Category Archives: طنزومزاح

لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


غریب مکاو ! بجلی کے نرخ میں13.6فیصد اضافے کا فیصلہ

غریب مکاو ! بجلی کے نرخ میں13.6فیصد اضافے کا فیصلہ

ایک طالبعلم کو پڑھاتے ہوئے میں نے پوچھا آپکے علاقے میں لوڈ شیڈنگ کا کیا شیڈول ہے ؟ تووہ مسکرا کر بولا جی ہمارے گھر میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔ حیرت ہوئی کہ آخر کونسی بات ہے کہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی، استسفار پر بولا کہ بجلی کٹے ہوئے مدت ہوگئی ہے ، نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ، اب گزارہ لالٹین/لیمپ سے ہورہا ہے۔۔۔۔۔، ایک اخباری اطلاع کیمطابق بجلی کے نرخ میں اضافہ کا اعلان کردیا گیا ہے؛
اسلام آباد…یکم جنوری سے ملک بھر میں بجلی کے نرخ میں13.6فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اس بات کا اعلان وزارت پانی بجلی کے سیکریٹری شاہد رفیعکی جانب سے کیا گیا۔شاہد رفیع کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق نرخ میں12فیصد اضافہ کیا جا نا تھا جبکہ مزید1.6فیصد گزشتہ مرتبہ واپس لئے جانے والے اضافے کو بھی اس مرتبہ شامل کر دیا گیا ہے ۔اضافے کا اطلاق100یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر بھی ہو گا ۔سیکریٹری وزارت پانی اور بجلی کا کہنا تھا کہ زرعی صارفین بھی اضافے سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے ۔


پکڑے جانے کا موسم شروع ؛ قربانی ؛این آراو اور میاں بیوی

بیوی کا میاں اور اسکی گرل فرینڈ کو رنگے ہاتھوں پکڑنے  کا منظر

قربانیوں کا موسم آ چکا ہے اور چھوٹے بڑے جانور قربانی کیلئے تیار کیے جا رہے ہیں جبکہ معاملہ قربانی کا ہو تو قصاب ، این آر او کا ہو تو عدلیہ اور اگر گھر کا ہو تو پھر بیوی کے رحم و کرم پر ؛ اسی طرح کا ایک منظر آپکی خد مت میں حاضر ہے ۔ تبصرہ تو اب آپ ہی بہتر کر سکتے ہیں۔۔۔


Bookmark and Share


بارش کی سائنس اور کیچڑ کی سیاست

بارش کی سائنس اور کیچڑ کی سیاست

آج سائنس کی تحقیق یہ بتلا رہی ہے کہ تمام الیکٹرانک آلا ت استعمال ہو تے ہوئے مثبت چا رج (+ve ion ) خا ر ج کر تے ہیں جو کہ صحت کہ لئے انتہائی نقصان دہ ہے جبکہ ہما رے شب و روز تقریباً مکمل طور پر الیکٹرانک آلا ت سے مزین ہیں

بارش شروع ہوتے ہی کچھ گھروں کو ریڈ زون قرار دے دیا جاتا ہے اور ان گھروں کے سربراہ ایمرجنسی کا اعلان کر دیتے ہیں مرد حضرات چھتوں کے اوپر مٹی سے بھرے تھال اور خواتین گھر کے برتن اٹھائے کمروں کے اندر اپنی پوزیشن سنبھال لیتیں ہیں پھر اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں کپڑوں کے صندوق کے اوپر چھت ٹپک رہی ہے، مسہری پر پانی گر رہا ہے،بستر بھیگ رہے ہیں

تحریر:محمدالطاف گوہر

بارش بادلوں سے زمین کی سطح پر پانی کے قطروں کا علیحدہ علیحدہ گرنے کے عمل کو کہتے ہیں۔بارش کے برصغیر پاک و ہند میں بڑے نام ہیں۔ بارش، برکھا، میگھا، مینہ، پونم وغیرہ۔ بھارت کی ایک ریاست میگھالیہ کا یہ نام وہاں بہت زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے ہے, بنگلہ دیش کے ایک دریا میگھنا بھی مینہ یا میگھا سے بنا ہے۔ بارش زراعت اور پودوں کیلئے زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اوسطاً بارش کا ایک قطرہ ایک یا دو ملی میٹر قطر کا ہوتا ہے۔مون سون بارشوں اور موسم کے بہت بڑے نظام کا نام ہے۔ بارش برازیل، وسطی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں پودوں اور جانوروں کی بے تحاشا قسموں کی باعث ہے۔بارش ہماری رہتل میں خوشیوں گیتوں اور زندگی کا نام ہے۔ مون سون ہواؤں، بادلوں اور بارشوں کا ایک نظام ہے۔ یہ موسم گرما میں جنوبی ایشیاء ، جنوب مشرقی ایشیاء اور مشرقی ایشیاء میں بارشوں کا سبب بنتا ہے۔ اپریل اور مئی کے مہینوں میں افریقہ کے مشرقی ساحلوں کے قریب خط استوا کے آس پاس بحر ہند کے اوپر گرمی کی وجہ سے بخارات بننے کا عمل ہوتا ہے یہ بخارات بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اور مشرق کا رخ اختیار کرتے ہیں۔ جون کے پہلے ہفتے میں یہ سری لنکا اور جنوبی بھارت پہنچتے ہیں اور پھر مشرق کی طرف نکل جاتے ہیں۔ ان کا کچھ حصہ بھارت کے اوپر برستا ہوا سلسلہ کوہ ہمالیہ سے آ ٹکراتا ہے۔ بادلوں کا کچھ حصہ شمال مغرب کی طرف پاکستان کا رخ کرتا ہے اور 15 جولائی کو مون سون کے بادل لاہور پہنچتے ہیں۔ عموما 15 جولائی کو پاکستان میں ساون کی پہلی تاریخ ہوتی ہے۔مون سون کی بارشیں اس علاقے میں اک نئی زندگی کا پیغام لاتی ہیں۔مون سون عربی زبان کے لفظ ‘موسم’ کی تبدیل شدہ شکل ہے۔
پانی (سنسکرت سے ماخوذ.)( انگریزی: Water)، آب (فارسی) یا ماء(عربی) ایک بے رنگ، بے بو اور بے ذائقہ مائع ہے ۔یہ تمام حیات کیلئے نہایت اہم ہے۔ پانی قدرت کا حسین تحفہ اور عطیہ ہے اور اسکا سفر کتنا دلچسپ ہے کہ ہلکا ہو تو آکاش کی طرف سفر کرتا ہوا ہواؤں کو آبیار (Pregnent) کرتا ہے، کبھی تو بادل بن کے آسمان پر چھا جاتا ہے اور پھر رحمت بن کے زمین پہ برستا ہے،اور کبھی آلودہ فضا کی غلاظتوں کو سمیٹتا ہے تو کبھی پھولوں پہ شبنم بن کے موتیوں کی طرح چمکتا ہے اور کبھی آبشار بن کے موسیقی کا سامان مہیا کرتا ہے اور کبھی برف بن کے پہاڑوں کی چوٹیوں پہ دمکتا ہے مگر زمین پہ ہمیشہ بلندی سے پستی کی طرف بہتا ہے اور اگر ِ اس کے بہاؤ کو پابند کر دیا جائے (حدوں میں، Boundries) تو ندی، نالوں اور دریاؤں کی طرح بہتا ہے اور کبھی چشمہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے پھر اپنا سفر شروع کر دیتا ہے۔ اگر حدوں میں رہے تو اس کے باعث طاقت پکڑتا ہے۔ اگر ایک طرف ہمارے لیے آبپاشی کا سامان مہیا کرتا ہے تو دوسری طرف اس سے بجلی بھی بنائی جاتی ہے۔ اور اِسی طرح اس کا آدھا سفر ایک سمندر میں مدغم ہونے پہ مکمل ہو جاتا ہے جبکہ سورج کی تپش اسے مشتعل کرتی ہے اور پھر یہ بھاپ بن کر ہوا کے بازوں پہ بلند و بالا پہاڑوں کا سفر کرتا ہے اور پہاڑوں کی ننگی چوٹیوں کو سفید مخمل غلاف (برف) سے ڈھانپ دیتا ہے۔ مگر ایک بار پھر اچانک دھوپ کی تپش اِسے تھپکی دیتی ہے اور یہ پھر رخت سفر باندھ لیتا ہے اور ہواؤں کے دوش پہ سوار میدانوں کا رُخ کرتا ہے اور خطہ ء زمین پہ رحمت بن کے برستا ہے اور بنجر زمین اس کے دم سے سونا اُگلنے لگتی ہے۔
قدرت نے پانی کی فطرت میں بہنا لکھا ہے اگر اِسے بہنے کا موقع نہ ملے تو تالاب اور جوہڑ کی شکل میں رک جاتا ہے اور یہیں اِس میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے جو زندگی کو فنا کا درس دیتی ہے۔ اور اگر اِس کے بہاو ء میں حدیں نہ رہیں تو اپنی لامحدود طاقت و طغیانی کے باعث سیلاب کی شکل میں میدانوں میں دندناتا پھرتا ہے اور کسی سرکش حیوان کی طرح ایک بار پھر زندگی کو فنا کی طرف بہا لے جاتا ہے جبکہ حدوں میں بہتے ہوئے زندگی کو بقا دیتا ہے مگر حدوں کو توڑنے میں اور رُکنے میں فنا سے روشناس کرواتا ہے۔ اس کا یہ سفر ازل سے اِس کی گتھی میں لکھ دیا گیا ہے اور یہ اپنے سفر میں رواں دواں ہے (Automatic)۔ قدرت نے انسان کے اندر اور باہر پانی کا انتہائی اعلیٰ تناسب رکھا ہے جبکہ زمین تین حصے پانی اور ایک حصہ خشکی سے مرکب ہے اور یہ خشکی کا خطہ پانی کی سطح پر تیرتا پھرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی جگہ بدلتا ہے، اگر دُنیا کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اندازہ ہو گا جہاں پہلے کبھی سمندر تھے وہاں خشکی کا بسیرا ہے اور جہاں پہلے خشکی کا خطہ تھا وہ اب سمندر کا مسکن ہے۔
رش پیماء (اور باراں پیماء) یا مقیاس المطر (Rain Gauge)، ایک آلہ (Instrument) ہے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر بارش ہوئی یہ لوہے کے سلنڈر اور شیشے کی ایک بوتل پر مشتمل ہوتا ہے۔ بوتل کے اوپر ایک قیف رکھی جاتی ہے۔ جس کا نچلا سرا بوتل کے اندر جاتا ہے اس سلنڈر کو کسی کھلے میدان میں سطح زمین سے تقریباً ایک فٹ اونچا رکھا جاتا ہے تاکہ بارش کے چھینٹے اس میں نہ پڑیں۔ یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کا پانی کسی صورت ضائع نہ ہو۔ بارش کا پانی قیف کے ذریعے بوتل میں جمع ہو جاتا ہے۔ یہ جمع شدہ پانی ایک درجہ دار سلنڈر میں ڈال کر ناپ لیا جاتا ہے۔ درجہ دار سلنڈر اور قیف کے منھ میں ایک تناسب ہوتا ہے اگر درجہ دار سلنڈر میں پانی دس انچ تک آئے تو کل بارش ایک انچ ہوگی۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر بارش کا پانی نہ بخارات بنے ، نہ زمین میں جذب ہو اور نہ کسی طرف بہ جائے بلکہ ایک جگہ کھڑا رہے تو اس کی گہرائی ایک انچ ہوگی۔ اس درجہ دار سلنڈر کے ذریعے 1/100 انچ تک بارش ناپی جا سکتی ہے اس قسم کے مقیاس المطر ہر تعلقہ یا تحصیل میں نصب ہوتے ہیں اور ان سے مقامی بارش کا اندازہ کیا جاتا ہے۔
آج سائنس کی تحقیق یہ بتلا رہی ہے کہ تمام ا الکٹرانک آلا ت استعمال ہو تے ہے اور مثبت چا رج (+ve ion ) خا ر ج کر تے ہیں جو کہ صحت کہ لئے انتہائی نقصان دہ ہے ۔ہما رے شب و روز تقریباً مکمل طور پر الیکٹرانک آلا ت سے مزین ہیں ۔زند گی کا کوئی کا کوئی کا م ان کے بغیر مکمل ہو تا نظر نہیں آتا اور اس مصنوعی زند گی کے دھارے کو ہم سمجھنے کی کو شش نہیں کر تے ۔لہذا معلوم یہ ہو نا چاہیئے کہ انسانی جسم ان سے کیسے چھنکا را حا صل کر سکتا ہے ۔ تحقیقات ت سے ثا بت ہو چکا ہے کہ مثبت چارج (+ve ion)جو کہ انسان کی صحت کیلئے مضر ہے۔ اور نا رمل(Neutral) حالت میں آنے کیلئے انسان کو منفی چارج (-ve ion) کی ضرورت ہو تی ہے جو کہ آبشار، بارش اور دریا ،سمندر کے کنارے ہی میسر ہو سکتا ہے ۔کیونکہ جب پانی ہو اسے ٹکراتا ہے تو اس کیمیائی عمل کے نتیجہ میں منفی چارج (-ve ion) حاصل ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید اور مثبت چارج کا سدباب بھی ہے ۔بارش کے باعث مفت کی حاصل ہونے والی صحت اور تازگی پہ قدرت کے اس انمول تحفے کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ گرمیوں میں باش میں نہا نے اور آم کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔
کیچڑ کی سیاست
اب بات کرتے ہیں کیچڑ کی سیاست کی ، بقول راشد علی منظر کچھ یوں ہے کہ قطرہ قطرہ سمندر کا اصل مظاہرہ دیکھنے کیلئے آپ کو مون سون کی بارشوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے جب بارش ہوتی ہے تو چھوٹی چھوٹی نالیوں میں طغیانی آ جاتی ہے اور وہ ندی نالوں کی شکل اختیار کر لتیں ہیں ان کے ملاپ سے سڑکیں دریاؤں کی گزر گاہوں میں تبدیل ہو جاتیں ہیں اور ان دریاؤں کے ملنے سے شہر ایک بحر بیکراں کا روپ دھار لیتا ہے اور اس کے بعد پانی پانی ہر جگہ پانی کا منظر ہوتا ہے ویسے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اتنا پانی ہونے کے باوجود ہمارے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر جھگڑا کیوں رہتا ہے؟
ہمارے ہاں ایک گھنٹہ بارش ہو جا ئے تو ایک ماہ تک اس کے آثار رہتے ہیں اگر آپ سیاح ہیں یا کافی عرصہ بعد بیرون ملک سے پاکستان تشریف لائے ہیں آپ کو ہر گھر کے سامنے ایک تالاب نظر آئے اور ہر تالاب میں درجن درجن بھر بچے کھیلتے نظر آئیں تو آپ بڑے فخر اور یقین کے ساتھ یہ بیان دے سکتے ہیں مگر ٹھہریے! کہیں ایسا نہ ہو کے آپ کی ذہانت حکمت اور فلسفہ دھرے کا دھرا رہ جائے یہ بیان دینے سے قبل اس بات کا اطمینان کر لیں کہیں واسا (WASA)تو اس شہر پر مہربان نہیں ہے۔ بارش سے قبل ہمارے گلی کوچوں میں مٹی ، دھول بن کر اڑتی ہے اور بارش کے بعد مٹی اور پانی کا آمیزہ جیسے بعض لوگ کیچڑ اور باز لوگ چکڑ کہتے ہیں اڑتا ہے بڑے بوڑھے اور خاص طور پر نمازی حضرات اس آمیزے سے اپنے کپڑوں کو بچانے کی ناکام کوشش کرکے اپنے آپ کو پرہیزگار اور معزز ثابت کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر بارش کے بعد باہر چہل قدمی کرنے کی صورت میں نقصان کی تمام تر ذمہ داری آپ پر عائد ہو گی یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے پاوں وفا نہ کریں اور آپ کینوس بننے کی بجائے پینٹ میں سے لتھڑے ہوئے برش کیطرح کیچڑ سے برآمد ہو اور اگر ابھی تک آپ کے ہاتھ پاوں سلامت ہو تو لوگوں سے مدد امید نہ رکھے اور لوگوں کو ہنسنے کا زیادہ موقع نہ دے اور سیدھا گھر کا رستہ لیں۔ بارش کے بعد کیچڑ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے مثلاً احمد فراز کا یہ شعر بارش کے بعد کے حالات کی عکاسی کرتا ہے
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن سے رستے بنا لیے
دیہاتوں ،قصبوں اور کچی بستیوں میں یہ مناظر عام نظر آتے ہیں مگر لوگ اسی صورت میں رستہ بناتے ہیں اگر آپ دیوار تعمیر نہیں کرتے ا ور دیوار گرنے کی تمام ذمہ داری ہمسایوں پر عائد کی جاتی ہے جیسا کہ انڈیا یا افغانستان میں غبارہ بھی پھٹ جائے تو ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جاتی ہے الزامات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں فلاں کے گھر سے پانی ہماری دیوار کی بنیادوں میں داخل ہوا فلاں نے گلی میں مٹی ڈلوائی ہوئی ہے جس کی وجہ پانی جمع ہو کر ہماری دیوار کی بنیادوں میں داخل ہوا اور دیوار زمیں بوس ہو گی ء حیرت کی بات ہے کہ اس معاملے میں معمار حضرات کے فن تعمیر پر کوئی روشنی نہیں ڈالی جاتی اور یوں خواتین کے درمیان لڑاتی کی ابتدا مندرجہ بالا الزامات سے ہوتی ہے مگر فریقین پانی ،بنیادوں اور زمین بوس دیوار کو بھول کر ایک دوسرے کے شجرہ نصب تک پہنچ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی سوانح عمری کے اہم واقعات پر روشنی ڈالنا شروع کر دیتی ہیں دیکھتے ہی دیکھتے گلیوں چھتوں،ادھ کھلے دروازوں اور کھڑکیوں سے بچے اور خواتین نظر آرہی ہوتی ہیں جو حسین موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں گھروں کے بارے میں اپنی معلومات خاصہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہیں یہ لڑائیاں زیادہ تر زبانی کلامی ہوتی ہیں اور مخالفین فاصلے پر ہونے کے باعث ہاتھا پائی سے گریز کرتے ہیں ۔
بارش شروع ہوتے ہی کچھ گھروں کو ریڈ زون قرار دے دیا جاتا ہے اور ان گھروں کے سربراہ ایمرجنسی کا اعلان کر دیتے ہیں مرد حضرات چھتوں کے اوپر مٹی سے بھرے تھال اور خواتین گھر کے برتن اٹھائے کمروں کے اندر اپنی پوزیشن سنبھال لیتیں ہیں پھر اس طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں کپڑوں کے صندوق کے اوپر چھت ٹپک رہی ہے، مسہری پر پانی گر رہا ہے،بستر بھیگ رہے ہیں،الغرض تھالوں کی مٹی اور گھر کے برتن ختم ہو جاتے ہیں مگر چھت کے سوراخ ختم نہیں ہوتے۔فرض کریں اگر بارش میں پانی کی بجا ئے معدنی تیل برستا تو امریکہ والے دنیا کے تمام بادلوں پر قبضہ کرنے پہ تلے ہوتے اور صورت حال کچھ اسطرح سے ہوتی کہ زمین کے ساتھ ساتھ آسمانوں میں بھی اک نئی جنگ جاری ہوتی جس میں دہشت گردوں کی روحوں کی تلاش کے تناظر میں تمام اسلامی ممالک کے بادلوں پہ غلبہ کی کوشش کی جاتی ۔
یہاں اگر بات عاشقوں کی نہ کی جائے تو ظلم ہو گا کیونکہ بارش اور عاشقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بقول شاعر
کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
لذت وصل حاصل ہونے کے بعد کس نامراد کا دل چاہتا ہے کہ فراق کی تکلیف جھیلیں؟ البتہ اگر ناکامی پہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ جائے تو بارش کا منظر کچھ یوں ہوگا؛
اگر کبھی برسات کا مزہ چاہو، تو آو ان آنکھوں میں آ بیٹھو
وہ برسوں میں کبھی برسے ہیں، یہ برسوں سے برستی ہیں
ویسے پرانے وقتوں میں بقول شاعر تنہائی کا مزہ یادوں کے سہارے اور وہ بھی برسات کے ساتھ ؛
اک شام کی تنہائی ہے اور یہ برسات ہے
ایسے میں تیری یاد ہے اور یہ برسات ہے
مگر اب موبائل کا دور ہے صرف اک مس کال کے فاصلے پہ محبوب کھڑا ہے۔البتہ اگر بیلنس کی کمی ہے تو بارش کا مزا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر کوئی مس کال مل جائے تو کیچڑ مت اچھالیے گا کیونکہ اگر بات بگڑ گئی تو برسات کا مزہ بھی جاتا رہے گا اور تنہائی بھی کا ٹنے کو دوڑے گی!!!


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers