Category Archives: صنعت وتجارت

لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق

" لذتِ آشنائی"
Like this:
Be the first to like this post.
13 comments | tags: Articles, Blog, Education, Health, People, Politics, Science & Technology, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, نوجوان, کالم, کتاب, پراسرارعلوم, آج, اسلام اور دور جدید, تلاش, تحقیقات, صلاحیت, عقل, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بین الاقوامی امور, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ
سائبر ٹھگ؛موبائل ٹھگ؛لینڈ لارڈ ٹھگ؛فقیر نما ٹھگ؛ہینڈ فری ٹھگ؛کارپوریٹڈ ٹھگ؛سیاسی ٹھگ
تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر
پرانے وقتوں میں سیدھے سادھے لوگوں کو کامیابی کے ساتھ لوٹنے والے افراد کو ٹھگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان میں کمال بات یہ ہوتی تھی کہ لوٹے جانے کے عمل میں موصوف سیدھے سادے لوگوں، یعنی شکار کی رضا مندی بھی شامل ہوتی تھی، کیونکہ ٹھگ کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں ہوتے بلکہ اسی دنیا کے باسی ،انتہائی چاپلوس اور گفتگو کے ماہر ہوتے ہیں جبکہ انکو چور ، ڈاکو اور رہزن کبھی بھی نہیں کہا جا سکتا ا لبتہ کسی نہ کسی طرح سے آپ انکو نوسرباز کہہ سکتے ہیں ۔ حضرت ٹھگ ایک معتدل قسم کی قوم ہے ، نہ تو یہ چوروں کی طرح بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ راتوں کو گھروں میں نقب لگاتے پھریں اور نہ ہی نڈر ڈاکوؤں کیطرح سر عام دندناتے ہوئے لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں بلکہ یہ دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے شکار کے ساتھ ہنسی خوشی کھاتے پیتے اور اسے لوٹ کر چلے جاتے ہیں کہ لٹنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ انکے اس کمال کے باعث میں انہیں اس نوع کی اعلیٰ قوم کہو نگا جو نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں مگر اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں اور کامیابی کا گراف دوسروں کی نسبت سے کئی گنا زیادہ ہے۔آج اکیسویں صدی میں ٹھگوں کی قوم میں اگر ایک طرف جدت آئی ہے تو دوسری طرف انہوں نے اپنے اندر کلاسیفکیشن بھی کر رکھی ہے۔ جبکہ ان کی یہ تقسیم نہ تو طبقاتی نوعیت کی ہے اور نہ ہی نظریاتی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد تک رسائی اور ان کو اپنی قربت سے فیضیاب کرنا ایسا امر ہے جو ترجیحی بنیادوں پر اس قوم کو متقسم کرتا ہے۔ انکی تمام اقسام کی معلومات تو کوزے میں بند نہیں ہو سکتی البتہ چیدہ چیدہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں؛
سائبر ٹھگ
موبائل ٹھگ
لینڈ لارڈ ٹھگ
فقیر نما ٹھگ
ہینڈ فری ٹھگ
کارپوریٹڈ ٹھگ
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
پرانے وقتوں کے ٹھگوں کا طریقہ کار کچھ دقیانوسی سا ہوتا تھا ، صرف نفسیاتی حربے استعمال کرکے اپنا ہدف حاصل کرتے تھے ، بچارہ لٹنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا تھا اور وہ چلتے بنتے تھے ، مگر جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی ٹھگوں نے بھی ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کر کے وقت کے ساتھ کندھے سے کندہ ملانا شروع کر دیا۔ آج کل سائبر ٹھگوں نے انٹرنیٹ پر ایک بہت بڑا بزنس شروع کیا ہو ا ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ اپکے ای میل باکس میں ایک میل موصول ہوتا ہے ۔ کوئی صاحب، یا صاحبہ اپنا تعارف کروانے کے بعد ایک بہت بڑی ڈیل آفر کرتے ہیں ۔ اپنے فون نمبر اور روابط بھی دیتے ہیں اور ریفرنس بھی، کہ کسی فرد نے اپنا بہت سا روپیہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنا ہے لہذا قرع آپکے نام نکلا ہے کیونکہ آپ انتہائی معتبر شخصیت ہیں ۔ کرنا یوں ہے کہ اپنے مکمل کوائف ای میل کر دیں۔ اس طرح سے یہ لوگ دوسروں کے اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور آن لائن کی سہولت سے لوگوں کا سرمایہ اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیتے ہیں یا پھر الجھا کر کچھ رقم بٹور لیتے ہیں۔
اسی طرح ایک دوسری قسم کا ٹھگوں کا گروہ انٹرنیٹ پر لوگوں کی لاٹریاں لگاتا پھر رہا ہے اور نہ جانے لاٹری نکالتے نکالتے کتنوں کا کباڑہ کر گیا ہے۔ ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بوگس ادارے وجود میں آتے ہیں ، کمال قسم کی ویب سائٹ بناتے ہیں اور لوگوں کو دوسرے ممالک سے منگوانے کے ورک پرمٹ آفر کرتے ہیں ۔ مزے دار بات یہ کہ ان پر کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے زبردست طریقہ سے لوٹتے ہیں کہ کسی کو شک ہی نہیں پڑتا ، اور کبھی شک پڑ بھی جائے تو ادارہ دو تین سو ڈالر لیجا چکا ہوتا ہے اور شکار ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔
اب اگر آج کل کے موبائل ٹھگوں کا تذکرہ نہ ہو تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ یہ جدید ٹھگ اپنا طریقہ واردات کچھ اس طرح سے شروع کرتے ہیں کہ کوئی بھی بھلا مانس ان کے جال میں آسانی سے پھنس جائے۔ اگر آپکے موبائل پر کسی انجانے فون نمبر سے کال موصول ہو اور یہ بتلایا جائے کہ آپکا دس لاکھ کا انعام نکل آیا ہے تو کیسا لگے گا؟ اس طرح کی کال موصول ہوتی ہے کہ میں فلاں کمپنی کے ہیڈ آفس سے کال کر رہا ہوں ، آج کمپنی نے ایک قرع اندازی کی ہے جس میں آپ خوش نصیب ٹھہرے ہیں ، آپکو بہت مبارک باد ، کیونکہ آپکا دس لاکھ کا کیش انعام نکلا ہے ، آپ ابھی فورا اسی نمبر پر کال بیک کریں تا کہ آپ کو مزید معلومات دی جا سکیں ۔ بچارہ خوش نصیب جو کہ سانس روکے ہوئے یہ سب کچھ سن رہا ہوتا ہے فورا بھاگم بھاگ ایک نیا کارڈ خرید کر اسے چارج کرتا ہے اور کال بیک کرتا ہے ، اب کسی نئے فرد سے بات ہوتی ہے جو کہ غالباً اپنا تعارف کمپنی کے منیجر کے طور پر کرواتا ہے۔ خوش نصیب ، بلکہ بیچارہ اس سے انعام وصول کرنے کے متعلق تفصیلات معلوم کرتا ہے اور اس طرح ان موبائل ٹھگوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے ۔ اس تمام لے دے کے دوران اس خوش نصیب کو کافی سارے کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے اور انعام کی لالچ ، ، نہیں بلکہ، انعام کی تگ و دو میں اچھی خاصی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جوانی انجانی اور دیوانی نہ ہو تو اسکو جوانی کون کہے؟ آج کل کے موبائل معاشرے میں اگر آپ کسی پارک کے پاس، یا پارک میں ، یا پھر سڑک کنارے کسی شخص کو اپنے آپ سے باتیں کرتا ، کبھی ہنستا اور کبھی غصہ کرتا دیکھیں تو کہیں غلطی سے پا گل نہ سمجھ بیٹھئے گا کیونکہ وہ ہینڈ فری لگا کر کسی سے موبائل پر بات کر رہا ہو گا۔ چلیں چھوڑیں کام کی بات کرتے ہیں، اکثر اوقات کسی فون نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے اور کسی اچھی آفر کے ساتھ بیلنس ، یا کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے ، یا پھر کبھی مس کال، جو ابھی تک کسی کی نہیں ہوئی ، موصول ہوتی ہے اور بات اپنے انجام پر بیلنس بڑھانے اور کارڈ چارج کروانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
گلی محلوں میں ٹھگی کے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں ، باربر شاپ یعنی حجام کی دوکان یا اسی طرح کی بیٹھک والی جگہوں پر اکثر ہینڈ فری قسم کے ٹھگ پائے جاتے ہیں ، انکا دوکان میں کوئی کام نہیں ہوتا بلکہ ہر گپ شپ میں اپنا لقمہ شامل کرتے رہتے ہیں انکے ساتھ کچھ انکی تعریف کرنے والے اور نقلی ضامن بھی موجود ہوتے ہیں ۔ چند روز کی گپ شپ میں کچھ شکار تلاش کرکے ان سے دوستی بنا لیتے ہیں اور لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق آفر کرواتے پھرتے ہیں ، کسی کی نوکری کا بندوبست ، کسی کے گھر کے کام اور کسی کو باہر ممالک میں بھجوانے کی حامی ، اس طرح یہ ٹھگ چند ہی دنوں میں لوگوں سے مختلف کاموں کے کروانے کے بہانے رقم بٹور کر ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
چند ایک لینڈ لارڈ ٹھگ لوگوں میں سستے پلاٹ بانٹتے پھرتے ہیں ، ہوتا یوں ہے کہ ایک صاحب اچانک وارد ہوتے ہیں اور بڑے خوش مزاج انداز میں آپکو اپنا تعارف کرواتے ہیں اور ساتھ ہی مبارک باد دیتے ہیں کہ ڈیر آپ تو بہت خوش نصیب ہو، کیونکہ فلاں سکیم میں آخری چند ایک پلاٹ رہ گئے تھے لہذا قرع اندازی کی گئی ہے اور تین میں سے ایک پلاٹ آپکے نام نکلا ہے ، بہت بہت مبارک ہو!!! آپکو یہ پلاٹ صرف ایک ڈیڑھ لاکھ میں مل جائے گا اب خوش نصیب ، خوشی سے پھولے نہیں سماتا کہ اتنی مہنگائی کے دور میں پلاٹ اور ہو بھی صرف ڈیڑھ لاکھ میں اور آو بھگت میں لگ جاتا ہے ۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی جی میں تو آپکی فائل بھی لے آیا ہوں ، آپ فائل رکھ لیں اور فلاں دن آکر موقع دیکھ لیں ۔ اب فائل لینے والا جب فائل حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ صاحب کہتے ہیں کہ اس فائل کی معمولی سی قیمت صرف چار سو روپے ہے آپ ادا کر دیں ۔اور سلسلہ چل پڑتا ہے ، موقع پر جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مزید ایک ہزار روپے اور ادا کر دیں کیونکہ خوش نصیب کی تو ابھی تک رجسٹریشن بھی ہونی ہے، اسطرح سے پیسے بٹور نے والے ٹھگ پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور آخر کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ جو پلاٹ انکے نام نکلا ہے کسی شورش زدہ علاقے میں شہری حدود سے باہر ہے اور اسکی قیمت ایک لاکھ بھی زیادہ ہے ۔
ایک اور قسم کے ٹھگ جنکو آپ فقیر نما ٹھگ کہ سکتے ہیں ان کا حال سنیں، کئی بار بڑے بڑے دفتروں میں جہاں کہ بڑے مرتبے کے لو گ بیٹھتے ہیں اچانک ملنگ نما لوگ دفتر میں گھس آتے ہیں ، بڑے بڑے منکے پہنے ہوئے ہٹے کٹے ملنگ صاحب آتے ہی اپنا تعارف کچھ اس طرح سے کرواتے ہیں ، ” مستان شاہ کا پھرا ہے ، غصہ تھوک دو ، تمہارے زندگی میں بہت کامیابی ہے صرف غصہ نہ کیا کرو “، اور ساتھ ہی ایک عدد آٹو گراف بک آپکی خد مت میں پیش کر دیں گے جس میں بڑے بڑے لوگوں کے کمنٹس لکھے ہوتے ہیں ، اب اپنے شکار کو مرغوب کرنے کیلئے انکے پاس کچھ شبدے بھی پائے جاتے ہیں ، اکثر اوقات اپنا کرشمہ دکھانے کیلئے آ پنے شکار سے پانچ سو کا نوٹ لیکر اور اسے مٹھی میں بند کرکے اس میں سے پانی کے قطرے نکالتے ہیں اور اسی طرح سے کچھ اور شبدے دیکھا کر کمزور عقیدہ لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے بٹور تے ہیں ۔
اسی طرح ان ٹھگوں میں ایک انتہائی معتبر طبقہ بھی موجود ہے ۔ یہ لوگ شاہانہ انداز میں اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں ، آپ انکو کارپوریٹڈ ٹھگ کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ یہ کارپوریٹ لیول پر کام کرتے ہیں ، انکا طریقہ واردات سب سے مختلف ہے ، کسی بھی بڑے بزنس مین کو اچانک ایک فون کال موصول ہوتی ہے اور ایک بہت بڑا آرڈر بک کروایا جاتا ہے یعنی بڑی تعداد میں اشیا ء خریدنے کی دلچسپی ظاہر کی جاتی ہے ۔ مگر بزنس مین کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت بھی دی جاتی ہے ۔ اب بچارہ بزنس مین اتنے بڑے خریدار کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ، وہ کسی بھی کمٹ منٹ کے تحت گاہک کے پاس جا پہنچتا ہے ۔ کارپوریٹڈ ٹھگ اپنے اڈے شہروں سے کچھ فاصلے ہر بناتے ہیں جیسے لا ہور کے ساتھ بھائی پھیر و وغیرہ، تاکہ ڈیل میچور کر سکیں ۔ انکا ڈسا ہو ا بزنس مین ہمیشہ کیلئے برباد ہو جاتا ہے۔ اب بزنس کی غرض سے آئے ہوئے فرد کو باس سے ملوا نے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر پہلی ملاقات میں باس کی بجائے چند ایک اور آئے ہوئے مہمانوں سے کروائی جاتی ہے جو کہ لفظوں کے جال میں پھنسانے کے ماہر ہوتے ہیں، اور اس طرح آنے والے بزنس میں کو جوا ء کھیلا جاتا ہے جس میں پہلی بار کچھ رقم کی جتوا دی جاتی ہے مگر بزنس میں کو پیسے دیے نہیں جاتے بلکہ امانتاً رکھوا لیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ابھی کھیل نامکمل ہے ، آپ جتنی رقم لاوء گے، یعنی شو کرواوء گے اتنی یہاں سے لیجا سکتے ہو۔ اب بزنس میں اپنی پھنسی ہوئی رقم رکھوا کر اور مزید پیسے لا کر اس کھیل کا حصہ بن جاتا ہے اور اس طرح سے جوئے میں اپنی پونجی ہار بیٹھتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا کیونکہ یہ وہ سب کچھ اپنی مرضی سے ہار چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے اسٹام پیپر تک سائین کروا لئے جاتے ہیں۔ اسطرح سے ہارا ہوا بزنس مین کسی کو بتانے کے قابل بھی نہیں رہتا کہ اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ۔
ایسے کئی اور اقسام کے ٹھگ گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ، جیسے گھروں میں عورتوں کا آکر پیسے ڈبل کرنے کی آفر کے بعد پیسے اور زیور بٹور لینا وغیرہ، آئیے ایک جدید انتہائی تعلیم یافتہ ٹھگ سے ملاقات کا آنکھوں دیکھا حال آپکی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ 2اگست2008 شام تقریباً 6 بجے ایک صاحب میرے آفس میں تشریف لائے اور آتے ہی اتنی بے تکلفی سے ملے اور سلام کیا جیسے مدتوں سے جاننے والے ہیں۔ پھر گفتگو کی سلائس پر مکھن کے دو کوٹ کئے اور اپنا تعارف کروایا کہ “میں راولپنڈی کے ایک کالج میں پروفیسر ہوں، کیمسٹری پڑھاتا ہوں اور کچھ طلبا کو وظیفے پر مختلف ملکوں میں تعلیم کی غرض سے بھجوانا ہے لہذا اس غرض سے لاہور صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ہمارے کالجز کا پورے پنجاب میں ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور اس لحاظ سے ہر ایک سیشن میں کم از کم ایک سو طلبا و طالبات کے داخلے آپکو مل جا یا کریں گے”
وہ صاحب گفتگو اور لباس سے قطعی طور پر مہذب انسان لگ رہے تھے جبکہ معلومات کا ایک گنجینہ بھی تھے ۔ مجھے کاروبار سے بڑھ کر انکی شخصیت نے زیادہ متاثر کیا۔ اپنی مسحور کن گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بھی انکے کالجز ہیں ۔ اور اتنے بڑے نیٹ ورک کے بیرون ممالک تعلیم کے معاملات نبٹا نے کیلئے کسی اچھے اور تجربہ کار ایڈوائزر کی ضرورت ہے ۔ اتنی مرنجا مرنج گفتگو کہ کوئی قربان ہی ہوجائے ، مجھے احساس ہوا کہ ایک اچھی کاروباری ڈیل اور اچھی شخصیت کی مسحور کن ماحول میں انکو کچھ کھلانا پلانا بھول ہی گیا ہوں۔
میں نے فورا ان صاحب کیلئے چائے اور کھانے کا انتظام کیا ۔ کاروباری معاملات پر مزید بات چیت جاری رہی ، ان صاحب سے میری بھی بے تکلفی سی ہونے لگی ، میں نے ان سے انکا وزٹنگ کارڈ مانگا جو فورا انہوں نے پیش کر دیا
Fahim Asad Jaral
M.Sc Chemistry
M.BA Marketing
Cell: ………..
انکے گلابی رنگ کے کارڈ پر نہ تو کسی ادارے کا نام اور نہ ہی ایڈریس لکھا ہوا تھا مگر کمال کی شخصیت اور کمال کی معلومات کہ جو بات کرو جواب حاضر ۔ لہذا میں نے انکے کام کیلئے حامی بھر لی اور باہمی شرائط طے کرنی شروع کر دیں ۔ مگر فہیم اسد جرال صاحب بولے کہ یہ شرائط تو طے ہوتی رہیں گی ، آپ کیونکہ ایک تعلیمی ادارہ بھی چلا رہے ہیں ، لوگوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں اور آپ سے دوستی بھی ہو گئی ہے لہذا میں آپکو ایک اور بزنس بھی دلا دیتا ہوں ، آپ ایک عدد درخواست ہمارے ڈائریکٹر صاحب کے نام لکھ دیں ۔ یہ درخواست ایک ٹینڈر سے متعلق ہے جسکی آخری تاریخ کل ہے ۔
انہوں نے مجھے لکھوانا شروع کر دیا ، بہترین انگلش کے الفاظ کا چناﺅ اور پیراگراف کہ میں حیران ہو گیا۔ درخواست مکمل کر نے کے بعد انہوں نے اس پر میرے دستخط کروائے اور اپنے پاس رکھ لی۔اب گفتگو کسی اور موضوع پر چل پڑی کہ اچانک جرال صاحب نے کہا کہ مجھے ایک ہزار روپیہ عنائیت فرما دیں جو کہ درخواست کے ساتھ بطور فیس جمع کروانا ضروری ہے۔ میں کیونکہ ان کو ایک معتبر اور قابل اعتماد شخصیت مان چکا تھا لہذا کسی اچنبھے کا اظہار نہ کیا اور ایک ہزار روپے کے دینے کی فورا حامی بھر لی۔ پھر بات چیت اپنی دلچسپیوں کی ڈگر پر چل پڑی کہ چند ہی لمحوں میں فہیم جرار صاحب نے یاد دہانی کروائی کہ مجھے انہیں ایک ہزار روپیہ دینا ہے۔
انکے اتنی معمولی رقم کیلئے دوبارہ تذکرے پر کچھ حیرانی ہوئی مگر میں نے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔ جرار صاحب نے بھی گفتگو جاری رکھتے ہوئے تیسری بار مجھ سے ایک ہزار روپے کا تذکرہ کیا جو کہ اب واقعی اہمیت کا حامل تھا کہ ایک چھوٹی سی رقم کیلئے اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔ مجھے انکی شخصیت اور کاروباری معاملہ کی نوعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ہزار روپیہ دینا کوئی مشکل کام تو نہیں لگا مگر کچھ شک گزرا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔
بات کا پانسا پلٹتے ہوئے میں نے کہا جناب جرار صاحب آپ کیوں فکر کرتے ہیں ، یہ تو معمولی سی رقم ہے ، ہم نے تو ابھی بہت سے بزنس کے معاملات میں آگے چلنا ہے ، آپ ایسے کریں کہ اتنی سی رقم آپ خود سے جمع کروا دیں ۔ یہ سننا تھا کہ جیسے ان کو کرنٹ لگ گیا ہو، انکے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا جو کہ میرے لیے اور بھی حیرت کی بات تھی ۔ اب میری آنکھیں کھلنے لگیں کہ نہ جان نا پہچان اور میں تیرا مہمان ، میں کس شخص سے وقت ضائع کر رہا ہوں جو کہ صرف ایک ہزار کے کھیل میں آسمان کی قلا بیں ملا رہا ہے ۔
جرار صاحب کا طلسم ٹوٹ چکا تھا مگر میں نے محسوس نہیں ہونے دیا ، میرا یہی اصرار تھا کہ وہ خود ہی سے درخواست اور اسکی فیس جمع کروا دیں ۔ اب اس بچارے کی حالت دیکھنے والی تھی ، چہرہ پہ پسنے کے قطرے نمودار ہونے لگے کہ ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور بو کھلائے ہوے بولے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے ، پھر ملاقات ہوگی ۔ اور اپنی فائلیں سنبھالے نکل گئے جبکہ میں انکی آنیاں اور جانیاں ملاحظہ کرتا رہا۔ انکے نکلتے ہی میں نے سوچا کہ دیکھوں موصوف کے پاس کونسی گاڑی ہے لہذا کھڑکی سے ملاحظہ کیا تو جناب سڑک کنارے کھڑے ایک موڑ بائک والے سے لفٹ مانگ رہے تھے ، حالانکہ گپ شپ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انکے پاس ایک عدد گاڑی کا بھی ہے ۔ اب میں نے سوچا انکے وزٹنگ کارڈ پر لکھے ہوئے موبائل تو دیکھوں کہ کسی اور کا نہ ہو،جب فون کیا تو جناب کا فون بند تھا ۔ اس واقع کے بعد کبھی گمان ہوتا تھا کہ میں سمجھنے میں غلطی کر گیا اور کبھی خیال ہو تا کہ ایک ٹھگی سے بچ گیا ، اسی شش و پنج میں ایک روز پھر فون ملایا تو مل گیا ، حضرت موجود تھے اور بولے یار آپ بھی کمال کے شخص ہیں، آجکل میں پنڈی میں موجود ہوں پھر کبھی ملاقات ہوگی خدا حافظ، مختصر سی بات کی اور ۔۔۔ اور پھر کبھی ملاقات نہ ہوئی ۔۔ آج وزٹنگ کارڈز کو ترتیب میں لگاتے ہوئے مجھے پھر وہی کارڈ نظر آیا اور ذہن میں وہی پرانی تصویریں اور واقعات گھومنے لگے کہ جسے میں اکیسویں صدی کا ٹھگ ہی کہوں تو بجا ہوگا۔
انکی تفصیلات اس لئیے لکھ دیں ہیں کہ اگر آپ ان سے مل چکے ہیں تو آپ میری شش و پیج ختم کر دیں اور اگر کبھی شرفِ ملاقات حاصل ہو تو کسی کاروباری دھوکے میں نہ آجائے گا۔۔۔ایسی شخصیات سے ملاقات نصیبوں والوں کو ہی ہوتی ہے اور جن کو یہ شرف حاصل ہو وہ کسی سے تذکرہ بھی نہیں کرتا بلکہ تذکرہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ لہذا اپنے اردگرد نظر دوڑایں اور شک کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیں تو ممکن ہے نظر آجائے کہ ایسا ہی کوئی معاملہ درپیش ہو؟
یہ سارا عمل ایک اصول پر قائم ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ، لہذا لوگ تھوڑا سا پیسا لگا کر بہت سا حاصل کرنے کی لالچ میں تھوڑے سے بھی جاتے ہیں، جیسے پہلے وقتوں میں ایک شخص ایک بڑی سی دوکان کے باہر اپنے ہاتھ میں ایک سکہ لیے کھڑا تھا،دوکاندار نے دیکھا اور نظر انداز کر گیا۔ اب کافی دیر بعد وہ شخص جانے لگا مگر اس نے سکہ دوکاندار کی طرف اچھال دیا تو دوکاندار اسے روک کر پوچھنے لگا ، بھئی یہ کیا ہے ، تو وہ شخص بولا سنا تھا پیسا پیسے کو کھینچتا ہے لہذا میں اپنا سکہ لیکر تمہاری دوکان کے باہر گلے کے پاس کھڑا رہا اور دیکھتا رہا کہ کب میرا سکہ تمہارے گلے سے پیسے کھینچے گا ، مگر کافی دیر کھڑا رہنے کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی لہذا مایوس ہو کر میں نے اپنا سکہ بھی تمہارے گلے میں پھینک دیا ۔ اب دوکاندار مسکرایا اور بولا بھئی بات تو ٹھیک ہے کہ پیسہ پیسیے کو کھنچتا ہے مگر زیادہ پیسہ کم پیسے کو کھینچتا ہے نہ کہ کم زیادہ کو ، دیکھو میرے پیسوں نے تمہارے سکے کو کھنچ لیا!!
ان سب معاملات میں کسی قانونی تحفظ کی تو بات دور ، ان معاملات کی گرداب سے بچ نکلنا ہی غنیمت جانئے ۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی لالچ میں اندھا ہو جاتا ہے ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے ۔ اسی طرح سے جلدی کے تمام معاملات اور انجان لوگوں سے مراسم ہمیشہ کسی اندھے کنوئیں میں لا پھینکتے ہیں۔ یہاں افراد کی تربیت بہت ضروری ہے کہ وہ اس خواہ مخواہ کی پریشانی سے بچ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ٹھگوں سے بچائے رکھے البتہ اگر آپ اسی طرح کے کسی معاملہ سے گزر چکے ہیں تو امید ہے کہ اسکو دوسروں سے شیئر کریں گے تا کہ آپکے دوست و احباب کسی ناقابل تلافی نقصان سے بچے رہیں ۔
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, انسان, اردو ادب, تحقیقات, تعلیم و تربیت, ثقافت, خبریں, صنعت وتجارت, عمومی بحث
لوڈ شیڈنگ بھول جائیں، روشن وال پیپر لگائیں
کاربن کے کم اخراج کی ٹیکنالوجی کے لیے کام کرنے والے برطانیہ کے ایک سرکاری ادارے’کاربن ٹرسٹ‘ کا کہناہے کہ 2012ء تک روشنی خارج کرنے والے اس وال پیپرز کا استعمال شروع ہوسکتا ہے جس سے کمرے میں روشنی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
پاکستان اور کئی دوسرے ان ملکوں میں رہنے والوں کے لیے،جنہیں آئے روز لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ خبر دلچسپی کاباعث ہوگی کہ سائنس دان ایک ایسا وال پیپر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو روشنی خارج کرتا ہے۔ دیواروں پر یہ مخصوص وال پیپر لگانے کے بعد کمرے کو روشن کرنے کے لیے بجلی کے بلب ، گیس کے لیمپ، لالٹین یا موم بتی وغیرہ جلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
کاربن کے کم اخراج کی ٹیکنالوجی کے لیے کام کرنے والے برطانیہ کے ایک سرکاری ادارے’کاربن ٹرسٹ‘ کا کہناہے کہ 2012ء تک روشنی خارج کرنے والے اس وال پیپرز کا استعمال شروع ہوسکتا ہے جس سے کمرے میں روشنی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنی دینے والے وال پیپر پر ایک مخصوص کیمیائی مادہ لگایا گیا ہے۔ وال پیپر کو جب دیوار پر لگایا جاتا ہے اس سے نکلنے والی روشنی کمرے میں ہر جگہ یکسانیت کے ساتھ پھیل جاتی ہے جس سے سایہ وغیرہ بھی نہیں بنتا جیسا کہ بجلی کے عام بلب کی روشنی سے بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وال پیپر پر لگے ہوئے کیمیائی مادے سے روشنی پیدا کرنے کے لیے اسے برقی رو کی ضرورت ہوگی لیکن اس کی قوت بہت ہی کم ہوگی یعنی تقریباً تین وولٹ ، جو ایک عام بیٹری سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ معمولی برقی قوت کے باعث دیوار چھونے سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔روشنی کی مقدار کم یا زیادہ کرنے کے لیے وہ عام بٹن جنہیں ڈمر کہا جاتا ہے ، استعمال کیے جاسکیں گے۔
کاربن ٹرسٹ نے روشنی فراہم کرنے والے وال پیپر کی تیاری کے لئے ’لوموکس ‘ نامی کمپنی کو ساڑھے چارلاکھ پونڈ سے زیادہ کا فنڈ دیا ہے۔ یہ کمپنی کچھ عرصے سےنامیاتی روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈز ٹیکنالوجی پر تحقیق کررہی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ روشنی دینے والا وال پیپر، موجودہ دور کے انرجی سیونگ قمقموں سے ڈھائی گنا کم توانائی استعمال کرے گا۔ جس سے حکومت کے اس ہدف کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جس کے تخت برطانیہ 2020ء تک ملک میں کاربن گیسوں کے اخراج میں 34 فی صد تک کمی کرنا چاہتا ہے۔برطانیہ میں پیدا ہونے والی بجلی کا چھٹا حصہ عمارتوں کے اندورنی حصوں کو روشن کرنے کے لیے استعمال ہوتاہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنی دینے والے مخصوص کیمیائی مادے کو وال پیپر کی بجائے براہ راست دیواروں پر لگاکر انہیں روشن کیا جاسکتا ہے۔ اس مادے کا استعمال ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر اور موبائل فونز کی سکرینوں پر بھی کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ نئی ایجاد کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ ر وشنی فراہم کرنے کا پورا نظام تین سے پانچ وولٹ کی برقی قوت پر کام کرتا ہے ۔ جب کہ ایک عام بلب کو روشن کرنے کے لیے پاکستان اور اکثر دوسرے ملکوں میں 220 وولٹ اور امریکہ میں110 وولٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ وال پیپر کو بہت کم مقدار میں بجلی درکار ہوگی ، اس لیے یہ ضرورت عام بیٹری یا گھر کی چھت پر شمسی توانائی کے پینل لگاکر باآسانی پوری کی جاسکے گی۔نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنی لوموکس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال سڑکوں پر نصب ان نشانات اور اشاروں کو روشن کرنے کے لیے کرے گی ، جہاں بجلی موجود نہیں ہے۔
کمپنی کے سربراہ کین لیسی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس نئی ایجاد کو 2012ء میں فروخت کے لیے پیش کردیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کیمیائی مادے سے خارج ہونے والی روشنی سورج کی روشنی جیسی ہے جس میں قدرتی روشنی میں پائے جانے والے تمام رنگ موجود ہیں۔اگرچہ روشنی خارج کرنے والے آرگینک ڈائیوڈ جنہیں ایل ای ڈی بھی کہاجاتا ہے، کئ برسوں سے انسان کے زیر استعمال ہیں ، تاہم مسٹر لیسی کہتے ہیں کہ اپنی قیمت اور پائیداری کے باعث ان پرمزید تحقیقی کام رک گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی ، ایل ای ڈی سے کہیں زیادہ سستی اور پائیدار ٹیکنالوجی ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
مسٹر لیسی کہتے ہیں کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ایسی سکرینیں بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے جنہیں کاغذ کی طرح لپیٹا جاسکے گا۔ اور انہیں رول کی شکل میں لپیٹ کر آپ کہیں بھی لے جاسکیں گے۔کاربن کی گیسوں کا اخراج کم کرنے سے متعلق ادارے ’ کاربن ٹرسٹ ‘ کے ڈائریکٹر مارک ولیم سن کہتے ہیں کہ کاربن گیسوں کے اخراج کی ایک بڑی وجہ روشنی کا حصول ہے۔ کیونکہ عمارتوں کو روشن رکھنے کے لیے بجلی کا ایک بڑا حصہ استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر پاور ہاؤس ، کوئلے اور معدنی ایندھن سے چلتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ توانائی بچانے والی یہ ٹیکنالوجی عالمی مارکیٹ میں بہت جلد اپنے لیے جگہ بنا لے گی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایجاد ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
بشکریہ VOA
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Article, Articles, Blog, Education, Family, People, Science & Technology, معلوم, نوجوان, کالم, آج, تحقیقات | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کالم, انسان, ایجادات, تحقیقات, خبریں, سائنس و ٹیکنالوجی, صنعت وتجارت, عمومی بحث
بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لیے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے
ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان میں ہر سال بہت سی خواتین اس موذی مرض کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتی کہ انہیں کیا بیماری لاحق ہوئی ہے۔ اسکی ایک وجہ جہاں طبی سہولتوں کی کمی یاان کا بے حد مہنگا ہونا ہے، وہیں معاشرتی رویے بھی ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں بہت سی خواتین بریسٹ کینسر کے ہاتھوں موت کی وادی میں چلی جاتی ہیں۔ ریاست ٹیکساس کے ایک پاکستانی ڈاکٹر ذی شان شاہ کا شمار امریکہ کے ان چوٹی کے ڈاکٹروں میں کیا جاتا ہے جو اس مرض کے علاج میں مہارت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر ذیشان علی شاہ امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک کامیاب کینسر سرجن ہیں۔ اسپتال میں سارا دن مریضوں کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ گھر میں مختلف سرگرمیوں میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں کتابیں پڑھنے اور موسیقی سننے کا شوق ہے۔ اس کے علاوہ وہ ویڈیو گیمز بھی کھیلتے ہیں۔ یوں اسپتال میں سنجیدہگی اور پورے انہماک سے کام کرنے والے ڈاکٹر ذیشان گھر میں بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ میوزک میں ہر قسم کا سنتا ہوں۔ یہاں پر پیدا ہوا ہوں تو امریکن روک اینڈ رول میوزک تو بہت پسند ہے تو میرے پاس اس کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے اور میں یہی کرتا ہوں کہ میوزک اکھٹا کرتا ہوں پاکستانی میوزک کا بھی بہت شوق ہے جو آجکل نئے بینڈز ہیں پاکستان میں جیسا کہ کال، میکال حسن بینڈ وہ سب بھی بہت متاثر کرنے والے بینڈ ہیں۔ میں ان کو بھی سنتا ہوں اور پھر مجھے قوالیوں کا بھی بہت شوق ہے اور میرے پسندیدہ قوال ہیں راحت فتح علی خان۔ پھر ہم نے ایک مہینے پہلے راحت فتح علی خان کا بھی شو دیکھا تھا بہت ہی مزے کا شو تھا۔
انکی اہلیہ مونابھی ڈاکٹر ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی سے نیورو سرجری کی ڈگری حاصل کر رہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ذیشان ایک اچھے شوہر اور بہترین دوست کی طرح ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ذیشان جو ہیں وہ ایک بہت ہی اچھے شوہر ہیں بہت کوآپریٹیو شوہر ہیں اور نہ صرف ایک اچھے شوہر ہیں بلکہ ایک بہت ہی اچھے انسان بھی ہیں۔
گھر میں یکسر مختلف دکھائی دینے والے ڈاکٹر ذیشان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا طب کی دنیا سے تعلق ہے۔ وہ امریکہ میں بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین کی جان بچانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ خواتین کو کینسر سے بچنےکے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں پہ امریکہ اور مغربی دنیا میں اس پروگرام پر عمل کیا جارہا ہے کہ چالیس سال کی عمر کے بعد ہر عورت کو سکریننگ کرنی چاہیے۔ ہر عورت کو ہر سال اپنی میموگرافی کرانا چاہیے۔ پھر اس کے بعد اگر کوئی پرابلم ہوتی ہے۔ پھراس کی تشخیص کے لیے بریسٹ سینٹر پر آتے ہیں اور پھر ہم مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ انکی میموگرافی کی جاتی ہےمعائنہ کیا جاتا ہے۔ الٹرا ساؤنڈ ہوتا ہے۔ پھر اگر کوئی غیر معمولی بات ہوتی ہے تو پھر ہم تشخیص کی طرف بھی جاتے ہیں اور biopsies بھی کرتے ہیں needle guided biopsies کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ذیشان کا کہنا ہے کہ عورتوں کو چالیس سال کی عمر کے بعد باقاعدگی سے ڈاکٹر کے پاس جا کر اپنا چیک اپ کرانا چاہیے۔ اسی صورت وہ کینسر سے بچاؤ کو ممکن بنا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر ذیشان کے مطابق پاکستان میں ہر سال بہت سی خواتین اس موذی مرض کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتی کہ انہیں کیا بیماری لاحق ہوئی ہے۔ اسکی ایک وجہ جہاں طبی سہولتوں کی کمی یاان کا بے حد مہنگا ہونا ہے، وہیں معاشرتی رویے بھی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مسئلہ یہی ہے کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ جو پروگرام یہاں پر بنایا گیا ہے وہ اسی لیے بن سکتا ہے کیونکہ یہاں پر انشورنس کمپنیاں ہیں اور اس کے لیے حکومت بھی سرمایہ فراہم کرتی ہے۔ حکومت سبسٹڈی بھی دیتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کچھ بھی نہ کر سکتے۔ پاکستان میں یہی مسئلہ ہے کہ حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے۔ سوسائٹی کے پاس بھی اتنا پیسہ نہیں ہےکہ وہ اس پر خرچ کرسکیں۔ پاکستان میں strategy development ہونا چاہیے۔ پاکستان میں یہ ہونا چاہیے کہ ہر عورت کو کم از کم فزیکل ایگزام جو بریسٹ ایگزام خود سے کرانا چاہیے۔ تاکہ اگر کوئی مسئلہ ہے یا وہ کوئی چیز محسوس کریں اور وہ ڈاکٹر کے پاس جا سکتی ہیں۔ انہیں اس سلسلے میں آگاہی فراہم کرنے اور تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ ہماری عورتوں میں شرم بھی ہوتی ہے اور یہ خوف بھی کہ اگر میرے بریسٹ میں کچھ ہوتا ہے تو کیا ہوگا، شادی ٹوٹ جائے گی، وغیرہ اور بھی بہت معاشرتی مسئلے ہیں۔ اگر ان چیزوں پر قابو پالیا جائے تو بریسٹ کینسر کے واقعات میں کمی کی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر ذیشان کے مطابق ان خواتین میں بریسٹ کینسر کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جن کی ماں یا خاندان میں سے کسی کو یہ مرض ہوچکا ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ جن عورتوں کی ماں کو یا ماں کے خاندان میں بریسٹ کینسر ہوتا ہے تو ان عورتوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے انہیں دوسری خواتین کی نسبت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ذی شان شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے درمیان بریسٹ کینسر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بہت ضروری اور وقت کا اہم ترین نقاضا ہے۔ تعلیم کے فروغ اور روایتی معاشرتی رویوں کو بدل کر ہی ہم اس بیماری کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں۔
بشکریہ VOA
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | posted in Article, Articles, Blog, Family, Life, Pakistan, متفرقات, معلومات, نوجوان, کھیل و صحت, گھریلو امور, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, صنعت وتجارت, عمومی بحث