Category Archives: ویب سائٹس

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔


لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


پاک ڈاٹ نیٹ ۔ محبتیں بانٹنے کی جگہ ، سالگرہ پر خصوصی تحریر

پاک ڈاٹ نیٹ ۔ محبتیں بانٹنے کی جگہ ، سالگرہ پر خصوصی تحریر

قومی و ملی جذبے سے سرشار لوگ اگر ایک جگہ پر آپکو ملیں تو اسے آپ بے جھجک ” پاک نیٹ” کہ سکتے ہیں۔

ہر لحظہ اک نئی روش اور نیا انداز کہ یہاں کے باسی کسی جمود کا شکار نہیں بلکہ زندگی کے بھرے جام ہیں ،اگر کوئی سیراب ہونا چاہے تو اسکو کبھی تشنگی کا احساس نہ رہے۔

اس چمن میں آپکو اردو کے تمام گل ملیں گے جو آپکی روح تک کو تازہ کر دیں گے

تحریر:محمدالطاف گوہر

کبھی محبتوں کے سائے اور کبھی الفتوں کی شاموں میں ایک مقام، جہاں آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہتے ہوئے ، شامل ہو سکتے ہیں ۔ اس مقام محبت ، چاہت اور دوستیوں کے شہر میں آپکو ہر وقت گرم جوشی سے ویلکم کہا جاتا ہے۔اس چمن میں آپکو اردو کے تمام گل ملیں گے جو آپکی روح تک کو تازہ کر دیں گے کہ ایک بار اگر کوئی بھولا بھٹکا مسافر یہاں سے گزر کرے تو اسے منزل نظر آئے۔
ہر لحظہ اک نئی روش اور نیا انداز کہ یہاں کے باسی کسی جمود کا شکار نہیں بلکہ زندگی کے بھرے جام ہیں ،اگر کوئی سیراب ہونا چاہے تو اسکو کبھی تشنگی کا احساس نہ رہے۔ یہ مقام آپکے باہر نہیں بلکہ آپکے من میں ہے اور اسے آپ “پاک نیٹ ” کے نام سے موسوم کریں گے۔دنیا کے کونے کونے سے محبتیں بانٹتے ، قومی و ملی جذبے سے سرشار لوگ اگر ایک جگہ پر آپکو ملیں تو اسے آپ بے جھجک ” پاک نیٹ” کہ سکتے ہیں۔
میرا گزر اس چمنِ مروت سے کچھ عرصہ پہلے اپنے مضامین کی تلاش میں سرچ انجن کی بدولت ہوا، اس فورم پر آکر میں نے محسوس کیا کہ یہاں زندگی کا رقص اردو کے گرد جاری ہے تو تکیہ کرلیا۔اور چند ہی ماہ میں اپنے 100 سے زائد مضامین اس چمن کی زینت کر دیئے۔ پاک نیٹ ایک ایسا فورم ہے جسکا چہرہ ایک کتاب جیسا ہے جبکہ لفظ پڑھنا میری عادت ہے، لہذا یہاں پر روکنا ناگزیر ہوگیا۔
پاک نیٹ کے انٹرنیٹ اعدادوشمار کے مطابق روزانہ چالیس ہزار سے زائد لوگ سے صفحات پڑھتے ہیں جبکہ بیس ہزار سے زائد لوگ اسے وزٹ کرتے ہیں۔ان میں سے 91۔7% لوگ پاکستان سے، 2۔9% لوگ انڈیا سے ، 1۔2% امریکہ سے اور 4۔2% باقی دیگر ممالک سے شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
آج یہ پاکستانی قوم اور ملت اسلام کی روشن شمع اپنا قد بلند کر رہی ہے اور روشنی بڑھاتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے ، اس سالگرہ کے موقع پر اس کی انتظامیہ، ممبران اور مہمانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ یہ کامیابیوں کا سفر اپنی آب و تاب سے جاری رہے گا۔۔۔
خیر اندیش
محمد الطاف گوہر- لاہور


FaceBook |فیس بک ۔ سماجی اور کاروباری روابط کا عالمگیر ذریعہ


فیس بک ۔ سماجی اور کاروباری روابط کا عالمگیر ذریعہ

تحریر: محمد الطاف گوہر
گوگل ، یاہو سرچ انجن کے بعد فیس بک دنیا کی تیسرے نمبر پر استعمال ہونے والی ایک عالمگیر حیثیت کی حامل ویب سائٹ ہے جو کہ سماجی روابط کی بنیاد پر قائم ہے اور آپ یہاں اپنا ذاتی صفحہ بغیر کسی اخراجات کے حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ آپ اپنے کاروبار کا شوروم بھی کھول سکتے ہیں جسکا آپ کو کچھ ادا بھی نہیں کرنا پڑے گا البتہ اسکی تشہیر کرنے کے کچھ اخراجات ضرور ہونگے۔ فیس بک نے انٹرنیٹ کی دنیا میں 29 مارچ 1997 میں قدم رکھا اور آ پنی لاتعداد شاندار خصوصیات کی وجہ سے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ حالانکہ باہمی سماجی روابط کو بڑھانے والی اور بھی ویب سائٹ موجود ہیں ، جیسا کہ hi5, Friendster, MySpace, Orkut, وغیرہ مگر جو کامیابی فیس بک کو حاصل ہوئی ہے وہی اس کی صحیح حق دار ہے۔کیونکہ اس ویب سائٹ نے جدت کو سامنے رکھتے ہوئے سماجی روابط کا ایک لا متناہی سلسلہ پیش کیا ہے جسکا صلہ میں آج آپ فیس بک کو ویب سائٹ کی دنیا میں انتہائی کامیابی کی بلندیوں پہ دیکھ رہے ہیں جہاں کہ اس نے اپنی انفرادیت کا لوہا منو ایا ہے۔فیس بک پر آپ اپنے دوستوں سے چیٹ کے ساتھ ساتھ ہر معلومات شیر سکتے ہیں چاہے وہ معلومات فلم کی شکل میں ہو یا آواز اور یا پھر تصویر کی شکل میں۔
بنیادی طور پر یہ ویب سائٹ انگلش زبان میں بنائی گئی ہے مگر اس وقت تقریباً دنیا کی چالیس زبانوں میں پیش کر دی گئی ہے جبکہ آپ اسے اردو زبان میں بھی دیکھ سکتے ہیں اور اس ویب سائٹ کے چلانے والے اسے دنیا کی ہر زبان میں پیش کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔
دنیا میں صرف چین اور روس دو ایسے ملک ہیں جن کی کل آبادی فیس بک کے صارفین کی تعداد سے زیادہ ہے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹ فیس بک زبردست ترقی کرتے ہوئے دنیا بھر کی مقبول ترین سائٹوں میں تیسرے نمبر پر آ گئی ہے۔ 2008جون کے مہینے میں فیس بک پر دو کروڑ 40 لاکھ نئے افراد آئے، جس کے بعد اس کے کل صارفین کی تعداد 34 کروڑ ہو گئی ہے۔ اب صرف گوگل اور یاہو کی سائٹیں فیس بک سے آگے ہیں۔گذشتہ سال فیس بک کے حجم میں 157 فی صد کا اضافہ ہوا اور 20 کروڑ 80 لاکھ نئے لوگوں نے اس سائٹ سے استفادہ کیا۔ اپریل 2008ء میں فیس بک اپنی حریف سائٹ ’مائی سپیس‘ سے آگے نکل گئی۔ اگست 2008ء میں اس نے ایمیزان کو پیچھے چھوڑ دیا، جب کہ جنوری 2009ء میں ای بے اور فروری 2009ء میں اے او ایل سے آگے نکل گئی۔ گذشتہ ماہ فیس بک وکی پیڈیا سے برتری حاصل کرتے ہوئے دنیا کی تیسری سب سے بڑی سائٹ بن گئی۔
اب اگر دیکھا جائے تو اس دنیا کا ایک عکس انٹرنیٹ پر چھاپ کیطرح سے پڑ چکا ہے اور ایک نئی دنیا کا وجود اپنا اظہار کر رہا ہے جسے میں UltraSpace ماورائی دنیا ، کہوں تو بجا ہوگا۔ اس دنیا کو آپ سب نے ملکر وجود دیا ہے اور یہ دنیا باہمی روابط میں اپنی مثال آپ ہے جبکہ اس کی نہ تو جغرافیائی حدیں ہیں اور نہ ہی تہذیبی، سماجی اور مذہبی بلکہ اس خطئہ زمیں پر بسنے والے انسانوں کا ایک جم غفیر ہے جو صرف حقائق اور مفادات کی طرف رواں دواں ہے۔
یہاں تہذیبوں کا ادغام ہو رہا ہے اور سچ اور جھوٹ کا موازنہ آسان ہوتا جا رہا ہے جبکہ نئے رحجانات سامنے آتے جا رہے ہیں جیسا کہ سچ کی تلاش میں لامحدود ذرائع آپکے سامنے موجود ہیں ۔ باہمی روابط کی انقلابی رو نے جو راستے متعین کئے ہیں اس کے باعث اسلام کا بول بالا ہوتا جا رہا ہے جبکہ آج دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قران مجید ہے ۔ حقائق ، روشنیوں اور سمجھ بوجھ کی اس رو کو اب کوئی محدود نہیں کر سکتا البتہ محدود علم ضرور اس سے متاثر ہوگا جو ہمیشہ سے جمود کا شکار رہا ہے بلکہ میں تو کم علمی اور سطحی علم کو تو ایک اندھا کنواں کہوں گا۔
جی!!! ہم فیس بک کی بات کر رہے تھے تو آئیے دیکھیں یہ اپنے اندر کونسی خصوصیات سمیٹے ہوئے ۔ یہ ویب سائٹ اپنے ممبرز کو باہمی روابط بڑھانے میں پیش پیش ہے جہاں آنے والے کو دوستی، کاروبار اور معلومات کو بڑھانے اور کے ساتھ ساتھ دنیا کی ہر شے سے وابستگی حاصل ہوتی ہے ۔ ایک فرد کی تمام معلومات اور رابطے تمام افراد سے شئیر کئیے جا سکتے ہیں ۔۔۔
اس سب کیلئے آپکو سب سے پہلے فیس بک پر اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے جسکی کوئی قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی بلکہ آپ کا ذاتی استعمال کا ای میل ہی کافی ہے ۔ فیس بک پر آپکے لیے بے شمار استعمال کے آلات موجود ہیں جیسا کہ جب بھی کوئی فرد اپنے لئے ایک صفحہ مخصوص کرنا چاہے تو اسے سب سے پہلے
facebook.com ویب سائٹ پر جا کر ایک چھوٹا سا فارم بھرنا پڑتا ہے جس میں ای میل ایڈریس کو بیادی حیثیت حاصل ہے ۔ مثلاً اگر مجھے اپنا مفت اکاؤنٹ کھولنا ہے تو میں اپنا ای میل guhar@msn.com استعمال کرونگا جبکہ نام کی جگہ پر دو حصوں پر مشتمل نام لکھنا پڑے گا جیسے Altaf +Gohar سکے بعد پاس ورڈ دے کر آپ مفت اکاؤنٹ حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور آ پکو آپکے ای میل ایڈریس پر ایک میل فیس بک کیطرف سے موصول ہوگا جس سے مزید رہنمائی حاصل ہوگی اور اکاؤنٹ بھی ایکٹیو ہو جائے گا۔ مگر یاد رکھیں کہ آپ کا نام انفرادی حیثیت کا حامل نہیں ، یعنی ملتے جلتے ناموں سے کوئی اور بھی افراد ہو سکتے ہیں البتہ اگر آپ اپنی انفرادیت کا اکاؤنٹ بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ
facebook.com/guhar
facebook.com/urdupoint
facebook.com/hamariweb
تو آپکو فیس بک میں لاگ ان ہو کر اور setting میں جا کر username کی جگہ پر کم از کم 5 الفاظ پر مشتمل ایک اپنی مرضی کا نام دینا پٹر ے گا جبکہ اس نام کے موجود ہونے کا آپکو فیس بک اپنی سرچ سے تلاش کر کے بتلائے گی ۔ اگر آپکی مرضی کا نام مل گیا تو آپکو اپنا موبائل نمبر بھی دینا پڑے گا ۔ اس سلسلہ کے بعد فیس بک رجسٹریشن کیطرف سے آپکے موبائل فون پر ایک ایس ایم ایس آئے گا اور اس میں آپکو ایک کوڈ نمبر دیا جائے گا جس کو آپ فیس بک کے کوڈ والے باکس میں لکھ دیں اور اپنا یو نیک آئی ڈی حاصل کریں
لا شمار فوائد کی حامل اس ویب سائٹ میں روابط کا لا متناہی سلسلہ کسی بھی کاروبار کو وسعت دینے کا ایک شاندار ذریعہ بھی ہے کیونکہ آپ اپنے کاروبار یا اسکی ویب سائٹ کی تشہیر نہایت آسانی سے کر سکتے ہیں ۔ فیس بک کا اشتہار بنانے کا ویزرڈ آپکو آسانی سے دستیاب ہو گا اور آپ خود ہی کسی مدد کے بغیر ایک شاندار اشتہار تیار کر سکتے ہیں جسے آ پنی مرضی کے لوگوں ، علاقے یا پھر مخصوص ملکی سطح پہ بھیج سکتے ہیں ۔اس شاندار کام کا اندازہ یہاں سے کریں کہ آپ اپنا اشتہار بنانے کے بعد اپنے مرضی کے مطابق اسکی تشہیر کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں جہاں کہ فیس بک کا ڈیٹا بیس آپکی مدد کرے گا۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت سی خصوصیات کی حامل اس ویب سائٹ کو ایک تحریر میں تمام کرنا ممکن نہیں ، اگلی کسی تحریر میں اسکی افادیت کے رازوں سے مزید پردہ اٹھاؤں گا۔


islamicface or facebook? | فیس بک یا اسلامی چہرہ؟


فیس بک نے اگر ایک طرف عالم گیری حیثیت بنا لی ہے تو دوسری طرف اسکے خدوخال قطعی طور پر اسلامی نہیں یعنی آپکے ذاتی نوعیت کے روابط جنکو آپ صرف آ پنی ذات تک محدود رکھنا چاہتے ہیں ؛ نہ صرف فیس بک کے شوروم کا حصہ بن کر دوسروں کے لیے ایک دعوت نظارہ بن جاتے ہیں بلکہ فیس بک انکو للچانے کے لیے انتہائی شاندار طریقے سے استعمال بھی کرتا ہے۔ سماجی روابط اور ایک چہرے کو سیڑھی بنا کر دوسرا اور دوسرے کو زینہ بنا کر تیسرا اور اسطرح ایک لامتناہی سلسلہ کا آغاز کرنے والے فیس بک میں کوئی اخلاقی ضابطہ موجود نہیں بلکہ اسلامی خدوخال بھی اس کی بچھائی ہوئی بساط پہ ایک سمندر میں تیرتی ہوئی کشتی کی مانند ہیں؛ آج اگر اس چہروں کے تیرتے سمندر میں ہمیں اسلامی خدوخال تلاش کرنے ہوں تو آپ کو اس کے کچھ حصوں میں نظر آئیں گے اور وہ بھی کسی غیر مسلم کے رحم و کرم پہ ؟
علاوہ ازیں آپکی کوئی انفرادیت کا خیال نہیں رکھا جاتا ، یعنی اگر فیس بک آپکا ای میل آئی ڈی لیکر ایک طرف آپکے دوستوں کو اپ کے ذاتی صفحے کی دعوت دیتا ہے تو دوسری طرف آپکے ذاتی روابط کو دوسرے لوگوں کو آفر بھی کرتا ہے بلکہ آپکی یہاں کوئی ذاتی حیثیت نہیں اور جو لوگ پہلے آپکی ذات تک محدود تھے اب انکو فیس بک اپنا ذاتی سرمایہ سمجھ کر دوسروں کا للچانے کا ذریعہ بنا تا ہے ۔
اگر بغور دیکھا جائے تو اس فیس بک پر اسلامی چہرے اسکی زینت کو بڑھا رہے ہیں جبکہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور اسکے اپنے خدوخال اور اخلاقی ضوابط ہیں؛ اسکا اپنا ایک چہرہ ہے جسے کسی دوسرے ذرائع سے نمایاں ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ دوسرے چہرے اسکے مرہون منت ہونے چاہیں؛ ا سلامی چہرہ islamicface.com میری طرف سے پہلی کاوش ہے جہاں اسلامی چہروں کی ایک علیحدہ شناخت کا تسلسل قائم کرنے کا تصور پایا جاتا ہے ۔ جہاں اسلامی قدریں؛ ترویج و تفہیم اسلام اور اس کرہء ارض ہر موجود مسلم چہروں کو انٹرنیٹ پر ایک اجتماعی چہرہ دینے کی کاوش کی جائے گی۔ جہاں باہمی کاروبار کو بڑھانے اور باہمی اسلامی روابط کو جدید عوامل کے پیش نظر ایک اجتماعی نہج دینے کا تصور قائم ہوگا۔جبکہ اسکے ساتھ ساتھ جدت کے تمام تقاضوں کو اسلامی نقطہ نظر میں سمویا جائے گا ، جبکہ انفرادی اور اجتماعی رائے کی اہمیت کے پیش نظر آزادی اظہار کو نمایاں حیثیت حاصل ہوگی۔
ہم لوگ اپنے لیے بہت کچھ کرتے ہیں اور لوگوں کی لیے بھی ؛ بلاگ؛ تحریریں لکھتے ہیں ؛ کبھی اپنے نام کی خاطر کبھی اپنی انا ء کی تسکین خاطر ؛ کبھی ملک کی خاطر اور کبھی پیسے کی خاطر ؛ اگر ایک کام جو کہ ہماری پہچان ہے اور ہمارے ایک چہرہ اور وجود ہونے کی خاطر کر لیا جائے تو ہو سکتا ہے وہی قیمتی سرمایہ بن جائے۔
اسلامی چہرہ islamicface.com کے لیے آپ سب سے التماس ہے کہ اپنی بھرپور رائے دیں ۔ آپ میں سے اگر کوئی فرد اس کام میں شامل ہونا پسند کرے یا اگر کوئی بھی فرد کسی قسم کی معاونت کا خواہشمند ہے تو مجھے میل کر دے
خیر اندیش
محمدالطاف گوہر
mrgohar@yahoo.com


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers