Category Archives: قوتِ خیال

لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق

" لذتِ آشنائی"
Like this:
Be the first to like this post.
13 comments | tags: Articles, Blog, Education, Health, People, Politics, Science & Technology, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, نوجوان, کالم, کتاب, پراسرارعلوم, آج, اسلام اور دور جدید, تلاش, تحقیقات, صلاحیت, عقل, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بین الاقوامی امور, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
مائنڈ سائنس ، توجہ اور فیضِ نظر
اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تزکیہ خود کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں
کسی “صاحب ِ نظر ” کی چوکھٹ کی جسکے درو دیوار بھی “لذتِ سکوں” میں غرق
تحریر و تحقیق:محمدالطاف گوہر
کوانٹم فزکس اور ذہنی قوت کے مربوط روابط انکے آپس میں لازم و ملزوم ہونے کے راز کو آشکار کر رہے ہیں، جسکے مطابق تمام مادی اشیا کے اجزائے ترکیبی بنیادی طور پر وہ ذرات ہیں جو انہیں ٹھوس شکل اختیار رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کوانٹم فزکس اس اصول پر بنیاد کرتی ہے کہ مادہ کا کمترین ذرہ ، الیکٹران دوہری خاصیت کا حامل ہے یعنی کبھی ذرات کی شکل اور کبھی لہر کی شکل میں اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے ، جبکہ سائنسی تجربات سے ثابت ہو چکا ہے کہ مادہ کے کمترین ذرات کبھی ذرے کی شکل میں اور کبھی لہر کے طور پر اپنا اظہار کرتے ہیں مگر ایک ہی وقت میں دونوں خصوصیات کا اظہار اکٹھا نہیں کرتے جبکہ انکے اس رویے کا انحصار مشاہدہ کرنے والے پر ہوتا ہے۔
بلاشبہ مادی اشیا ایک انتہائی کمترین ذرہ ، الیکڑان سے مرکب ہیں لہذا اس دنیا کی اساس یہی ذرات اس سارے جہاں میں بکھرے ہوئے ہر طرف موجود ہیں اور یہی اشیا کو مادی شکل دینے کیلئے بنیادی ٹکڑوں کا کردار ادا کر رہے ہیں، یہی انسانی جسمانی ساخت کی بنیاد ہیں اور یہی ذمہ دار ہیں ان گھروں کے جن میں ہم رہتے ہیں اور انہی کی بدولت ہمیں وہ گاڑیاں میسر ہیں کہ جن میں ہم گھومتے پھرتے ہیں اور اس دولت کے بھی جو بینکوں میں جمع ہے، حتیٰ کہ ہماری تمام حقیقتیں ان کمترین ذرات سے اٹی پڑی ہیں جبکہ یہ ذرات اپنا ردعمل اسی طرح سے کرتے ہیں جیسا ہم انکے بارے میں مشاہدہ، دھیان رکھتے ہیں۔
ہم اس مادہ کی ان عالمگیر لہروں سے اسی طرح لفظ بالفاظ متاثر ہوتے ہیں ، جیسا ہم اسکے بارے میں مشاہدہ کرتے ہیں، با الفاظ دیگر کسی بھی شے کی اصلیت و حقیقت کا مشاہدہ دراصل ہمارے لیے حقیقت بنتا ہے۔ یہ ایسا ہی عمل ہے جیسے کسی جنگل میں کوئی درخت گرتا ہے اور اگر اسکے پاس اگر کوئی سننے والا کوئی نہ ہو تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسکے گرنے کی آواز پیدا ہوئی تھی؟یہاں سائنسی تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ یقیناً آواز پیدا نہیں ہوئی ، کیونکہ درخت صرف اسی صورت میں آواز پیدا کر سکتا کہ اگر اسکا مشاہدہ ، دھیان کیا جائے ورنہ اگر اسکی طرف توجہ نہ دی جائے تو یہ کسطرح سے ممکن ہے کہ وہ آواز پیدا کرتا ؟ لہذا مشاہدہ ، دھیان، خبرداری ، بیداری یعنی توجہ دینے کا عمل مشاہدہ کہلاتا ہے بالفاظ دیگر سے آپ بیدار رہنے کا عمل بھی کہ سکتے ہیں۔
ہمارا دھیا ن اور بیداری اسی طرف ممکن ہے جس طرف ہم متوجہ ہوتے ہیں اور سائنسی تجربات ، ڈبل سلٹ ایکسپیریمنٹ،سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہماری توجہ مادہ کے کمترین ذرہ کے رویہ کو متاثر کرتی ہے لہذا یہ بات واضع طور پر سامنے آتی ہے کہ تمام مادی اشیا کا چال چلن ہماری توجہ،دھیان،سے متاثر ہوتا ہے جبکہ یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ ہماری توجہ کا ہی کمال ہے جو کچھ ہم اس دنیا میں اپنی ملکیت میں رکھے ہوئے ہیں اور ہماری توجہ ہی ہمارے لیے ہماری مادی دنیا کا وجود تشکیل دیتی ہے ،ہر شے جو ہمارے دھیان اور توجہ میں ہے ہمارے خیالات ،تخیل کے باعث وجود پاتی ہے ، جانتے بوجتے ہوئے یا انجانے میں، شناسائی میں یا پھر نا آشنائی کے عالم میں ، لہذا یہ بہت اہم ہے کہ ہم اسی طرف متوجہ ہو جائیں جسکے بارے میں ہم خیال کر رہے ہیں اور وہی کچھ سوچیں کہ جیسا ہم سوچنا چاہتے ہیں ، ہمارے خیالات ہماری موجودہ حالت اور اصلیت کے ماخذ ہیں اور اگر ہم اپنی موجودہ زندگی اور حالت سے مطمئن نہیں تو آج سے ہی نئے طریقے سے سوچنا شروع کر دیں ، نئی ذہنی تصاویر بنائیں ، نئے تصورات کو جنم دیں کہ یہ طریقہ ہمیں ہستی کے نئے وجود میں لا کھڑا کرے اور اگر اتنی سکت نہیں کہ اپنا تذکیہ کر سکیں تو پھر جائیں اور راہ لیں کسی “صاحب ِ نظر ” کے چوکھٹ کی جسکے درو دیوار بھی “لذتِ سکوں” میں غرق ہیں اور یہ ” فیضِ نظر” کا کمال ہے کہ انسانی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے ، از لوں سے سسکتی ہوئی زندگی کو سکون سے آشنا کرنے والی نظر اگر اپنی موج میں شکستہ حال اور خزاں برد پر پڑتی ہے تو اسے بہار سے ہمکنار کرتی ہے اور اگر جلال میں ہریالی پر پڑتی ہے تو اسے خس و خاشاک کر دیتی ہے ، اور جو منظورِ نظر ہو جائے اسکو مسرتِ لازوال سے ہمکنار کرتی ہے۔
جس طرف نظر دوڑائیں “توجہ” کی جلوہ آرائی اپنے حسن و جمال کا شاندار نظارہ پیش کر رہی ہے ، سمندروں پر پڑتی ہے تو انکا سینہ چیر کر راہیں دریافت کرتی ہے ، اگر دریاوں پر پڑتی ہے تو پل باندھ دیتی ہے ، پہاڑوں پر پڑتی ہے تو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے ، میدانوں پر پڑتی ہے تو انہیں محلات میں تبدیل کر دیتی ہے ، آسمانوں پر پڑتی ہے تو فاصلے سمیٹتی ہے اور اگر انسانوں پر پڑ جائے تو زندگیاں بدل دیتی ہے۔
چاند کا فیضِ نظر جب زمیں پر ہوا تو سمندر چاندنی کی تاب نہ لا سکے اور اپنے اندر سے بیش و قیمت موتی و گوہر کناروں کی نظر کر گئے ، سورج کا فیضِ نظر جب زمیں پر ہوا تو زندگی نے انگڑائی لی جبکہ زمیں نے سونا اگلا اور زندگی نے سفر کرنا شروع کیا مگر رات کا فیضِ نظر ہوا تو زندگی نے استراحت فرمائی اور دن کے فیض ِ نظر نے لمحوں کو وقت سے آشکار کیا اور بادلوں کا فیضِ نظر ہے کہ ہریالی نے زمین کو مخملی قالین بنا دیا۔
آج جب تو نے مجھے پوچھا کہ “فیض” کیا ہے اور ” نظر، توجہ” کیا ہے تو ، اے سالک ِ راہ حق ، یہ مجھ پر آشکار ہوا کہ معاملات زندگی پر تو “فیضِ نظر” کی عنایات ہیں ورنہ یہ سلسلہ زندگی کبھی کسی گرداب کی نظر ہوتا اور کبھی گہری کھائی کی۔جب کوئی انسان اپنے آپ سے آگاہی حاصل کرتا ہے تو اسے ” لذتِ آشانی” کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ اور جس کے من کی دنیا میں اگر چشمہ خودی پھوٹ پڑے تو زندگی تپتے صحراوں سے نکل کر سکون کی گھنی چھاوں میں آ جاتی ہے اور اندر کا عکس بدل جاتا ہے اور باہر بھی شاہکارِ قدرت کا نظارہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ باطن میں موجزن آگہی کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونے سے کشف وجدان کے دھارے اور علم و عرفان کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور زندگی خزاں سے موسمِ بہار میں آ جاتی ہے۔ اِس آگہی کی لذت ایک شخص تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ بیرونی دنیا پہ بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے کہ آسمانوں سے مینہ برستا ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں اور قدرت کی طرف سے شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور اِس کائنات کا ذرہ ذرہ اِس لذت سے معمور ہوتا ہے کہ جن کا الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے اِسی کے دم سے پھلوں میں رس بھرا جاتا ہے اور پھولوں میں خوشبو۔ بیماروں کو شفا ملتی ہے اور یہ نظر جس طرف اٹھتی ہے بہار ہی بہار آ جاتی ہے اور اِس نظر کی موج میں آنے والا ہر پل اپنے اوپر ناز کرتا ہے اور ہر فنا اپنی بقاءدیکھتی ہے۔
اِس زمین میں زرخیزی آتی ہے با الفاظِ دیگر اِس خود ی(Self)کا کیا کہنا کہ جو لذت آشنائی سے لبریز ہے اور ہم اِس کا تذکرہ قرآن کریم سے دیکھتے ہیں۔ سورة الکہف (آیت 60 تا 86) جہاں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے واقعہ میں ، کس شان سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا تذکرہ کیا ہے جسے اللہ نے اپنا فضل اور علم بخشا ہے۔ (آیت 79 تا 86) دیکھیں کس طرح سے (بندے کی) میں سے ہم اور ہم سے اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا گیا ہے (میں نے چاہا، ہم نے چاہا اور تیرے اللہ نے چاہا) حالانکہ اِس واقعہ میں جو بیان کیا گیا ہے سارے کے سارے واقعات ایک بندہ کے ہاتھ سے سرزد ہو رہے ہیں مگر اِن کی توجیہہ میں ”میں“ سے اللہ تک کی رسائی کا پتہ ملتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا۔ اِس واقعہ میں شریعت اور طریقت کا شاندار امتزاج بیان کیا گیا ہے اور ایک بندے کی ”میں“ کا اللہ سے تعلق بیان کیا گیا ہے اور آشنائی کی لذت سے مامور دیے تو ابد تک کیلئے روشنی بن جاتے ہیں اگر ایک طرف یہ روشنی دوسروں کی رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے تو دوسری طرف انکے فیضِ نظر کے باعث زندگی کی راہیں روشن ہوتی ہیں، یہ فیضانِ نظر کا کمال ہے کہ زندگیاں سکون کی دولت سے مالا مال ہوتی ہیں،، جبکہ ہماری زندگیوں میں روشنی اِنہی چراغوں کے دم سے ہے ، ورنہ کائنات کا ردِعمل ہر ظلم و زیادتی اور آہ پہ آندھی، طوفان اور زلزلوں کی شکل میں نمودار ہوتا ہے، کیونکہ کائنات ہر کرب کا اور مظلوم کی آہ کا جواب ضرور دیتی ہے۔
اے زندگی تو احسان مان ان افرادکا ، جنکے فیضِ نظر کے باعث تواذیتوں اور کرب سے نجات پاتی ہے اور اگر کوئی گمراہی کے گھپ اندھیرے میں بھٹک جاتا ہے تو یہ نظر یں اسکی راہیں روشن کرتے ہوئے آگاہی کا پیش خیمہ بنتی ہیں ، اگر آگاہی کے مراحل طے کرنا دشوار ہوتو اسکی منزل آسان کرتی ہیں اور اگر کوئی روشن چراغ بننا چاہے تو اسکی ٹمٹماتی لو کودرخشاں کرتیں ہیں ۔مگر حیرت ہے اس پہ جو چاند کی تڑپ رکھتی ہوئی سمندر کی لہروں سے ، سونا اگلتی زمین کا سورج سے ، شاندار نظارہ پیش کرتی قوس و قزح اور سرسبز ولہلاتے کھیتوں کا بارش سے جو ربط ہے ، اس سے تو واقف ہیں مگراک ” صاحب ِ نظر” کے “حال” سے ناواقف ہے ۔
(یہ مضمون میری زیر طبع کتاب ” لذتِ آشنائی” جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، اسکا ایک باب ہے ، آپکی آرا اور تبصرہ کا انتظار رہے گا)
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, People, مائنڈ سائنس, کالم, پراسرار علوم, آج, اسلام اور دور جدید, تحقیقات | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, قوتِ خیال, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, کالم, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, اسلام اور دور جدید, تحقیقات, تصوف, خبریں, عمومی بحث
مائنڈ سائنس اور اسما الحسنٰی
عظیم راز جو آشکار ہونے کو ہے
تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر
راز جو از لوں سے پنہاں رہا اور ہر دور کے دانشور اسکی تلاش میں سر گرداں رہے مگر اس کی حقیقت سے پردہ اٹھانے والے بہت کم لوگ ہوئے۔ وہ راز اگر کسی دنیا کے متلاشی نے حاصل کیا تو اس کو دفن کر گیا ، کسی نے اس کی حرص کی اور کوئی اس پر طاقت سے غلبہ پانے کا خواہشمند رہا اور وہ سربستہ راز صدیوں سے عالم انسانیت کیلئے موضوع تجسس بنا رہا۔ اس کو پانے کی تگ و دو میں انسان نے نہ جانے کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائیں مگر ماسوائے چند ایک خوش نصیبوں کے کسی پہ بھی آشکارہ نہ ہو سکا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس راز کے کرشمے اکثر انسانی زندگی کا حصہ بنتے رہے مگر انسان آج تک اس گتھی کو سلجھا نہ پایا۔ اس تگ و دو میں نہ جانے کتنی زندگیاں صرف ہوئیں ؟
اگر کسی کوا سکا ادراک ناآشنائی کے دور میں ہوا تو وہ حیرت کے سمندر میں غرق ہو گیا اور کوئی نظارہء جاناں سمجھ بیٹھا مگر آشنائی کی لذت کا کیا کہنا جسکی منزل بھی واضع اور سفر بھی خوب کہ ہر شے کی حقیقت کی سوجھ بوجھ بھی آسان ، اس پہ آشکارہ ہوا تو اس نے دلوں پر بلکہ زندگیوں پر حکومت کا سماں باندھ دیا اور باقی خالی ہاتھ رہ گئے۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس حقیقت کا اظہار ازل سے ادیان سلامتی کرتے آئے ہیں مگر انکو اہمیت دینا اور زندگیوں میں شامل کرنا تو کجا ، بند اک مقدس طاق میں رکھ دیا اور کھول کر سمجھنا گوارہ نہ کیا گیا۔ اس راز کو سمجھنا ہی اس کے آشکار ہونے کیلئے کافی ہے۔ اس تیز رفتار زندگی کی دوڑ جسکی منزل اسکے بھاگنے والے خود کو بھی معلوم نہیں کیا ہے؟ اگر اسے سستانے کے کچھ لمحے ملیں تو کسی اور طرف بھی توجہ دے۔ اس حقیقت سے نا آشنا لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کے سانپوں میں گھرے رہے ، کبھی صبح ڈ سے جاتے اور کبھی شام کو مگر پھر بھی نہیں سمجھ سکے۔
اب جبکہ سائنسی انکشافات نے ذہن کے بند دریچے کھولنے شروع کر دیئے اور ذہنی پستی کی آنکھیں چکا چوند کر دیں مگر عقل سے عاری پھر بھی اپنی زندگی کے راستے متعین کرنے سے قاصر رہے۔ کوانٹم فزکس ،میٹا فزکس اور روحانیت کے موضوعات اب قلا بیں ملانی شروع کر چکے کیونکہ سچائی از لوں سے ایک ہے ، ہر سچائی کے متلاشی کی منزل ایک ہوتی ہے مگر اصل راستہ تو وہی اچھا ہے جو کم از کم وقت میں طے ہو؟
آج کا دور پتھروں کا دور نہیں مگر پھر بھی کچھ پتھر موجود ہیں جو سچائی سمجھنا نہیں چاہتے ، ایک انسان کی نظر اب محدود نہیں رہی بلکہ لا محدود ہے حتی کہ وہ گھر بیٹھے نہ صرف اس کی رسائی کرہء ارض تک محیط ہے بلکہ کہکشاؤں کی خبر رکھتا ہے اور سارے یہ کمالات اس کی دسترس میں ہیں علم نافع سے فیض یاب ہے ۔ انسانی کمالات کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس نے قوانین قدرت کو نہ صرف سمجھا بلکہ اپنی سوچوں کی نہج کو ان سے ہمکنار بھی کیا اور انسانیت کیلئے عظیم راہنما اور محسن ثابت ہوئے۔ اگر آج ہم کسی تپتی اور آگ برساتی دھوپ میں ایک راحتوں ، سہولتوں سے بھرے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ہیں تو کس کے باعث؟ آج اگر ہم صدیوں پر محیط فاصلے چند گھنٹوں میں طے کر لیتے ہیں تو کیسے؟ آج اگر اذیت میں مبتلا کوئی فرد اپنی تکلیف سے بچ کر صحت کیطرف لوٹتا ہے تو کیسے؟ اس مسیحائی کا صلہ کس کیلئے؟
آئیے آج اس راز عظیم کے گل فشانیوں سے پردہ اٹھائیں اور زندگیوں کو اس لذت آشنائی کی مہک سے لبریز کر دیں۔ اس پنہاں راز کو آشکار کرنے میں لاتعداد انسانی زندگیاں صرف ہو گئیں مگر کبھی تو معمولات زندگی نے اسے نظروں سے اوجھل رکھا اور کبھی تفکرات بے معنی اس پر چھائے رہے۔ یہ ایسا راز ہے کہ اسکا افشاں ہونا انسانی زندگی میں ایک نئی کھڑکی ، ایک نیا چینل کھلنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسا بیج ہے اگر انسانی ذہن میں بو دیا جائے تو کائنات کی تمام خوبصورتیاں اور کامیابیاں ہاتھ باندھے استقبال کیلئے کھڑی ہوں۔
ایک طرف اگر انسانیت اذیت کے دور سے گزر رہی ہے اور تو دوسری طرف کچھ لوگ سکون کی لذتوں سے مالامال بھی ہیں، جنکو اپنی حاصل کی ہوئی دولت کو انسانیت کی خدمت کیلئے پیش کر دینا چائیے، اور یہی طریقہ ہے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کے شکر اد کرنے کا کہ دوسروں کو بھی ان میں شامل کرے۔ ورنہ اکثر اوقات حقیقت کے متلاشی اپنی کم علمی کے باعث مافیا کی بھینٹ چڑھ جاتے جو از لوں سے انسانیت کا دشمن اور شیطانیت کا دوست رہا ہے اور ایک ایسے راستے پہ چلا دیتا ہے جسکی منزل سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں۔ میری تحریروں کے موضوعات بھی زیادہ تر ایسی کٹھن راہوں پہ چراغ جلانے کی ایک کو شش ہے۔
ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور اس چنگل میں پھانسنا ہے جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو ایسے گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں اور اپنے قیمتی آنسو کسی فضولیت کی راہ میں بہا تے ہیں۔ ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کا خوبصورت جواز بناتے ہوئے اسے شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ا نکے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیا سے کم نہیں۔ آئیے ایک ایسی لذت سے آشکار ہوں جو صدیوں پر محیط ہے۔ بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنار ہونے کیلئے اپنے ذہن کے دریچے کھول دیں اور اپنی توانائیاں خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے کیلئے اپنی راہوں کو روشنی کے قمقموں سیراب کر لیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں۔ اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکو پچھاڑ دیں کی کبھی بھولے سے بھی ان راہوں کی مسافر نہ بنے۔ پوری طرح متوجہ ہوں اور چند لمحوں کیلئے زندگی کی دوڑ کو ٹھہرا دیں کہ اک مقام آگاہی کا گزر ہے اور سیراب ہونا ہے۔ اگر کہیں بے خبری سے گزر گئے تو اس کی تلافی ممکن نہیں۔ جی!!! اچھی طرح سے سمجھیں اور ذہن میں نقش کر لیں کہ ہم روزانہ جانتے نا جانتے ہوئے کسی بھی کمپیوٹر کی طرح پروگرام ہوتے رہتے ہیں اور ہر وہ بات جو سمجھ آجائے وہ ذہن انسانی کا حصہ بن جاتی ہے ا ور یہی وہ لمحے ہیں جو محفوظ ہو رہے ہوتے ہیں جبکہ اکثر ہم اس سے نا آشنا رہتے ہیں۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ہمارے ذہن کونسے قانون اور قاعدے کے تحت یہ اثرات قبول کرتے ہیں یا پروگرام ہوتے ہیں ؟ تو اسکا جواب ہے ہمارے عقائد اور یقین ہیں جنکے بل بوتے ہمارے ذہن تیار ہوتے ہیں یعنی جو کچھ ہم اخذ کرتے ہیں اسکا دارومدار ان پہ ہوتا ہے۔ مگر آج آپکو ایک نئے زاویئے سے اس پہلو سے آشنا کرتا ہوں۔ وہ پہلو کہ جسے آج جدید سائنس کے حوالے سے بھی دیکھا جا رہا ہے ، جسے زندگی کی کامیابیوں سے ہمکنار لوگوں کی زندگی پہ لکھے گئے حالات میں سے بھی تلاش کیا جا رہا ہے ،جسے صرف خواص کے سوچنے کے انداز میں بھی تلاش کیا جا رہا ہے ، کتابوں پہ کتابیں لکھی جا رہی ہیں مگر اسکی بھول بلیاں کبھی کبھی شعوریت کے دائرے میں محدود رہتی ہیں۔
اس فطرت کا حسین شہکار اور راز جو آشکار ہونے کو ہے ، وہ ہے قدرت کا قانون جاذبیت، قانون کشش، قانون مقناطیسیت، جس کا عمل دخل نہ صرف انسانی زندگی کے ہر لمحہ پر محیط ہے بلکہ اس کائنات کے کا ذرہ ذرہ اس میں جکڑا ہو ا ہے۔ ہمارے ذہن جو کچھ ہمارے لئے محفوظ کرتے رہتے ہیں ہماری زندگی اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ یعنی ہم اپنی زندگی کو یا تو کامیابیوں کے راستے پہ ڈالتے ہیں یا پھر ناکامیوں کے جو صر ف اسی کے باعث ہے جو ہم پہلے سے ہی ذہن کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔یعنی ہمارے ذہن میں بسے رہنے والے وہ خیالات جو ہم فراموش نہیں کر سکتے وہی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہماری زندگی کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ قدرت کا قانون کشش اس طرح سے کام کرتا ہے جیسے بہتے پانی کو معلوم ہے کہ بلندی سے نیچے کیطرف بہنا ہے ، جیسے سیب کی بیج کو معلوم ہے کہ میرے ساتھ آم نہیں لگ سکتا۔ آج اگر آپ کو یہ راز معلوم ہوگیا تو یقین جانے زندگی کسی سایہ دار درخت کی گھنی چھاوں میں آجائے گی۔ ہماری انفراد ی زندگیاں اکثر مسائل میں الجھی رہتی ہیں اور ہم سمجھ نہیں پاتے کہ الجھنیں سلجھ کیوں نہیں رہیں ، اگر ہمیں معلوم ہوجائے کہ مسائل اور پریشانیوں کا حل کس طرح سے ہو سکتا ہے تو یقیناً ہم لذت بیکراں سے ہمکنار ہو جائیں گے۔ کوشش کروں گا کہ ان کیفیتوں کو الفاظ کے احاطہ میں لے آؤں جن کے باعث زندگی قرار پائے۔ آج دنیا کے بہت سے خطوں میں انتہائی خاص اور مہنگے سیمینار میں اگر شمولیت کا موقع ملے تو پتہ چلے گا کہ اس قانون قدرت کو کس طرح سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے طریقے بتلائے جاتے ہیں، اگر دولت مند ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر ذہن کا دولت مندی کا تھرمو سٹیٹ بحال کریں اور اسکو سو درجہ پر لیجائیں۔ اگر لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو اپنے اندر محبت کا بیج بو دیں کیونکہ اندر کے خیالات کسی بھی مقناطیس کی خصوصیت سے کم نہیں۔ ہماری زندگیوں کے راستے ہمارے ذہن میں بیٹھے ہوئے خیالات کے مرہون منت ہیں ، جیسی سوچ ہوگی ویسے ہی حالات سے واسطہ رہے گا۔ اور اگر کوئی اپنے اندر نفرت ، کدورت ، کینہ اور لالچ پالے ہوئے ہے تو کیا خیال ہے اسکے اثرات بدل سکتے ہیں؟ اور پھر شکوہ کریں کہ ہماری قسمت ہی ایسی تو کیا خیال ہے کی ہم صحیح کہ رہے ہیں ؟ مائنڈ سائنس کی تحقیقات اور طریقہ کار میں جو عوامل شامل ہیں ان میں بھی اس بات کو اہمیت حاصل ہے کہ انسانی ذہن ایک مقناطیس کیطرح سے کا م کرتا ہے اور ہر وہ شے اپنی طرف کھینچتا ہے جس کا عکس پہلے سے ہی اس کے اندر موجود ہو۔ لہذا آپ پہلے اس سے آگاہ ہوں کہ آپ کے ذہن میں کونسی ہنڈیا پکتی رہتی ہے کیونکہ اسی کا آپ نے پکا کھانا ہے !!!!
ایک چھوٹی سی مشق حاضر ہے جو پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ کر دے گی اور صرف چند لمحوں میں حقیقت کھل جائے گی مگر کچھ نئی حقیقتوں سے بھی آشکار کر دے گی کہ اس وقت آپ کس ڈگر پہ چل رہے ہیں ، آیا اپنے لئیے خوشیاں اکٹھی کر رہے ہیں یا پھر مسائل بڑھا رہے ہیں۔۔۔
ایک کاغذ لیکر اس کے درمیاں میں ایک متوازی، عمودی لکیر کھینچیں اب دو کالم کے اس کاغذ پر دائیں طرف وہ کچھ لکھیں جو آپکو نا پسند ہو ، ناپسند خیالات ، ناپسند باتیں جن سے آپ اپنی زندگی کو دور رکھا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح بائیں کالم میں وہ باتیں ، خیالات جو آپ کو پسند ہیں اور آپ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ لکھنے کے بعد دیانت داری سے موازنہ کریں کہ سارا دن ، یا عمومی طور پر، یا غیر ارادی طور پر کونسی باتیں، خیالات آپکے ذہن پر محیط رہتے ہیں؟
اب موازنہ کریں کہ قدرت کا کشش کا قانون ہماری زندگیوں پہ کسطرح سے محیط ہے ؟ اگر ہم ہر وقت وہ باتیں اور خیالات اپنے ذہن پہ طاری رکھتے ہیں جن کو ہم اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہا پھر نا چاہتے ہوئے ان میں الجھے رہتے ہیں تو کسطرح ممکن ہے کہ ہم اپنے لئے خوشحالی، صحت اور سکون تلاش کر سکیں جو کہ ہمارے پاس آنے کیلئے ایک طریقہ کار سے وضع ہو چکا؟
یعنی جیسی سوچ و فکر میں مگن ہونگے ویسے ہی حالات سے پالا پڑے گا، لہذا آ پنے آپ کو محبت ، ہمدردی ، الفتوں اور مثبت سوچوں سے سیراب کر دیں تاکہ وہی کچھ ہمیں زندگی واپس لوٹا سکے ۔ یہی وہ بیج ہیں جو اپنا پھل دئے بغیر رہ نہیں سکتے ۔ جائیے اور کسی بھی چمن کی راہ لیں اور ذرا دیدہ دل وا کریں اور چمن کا نظارہ بھی جو قدرت کے اس شہکار کا شاندار نظارہ پیش کر رہا ہے ۔ ایک ہی جیسی زمین پر ایک ہی جیسے ماحول میں کہیں گلاب ہے تو کہیں نرگس اور کہیں موتیا، اور کہیں آم ، اور کہیں سیب اس بات کی گواہی سے رہے ہیں کہ ہم تو صرف اک اظہار ہیں اپنے اس بیج کا جو اس زمیں میں بویا گیا ۔ اور یہ ممکن نہیں کہ گلاب کے ساتھ نرگس لگے اور موتیے کے ساتھ سورج مکھی ، تو ہم کس راہ کی تلاش میں ہیں۔
آج اگر کوانٹم فزکس ، میٹا فزکس شعوریت کی جھل ملوں میں کامیابی، صحت اور سکون تلاش کرنے میں سرگرداں ہو کر آشکار کرتی ہے کہ انسان جس سوچ کو ذہن میں بٹھا کر زندگی کی تگ و دو کرے گا نتیجہ میں وہی حاصل ہوگا جس سوچ کا بیج بو چکا ہوگا ، تو اللہ کی رحمت اور مہربانی کا اندازہ کریں کہ اس نے ہمیں سوچنے کے انتہائی اعلی رستے بتا دئے۔درحقیقت تمام توانائیوں ، کامیابیوں ، صحت اور سکون کا مرکز صرف اللہ کی ذات ہے ، وہیں سے ہر شے کی بازگشت آتی ہے۔ جبکہ اللہ نے اپنے بہت سے خوبصورت نام بھی بتائے ہیں یعنی اس ذات تک رسائی کیلئے اسکے پہلو ، اب اگر ایک انسان محبت کے چینل کو اپنے لئیے کھولنا چاہتا ہے تو ” الودود” کے چینل سے اپنا ناطہ جوڑ لے ، اور اگر صحت و سلامتی کا متلاشی ہے تو اسکے لئے ” السلام ” کا راستہ اپنا لے۔ سبحان اللہ!!! یعنی ایک مرکز سے فیض یاب ہونے کے مختلف زاویئے بتائے ہیں پھر ایک بار اللہ کا شکر ادا کریں جو “ الرزاق” بھی ہے ” التواب ” بھی ہے اور ” الرحمن” بھی۔
آپکی آرا کا انتظار رہے گا
mrgohar@yahoo.com
صدیوں پر محیط راز آشکار ہونے کو ہے
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, People, Science & Technology, مائنڈ سائنس, کالم, پراسرار علوم, تحقیقات, زندگی, صحت و تندرستی, عقل, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, قوتِ خیال, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفسیات, نوجوان, کالم, گھریلو امور, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, ادب و ثقافت, اسلام اور دور جدید, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, خبریں, زندگی, سائنس و ٹیکنالوجی, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, عمومی بحث, عبادات
اجتماعی زندگی کا مقصد اور اسکے ثمرات
طوفانوں سے لڑو تند لہروں سے اُلجھو
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے
ازل سے ادیانِ عالم اِس کا درس دیتے آئے ہیں کہ ہمیں دوسروں سے روابط کس طرح رکھنا ہے اور انکے لئے کس طرح فائدہ مند ہونا ہے اور لوگوں میں رہتے ہوئے زندگی کس طرح گزارنی ہے، وگرنہ اگر انسان نے اکیلے جنگل میں رہنا ہوتا پھر اس سب کی کیا ضرورت تھی۔
ہم سیل رواں پر بہتے ہوئے کائی کے تنکے نہیں کہ حالات کی موجوں کے تھپیڑوں کے رحم و کرم پہ رہیں اور جانے کب کوئی انجانی موج اُڑائے اور اُٹھا کر کہیں پھینک دے یا پھر حالات کے گرداب میں پھنس کے اپنا وجود کھو بیٹھیں بلکہ ہم تو کامیابی اور سکون کے وہ سفینے ہیں جو عافیت کی منزل کی طرف رواں دواں ہیں
تحریر:محمدالطاف گوہر
بلندوبالا پہاڑیوں کی کھوکھ سے جنم لینے والے ہزاروں، لاکھوں چشمے، ندیاں، نالے اور دریا آخر سمندر کی گود میں اپنا وجود کھو دیتے ہیں کیونکہ سمندر انکے مقابلے میں ہمیشہ پستی میں رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ خودی (میں، Self) کا دیا تو عاجزی کی لو سے روشن ہوتا ہے۔زندگی کے لمحے نہ گنو بلکہ لمحوں میں زندگی تلاش کرو کیونکہ یہ تو وہ شمع ہے جو اِک بار جل جائے تو بجھتی نہیں بلکہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ دیے سے دیا جلائے بٹتی (Travel) چلی جاتی ہے۔ یہ روشن چراغ اگرچہ تمام دنیا کا اندھیرا دور نہیں کر سکتے مگر اپنے اِرد گرد اندھیرا بھی نہیں ہونے دیتے۔
ہم سیل رواں پر بہتے ہوئے کائی کے تنکے نہیں کہ حالات کی موجوں کے تھپیڑوں کے رحم و کرم پہ رہیں اور جانے کب کوئی انجانی موج اُڑائے اور اُٹھا کر کہیں پھینک دے یا پھر حالات کے گرداب میں پھنس کے اپنا وجود کھو بیٹھیں بلکہ ہم تو کامیابی اور سکون کے وہ سفینے ہیں جو عافیت کی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ ہم موت کے منہ میں ایک اور نوالہ نہیں ہیں بلکہ ہم تو وہ جلتی شمعیں ہیں جو دنیا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشنی بانٹتی چلی جا رہی ہیں اور جہالت کی تاریکی کے سامنے ہم تو وہ چراغ ہیں جو دُنیا کو سورج کی طرح روشن نہ کر سکے مگر اپنے ارد گرد کو تو روشن رکھتے ہیں اور ہم تو وہ ٹھنڈی چھاؤں ہیں جو تپتی دھوپ میں سایہ بنتے ہیں۔ ہم وہ جوہڑ نہیں ہیں جو زندگی کو فنا کا درس دیتے ہیں اور بقا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ ہم تو علم و فن کے وہ چشمے ہیں جو زندگی کو بقاء کا درس دیتے ہیں جہاں سے ہر کوئی سیراب ہوتا ہے مگر یہ سب کچھ اِسی وقت ممکن ہے کہ جب ہمارے اندر خودی (میں، Self) کا دیا جلتا ہے اور ہمارا رابطہ ازل سے جڑ جاتا ہے۔
اس کائنات میں کوئی شے بے مقصد پیدا نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی واقعہ حادثہ ہوتا ہے بلکہ ہر شے خاص مقصد کیلئے ہے اور ہر واقعہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے جبکہ ہماری سوچنے کی طاقت ہمارے معاملاتِ زندگی کے لیے ہدایتکار (Director) کا درجہ رکھتی ہے اور جو خیال ذہن میں ایک مرتبہ پیدا ہو جاتا ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا جبکہ وہ اپنی قوت اور مماثلت کے حساب سے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ قلم جس سے میں لکھ رہا ہوں اور یہ پنکھا جس کی ہوا میں میں بیٹھا ہوں اور وہ کرسی جس نے مجھے بیٹھنے کی سہولت دی ہے اور وہ میز جس کے مرہون منت اِس تحریر کو لکھنے کی معاونت مل رہی ہے اور وہ بلب جس کی روشنی میں مجھے سب کچھ دکھائی دے رہا ہے اور یہ کاغذ جس پہ میں لکھ رہا ہوں اِن میں سے کوئی بھی بے مقصد نہیں بلکہ ہر شے اپنا مقصد پورا کر رہی ہے۔ اِن میں سے اگر کوئی بھی ایک شے اپنا مقصد پورا نہ کرے تو ہم فوراً اِس کو ردی کی ٹوکری یا کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیں گے کیونکہ جو اپنے مقصد سے ہٹ جائے وہ ہمارے لیے بے کار ہے۔ اب اگر قلم (Pen)میں سیاہی ختم ہو جائے یا میز کی ٹانگ ٹوٹ جائے یا پھر پنکھا ہوا دینا بند کر دے یا بلب روشنی دینا بند کر دے (Fuse) تو کیا خیال ہے اِن کو ہم ایک لمحہ مزید برداشت کریں گے؟ جی ہاں ایک لمحہ بھی نہیں کیونکہ اِس سے ہماری روانی میں خلل آتا ہے اور ہمارے معاملات خراب ہوتے ہیں۔ لہٰذا جو بھی چیز (چاہے وہ بے جان ہی کیوں نہ ہو) اگر اپنے کام اور مقصد سے ہٹ جائے گی تو وہ بالکل بے کار اور بے مقصد ہو جائے گی اور ہم اِسے ضائع کر دینا پسند کرتے ہیں، تو کیا خیال ہے ہم بغیر کسی مقصد کے پیدا ہوئے ہیں؟ ہم جو اِس کارخانہ قدرت کے عظیم شاہکار ہیں کِس کام پر لگے ہوئے ہیں، آیا ہم کارآمد ہیں یا بے کار ہو چکے ہیں؟اگر بے کار ہو چکے ہیں تو قدرت نے ابھی تک ہمیں ردی کی ٹوکری میں کیوں نہیں پھینکا؟
قدرت نے کائنات کی ہر شے ہمارے لیے تخلیق کی ہے جس طرف بھی نظر دوڑائیں کائنات کی ہر شے آپکے آ پنے لیے نظر آئے گی او ر اپنے وجود کے ہونے کا مقصد کو پورا کر رہی ہوگی۔ پھولوں میں خوشبو ہمارے لیے ہے اور پھلوں میں رس ہمارے لیے ہے، آبشاروں کے گیت ہمارے لیے ہیں، سرسبز و شاداب پہاڑوں کی بلند چوٹیاں جو دلفریب نظارہ پیش کرتی ہیں وہ بھی ہمارے لیے ہیں حتیٰ کہ کائنات کی سب مخلوق (Creature) ہمارے لیے مسخر کر دی گئی ہے مگر ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کِس لیے ہیں۔ کائنات کی ہر شے دوسروں کے فائدے کیلئے ہے (نہ کہ اپنے لیے) جبکہ ہر چیز دوسروں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور ہمیں درس دیتی ہے کہ ہم اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے پیدا کیے گئے ہیں ۔ ازل سے ادیانِ عالم اِس کا درس دیتے آئے ہیں کہ ہمیں دوسروں سے روابط کس طرح رکھنا ہے اور انکے لئے کس طرح فائدہ مند ہونا ہے اور لوگوں میں رہتے ہوئے زندگی کس طرح گزارنی ہے، وگرنہ اگر انسان نے اکیلے جنگل میں رہنا ہوتا پھر اس سب کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے سب کے ساتھ اِن روابط سے رہنا ہے جن کے باعث ایک صحت مند معاشرہ جنم لے اور زندگی کے ثمرات بحیثیت مجموعی حاصل کرنے ہیں ورنہ ایک شخص کی زندگی کے ثمرات اُس کیلئے بے معنی ہیں جب تک کہ وہ دوسروں کو اِس میں شامل نہ کرے۔ ہم کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں؟
آپکی آرا کا انتظار رہے گا
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Family, Health, People, Science & Technology, مائنڈ سائنس, معلوم, کالم, تحقیقات, صحت و تندرستی, عقل | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, قوتِ خیال, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, کالم, پیار کی بہار, انسان, ادب و ثقافت, اردو ادب, تحقیقات, خبریں, زندگی, عمومی بحث