Category Archives: عقائد

لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


اکیس دسمبر 2012 ، کیا زمین پرزندگی آپنی آخری سانسیں لے رہی ہوگی ؟ حصہ دوم

اکیس دسمبر 2012 ، کیا زمین پرزندگی

آپنی آخری سانسیں لے رہی ہوگی؟

قرآن مجید میں ارشاد بار ی تعالیٰ ہے ؛
“لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو “(33:63)

حصہ دوم
تحریر وتحقیق: محمد الطاف گوہر
اکیس دسمبر 2012 کے بعد دنیا کے خاتمہ سے متعلق جو پیشگوئیاں مایا قوم کے کیلنڈر سے منسوب ہیں انکے باعث لوگوں میں ایک اضطراب اور پریشانی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے،جبکہ اسی موضوع پر بننے والی فلم کی دنیا بھر کے سینما گھروں میں نمائش نے جلتی پر تیلی کا کام دیا ہے ، حالانکہ اس فلم نے ریکارڈ بزنس کیا ہے مگر باشعور طبقے پیش بینی کے مرحلہ سے گزرتے ہوئے ایک تشویشناک صورت حال میں مبتلا ہیں اور ان تمام عوامل کی جانکاری چاہتے ہیں جو زمین کی تباہی و بربای کے محرک ہیں ۔
چند ایک حقائق میری گذشتہ تحریر میں شامل ہیں البتہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس دنیا کی منطقی تباہی کے نظریہ کے ماخذ کیا ہیں؟ امریکہ کے شمالی وجنوبی علاقہ کے درمیان بسنے والی مایا قوم جو کہ ستاروں کے علم اور وقت کا حساب کتاب رکھنے میں انتہائی ماہر ہیں ، انہوں نے دنیا میں زندگی کا وجود سات ادوار میں تقسیم کیا ہے اور مختلف کیلنڈر ترتیب دئیے ہیں جبکہ اکیس دسمبر 2012کو انکا پانچواں کیلنڈر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور حیرت انگیز بات یہ کے کہ اس سے آگے کیا ہونا ہے اسکے بارے میں سکوت کے علاوہ کوئی تفصیلات نہیں حالانکہ انکے تمام گذشتہ کیلنڈر اپنے اختتام پر تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ۔ اسی طرح یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ اس قوم کی پیشن گوئیاں حرف بحرف ثابت ہوئیں ۔
ایک مفرو ضہ جواجرام فلکی اور ہیت دانوں کے ماہرین کے نظریات کا پیش خیمہ ہے؛ اسکے مطابق ہرسال اکیس دسمبر کا سورج خط استوا سے دور ترین ہوتا ہے، جبکہ اسکے جنوب بعیدترین ہونے سے قطع نظر ، ایک خیال یہ کیا جاتا ہے کہ زمین اور ملکی و ے یعنی کہکشاں کے مراکز ایک ہی قطار میں ہونگے جسکے باعث زمین پر ناگہانی تباہی ہو سکتی ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہی زمین پر زندگی کو بربادی سے ہمکنار کردے۔
اسی طرح ایک سائنسی مفروضہ یہ بھی ہے کہ قطب جنوبی اور قطب شمالی جب اپنے پول شفٹینگ(تبدیلی قطب) کے مرحلے سے گزریں گے تو زمین اپنا مقناطیسی میدان کھودے گی جسکے باعث زمین پر وسیع و عریض زلزلے نمودار ہونگے اسی کے ساتھ ساتھ آتش فشاں پہاڑ اپنا لاوا زمین پر انڈیل دیں گے جبکہ سمندروں میں مدوجزر اٹھیں گے جو طوفانی سیلاب کی شکل اختیا ر کر لیں گے اور یوں زمین پر حجیم و ضعیم پیمانے پر تباہی اور بربادی کا آغاز ہو جائے گاجو آگے چل کر زمین پر زندگی کو نیست و نابود کردے گا۔
اسی طرح مقناطیسی میدان کی کمی کے باعث زمین ہمیں شمسی اور کائناتی تابکاری کے اثرات سے محفوظ نہ رکھ سکے گی جوکہ ایٹمی توانائی کے مراکز کو بری طرح متاثر کرتے ہوئے پاش پاش کردے گی جبکہ بلند و بالا آسمانوں سے باتیں کرتی عمارات کے پرخچے اڑ جائیں گے ، اور آسمان آتش فشانی پہاڑوں سے امڈتے جولامکھی کے بادلوں سے اٹ جائیں گے ، یہ سب کچھ زندگی کی زمین کی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
ایک نظریہ کے مطابق سال 2012 کو زمین کے پرت کا ایک عظیم شگاف جس میں پگھلتی ہوئی چٹانیں آتش فشانی مادہ سے لبریز ہیں ، اسکا 74,000 واں سائکل مکمل ہوتا ہے اسی اثناءمیں زیر زمین قہر پر نقطہ عروج کو پہنچ جاتا ہے جو بربادی کا سامان بن جاتاہے۔اسی طرح او ر بہت سے نظریات موجود ہیں جو دنیا کے زمین پر خاتمے کی وکالت کرتے ہیں جیساکہ عالمگیرحدت ،قوی وشدید موسمی تبدیلیاں،بحری زلزلہ سے ابھرنے والی مہیب سمندری لہر(سونامی)،جنگ و جدل ،تیسری عالمی جنگ اور ایٹمی تباہی وہ سب عوامل ہیں جو کہ کسی بھی طرح زمین پرزندگی کے وجود کے دشمن اور بربادی کا باعث بن سکتے ہیں۔انہی عوامل اور محرکات میں نوسٹرا ڈیمس کی پیشن گوئیاں بھی شامل ہیں جو انہی اوقات میں زمین پر زندگی کو درپیش تباہی و بربادی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
یہ بات تو طے ہے کہ فنا اور بقاکاچولی دامن کا ساتھ ہے، زندگی کی ڈگر پر چلتے چلتے افراد آخر تھک ہار جاتے ہیں تو انکی آنکھوں میں چھپا ہوا انتظاراور یاسیت کا عالم، کچھ یوں لگتا ہے کہ جیسے زندگی یہاں سے سسکتی ہوئی گزر رہی ہے۔مکمل سکوت اور ہو کا عالم ہے، جیسے پت جھڑ کے موسم میں کچھ باقی ماندہ پتے ہلکی سی ہوا چلے تو اپنا دامن شاخوں میں چھپا لیتے ہیں ہو سکتا ہے کہ پھر سے بہار آجائے اور وہ ہرے بھرے ہو جائیں ، مگر یہ سردوخشک ہوا بھی کتنی طالم ہے کہ پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتی اور اپنی لپیٹ میں سب کچھ اڑا لیجاتی ہے۔
ان نیم واوں آنکھوں میں کونسا انتظار چھپا ہے؟ زندگی کتنے رنگ و زاویے بدلتی ہے، کبھی مثلث بناتی ہے تو کبھی دائرہ مگر انجام سے بے خبر نہیں اور اپنی انتہا کو ضرور چھوتی ہے، جبکہ ہراک ابتدا کا ایک انجام مقدر ہے جو ٹل نہیں سکتا۔ اگر یہ زندگی مثلث میں سفر کرتی ہے تو اک اٹھان سے شناسا ہوتی ہے اور عروج کا مقام دیکھتی ہے مگر اچانک اسے ڈھلان کا احساس ہوتا ہے اور آخر زوال سے ناطہ جوڑ لیتی ہے۔ اور جب کبھی دائرہ میں سفر کرتی ہے تو پھر ہر لحظہ کروٹیں بدلتی ہے اور وہی سفر دوہراتی ہے اور آخر زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ہر بہار پت جھڑ کوچھوتی ہے اور اپنا انجام خزاں میں دیکھتی ہے یہ صرف اور صرف قدرت کا نظام ہے جو ازل سے رواں دواں اور فنا و بقا کا تسلسل ہے۔
شجر پہ آخر ی لٹکتا پتہ بھی اس امید میں ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بہار آجائے اور وہ پھر سے ہرا بھرا ہو جاوں ، مگر فنا اسے اپنی اٹل حقیقت سے روشناس کرواتی ہے جو کہ اسکی اصل منزل اور انجام ہے۔ کیا فنا اتنی ظالم ہے کہ اسکا ہر درس تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں؟ ایسا نہیں ہے! بلکہ حقیقت شناس زاویہ تو ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ ہر فنا اک نئی بقا کا نقطہ آغاز ہے ۔ ایک ایسا لاثانی آغاز کہ جیسے ہر نئے روزکا چڑہتا ہوا سورج اک نئے دن کی نوید سناتا ہے اور گزشتہ رات کی فنا کا شاندار نظارہ پیش کرتا ہے۔ مگر اکثر ہم اس گزشتہ رات کے دامن میں لپٹی ہو ئی نئی صبح کی صدا سننے سے قاصر رہتے ہیں اور رات کی گمنامی میں گم ہو جاتے ہیں۔
ایک نوید سحر ، اک نئی کونپل آخر کس طرح ممکن ہے؟ اگر زندگی اپنا سفر جاری نہ رکھے تو کچھ بھی ممکن نہیں۔اگر اک نئی صبح کی آمد آمد ہے تو اک رات بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی۔ ہررات اک نئی صبح دیکھتی ہے اور ہر اندھیرا روشنی کا منہ چومتا ہے ۔ ہر لمحہ اک نئی کروٹ بدلتا ہے کیونکہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اور ہم ہر لمحہ اک نئی جگہ پہ دریافت ہوتے ہیں۔ہر ماضی اک نئے حال سے روشناس ہوتا اور ہر حال ایک مستقبل کا ادراک کرتا ہے ، ہر بقا اپنی فنا دیکھتی ہے اور ہر فنا کے دامن سے اک بقا کا نمو ہوتا ہے ، یہی قانون قدرت ہے اور اسی کا نمو انسان کی حیات بعداز مرگ کی پیش بینی ہے۔کیونکہ اسلام میں قیامت کا تصور پایا جاتا ہے جسکے مطابق دنیا مکافات عمل ہے اور آج جو بویا جائے گا کل اسی کو کاٹنا ہے، مگر یہ معاملہ زندگی کے مکمل خاتمہ پر ہو گا یعنی حیات بعد از مرگ۔
اکیس دسمبر 2012 کو دنیا کے خاتمے کے اس نئے مفروضے کے مطابق زمین پر تباہی اور بربادی کا منطقی انجام قیامت پر نہیں ہوگا بلکہ وقت اپنے آپ کو روک کر نئے سرے سے مرتب Reset کرے گا ناکہ زندگی کا خاتمہ ہو گا اور افراد اپنی تدبیر سے اپنے وجود کو قائم رکھیں گے اور موت تدبیر کے ہاتھوں شکست کھا ئے گی جبکہ زندگی کا وجود برقرار رہے گا جو کہ کسی ایک سلسلہ کی کڑی ہو گی۔اسی طرح اس نظرئیے کو بھی پانی ملتا ہے کہ جنکی نظر میں صرف آج ہی آج ہے کل کا کوئی وجود نہیں ، آج کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کسی بھی مدھر مستی کو موج میں زندگی کو عیاشی کی راہوں پر ڈالنے والے تو کبھی بھی قیامت کے وجود کا تصور قائم نہیں کر سکتے۔ زندگی کو کسی گمنام تنگ گلی میں موج مستی کی نظر کرنے والے اس خرام خوابی میں ہیں کہ زندگی کو دوام ہے اور آج کو کل نہیں جبکہ یہ صرف اور صرف التباس الحواسی اور خام خیالی ہے جسکی کوئی حیثیت نہیں۔
ہم قرآن کریم سے ماضی کے تاریخی نوعیت کے واقعات ، تخلیق کائنات اور مظاہر قدرت کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کر سکتے ہیں ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے بارے میں بہت واضع اورنشانیاں بیان کی ہیں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ میں بھی قیامت کے بارے میں نشانیاں بتائی گئی ہیں ۔ جبکہ قرآن مجید میں ارشاد بار ی تعالیٰ ہے ؛
“لوگ تم سے قیامت کی نسبت دریافت کرتے ہیں (کہ کب آئے گی) کہہ دو کہ اس کا علم خدا ہی کو ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم ہے شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو “(33:63)
قیامت کب آئے گی اس کا علم کسی کو نہیں لیکن قرب قیامت کے سلسلے میں کچھ علامتیں ضرور بتا دی گئی ہیں جس سے اسکے ظہور کے بارے میں کچھ اندازہ لگایا جا ستکا ہے۔ اسی طرح بتایا گیا ہے کہ جب دنیا میں خدا سے سرکشی اور بغاوت بڑھ جائے گی ، زناکاری عام ہوجائے گی ، لونڈیاں آقاوں کو جنم دیں گی، بدکردار حاکم بن بٰٹھیں گے، عورتیں ایسا لباس پہننے لگیں گی جس سے جسم ننگا معلوم ہوگا، بے حیائی و فحاشی بڑھ جائے گی غرضیکہ آیات الٰہی کو جھٹلانے کے نتیجہ میں تمام اخلاقی بندھن ٹوٹنے لگیں گے تو یہ قرب قیامت کی علامت ہوگی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب زمین میں کوئی نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا باقی نہیں رہے گا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا چھوڑ دیا جائے گا تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے آخری حجت قائم کرے گا۔ وہ جانور کہے گا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر یقین نہیں کرتے تھے جن میں قیامت کے آنے کا اور آخرت برپا ہونے کی خبر دی گئی تھےں تو اب اس کا وقت آن پہنچا ہے اور جان لو کہ اللہ کی آیات سچی تھیں۔ اس جانور کے نکلنے کا وقت کون سا ہوگا اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور ایک روز دن دہاڑے یہ جانور نکل آئے گا (مسلم)“۔
ایک حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں تشریف لائے اور لوگ آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہورہی ہے؟
لوگوں نے عرض کیا ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ فرمایا وہ ہرگز قائم نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نشانیاں بتائیں (۱)دھواں (۲)دجّال (۳)دابةالارض (۴)سورج کا مغرب سے طلوع (۵)عیسیٰ ابن مریم کا نزول (۶)یاجوج و ماجوج (۷)تین بڑے خسف زمین کا دھنس جانا ایک مشرق میں (۸)دوسرا مغرب میں (۹)تیسرا جزیرة العرب میں (۱۰) سب سے آخر میں ایک زبردست آگ جو یمن سے اٹھے گی اور لوگوں کو ہانکتی ہوئی محشر کی طرف لے جائے گی۔
ایک دوسری حدیث میں مجمع بن جاریہ انصاری کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ابن مریم دجال کو لد کے دروازے پر قتل کریں گے۔ ایک اور حدیث میں ہے سمرہ بن جندب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ”پھر صبح کے وقت مسلمانوں کے درمیان عیسیٰ ابن مریم آجائیں گے اور اللہ دجال اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا یہاں تک کہ دیواریں اور درختوں کی جڑیں پکار اٹھے گی کہ اے مومن ! یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اور اسے قتل کر۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کو ہلاک کرنے کے بعد حضرت مسیح زمین میں چالیس سال ٹھہریں گے۔
قیامت کی نشانیاں قرآن واحادیث مبارکہ میںواضع موجودہیںالبتہ اس کے بارے میں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی ، اور یہ نظریہ جو کہ اکیس دسمبر 2012 سے متعلق ہے ، تمام قیاس آرائیاں لوگوں میں بے چینی پیدا کرکے کسی معاشی یا سیاسی فائدہ کا پیش خیمہ ہیں یا پھر صرف فقط ایک نظریاتی قیاس ہو سکتا ہے ۔البتہ قیامت کا ظہورکب ہونا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ءکسی کومعلوم نہیں جبکہ احادیث مبارکہ میں اسکی جو نشانیاں بتلائی گئی ہیں انکاپورا ہونا بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔
ایک طرف توسلسلہ یہ ہے کہ انسانی زندگی اجتماعی طور پر اپنے انجام کیطرف گامزن ہے تو دوسری طرف انفرادی طور بھی دیکھا جائے تو ہر نفس اپنے انجام کیطرف بڑھ رہا ہے ؛ اور آخرت کو بھول کر اگر ہم زندگی کی ظاہری بھول بھلیوں میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ؛ بقول میاں محمدبخشؒ
شام پیئی بن شام محمد              تے گھر جاندی نے ڈرنا
خیر اندیش؛
محمدالطاف گوہر۔ لاہور
FeedBack
mrgohar@yahoo.com


مراقبہ اور لذت آشنائی

مراقبہ اور لذت آشنائی

عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے
مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے

وَفِي أَنْفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (51:21)
اور خود تمہارے نفوس میں تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ (51:21)
As also in your own selves: Will ye not then see?‎ (51:21)

Muhammad Altaf Gohar

محمدالطاف گوہر

آج کوانٹم نظریات اور مائنڈ سائنس کے دور میں تجربات سے یہ اخذ کر لیا گیا ہے کہ یہ زندگی توانائی کے تسلسل سے بہاو کا نتیجہ ہے جبکہ انسانی توجہ کے ساتھ اسکا گہرا تعلق ہے۔

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے ، مراقبہ اپنے ذہن کی نفی کا نام ہے کہ
جب انسان اپنے ذہن اور علم کی نفی کرتا ہے، لا-کہتا ہے تو اسکی توجہ اپنی میں ,خودی سے ہمکنار ہوتی ہے؛ جبکہ میں اور شعوریت کے احساس کی نفی پر اسکی توجہ اپنے معبود کیطرف جاتی ہے اسطرح اپنی ذات سے آگاہی اور رب کی پہچان کیطرف گامزن ہوتی ہے۔آج کوانٹم نظریات اور مائنڈ سائنس کے دور میں تجربات سے یہ اخذ کر لیا گیا ہے کہ یہ زندگی توانائی کے تسلسل سے بہاو کا نتیجہ ہے جبکہ انسانی توجہ کے ساتھ اسکا گہرا تعلق ہے۔
مراقبہ ، جس کی انگریزی عام طور پر meditation کی جاتی ہے اور اگر اسی متبادل کو ہم پلہ برائے لفظِ مروجہ عربی ، فارسی اور اردو تسلیم کر لیا جائے تو پھر مراقبہ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ ؛ مراقبہ ایک ایسی عقلی تادیب (discipline) کا نام ہے کہ جس میں کوئی شخصیت ماحول کے روابطِ حیات سے ماوراء ہو کر افکارِ عمیق کی حالت میں چلی جائے اور اندیشہ ہائے دوئی سے الگ ہوکر سکون و فہم (awareness) کی جستجو کرے۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فکرِ آلودہ سے دور ہوکر فکرِ خالص کا حصول مراقبہ کہلاتا ہے۔
اصطلاح میں مراقبہ، عربی لفظ رقب کی اصل الکلمہ سے مشتق لفظ ہے جس کے معنی بنیادی طور پر دیکھنے، توجہ دینے وغیرہ کے آتے ہیں اور اسی سے اردو میں راقب اور رقیب کے الفاظ بھی ماخوذ کیۓ جاتے ہیں۔ مراقبہ کا لفظ اس اصل الکلمہ کے اعتبار سے اپنے ذہن کی گہرائیوں میں دیکھنے یا اپنی عقل کو دیکھنے کے قابل بنانے کے تصور میں لیا جاسکتا ہے۔
وضاحت
مراقبہ انسان کا اپنی حقیقی خودی ( Self-[میں]-ذات) کی طرف ایک گہرا سفر ہے جس میں ایک انسان اپنے اندر (باطن) میں اپنا اصلی گھر تلاش کر لیتا ہے آپ چاہے کسی بھی رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ ۔ کسی بھی مذہب اور روحانی سلسلہ سے منسلک ہوں مراقبہ سب کے لئے ایک جیسا عمل ہے مراقبہ آپکی توجہ ،آپکے باطن کی طرف لے جانے کا موجب بنتا ہے آپ کا ذہن اس طرح سے سکون پہ مقیم ہو جاتا ہے اس طرح آپکی توجہ بھٹکے ہو ئے شعور کی حدود سے نکل کر حقیقی مرکز سے مربوط ہو جاتی ہے ۔مراقبہ ذہن کی وہ طاقت ہے جو اسکو نورانی پہلو کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ باندھ دیتی ہے اس پہلو سے ذہن زندگی کا اعلی مقصد آشکار ہوتا ہے مراقبہ کو آپ ” نورانی علم ” سے تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ یہ نور کے چشمہ سے کام کرتا ہے ۔حقیقی مراقبہ کا راز صرف ذہنی تصور کے ساتھ منسلک ہے جو اسکی ابتدائی اور انتہائی سطحوں پر کام کر تا ہے ۔ مراقبہ علم کی وہ قسم ہے جو آپکی شخصیت ،روح اور ذات کو آپس میں یکجا کر دے اور سب کو ایک نقطہ سے مربوط کر کے کثرت و دوئی سے آزادی کا احساس پیدا کر دے ۔ مراقبہ ایک علمی تجربہ ہے جو ذہنی کشمکش سے خالی پن اور ظاہر ی زندگی کے مستقل نہ ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔مراقبہ ایک عملی نمونہ ہے زندگی کو قریب سے دیکھنے پر اسکے ظاہری نا پائداری کے احساس کا۔ مراقبہ کو آپ ایک ذہنی ورزش کا نام دے سکتے ہیں ۔جس کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں ۔جتنا زیادہ اس عمل کو کیا جائے اتنی زیادہ اس میں مہارت حاصل ہو گی ۔یہ اس طرح کا عمل ہے جیسے ایک باڈی بلڈر یا پہلوان جسمانی ورزش کے باعث مضبوط و خوبصورت بناتا ہے۔ مراقبہ کرنے کی عادت سے باطنی اعضاء کی ورزش ہوتی ہے اور وہ قابل استعمال ہو جاتے ہیں۔
مراقبہ کا عمل اور تاریخ انسانی
اس زمین پر ظہور انسانی سے ہر دور کے لوگوں کا چند ایک سوالات سے واسطہ پڑتا رہا ہے جیسا کہ اس کائنات کا بنانے والا کون ہے ۔؟زمین پر زندگی کا آغاز کسیے ہوا ۔؟ زندگی کا مقصد کیا ہے ۔؟ہم کیوں پیدا ہوئے اور کیوں مر جاتے ہیں۔؟آیا ان سب معا ملات کے پس پردہ کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی ہے یا پھر سارا عمل خود بخود ہو رہا ہے ۔ہر دور کے لوگوں میں کائنات کے خالق کو جاننے کا جوش خروش پایا جاتا ہے (یہاں ایک اصول واضح کرتا چلو کہ اگر کوئی شخص کسی مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مختلف زاویوں سے جانچے ۔ یعنی تمام امکانات کا جائزہ لے) ا کثر اوقات دیانتداری سے مسئلہ کو حل کرنے کی کاوش خودبخود ہی مسئلہ کو آسان بنا دیتی ہے ۔لہذا انہی خطوط پر چلتے ہوئے لوگوں میں معاملات زندگی کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے ۔یہ جاننے کیلئے کہ اس کائنات کا خالق کو ن ہے ۔لوگوں نے اس کائنات (آفاق)کی تخلق سے متعلق تخلیق کرنا شروع کر دی۔ کائنات کے راز کو جاننے کیلئے مختلف روش اختیار کی گیں.
لوگوں کے ایک گروہ نے بجائے اس کے کہ زندگی کی حقانیت کو آفاق میں تلاش کیا جائے خود انہوں نے ایک دوسری روش اختیار کی۔ ان لوگوں کی سوچ تھی کہ ا گراس ظاہری کائنات کا کوئی خا لق ہے تو انکے وجود (جسم )کا بھی کوئی خالق ہو گا ؟ لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے ۔ اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د ( نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی۔ اس طرح انہوں نے آفاق سے ہٹ کہ مطالعہ نفس میں دلچسپی لی اور اپنی ذات پہ تجربات کا ایک سلسلہ شروع کیا تا کہ اپنے اندر کے رازِ حقیقت کو سمجھا جائے اس طرح سے علم نورانی مذاہب کے سلسلے نے وجود پکڑا یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ تمام تجربات انسان کے اپنے (Software ) یعنی ذہن (MIND (پہ کئے گئے نہ کہ جسم پہ)۔
لہذا اس سوچ سے وہ بھی اس تخلیق کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہیں ، انہوں نے اپنی تو جہ کائنات کے ظاہری وجود سے ہٹا کر اپنے وجو د (نفس) کے اسرار کی کھوج میں لگا دی اب ان لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جنہوں نے نفس کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا اور اپنے جسم و ذات پر یہ تحقیق شروع کر دی اور انہوں نے اپنی توجہ اپنے ا ند ر مرکوز کر دی جسکے نتیجہ میں نفوذ کرنے کے بہت سے طریقہ کار دریافت کیے تا کہ ا پنے اندر کا سفر کرکے اس اکائی (جز)کو تلاش کیا جا سکے جو کے انکو اس کائناتی حقیقت سے مربوط کرتا ہے ۔اس کوشش نے علم نورانی (علم مراقبہ) کے عمل کو تقویت دی ۔تمام طریقہ کار جو کہ مختلف طرح سے مراقبہ کے عمل میں نظر آتے ہیں وجود پائے۔ جس کا عمل دخل کم و بیش ہر مذہب کی اساس معلوم ہوتا ہے۔ آ ج مراقبہ کے عمل میں جو جدت اور انواع و اقسام کے طریقہ کار نظر آتے ہیں انہی لوگوں کے مرہون منت ہے جنہوں نے اپنے نفس کو تحقیق کیلئے چنا۔ ان تحقیقات اور مراقبہ کی مختلف حالتوں میں لوگوں نے محسوس کیا کہ اس سارے نظام عالم وجود میں شعوری توانائی کا نفوذ اور منسلکہ رشتہ ہے ۔مراقبہ کی گہری حالتوں میں اب ہر فرد واحد کا واسطہ ایک ا ہم گہرا احساس دلانے وا لے وجود یعنی خودی ( میں،SELF)سے پڑا اور یہ اخذ کیا گیا کہ یہ جو سلسلہ کائنات میں توانائی کا عمل دخل نظر آتا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک اعلی حس آگاہی (Supreme Consciousness) ہے جس کا اس کائنات میں نفوذ ہے ۔ اب ان تحقیقات مراقبہ اور سائنس میں کبھی کبھی ہم آہنگی ہونے کے ممکنات موجو د ہیں ۔ اس فطرت کی ہر شے کچھ نہیں سوائے ایک مطلق حس آگاہی کے ۔یہ ایک اعلی مطلق خبر آگاہی جسکا ہر طرف نفوذ ہے۔ (یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ اس درجہ کے احساس خود شناسی پہ وحدت الوجود کا مغالطہ نہ ہو، اگلی کسی تحریر میں اس فلسفہ بھی بیان کردوں گا ) ۔ مراقبہ ایک عمل ہے جو اپنی گہری حالتوں میں کسی بھی شخص کیلئے وجود حقیقی سے روابط کا ذریعہ بنتا ہے.
علم نورانی (مراقبہ)
مدتوں سے لوگ مراقبہ کو ایک انتہائی پرا سرار اور مشکل موضوع سمجھتے رہے ہیں ہمیشہ بڑے بوڑھے اور فار غ لوگوں کو اس کا حقدار سمجھا جاتا رہا ہے۔مراقبہ پر پوری دنیا میں سائنسی طریقہ کار کے تحت تجربات کر کے اخذ کر لیا ہے کہ اس عمل سے انسانی ذہن اور جسم پر انتہائی اعلی مثبت اثرات مرتب ہو تے ہیں جس میں تعلیم و عمر کی کوئی قید نہیں اب کوئی بوڑھا ہو یا جوان سب ہی مراقبہ کی کرنے مے دلچسپی رکھتے ہیں مزید برآں اب تو سکول و کالج میں مراقبہ کی تعلیم کو ایک لازمی مضمون کی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے کم و بیش پوری دنیا میں مراقبہ کی تربیتی کلاسز کا اجراء ہو چکا ہے اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر اور صحتی ادارے اپنے مریضوں کو روزانہ مراقبہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں مراقبہ جو کہ پہلے وقتوں میں صرف مذہب کا حصہ سمجھا جاتا تھا اب دنیاوی پیش قدمی کے علاوہ روز مرہ مسائل کے حل کے لئے بھی مرکزی حےثےت اختیار کر گیا ہے آج پوری دنیا میں ذہنی دباﺅ کو کم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لئے مراقبہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور اس کو آج کے وقت میں انتہائی میسر آلہ قرار دے دیا گیا ہے جوں جوں معاشرہ میں اسکی آگاہی بڑھتی جا رہی ہے نتیجہ میں انسانی بھائی چارہ اور عالمی اتحاد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جب زیادہ لوگ مراقبہ کی بدولت ذاتی شناسائی حاصل کرتے جائیں گے انکو کائنات کی سچائی اور اصلیت کا قرب حاصل ہو گا اور نتیجہ عالمی بھائی چارہ وجود میں آئے گا۔
عبادت اور مراقبہ میں فرق
عبادات میں اللہ سے بات کی جاتی ہے اور اپنا رابطہ ازل سے جوڑا جاتا ہے مگر مراقبہ میں اپنے باطن کی ا تھا ہ گہرائیوں میں جا کر اپنے اللہ کو سنا جاتا ہے اور کائنات کی حقیقت سے نا صرف سنا شا ہوا جاتا ہے بلکہ مشاہدہ ء قدرت بھی کیا جاتا ہے۔ مراقبہ کا نصب العین (مقصد)صرف اور صرف آپ کے جسم، جذبات ،اور ذہن کو یکجا کرنا ہے اور اس اعلی درجے کی یکسوئی کا مقصد صرف اپنے باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونا ہے یہیں سے کشف و وجدان کے دھارے پھوٹتے ہیں ۔ اسطرح ایک انسان کا رابطہ کائنات کی اصل سے جڑ جاتا ہے اور علم و عر فان کے چشمے پھو ٹ پڑ تے ہیں ۔ کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اور انسان پستی کے گرداب سے نکل کر ہستی کے نئے میدان میں آ جاتا ہے جہاں ہر طرف بہار ہی بہار ہے ۔بہار بھی ایسی کہ خزاں نہیں ہوتی اور سوچ انسانی آسمان کی بلندی کو چھوتی ہے اور لذت بھی ایسی
ع کہ جیسے روح ستاروں کے درمیاں گزرے
یہی زندگی کا موسم بہار ہے جسکے آ جانے کے بعد ہر طرف کامیابیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور انسانی سوچ کا سفر ایک نئی سمت گامزن ہو جاتا ہے۔ جسکے سامنے ایک وسیع و اریض میدان عمل ہے اور یہاں کی سلطنت میں صرف آج کی حکمرانی جبکہ گذشتہ کل کی کسی تلخی کا دکھ نہیں اور آنے والے کل کی خوشیوں کا دور دورہ ہے۔یہاں لذت و سرور کا وہ سماں ہے جو کہ دنیا کے کسی نشے میں نہیں ۔ اور خواب حقیقت کے روپ میں بدل جاتے ہیں جبکہ زندگی سوچوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں دھکے کھانے کے بجائے روشن اور وسیع میدانوں میں سفر کرتی ہے۔اب اسکا سفر کوئی سڑاند والا جوہڑ نہیں کہ جس میں وہ غوطے کھائے بلکہ ایک بحربیکراں جسکے سفینے صرف کامیابی ،خشحالی اور سکون کی منزل تک لے جاتے ہیں۔
نفس، میں (مثلاSelf, I, Ego) اور مراقبہ
درحقیقت آپ صرف ایک احساس خودی (Self) ہیں۔ اور یہ حس آگاہی ہے نہ کے آپکا ذہن، جسم یا پھر خیالات بلکہ اس مکمل شعوریت (خودآگاہی) ہیں جوکہ محسوس کرتی ہے۔ اور شاہد بنی ہوئی ہیں کہ آپ زندگی میں کیا رول ادا کر رہے ہیں۔ یہ احساس خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہراﺅ والا ،از سرنو زندگی بخشنے والا ہے۔ مراقبہ ایک خودی (Self )کو اپنے اندر جاننے کا عمل ہے۔ اس موقع پہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک فرد یہ کس طرح جان سکتا ہے کہ اس کے اندر خودی (Self ) موجود ہے جوان تمام واقعات و حالات کا مشاہدہ کر رہی ہے جو ہمارا ذہن یا جسم اس زندگی میں کر رہا ہے۔ یہ بات یہاں تک واضح ہوگئی کہ مراقبہ ایک ایسا عمل ہے۔ جو ہمیں اپنے اندر موجود خودی (Self) سے ملانے کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ خودی اپنی خاصیت کے اعتبار سے انتہائی پر سکون، ٹھہراﺅ والی اور از سرنو زندگی بخشنے والی ہے۔ لہٰذا ہم چاہیں گئے کہ مراقبہ کو سمجھنے کیلئے ہم سب سے پہلے اپنے اندر موجود خودی (Self) کو جانیں۔آپ اس خودی کو اور بھی نام دے سکتے ہیں۔ مثلاً، نفس، میں (مثلاSelf, I, Ego) وغیرہ آئیے اب ایک چھوٹا سا تجربہ کرتے ہیں جو انتہائی دلچسپی کا حامل ہے اور آپ کے لئے اس (میں ) سے شناسا ئی کا ذریعہ بنے گا۔
میں(Self) کا انسانی وجود سے تعلق
”آپ اپنی آنکھیں بند کر کے کوئی ایک لفظ، کسی کا نام یا اللہ کا نام 25 مرتبہ اپنے ذہن میں دہرائیں مگر گنتی دل ہی دل میں ہونی چاہیے مگر گنتی کرتے ہوئے ذہن میں کوئی اور خیال نہیں آنا چائیے اور اگر گنتی میں کوئی غلطی ہو تو دوبارہ سے گنتی شروع کردیئے۔ مگر گنتی ذہن میں ہی رہے ناکہ ہاتھوں یا انگلیوں پہ“ اس تجربہ کے کرنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ25 مرتبہ ایک لفظ اپنے ذہن میں گنتے رہے ہونگے اور خیال بھی ذہن میں آتا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہے کہ چند خیالات ذہن سے گزرے ہوں۔ یا پھر پہلی کوشش ناکام ہو گئی ہو اور کئی مرتبہ اس تجربہ کو کرنا پڑا ہو تو پھر جا کر 25 مرتبہ کی گنتی پوری ہوئی ہو یا پھر خیالات بھی آ رہے ہوں اور گنتی بھی جاری رہی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کامیابی کے ساتھ یہ تجربہ نہ کر پائے ہوں کہ آپ 25 مرتبہ کوئی ایک لفظ دہرائیں اور کوئی خیال بھی ذہن میں نہ آئے ۔
مراقبہ اور ذات (Self ) سے شناسائی
معاملہ کچھ بھی، تجربہ کچھ بھی ہو، بات حقیقت ہے کہ آپ اپنے اندرونی خودی (Self ) کے وجود کا انکار نہ کرپانیں گے۔ کیونکہ جب آپکا ذہن گنتی میں مصروف تھا تو وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن سے خیالات گزر رہے ہیں؟وہ کون تھا جو ایک ہی وقت میں مشاہدہ کر رہا تھا کہ ذہن میں خیالات بھی آ رہے ہیں اور گنتی بھی ہورہی ہے؟ کیونکہ آپ کا ذہن کو یقیناً گنتی میں مصروف تھا۔یقیناً آپ کہیں گے کہ وہ میں تھا جو دیکھ رہا تھا کہ کوئی خیال ذہن میں آ رہا ہے اور گنتی بھی صحیح ہو رہی ہے۔ وہ کون تھا جو مشاہدہ کر رہا تھا؟ آپ کا جسم یا پھر آپ کا ذہن؟ یا پھر آپ خود؟ اگر آپ یہ سارا عمل دیکھ رہے تھے تو آپ کو اپنے ذہن اور جسم سے علیحدہ ہونا چاہیے۔ جی ہاں! دراصل یہ حس آگاہی ہی تو خودی (Self-I) ہے جو آ پکو اپنے خیالات تصورات سے آگاہ کرتی اور صرف اور صرف خودی (Self-me) ہی ہے جو آ پکو بتلاتی ہے کہ ا پکے اندر اور باہر کیا ہو رہا ہے؟ کہاں ہو رہا ہے ؟ و دیگر سے آگاہی کا سبب بنتی ۔ اس جاننے والے کو جاننے کا عمل ہی مراقبہ ہے۔ مراقبہ دراصل اپنی ذات سے شناسائی کا عمل ہے .
خیر اندیش
محمد الطاف گوہر-لاہور
(یہ تحریر روزنامہ نوائے وقت میں 10اکتوبر2008 اشاعت خاص؛ چند اقساط میں شائع ہوئی۔ اسکے بعد وکیپیڈیا کی زینت بنی جبکہ وکیپیڈیا کی ایڈمن کے اپنے خیالات بھی اس میں بشمول ہیں جن سے میرا اختلاف وضاحت سے شامل ہے ؛ حقیقت سو پردوں میں بھی حقیقت ہی رہتی ہے البتہ اس کے بیان کرنے والے اپنے اپنے درجے پر علم کے مطابق وضاحت کرنے میں اختلاف رکھتے ہیں جبکہ میری تحاریر زیادہ تر عملی اور متحرک زندگی کیطرف نشاندہی ہے ناکہ فقط علمی بحث اور فلسفہ جو کہ کسی بھی نتیجہ پر لیجانے کی بجائے الجھنیں پیدا کرے ؛ یہ تحریر اب آپکی خدمت میں پیش کی گئی ہے ؛ تحقیق اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس پر بحث عام نہ ہو، میرا بلاگ لکھنے کا مقصد اپنے خیالات آپ تک پہنچانا ہے اور اپنی اصلاح ہے ؛ آپکی آرا کا انتظار رہے گا ۔۔۔ یہ مضمون میری زیر طبع کتاب ” لذتِ آشنائی” کا ایک باب ہے)


Bookmark and Share


دعا

دعا

ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حالت میں اللہ تعالٰی سے رجوع کریں؛ دکھ سکھ میں ؛ خوشی اور غم میں ؛ صحت اور بیماری میں پریشانی اور خوش حالی میں

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر

اللہ کے سامنے بندہ جس عاجزی و تعظیم کی آخری حد کو چھو جاتا ہے اسکا نام بندگی ہے یا عبادت ہے جو کہ تمام جن و انس کا مقصد حیات بھی ہے؛جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ”دعا عبادات کا مغز ہے” ۔ یہ بندہ اور رب کے درمیان تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دونگا “(المومن،آیت 60)
دعا صرف اللہ تعالٰی سے مانگنی چاہئے کیونکہ حاجت روائی اور کارسازی کے سارے اختیارات اللہ تعالٰی کے پاس ہیں اور ساری مخلوق اسکی محتاج ہے جبکہ اس کے سوا کوئی نہیں جو بندوں کی پکار سنے اور انکی دعا قبول کرے۔دعا نہ مانگنا تکبر کی علامات ہے کیونکہ یہ واضح ارشاد باری تعالٰی ہے کہ جو لوگ دعا نہ مانگ کر تکبر کرتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہونگے جبکہ انسان کو اپنی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کیلئے اللہ تعالٰی کیطرف متوجہ ہونا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
” تم میں سے کوئی یوں دعا نہ کرے کہ یا اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ’ یا اللہ! تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما ’ بلکہ اللہ تعالٰی سے پورے وثوق سے سوال و دعا کرے’ کیونکہ کوئی اللہ تعالٰی کو مجبور کرنے والا اور اس پر دباو ڈالنے والا نہیں” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
” چاہئے کہ وہ (مانگنے والا)خوب رغبت اور توجہ کے ساتھ دعائیں کرے کیونکہ کوئی چیز عطا کرنا اللہ تعالٰی لے لیے کچھ مشکل نہیں” (صحیح مسلم)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ دعا میں استثنا کی ممانعت ہے یعنی یوں نہیں کہنا چاہیئے کہ ” یا اللہ! تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے”
دعا انتہائی عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ مانگنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ” اپنی دعاؤں کے قبول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے سچے دل سے دعا کی جائے۔ اللہ ایسی دعا قبول نہیں کرتا جو غافل اور بے پروہ کے دل سے نکلی ہو”
جب کوئی ضرورت مند اللہ تعالٰی سے اس نیت سے دعا مانگتا ہے کہ میری مصیبت کو ختم کرنے والا اور میری حاجتوں کو پورا کرنے والا صرف اللہ ہے جو رحیم و کریم ہے ؛ وہ اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے اور تمام جہانوں کے خزانے اس کے قبضے میں ہیں اور وہ جسے عطا کرنا چاہیے ’عطا کرتا ہے؛ اور جس سے چھیننا چاہے اس سے چھین سکتا ہے ؛ تو اس کی مراد ضرور پوری ہوتی ہے اور اگر نہیں بھی پوری ہوتی تو اس میں بھی کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے دعا میں ہم وہ کچھ مانگ رہے ہوں جو ہمارے لیے مفید نہیں بلکہ مضر ہوں؛ البتہ دعا مانگنے کا اجر اس شخص کو آخرت میں ضرور ملتا ہے کیونکہ اللہ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ؛ کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ
”اور گمراہ لوگ ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں ” (سورت الحجر )
دعا مانگتے وقت اپنے نیک اعمال کا واسطہ دینا ایک اچھا عمل ہے جبکہ دعا میں اللہ کو اسکے اچھے اچھے ناموں سے بھی پکارو:
ارشاد باری تعالٰی ہے کہ
” اور اللہ کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکارو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار)کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ؛ وہ جو کچھ کر رہے ہیں ؛ عنقریب اس کی سزا پائیں گے” (الاعراف 180:)
”کہہ دو کہ تم (اللہ کو)اللہ (کے نام سے)پکارو یا رحمٰن (کے نام سے )جس نام سے پکارو ؛ اس کے سب نام اچھے ہیں” (الاسراء: 110)
ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حالت میں اللہ تعالٰی سے رجوع کریں؛ دکھ سکھ میں ؛ خوشی اور غم میں ؛ صحت اور بیماری میں پریشانی اور خوش حالی میں ؛ ہم صرف اللہ تعالٰی ہی کی طرف رجوع کریں۔ اپنے حالات میں سے ہم جس حالت میں بھی اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اپنے حالات اور اپنی دلی کیفیات کے اعتبار سے اس کے ” اسماءالحسنٰی ” میں سے کوئی اسم پاک بے اختیار ہماری زبان پر آ جاتا ہے۔ جو ہماری حالت و کیفیت کے عین مطابق ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی رزق کی تنگی میں مبتلا ہے تو اس کی زبان پر بار بار اللہ کا اسم پاک ” رزاق” ہی آئے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بغیر کوئی نہیں جو رزق کی تنگی کو دور کرکے اسے رزق عطا فرمانے لگے۔ اس لیے کی” اللہ ہی تو رزق دینے والا زور آور مضبوط ہے” (الذاریات 85:)
پیارے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور درود و سلام سے زبان کو تر رکھیں کہ اللہ تعالٰی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے طفیل اپنا کرم فرمائے اور امان میں رکھے۔
اور اپنے پیر و مرشد ؛ یعنی اپنے والدین کی خدمت کریں اور انکے لیے دعا ضرور مانگیں، ان سے بڑا کوئی خیر خواہ نہیں ؛ اپنے پچپن کی وہ خوبصورت یادیں جو صرف والدین کی مہربانیوں اور شفقت کے باعث تھیں صرف ایک بار انکا تصور ضرور کریں۔ آپ سب سے التماس ہے کہ اپنے رب سے وہ سب کچھ مانگ لیں جسکا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں مگر اس یقین کے ساتھ اس سے بڑا دینے والا کوئی نہیں اور ہر مانگنے والے کو عطا کرتا ہے ؛ اور اپنی دعاؤں میں مجھے ضرور یاد رکھیں کہ رب العزت ہماری کوتاہیوں کو معاف فر مادے ! اپنے ربّ کے سامنے عجزو انکساری کر یں اور اسکے ساتھ ساتھ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں ، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور اللہ سے دعا ما نگیں کہ ہمارے گناہوں کو بخش دے ، ہمیں صالحین میں شامل کرے اور د نیا میں خاتمہ ایمان پہ ہو اور آخرت میں بخشش عطا فرما دے ۔ امین!!
بقول میاں محمد بخش صاحب؛ !

جے ویکھاں اپنے عملاں ولے تے کجھ نیوں میرے پلے
تے جے ویکھاں تیری رحمت ولے تے بلے بلے بلے

خیر اندیش!
محمد الطاف گوہر؛ لاہور

Bookmark and Share


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers