Category Archives: کھیل و صحت

لذتِ آشنائی

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com
Like this:
Be the first to like this post.
1 comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Health, People, Politics, ممکن, موقع, مکمل, مائنڈ سائنس, محمد, معلوم, چینل, نظر, ویڈیوز, یو ٹیوب, کمپیوٹر, کالم, پراسرار علوم, اسلام اور دور جدید, بچوں, تلاش, حال, صلاحیت, صحت و تندرستی, صرف | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نفسیات, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, امیگریشن و بیرون ممالک تعلیم, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بچوں کی دنیا, بین الاقوامی امور, تفریحات, تاریخ, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, جنسیات, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق

" لذتِ آشنائی"
Like this:
Be the first to like this post.
13 comments | tags: Articles, Blog, Education, Health, People, Politics, Science & Technology, لذتِ آشنائی, مائنڈ سائنس, نوجوان, کالم, کتاب, پراسرارعلوم, آج, اسلام اور دور جدید, تلاش, تحقیقات, صلاحیت, عقل, عبادت | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, Pakistan, Uncategorized, ہوشمندی, قوتِ خیال, قرآن و سنت, لذتِ آشنائی, ملکی امور, مائنڈ سائنس, متفرقات, معلومات, نفس, نوجوان, ویڈیوز, ویب سائٹس, وطنیت، پاکستانیت, کھیل و صحت, کالم, گپ شپ, گھریلو امور, پیار کی بہار, پراسرار بندے, پراسرار علوم, پراسرارعلوم, اقوالِ زریں, اقبالیات, الٹرامائنڈ, انسان, ایجادات, احادیث مبارکہ ﷺ, ادب و ثقافت, اردو ادب, اسلام, اسلام و معاشرہ, اسلام اور دور جدید, بین الاقوامی امور, تحقیقات, تصوف, تعلیم و تربیت, تعارف, ثقافت, حقوق العباد, حسن و خوبصورتی, خواتین, خواتین کی دنیا, خبریں, رقص, روح, رسول اللہ ﷺ, زندگی, سیاست, سالگرہیں, سائنس و ٹیکنالوجی, شخصیات, شعروشاعری, صنعت وتجارت, صحت و تندرستی, صرف بوڑھوں کیلئے, طنزومزاح, عقائد, عمومی بحث, عید و تہوار, عبادات, عشق
غصہ دل کی بیماری کاباعث بن سکتا ہے
تازہ تحقیقی انکشاف
طبی ماہرین کا کہنا ہے غصہ اور مخالفت کے جذبات، دل کی بیماری کے خطرے کی ایک ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ مطالعاتی جائزوں کے ایک تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ جن صحت مند افراد پر دل کا حملہ ہوا اورایسے لوگ جن میں ہارٹ اٹیک سے پہلے دل کی کسی بیماری کی علامتیں موجود تھیں، ان میں غصہ اور مخالفانہ جذبات ایک ابتدائی علامت کے طورپر پہلے سے موجود تھے۔
ماہرین کا کہناہے کہ ڈاکٹر غصے کی علامات کو دل کی بیماری کے لیے ایک ابتدائی علامت کے طورپر دیکھتے ہوئے مریض کو ان کے مزاج پر قابو پانے کا علاج تجویز کرسکتے ہیں۔ برطانیہ میں، جہاں تقریباً 25 لاکھ افراد دل کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہرسال لگ بھگ 94 ہزار افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں، وہاں یہ مرض اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔
خیال کیا جاتا ہے کہ موت اور دل کی بیماریوں میں اس تعلق کی وجہ لوگوں کا طرز زندگی ہے۔ مثلاً تمباکو نوشی، ورزش کی کمی، وزن کا بڑھ جانا اور غربت۔ یہ تمام عوامل انسان میں غصے اور مخالفانہ جذبات کو جنم دیتے ہیں جو دل کی بیماری کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ برطانیہ کے یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے صحت مند افراد پر کیے جانے والے 25 اور دل کی بیماریوں میں مبتلا 18 مطالعاتی جائزوں کا تجزیہ کیا۔
یونیوسٹی کالج لندن کے وبائی امراض او رصحت عامہ کے شعبے کے ڈاکٹر یوئی چی چندا کا کہنا ہے کہ تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ ابتدائی طورپر صحت مند افراد میں غصے اور معاندانہ جذبات سے دل کی بیماری کے بارے میں 19 فی صد اضافے کی پیش گوئی کی جاسکتی تھی۔ جب کہ پہلے سے دل کی بیماری میں مبتلا افراد میں ان جذبات کے نتیجے میں اس بیماری 24 فی صد اضافہ ہوسکتا تھا۔
غصے اور معاندانہ جذبات کا دل کے امراض سے تعلق عورت کی نسبت مردوں میں زیادہ تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روزمرہ زندگی میں ذہنی دباؤ کا اثرمردوں پر زیادہ ہوتا ہے، جس سے وہ مستقبل میں دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
نیدر لینڈ کی ٹل برگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جان ڈینولٹ کا کہنا ہے کہ یہ تجزیہ اس بارے میں مزید شواہد فراہم کرتا ہے کہ نفسیاتی معاملات دل کے امراض پیدا ہونے اور پہلے سے موجود دل کی بیماریوں میں اضافے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معالجین کو غصے اور معاندانہ جذبات کی علامتوں پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور ایسے مریضوں کو نفسیاتی علاج کے لیے بھیجنا چاہیے۔
کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک ٹیم کو ایک اور مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ خواتین میں شدید ڈیپریشن ان میں دل کی بیماری کے خطرے کی ایک ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ 63 ہزار خواتین پر کیے جانے والے مطالعاتی جائزے سے یہ ظاہر ہوا کہ شدید ڈیپریشن میں مبتلا خواتین، اور ایسی خواتین جو ڈیپریشن دور کرنے کی دوائیں استعمال کررہی تھیں ان میں اچانک حرکت قلب بند ہونے یا دل کی شدید بیماری کا خطرہ زیادہ تھا۔
تجزیاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ولیم وہنگ کا کہنا ہے کہ ڈیپریشن میں مبتلا خواتین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈیپریشن اور دل کی بیماری میں ایک ممکنہ تعلق موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دل کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شدید ڈیپریشن میں مبتلا خواتین میں خون کے زیاد ہ دباؤ، ذیابیطس، کولیسٹرول کی بلند سطح اور تماکو نوشی جیسی علامات بھی عام تھیں۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن سے منسلک جون ڈیویسن کہتی ہیں کہ ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ غصے کا دل کی بیماری کے خطرے میں اضافےسے کیا تعلق ہے، لیکن ہمارا خیال ہے کہ ایسے افراد غیر صحت مندانہ طرز زندگی گذار رہے ہوتے ہیں مثلاً وہ تمباکونوشی کرتے ہیں یا غیر صحت بخش خوراک کھاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ غصے اور مخالفانہ جذبات کی وجہ سے ہمارے جسم سے کچھ کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جو دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن ہم حتمی طورپر یہ نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں اکثر لوگوں کو کبھی کبھار غصہ آتا ہے، لیکن یہ کوئی خطرے کی علامت نہیں ہے۔ لیکن جب کسی شخص کو ایک طویل عرصے تک مسلسل غصہ آتا رہے تو اسے دل کی بیماری سے بچنے اور اپنی مجموعی صحت کے لیے اس کیفیت سے نکلنے کے لیے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانی چاہیے۔
(ویب ایم ڈی سے ماخوذ(
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Article, Articles, Blog, Education, Health, People, Science & Technology, معلوم, نوجوان, کالم, تحقیقات, زندگی, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کھیل و صحت, کالم, گھریلو امور, تحقیقات, خبریں, صحت و تندرستی, عمومی بحث
کینسر کے خلاف سبزیاں اور پھل انتہائی اہم ہیں
سائنس و ٹیکنالوجی
ماہرین کا خیال ہے کہ پھل اور سبزیاں انسانی خوراک کا لازمی جز ہونی چاہئیں ان میں موجود وٹامنز اور معدنیات صحت مند رہنے اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے معاون ثابت ہوتی ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں میں موجود دوسرے اجزاء اینٹی آکسیڈنٹس، پیتھو کیکیکلز اور دیگر مرکبات کینسر، ذیابیطس اور دل کے امراض سے محفوظ رکھتے ہیں۔
سبزیوں اور پھلوں کی ڈھیروں اقسام موجود ہیں ماہرین کا اصرار ہے کہ روزانہ پانچ مختلف اقسام کی سبزیاں اور دو اقسام کے پھل انسانی خوراک کا حصہ ہونی چاہئیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی پزیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک میں بھی کینسر کا ایک سبب سبزیوں اور پھلوں کا کم تر ہوتا استعمال ہے اور عموما لوگ سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کو نظر انداز کرتے ہیں جو صحت کی خرابی کی ایک اہم وجہ ہے۔
اس حوالے سے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے شوکت خانم میموریل کیسنر ہسپتال اور تحقیقی مرکز کے وابستہ ڈاکٹر نتاشہ انور کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی نے انسانی خوراک پر انتہائی منفی اثرات ڈالے ہیں اور لوگ خوراک کے معاملے میں ڈبہ بند خوراک پر انحصار کرنے لگے ہیں ۔ جس کے باعث زیادہ عرصے تک محفوظ رہنے والی خوراک استعمال کی جارہی ہے جس میں موجود کیمیکلز انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نتاشا انور کا کہنا تھا کہ ایسی خوراک فطری خوراک کا نعم البدل ہر گز نہیں ہو سکتی۔
سبزیوں اور پھلوں کی کینسر کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے مسلسل تحقیق چل رہی ہے اور آئے روز اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں ابھی حال ہی میں امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ سرطان کے خاتمے کیلئے انگوروں کے بیجوں کا گودا نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے۔
طبی ماہرین نے لیبارٹری میں تجربات کرتے ہوئے خون کے سرطان پر انگوروں کے بیجوں کے گودے کو آزمایا اور صرف24 گھنٹوں میں سرطان کے خلیوں کی 76 فیصد تعداد کو کم ہوتے دیکھا جبکہ خون کے اندر صحت مند خلیے اس سے محفوظ رہے۔
طبی ماہرین نے ان تجربات کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ عالمی سطح پر اب خون کے سرطان کے علاج کی نئی دوا تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل ”لاکومیا“ کے مریضوں کو کثرت سے انگور کھانے کی سفارش کی جاتی تھی جس کو بنیاد بناکر نئی تحقیق شروع کی گئی تھی۔ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ انگوروں کے بیجوں میں جسم سے فاسد مادے خارج کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے اور دل کو مضبوط بنانے کیلئے یہ ایک بہترین ٹانک ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین نے مزید کہا ہے کہ ان بیجوں میں جلد، چھاتی، مثانہ، پھیپھڑوں اور معدے کے سرطان کے خلاف بھی قوت دیکھی گئی ہے۔ چوہوں میں چھاتی اور جلد کے کینسر ٹیومر کا سائز ان بیجوں کے استعمال سے کم ہوگیا تھا۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کینٹیکی کے پروفیسر زینگ لینگ شائی نے مکمل کی ہے۔
بشکریہ DWD
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Culture, Education, Family, Health, People, Science & Technology, نوجوان, کالم, تحقیقات, زندگی, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کھیل و صحت, کالم, گھریلو امور, انسان, تحقیقات, خواتین کی دنیا, خبریں, صحت و تندرستی, عمومی بحث
بالوں کی سفیدی جینیات کی وجہ سے ہوتی ہے
سائنس و ٹیکنالوجی
ایک تحقیق کے مطابق خواتین کے بال سفید ہونے کی وجہ انکے رہنے سہنے، کھانے پینے کے طریقے اور ذہنی پریشانی یا فکر سے زیادہ جینیات ہے۔پی ایل اوس نامی رسالے میں اس تحقیق کو شائع کیا گیا ہے جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بال جھڑنے کا تعلق بھی جینیات سے ہے۔
سائنسدانوں نے ڈنمارک میں اٹھاون سے اکسٹھ سالہ دو سو سے زیادہ ہم شکل جڑواں بہنوں اور دو الگ الگ صورتوں کی جڑواں بہنوں پر تحقیق کی جس سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک جین والی بہنوں کے بال سفید ہونےکے طریقے اور وقت میں زیادہ فرق نہیں تھا۔تحقیقات میں پایا گیا کہ جن الگ الگ صورتوں کی جڑواں بہنوں کے جین مختلف تھے ان کے بال بھی ایک ساتھ سفید نہیں ہوئے تھے۔
تحقیقات میں یہ پایا گیا ہے کہ سر کے اوپر سے بال جھڑنے کا سیدھا تعلق ماحولیات اور رہنے سہنے کے طریقے سے ہے۔برٹش ایسوسی ایشن آف ڈرماٹولجسٹ کی نینا گوڈ کا کہنا ہے کہ اسے سے پہلے بھی ان افراد پر تحقیق کی گئی ہے جن کے بال اپنے رشتے داروں سے پہلے سفید ہوگئے تھے لیکن اس کی وجہ ماحولیاتی اسباب تھے یا نہیں یہ پختہ طور پر نہیں پتا چل سکا ہے۔ انکا کہنا تھا ’اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیشتر افراد جن کے بال سفید ہوجاتے ہیں اس کا تعلق ان کے رہنے کے طریقے سے زیادہ جینیات سے ہے جس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے.
Like this:
Be the first to like this post.
Leave a comment | tags: Articles, Blog, Education, Health, People, Science & Technology, نوجوان, تحقیقات, زندگی, صحت و تندرستی | posted in Article, Articles, Blog, Culture, Family, Life, متفرقات, معلومات, نوجوان, کھیل و صحت, کالم, گھریلو امور, انسان, ایجادات, تحقیقات, خبریں, صحت و تندرستی, عمومی بحث