں مگن ہونگے ویسے ہی حالات سے پالا پڑے گا، لہذا آ پنے آپ کو محبت ، ہمدردی ، الفتوں اور مثبت سوچوں سے سیراب کر دیں تاکہ وہی کچھ ہمیں زندگی واپس لوٹا سکے ۔ یہی وہ بیج ہیں جو اپنا پھل دئے بغیر رہ نہیں سکتے ۔ جائیے اور کسی بھی چمن کی راہ لیں اور ذرا دیدہ دل وا کریں اور چمن کا نظارہ بھی جو قدرت کے اس شہکار کا شاندار نظارہ پیش کر رہا ہے ۔ ایک ہی جیسی زمین پر ایک ہی جیسے ماحول میں کہیں گلاب ہے تو کہیں نرگس اور کہیں موتیا، اور کہیں آم ، اور کہیں سیب اس بات کی گواہی سے رہے ہیں کہ ہم تو صرف اک اظہار ہیں اپنے اس بیج کا جو اس زمیں میں بویا گیا ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ گلاب کے ساتھ نرگس لگے اور موتیے کے ساتھ سورج مکھی ، تو ہم کس راہ کی تلاش میں ہیں۔

آج اگر کوانٹم فزکس ، میٹا فزکس شعوریت کی جھل ملوں میں کامیابی، صحت اور سکون تلاش کرنے میں سرگرداں ہو کر آشکار کرتی ہے کہ انسان جس سوچ کو ذہن میں بٹھا کر زندگی کی تگ و دو کرے گا نتیجہ میں وہی حاصل ہوگا جس سوچ کا بیج بو چکا ہوگا ، تو اللہ کی رحمت اور مہربانی کا اندازہ کریں کہ اس نے ہمیں سوچنے کے انتہائی اعلی رستے بتا دئے۔درحقیقت تمام توانائیوں ، کامیابیوں ، صحت اور سکون کا مرکز صرف اللہ کی ذات ہے ، وہیں سے ہر شے کی بازگشت آتی ہے۔ جبکہ اللہ نے اپنے بہت سے خوبصورت نام بھی بتائے ہیں یعنی اس ذات تک رسائی کیلئے اسکے پہلو ، اب اگر ایک انسان محبت کے چینل کو اپنے لئیے کھولنا چاہتا ہے تو ” الودود” کے چینل سے اپنا ناطہ جوڑ لے ، اور اگر صحت و سلامتی کا متلاشی ہے تو اسکے لئے ” السلام ” کا راستہ اپنا لے۔ سبحان اللہ!!! یعنی ایک مرکز سے فیض یاب ہونے کے مختلف زاویئے بتائے ہیں پھر ایک بار اللہ کا شکر ادا کریں جو “ الرزاق” بھی ہے ” التواب ” بھی ہے اور ” الرحمن” بھی۔
آپکی آرا کا انتظار رہے گا
mrgohar@yahoo.com

Bookmark and Share

صدیوں پر محیط راز آشکار ہونے کو ہے

روشنی سے مرگی کا علاج

روشنی سے مرگی کا علاج

امریکی سائنس دانوں نے مرگی اور پارکنسن کے مرض کی کیفیت میں دماغی ہیجان کو معمول پر لانے میں مدد کے لیے ایک نیا اور مؤثر طریقہ دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اس نئے طریقے کے تحت دماغ کے کلیدی حصوں میں موجود مخصوص پروٹینز کو لیزر شعاعوں کے ذریعے متحرک کیا جاتا ہے۔

میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دانوں نے پھپھوندی اور بیکٹریا میں پائے جانے والے خلیوں سے سپر سائیلنسرز نامی مصنوعی اعصاب تیار کیے ہیں۔ آرک(اے آرکے) اور میک کے نام سے موسوم یہ خلیےروشنی کا اثر قبول کرنے والے پروٹین تیار کرتے ہیں جوروشنی کو توانائی میں تبدیل میں ان جراثیموں کو مدد دیتے ہیں۔
جب ان خلیوں کو دماغ میں داخل کیا جاتا ہے، تو وہ روشنی سے حساسیت رکھنے والے ایسے پروٹین تیار کرنے لگتے ہیں جو لیزر کی شعاعوں کا اثر قبول کرتے ہوئے دماغ کے ان مخصوص حصوں کے اعصابی خلیوں کو پرسکون بنانے میں مدد دیتے ہیں جو مرگی کی وجہ سے ہیجان میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ایڈبائیڈن، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے دماغ سے متعلق علوم کے شعبے میں پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ مخصوص خلیے رکھنے والے اعصاب لیزر کی لہروں سے کس طرح متحرک ہوتے ہیں اور کس طرح اپنا کام روک دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ ایک خاص وقت کے لیے روشنی کی ایک مخصوص مقدار کے ذریعے معمول کے مطابق کام نہ کرنے والے دماغی اعصاب کو اپنے کام سے روک سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دوسری دواؤں کی نسبت اس طریقہ کار کے مضر اثرات بہت معمولی ہیں۔
بائیڈن کہتے ہیں کہ لیزر کی روشنی جینیاتی طریقے سے تبدیل شدہ دماغی خلیوں کو متحرک کرتی ہے، اعصاب میں برقی بہاؤ کی قوت کم کرتی ہے اور انہیں اس عمل سے روکتی ہے جو نارمل نہیں ہوتا۔
سائنس دان اب اعصابی ردعمل کا ایک ایسا نظام وضع کرنے کی کوشش کررہے ہیں جومرگی کے دورے کے باعث دماغ کے خلیوں کےغیر معمولی ہیجان میں مبتلا ہونے کے وقت حرکت میں آسکے۔ وہ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر ہم جن چیزوں پر کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک الیکٹروڈ کے ذریعے دماغی کیفیات کا پتا لگانا ہے اور اس کے بعد صحیح وقت پر روشنی کی ایک مخصوص مقدار کے ذریعے دماغی بیماری کی صورت میں اسے کام سے روکنا ہے۔
بائیڈن کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ممکن ہے کہ ماہرین نئے آلات کی مدد سے مختلف رنگوں کی روشنیوں کے مصنوعی اعصاب پرظاہر ہونے والے ردعمل کی مدد سے دماغی اعصاب کے پیچیدہ نظاموں شناخت اورمرض کے حوالے سے اس کی درستگی کی صلاحیت حاصل کرلیں گے۔
وہ کہتے ہیں مثال کے طورپر تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ پیلے رنگ کی روشنی آرک نامی خلیوں کو پرسکون کرنے میں مدد دیتی ہے جب کہ میک نامی مصنوعی خلیے نیلے رنگ کی روشنی کا اثر قبول کرتے ہیں۔بائیڈن کہتے ہیں کہ ہم اس حوالے سے کئی اور جانداروں پربھی تحقیق کررہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ حفاظتی اقدامات اور طبی نقطہٴ نظر سے اسے زیادہ بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
بائیڈن کی ٹیم نےروشنی کا اثر قبول کرنے والے پروٹینز کے ذریعے دماغی اعصاب کو پرسکون بنانے پر اپنی تحقیق کا آغاز جانوروں سے کیا تھا۔ روشنی کے ذریعے بیماری میں مبتلا انسانی دماغ کے علاج میں ابھی کئی منزلیں باقی ہیں۔ بائیڈن کہتے ہیں کہ کئی دوسرے ماہرین نئی اور بہتر ادویات کی تیاری کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کررہے ہیں۔
ایڈ بائیڈن اور ان کی ٹیم کی یہ تحقیق جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔
بشکریہ VOA


غصہ دل کی بیماری کاباعث بن سکتا ہے

غصہ دل کی بیماری کاباعث بن سکتا ہے

تازہ تحقیقی انکشاف

طبی ماہرین کا کہنا ہے غصہ اور مخالفت کے جذبات، دل کی بیماری کے خطرے کی ایک ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ مطالعاتی جائزوں کے ایک تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ جن صحت مند افراد پر دل کا حملہ ہوا اورایسے لوگ جن میں ہارٹ اٹیک سے پہلے دل کی کسی بیماری کی علامتیں موجود تھیں، ان میں غصہ اور مخالفانہ جذبات ایک ابتدائی علامت کے طورپر پہلے سے موجود تھے۔
ماہرین کا کہناہے کہ ڈاکٹر غصے کی علامات کو دل کی بیماری کے لیے ایک ابتدائی علامت کے طورپر دیکھتے ہوئے مریض کو ان کے مزاج پر قابو پانے کا علاج تجویز کرسکتے ہیں۔ برطانیہ میں، جہاں تقریباً 25 لاکھ افراد دل کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہرسال لگ بھگ 94 ہزار افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں، وہاں یہ مرض اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔
خیال کیا جاتا ہے کہ موت اور دل کی بیماریوں میں اس تعلق کی وجہ لوگوں کا طرز زندگی ہے۔ مثلاً تمباکو نوشی، ورزش کی کمی، وزن کا بڑھ جانا اور غربت۔ یہ تمام عوامل انسان میں غصے اور مخالفانہ جذبات کو جنم دیتے ہیں جو دل کی بیماری کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ برطانیہ کے یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے صحت مند افراد پر کیے جانے والے 25 اور دل کی بیماریوں میں مبتلا 18 مطالعاتی جائزوں کا تجزیہ کیا۔
یونیوسٹی کالج لندن کے وبائی امراض او رصحت عامہ کے شعبے کے ڈاکٹر یوئی چی چندا کا کہنا ہے کہ تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ ابتدائی طورپر صحت مند افراد میں غصے اور معاندانہ جذبات سے دل کی بیماری کے بارے میں 19 فی صد اضافے کی پیش گوئی کی جاسکتی تھی۔ جب کہ پہلے سے دل کی بیماری میں مبتلا افراد میں ان جذبات کے نتیجے میں اس بیماری 24 فی صد اضافہ ہوسکتا تھا۔
غصے اور معاندانہ جذبات کا دل کے امراض سے تعلق عورت کی نسبت مردوں میں زیادہ تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ذہنی دباؤ کا اثرمردوں پر زیادہ ہوتا ہے، جس سے وہ مستقبل میں دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
نیدر لینڈ کی ٹل برگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان ڈینولٹ کا کہنا ہے کہ یہ تجزیہ اس بارے میں مزید شواہد فراہم کرتا ہے کہ نفسیاتی معاملات دل کے امراض پیدا ہونے اور پہلے سے موجود دل کی بیماریوں میں اضافے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معالجین کو غصے اور معاندانہ جذبات کی علامتوں پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور ایسے مریضوں کو نفسیاتی علاج کے لیے بھیجنا چاہیے۔
کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک ٹیم کو ایک اور مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ خواتین میں شدید ڈیپریشن ان میں دل کی بیماری کے خطرے کی ایک ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ 63 ہزار خواتین پر کیے جانے والے مطالعاتی جائزے سے یہ ظاہر ہوا کہ شدید ڈیپریشن میں مبتلا خواتین، اور ایسی خواتین جو ڈیپریشن دور کرنے کی دوائیں استعمال کررہی تھیں ان میں اچانک حرکت قلب بند ہونے یا دل کی شدید بیماری کا خطرہ زیادہ تھا۔
تجزیاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ولیم وہنگ کا کہنا ہے کہ ڈیپریشن میں مبتلا خواتین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈیپریشن اور دل کی بیماری میں ایک ممکنہ تعلق موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شدید ڈیپریشن میں مبتلا خواتین میں خون کے زیاد ہ دباؤ، ذیابیطس، کولیسٹرول کی بلند سطح اور تماکو نوشی جیسی علامات بھی عام تھیں۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے منسلک جون ڈیویسن کہتی ہیں کہ ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ غصے کا دل کی بیماری کے خطرے میں اضافےسے کیا تعلق ہے، لیکن ہمارا خیال ہے کہ ایسے افراد غیر صحت مندانہ طرز زندگی گذار رہے ہوتے ہیں مثلاً وہ تمباکونوشی کرتے ہیں یا غیر صحت بخش خوراک کھاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ غصے اور مخالفانہ جذبات کی وجہ سے ہمارے جسم سے کچھ کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن ہم حتمی طورپر یہ نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں اکثر لوگوں کو کبھی کبھار غصہ آتا ہے، لیکن یہ کوئی خطرے کی علامت نہیں ہے۔ لیکن جب کسی شخص کو ایک طویل عرصے تک مسلسل غصہ آتا رہے تو اسے دل کی بیماری سے بچنے اور اپنی مجموعی صحت کے لیے اس کیفیت سے نکلنے کے لیے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانی چاہیے۔
(ویب ایم ڈی سے ماخوذ(


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers