کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔
Category Archives: ملکی امور
کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
لذتِ آشنائی
ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
دنیا سے سینکڑوں زبانوں کے نا پید ہونے کا خطرہ
دنیا سے سینکڑوں زبانوں کے نا پید ہونے کا خطرہ
لسانیات نے جہاں زمانے کی دوڑ کا ساتھ دیا ہے وہاں ناپید ہونے والی زبانوں کیطرف کوئی خاص توجہ نہیں دی حالانکہ انسانی ارتقائی عمل صرف اور صرف مختلف زبانوں کے مرہون منت ہے۔ البتہ ایک جدت ضرور دیکھنے میں آئی ہے کہ اس وقت جو سائنسی انداز میں سٹڈی ہو رہی ہے اس میں انسانی آواز کی بجائے اسکے حرکات و سکنات سے جو نتائج اخذ کئیے جا رہے ہیں جو کہ پہلے وقتوں میں “باڈی لینگویج ” کہلاتا تھا اور اب “لینگویسٹکس” کے زمرے میں آتا ہے ۔
تحریروتحقیق: محمد الطاف گوہر
لسانيات Linguistics ايک ايسا مضمون ہے جس ميں انسانی زبانوں کا ، زبانوں کی موجودہ صورت کا اور زبانوں میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبديليوں کا مطالعہ کيا جاتا ہے۔ اس علم میں مختلف زبانوں کی آپس ميں مشابہت کے بارے ميں مطالعہ کے ساتھ ساتھ اس چيز کا بھی مطالعہ کيا جاتا ہے کہ زبانوں کا اس دنيا کی ديگر چيزوں کے ساتھ کيا تعلق ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق بھارت کی دو سو زبانیں جبکہ پاکستان کی 27 زبانیں صفحہ ہستی سے معدوم ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں، جبکہ زبان کوئی بھی ہو اسکی افادیت اپنی جگہ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ دنیا بھر میں لاتعداد زبانیں بولی جاتی ہیں۔
لسان (زبان) (language) ایک ایسا نظام ہے جس میں مختلف آوازوں اور اشاروں کی مدد سے ایک دوسرے سے رابطہ کیا جاتا ہے یا معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ انسانوں کے علاوہ مختلف جاندار آپس میں ترسیلِ معلومات کرتے ہیں مگر زبان سے عموماً وہ نظام لیا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے تبادلۂ معلومات و خیالات کرتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت بھی ہزاروں مختلف زبانوں کا وجود ہے جو بڑی تیزی سے ناپید ہو رہی ہیں۔ مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ زبانیں مصنوعی بھی ہوتی ہیں مثلاً وہ زبانیں جو شمارندہ (Computers) میں استعمال ہوتی ہیں۔
چیکو سلواکیہ کی ایک مثل ہے کہ” ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو” Learn a new language and get a new soul. ؛ یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقاء سے ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقاء کے لئے کافی نہیں لیکن انسانی ارتقاء کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔ مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کیا۔ غیر معمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کرلی کہ میں انگریزی کتب پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہوگیا۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پاسکا۔ میں کم وبیش 5 زبانیں جانتا ہوں ؛ اردو،عربی،فارسی،انگریزی،ہ ندی،اگر میں صرف اپنی مادری زبان (اردو) جانتا تو یقینا معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے۔
سن 2001ء کی مردم شماری کے مطابق بھارت میں ایک اعشاریہ سولہ بلین افراد آباد ہیں، جو مختلف لہجوں والی چھ ہزار پانچ سو زبانیں بولتے اور سمجھتے ہیں۔ مغربی بھارت میں قائم ادیواسی اکیڈمی میں ابھی بھی ایسی زبانیں گونجتی ہیں، جن کی اہمیت شائد جلد ہی بے ہنگم شور سے زیادہ نہ رہے۔ کوکنا، پانچ محالی اور راٹھوری وہ تین زبانیں ہیں جو ابھی تک اس اکیڈمی میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ادیواسی اکیڈمی کا آغازانیس سو چھیانوے میں ہوا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ معدوم ہوتی بھارتی زبانوں کے ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔
اس اکیڈمی کے 29 سالہ ٹیچرجتیندر واساوا کا کہنا ہے کہ اگر نئی نسل نے یہ زبانیں نہ سیکھیں تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھلا دی جائیں گی۔ یہ زبانیں بولنے والے افراد آئندہ 30 برسوں میں بوڑھے ہو جائیں گے، جس سے یہ زبانیں بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی۔جتیندراپنی مادری زبان وساوی کے ساتھ ساتھ مزید دس زبانیں بول سکتے ہیں۔ وساوی زبان تقریبا 80 ہزار افراد بولتے ہیں۔ یہ افراد گجرات اور مغربی ریاست مہاراشٹر میں آباد ہیں۔ بھارت کی وہ زبانیں جو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں زیادہ تر ہمالیہ، شمال مشرقی علاقوں، چین اور بھوٹان کی سرحدوں پر واقع دوردرازعلاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی جانب سے خاتمے کے خطرے سے دوچار زبانوں کے بارے میں تیار کردہ فہرست تفصیلی نہیں ہے۔ ان کے مطابق درجنوں کئی دوسری زبانیں بھی ہیں، جن کو اس لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
یونیسکو اٹلاس کے ایڈیٹر ایدھے نارائن سنگھ کا کہنا ہے کہ بڑی زبانیں اس وجہ سے زندہ رہتی ہیں کہ لوگوں کی شناخت ان زبانوں سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اردو اور پنجابی زبان کو مذہبی اور سیاسی سہارا حاصل ہے، جس وجہ سے ان زبانوں کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ یہ زبانیں مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ بھارت کی 22 دفتری زبانیں ہیں، جن میں انگریزی بھی شامل ہے۔
دنیا میں بقا کے خطرے سے دوچار زبانوں میں پاکستان کی ستائیس زبانیں بھی شامل ہیں، جن میں براہوی، بلتی، مائیا(مائين)، پھلور، کلاشہ، خووار بہادرواہی، چلیسو، دامیلی، ڈوماکی، گاورو، جاد، کاٹی، خووار، کنڈل شاہی اور مری، پھلورا، سوی، سپٹی، طور والی، اوشوجو، واکھی، یدیغا اور زنگسکاری شامل ہیں۔
لسانیات نے جہاں زمانے کی دوڑ کا ساتھ دیا ہے وہاں ناپید ہونے والی زبانوں کیطرف کوئی خاص توجہ نہیں دی حالانکہ انسانی ارتقائی عمل صرف اور صرف مختلف زبانوں کے مرہون منت ہے۔ البتہ ایک جدت ضرور دیکھنے میں آئی ہے کہ اس وقت جو سائنسی انداز میں سٹڈی ہو رہی ہے اس میں انسانی آواز کی بجائے اسکے حرکات و سکنات سے جو نتائج اخذ کئیے جا رہے ہیں جو کہ پہلے وقتوں میں “باڈی لینگویج ” کہلاتا تھا اور اب “لینگویسٹکس” کے زمرے میں آتا ہے ۔
یار لوگ تو بغیر پڑھے ہی لینگویسٹیکس کے ماہر ہوتے ہیں؛ محبوب کی گفتار و چال سے ہربات کا اندازہ لگا لیتے ہیں، اور تو اور آنکھوں آنکھوں سے جو جوت جگاتے ہیں اسکی تو کوئی مثال نہیں ؛
کون کہتا ہے کہ محبت کی زباں ہوتی ہے
یہ حقیقت تو نگاہوں سے عیاں ہوتی ہے
محترمہ بینظیر بھٹو، ایک شخصیت، ایک سیاستدان
محترمہ بینظیر بھٹو، ایک شخصیت، ایک سیاستدان
ستائیس دسمبر کو پاکستان میں مقبول سیاسی لیڈر بے نظیر بھٹو کی دوسری برسی
تحریروتحقیق:محمد الطاف گوہر
ہر طرف سناٹا سا چھایا ہوا تھا، ہو کا عالم اور سڑکوں پر بھیڑ اتنی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، یا الٰہی ما جرا کیا ہے ؟ شام کے وقت جب دفتر سے گھر کی راہ لی تو ہر طرف دھوئیں کے بادل دکھائی دئیے ، ہر طرف لوگوں کا جم غفیر تھا کہ حیرت کی انتہا نہ رہی ، لاہور کی سڑکوں پر اتنا ہجوم پہلے کبھی نہ دیکھا تھا،چہروں سے لگتا تھا کہ جیسے گہری خاموش نگاہیں کسی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں اور سوالیہ نشان بنے خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی ہیں، ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ پہلے تو کبھی اسطرح کی کیفیت اور معاملہ دیکھنے کو نہ ملا تھا۔
بے خبری کا عالم تھا،کیونکہ آج خبریں سننے کا اتفاق نہ ہو سکا۔ میرا خیال تھا کہ اس علاقہ میں کوئی گھمبیر واقعہ ہو گیا ہے جو ساری آبادی امڈ آئی، مگر جب ایک سڑک سے دوسری سڑک تک آیا تو کوئی تبدیلی نظر نہ آئی اور ہر طرف ایک سا سماں تھا ، میرا چہرہ سوالیہ نشان بن گیا کہ ایسی کونسی افتاد ٹوٹ پڑی کہ ہر طرف لوگ ہی لوگ جمع ہیں ۔ ملکی پیمانے پر کوئی بات لگتی ہے جو اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں مگر عرصہ دراز سے ہمارے ملک میں تو سیاست تو دفن ہو چکی تھی کیونکہ امریت کا دور دورہ تھا، البتہ ایک نئی بساط پچھائی گئی اور سارے مہرے نئے سرے سے امپورٹ کئیے گئے تھے ، عوام میں نئے سرے سے جمہوریت کی صدا بلند کی جارہی تھی ، انہی سوچوں میں مگن میں نے ایک مجمع کے پاس گاڑی روکی اور پوچھا بھی ماجرا کیا ہے؟ تو وہ شخص حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا جیسے میں نے کوئی عجیب سی بات کر دی ، اور غمناک لہجے میں بولا ” آ پکو نہیں پتا کہ آج محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل ہو گیا” ، اسکی بات سن کر مجھے واقعی بہت صدمہ ہوا جیسے کہ فیملی کا کوئی فرد انتقال کر گیا ہو، اس شخص سے دوسرا سوال کیا کہ ” کیا آپ سب لوگ پیپلز پارٹی کے ہیں ؟” تو وہ بولا بھئی میں اور میرے دوست کسی پار ٹی سے نہیں مگر ہمیں اس واقعہ کا گہرا صدمہ ہوا ہے اور افسوس کی خاطر جمع ہوئے ہیں کہ ” اس بات سے قطع نظر کہ محترمہ ایک خاتون تھیں، وہ ایک نڈر،عظیم لیڈر ، کامیاب شخصیت اور سیاسی لیڈر تھیں”۔
دسمبر، 2007۔ پاکستان کی سحر انگیز سیاسی شخصیت کی مالک سابق وزیرِ اعظم، بے نظیر بھٹو کو ان کی انتخابی مہم کے دوران قتل کر دیا گیا۔ انھوں نے ملک سے فوجی حکومت ختم کرنے اور جمہوریت بحال کرنے کا عہد کیا تھا۔ پھر ان کے بعد انکے شوہر آصف علی زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی نے فتح سے ہمکنار کروایا اور گذشتہ سال پرویز مشرف کے سبکدوش ہونے کے بعد وہ ملک کے صدر بن گئے۔ آج ستائیس دسمبر کو پاکستان میں سیاسی لیڈر بے نظیر بھٹو کے قتل کی دوسری برسی پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دو سال قبل آج ہی کے دن، پاکستان کی دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والی بے نظیر کو راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ ان کے قتل سے جڑے معاملات ابھی تک حل طلب ہیں۔ مقامی تحقیقی اداروں کے علاوہ برطانیہ کے سکاٹ لینڈ یارڈ، امریکہ کی ایف بی آئی کے علاوہ اقوام متحدہ کے خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے بھی سانحہ کی تفتیش میں حصہ لیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری کی حکومت بہت کمزور ہے۔ تجزیہ کار ملک کی خراب اقتصادی حالت اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس میں مسٹر زرداری اور ان کی کابینہ کے کچھ ارکان کے خلاف کرپشن کے کیس دوبارہ کھولنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ ملک میں وکلا ء اور بہت سے عام پاکستانیوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔ جہاں تک دو برس قبل بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان میں جمہوریت کا تعلق ہے، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورتِ حال مِلی جُلی ہے۔حالات اب بہت بہتر ہیں کیوں کہ پاکستان میں اب سویلین انتظامیہ ہے، عدلیہ بحال ہو چکی ہے اور عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے نزدیک پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں اب تک مضبوط نہیں ہوئی ہیں۔ سویلین حکومت کو جمہوری ادارے تعمیر کرنے اور کرپشن پر قابو پانے کے لیے تیزی سے کارروائی کرنی چاہیئے۔
وکیپیڈیا ایک تجزیہ میں لکھتا ہے کہ “محترمہ کے کچھ متنازعہ بیانات کے باعث پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کردیا۔ جیسا کہ انکے بیانات میں؛ لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی؛ ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کاروائی کی اجازت دے دیں گی؛ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کو پوچھ گچھ کے لئے امریکہ کے حوالے کردیں گی۔ جبکہ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہو گئ کہ کرسی کے حصول کیلئے امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک جا سکتی ہیں۔”
ملک پاکستان میں اگر ایک طرف ادارے مضبوط ہو رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی کھیل بھی جاری ہے، دعاگو ہیں کہ پاکستان کو ایسے اچھے لیڈر ملیں جو اس ملک کو انتشار اور بدامنی کے فضا سے نکال کر پرسکون اور کامیابی کی راہ پر ڈال سکیں اور جس مقصد اور بنیادوں ہر یہ ملک آزاد ہوا تھا کہ “مسلمان اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں” اور پاکستان کی اساس اسلامی بنیادوں پر ڈالی گئی ، اس پر قائم رہتے ہوئے عوام کے مسائل حل کر سکیں، آمین!




