Category Archives: گپ شپ

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔


لذتِ آشنائی

لذتِ آشنائی

Title

ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”


انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




میری تصنیف ” لذتِ آشنائی” آپکی خدمت میں!!!

" لذتِ آشنائی"


اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ

اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ

سائبر ٹھگ؛موبائل ٹھگ؛لینڈ لارڈ ٹھگ؛فقیر نما ٹھگ؛ہینڈ فری ٹھگ؛کارپوریٹڈ ٹھگ؛سیاسی ٹھگ

تحریروتحقیق:محمدالطاف گوہر
پرانے وقتوں میں سیدھے سادھے لوگوں کو کامیابی کے ساتھ لوٹنے والے افراد کو ٹھگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ان میں کمال بات یہ ہوتی تھی کہ لوٹے جانے کے عمل میں موصوف سیدھے سادے لوگوں، یعنی شکار کی رضا مندی بھی شامل ہوتی تھی، کیونکہ ٹھگ کسی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں ہوتے بلکہ اسی دنیا کے باسی ،انتہائی چاپلوس اور گفتگو کے ماہر ہوتے ہیں جبکہ انکو چور ، ڈاکو اور رہزن کبھی بھی نہیں کہا جا سکتا ا لبتہ کسی نہ کسی طرح سے آپ انکو نوسرباز کہہ سکتے ہیں ۔ حضرت ٹھگ ایک معتدل قسم کی قوم ہے ، نہ تو یہ چوروں کی طرح بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں کہ راتوں کو گھروں میں نقب لگاتے پھریں اور نہ ہی نڈر ڈاکوؤں کیطرح سر عام دندناتے ہوئے لوگوں کو لوٹتے پھرتے ہیں بلکہ یہ دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے شکار کے ساتھ ہنسی خوشی کھاتے پیتے اور اسے لوٹ کر چلے جاتے ہیں کہ لٹنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ انکے اس کمال کے باعث میں انہیں اس نوع کی اعلیٰ قوم کہو نگا جو نہ تین میں ہیں اور نہ تیرہ میں مگر اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتے ہیں اور کامیابی کا گراف دوسروں کی نسبت سے کئی گنا زیادہ ہے۔آج اکیسویں صدی میں ٹھگوں کی قوم میں اگر ایک طرف جدت آئی ہے تو دوسری طرف انہوں نے اپنے اندر کلاسیفکیشن بھی کر رکھی ہے۔ جبکہ ان کی یہ تقسیم نہ تو طبقاتی نوعیت کی ہے اور نہ ہی نظریاتی بلکہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق افراد تک رسائی اور ان کو اپنی قربت سے فیضیاب کرنا ایسا امر ہے جو ترجیحی بنیادوں پر اس قوم کو متقسم کرتا ہے۔ انکی تمام اقسام کی معلومات تو کوزے میں بند نہیں ہو سکتی البتہ چیدہ چیدہ اقسام مندرجہ ذیل ہیں؛
سائبر ٹھگ
موبائل ٹھگ
لینڈ لارڈ ٹھگ
فقیر نما ٹھگ
ہینڈ فری ٹھگ
کارپوریٹڈ ٹھگ
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
پرانے وقتوں کے ٹھگوں کا طریقہ کار کچھ دقیانوسی سا ہوتا تھا ، صرف نفسیاتی حربے استعمال کرکے اپنا ہدف حاصل کرتے تھے ، بچارہ لٹنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا تھا اور وہ چلتے بنتے تھے ، مگر جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی ٹھگوں نے بھی ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کر کے وقت کے ساتھ کندھے سے کندہ ملانا شروع کر دیا۔ آج کل سائبر ٹھگوں نے انٹرنیٹ پر ایک بہت بڑا بزنس شروع کیا ہو ا ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ اپکے ای میل باکس میں ایک میل موصول ہوتا ہے ۔ کوئی صاحب، یا صاحبہ اپنا تعارف کروانے کے بعد ایک بہت بڑی ڈیل آفر کرتے ہیں ۔ اپنے فون نمبر اور روابط بھی دیتے ہیں اور ریفرنس بھی، کہ کسی فرد نے اپنا بہت سا روپیہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنا ہے لہذا قرع آپکے نام نکلا ہے کیونکہ آپ انتہائی معتبر شخصیت ہیں ۔ کرنا یوں ہے کہ اپنے مکمل کوائف ای میل کر دیں۔ اس طرح سے یہ لوگ دوسروں کے اکاؤنٹ کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور آن لائن کی سہولت سے لوگوں کا سرمایہ اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر لیتے ہیں یا پھر الجھا کر کچھ رقم بٹور لیتے ہیں۔
اسی طرح ایک دوسری قسم کا ٹھگوں کا گروہ انٹرنیٹ پر لوگوں کی لاٹریاں لگاتا پھر رہا ہے اور نہ جانے لاٹری نکالتے نکالتے کتنوں کا کباڑہ کر گیا ہے۔ ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بوگس ادارے وجود میں آتے ہیں ، کمال قسم کی ویب سائٹ بناتے ہیں اور لوگوں کو دوسرے ممالک سے منگوانے کے ورک پرمٹ آفر کرتے ہیں ۔ مزے دار بات یہ کہ ان پر کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے زبردست طریقہ سے لوٹتے ہیں کہ کسی کو شک ہی نہیں پڑتا ، اور کبھی شک پڑ بھی جائے تو ادارہ دو تین سو ڈالر لیجا چکا ہوتا ہے اور شکار ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔
اب اگر آج کل کے موبائل ٹھگوں کا تذکرہ نہ ہو تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ یہ جدید ٹھگ اپنا طریقہ واردات کچھ اس طرح سے شروع کرتے ہیں کہ کوئی بھی بھلا مانس ان کے جال میں آسانی سے پھنس جائے۔ اگر آپکے موبائل پر کسی انجانے فون نمبر سے کال موصول ہو اور یہ بتلایا جائے کہ آپکا دس لاکھ کا انعام نکل آیا ہے تو کیسا لگے گا؟ اس طرح کی کال موصول ہوتی ہے کہ میں فلاں کمپنی کے ہیڈ آفس سے کال کر رہا ہوں ، آج کمپنی نے ایک قرع اندازی کی ہے جس میں آپ خوش نصیب ٹھہرے ہیں ، آپکو بہت مبارک باد ، کیونکہ آپکا دس لاکھ کا کیش انعام نکلا ہے ، آپ ابھی فورا اسی نمبر پر کال بیک کریں تا کہ آپ کو مزید معلومات دی جا سکیں ۔ بچارہ خوش نصیب جو کہ سانس روکے ہوئے یہ سب کچھ سن رہا ہوتا ہے فورا بھاگم بھاگ ایک نیا کارڈ خرید کر اسے چارج کرتا ہے اور کال بیک کرتا ہے ، اب کسی نئے فرد سے بات ہوتی ہے جو کہ غالباً اپنا تعارف کمپنی کے منیجر کے طور پر کرواتا ہے۔ خوش نصیب ، بلکہ بیچارہ اس سے انعام وصول کرنے کے متعلق تفصیلات معلوم کرتا ہے اور اس طرح ان موبائل ٹھگوں کے نرغے میں پھنس جاتا ہے ۔ اس تمام لے دے کے دوران اس خوش نصیب کو کافی سارے کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے اور انعام کی لالچ ، ، نہیں بلکہ، انعام کی تگ و دو میں اچھی خاصی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
جوانی انجانی اور دیوانی نہ ہو تو اسکو جوانی کون کہے؟ آج کل کے موبائل معاشرے میں اگر آپ کسی پارک کے پاس، یا پارک میں ، یا پھر سڑک کنارے کسی شخص کو اپنے آپ سے باتیں کرتا ، کبھی ہنستا اور کبھی غصہ کرتا دیکھیں تو کہیں غلطی سے پا گل نہ سمجھ بیٹھئے گا کیونکہ وہ ہینڈ فری لگا کر کسی سے موبائل پر بات کر رہا ہو گا۔ چلیں چھوڑیں کام کی بات کرتے ہیں، اکثر اوقات کسی فون نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے اور کسی اچھی آفر کے ساتھ بیلنس ، یا کارڈ چارج کرنے کو کہا جاتا ہے ، یا پھر کبھی مس کال، جو ابھی تک کسی کی نہیں ہوئی ، موصول ہوتی ہے اور بات اپنے انجام پر بیلنس بڑھانے اور کارڈ چارج کروانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
گلی محلوں میں ٹھگی کے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں ، باربر شاپ یعنی حجام کی دوکان یا اسی طرح کی بیٹھک والی جگہوں پر اکثر ہینڈ فری قسم کے ٹھگ پائے جاتے ہیں ، انکا دوکان میں کوئی کام نہیں ہوتا بلکہ ہر گپ شپ میں اپنا لقمہ شامل کرتے رہتے ہیں انکے ساتھ کچھ انکی تعریف کرنے والے اور نقلی ضامن بھی موجود ہوتے ہیں ۔ چند روز کی گپ شپ میں کچھ شکار تلاش کرکے ان سے دوستی بنا لیتے ہیں اور لوگوں کی ضرورتوں کے مطابق آفر کرواتے پھرتے ہیں ، کسی کی نوکری کا بندوبست ، کسی کے گھر کے کام اور کسی کو باہر ممالک میں بھجوانے کی حامی ، اس طرح یہ ٹھگ چند ہی دنوں میں لوگوں سے مختلف کاموں کے کروانے کے بہانے رقم بٹور کر ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
چند ایک لینڈ لارڈ ٹھگ لوگوں میں سستے پلاٹ بانٹتے پھرتے ہیں ، ہوتا یوں ہے کہ ایک صاحب اچانک وارد ہوتے ہیں اور بڑے خوش مزاج انداز میں آپکو اپنا تعارف کرواتے ہیں اور ساتھ ہی مبارک باد دیتے ہیں کہ ڈیر آپ تو بہت خوش نصیب ہو، کیونکہ فلاں سکیم میں آخری چند ایک پلاٹ رہ گئے تھے لہذا قرع اندازی کی گئی ہے اور تین میں سے ایک پلاٹ آپکے نام نکلا ہے ، بہت بہت مبارک ہو!!! آپکو یہ پلاٹ صرف ایک ڈیڑھ لاکھ میں مل جائے گا اب خوش نصیب ، خوشی سے پھولے نہیں سماتا کہ اتنی مہنگائی کے دور میں پلاٹ اور ہو بھی صرف ڈیڑھ لاکھ میں اور آو بھگت میں لگ جاتا ہے ۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ بھئی جی میں تو آپکی فائل بھی لے آیا ہوں ، آپ فائل رکھ لیں اور فلاں دن آکر موقع دیکھ لیں ۔ اب فائل لینے والا جب فائل حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ صاحب کہتے ہیں کہ اس فائل کی معمولی سی قیمت صرف چار سو روپے ہے آپ ادا کر دیں ۔اور سلسلہ چل پڑتا ہے ، موقع پر جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مزید ایک ہزار روپے اور ادا کر دیں کیونکہ خوش نصیب کی تو ابھی تک رجسٹریشن بھی ہونی ہے، اسطرح سے پیسے بٹور نے والے ٹھگ پیسے بٹور تے رہتے ہیں اور آخر کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ جو پلاٹ انکے نام نکلا ہے کسی شورش زدہ علاقے میں شہری حدود سے باہر ہے اور اسکی قیمت ایک لاکھ بھی زیادہ ہے ۔
ایک اور قسم کے ٹھگ جنکو آپ فقیر نما ٹھگ کہ سکتے ہیں ان کا حال سنیں، کئی بار بڑے بڑے دفتروں میں جہاں کہ بڑے مرتبے کے لو گ بیٹھتے ہیں اچانک ملنگ نما لوگ دفتر میں گھس آتے ہیں ، بڑے بڑے منکے پہنے ہوئے ہٹے کٹے ملنگ صاحب آتے ہی اپنا تعارف کچھ اس طرح سے کرواتے ہیں ، ” مستان شاہ کا پھرا ہے ، غصہ تھوک دو ، تمہارے زندگی میں بہت کامیابی ہے صرف غصہ نہ کیا کرو “، اور ساتھ ہی ایک عدد آٹو گراف بک آپکی خد مت میں پیش کر دیں گے جس میں بڑے بڑے لوگوں کے کمنٹس لکھے ہوتے ہیں ، اب اپنے شکار کو مرغوب کرنے کیلئے انکے پاس کچھ شبدے بھی پائے جاتے ہیں ، اکثر اوقات اپنا کرشمہ دکھانے کیلئے آ پنے شکار سے پانچ سو کا نوٹ لیکر اور اسے مٹھی میں بند کرکے اس میں سے پانی کے قطرے نکالتے ہیں اور اسی طرح سے کچھ اور شبدے دیکھا کر کمزور عقیدہ لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے بٹور تے ہیں ۔
اسی طرح ان ٹھگوں میں ایک انتہائی معتبر طبقہ بھی موجود ہے ۔ یہ لوگ شاہانہ انداز میں اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں ، آپ انکو کارپوریٹڈ ٹھگ کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ یہ کارپوریٹ لیول پر کام کرتے ہیں ، انکا طریقہ واردات سب سے مختلف ہے ، کسی بھی بڑے بزنس مین کو اچانک ایک فون کال موصول ہوتی ہے اور ایک بہت بڑا آرڈر بک کروایا جاتا ہے یعنی بڑی تعداد میں اشیا ء خریدنے کی دلچسپی ظاہر کی جاتی ہے ۔ مگر بزنس مین کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت بھی دی جاتی ہے ۔ اب بچارہ بزنس مین اتنے بڑے خریدار کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ، وہ کسی بھی کمٹ منٹ کے تحت گاہک کے پاس جا پہنچتا ہے ۔ کارپوریٹڈ ٹھگ اپنے اڈے شہروں سے کچھ فاصلے ہر بناتے ہیں جیسے لا ہور کے ساتھ بھائی پھیر و وغیرہ، تاکہ ڈیل میچور کر سکیں ۔ انکا ڈسا ہو ا بزنس مین ہمیشہ کیلئے برباد ہو جاتا ہے۔ اب بزنس کی غرض سے آئے ہوئے فرد کو باس سے ملوا نے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر پہلی ملاقات میں باس کی بجائے چند ایک اور آئے ہوئے مہمانوں سے کروائی جاتی ہے جو کہ لفظوں کے جال میں پھنسانے کے ماہر ہوتے ہیں، اور اس طرح آنے والے بزنس میں کو جوا ء کھیلا جاتا ہے جس میں پہلی بار کچھ رقم کی جتوا دی جاتی ہے مگر بزنس میں کو پیسے دیے نہیں جاتے بلکہ امانتاً رکھوا لیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ابھی کھیل نامکمل ہے ، آپ جتنی رقم لاوء گے، یعنی شو کرواوء گے اتنی یہاں سے لیجا سکتے ہو۔ اب بزنس میں اپنی پھنسی ہوئی رقم رکھوا کر اور مزید پیسے لا کر اس کھیل کا حصہ بن جاتا ہے اور اس طرح سے جوئے میں اپنی پونجی ہار بیٹھتا ہے مگر واپس نہیں لے سکتا کیونکہ یہ وہ سب کچھ اپنی مرضی سے ہار چکا ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے اسٹام پیپر تک سائین کروا لئے جاتے ہیں۔ اسطرح سے ہارا ہوا بزنس مین کسی کو بتانے کے قابل بھی نہیں رہتا کہ اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ۔
ایسے کئی اور اقسام کے ٹھگ گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ، جیسے گھروں میں عورتوں کا آکر پیسے ڈبل کرنے کی آفر کے بعد پیسے اور زیور بٹور لینا وغیرہ، آئیے ایک جدید انتہائی تعلیم یافتہ ٹھگ سے ملاقات کا آنکھوں دیکھا حال آپکی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ہوا یوں کہ 2اگست2008 شام تقریباً 6 بجے ایک صاحب میرے آفس میں تشریف لائے اور آتے ہی اتنی بے تکلفی سے ملے اور سلام کیا جیسے مدتوں سے جاننے والے ہیں۔ پھر گفتگو کی سلائس پر مکھن کے دو کوٹ کئے اور اپنا تعارف کروایا کہ “میں راولپنڈی کے ایک کالج میں پروفیسر ہوں، کیمسٹری پڑھاتا ہوں اور کچھ طلبا کو وظیفے پر مختلف ملکوں میں تعلیم کی غرض سے بھجوانا ہے لہذا اس غرض سے لاہور صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ہمارے کالجز کا پورے پنجاب میں ایک بہت بڑا نیٹ ورک ہے اور اس لحاظ سے ہر ایک سیشن میں کم از کم ایک سو طلبا و طالبات کے داخلے آپکو مل جا یا کریں گے”
وہ صاحب گفتگو اور لباس سے قطعی طور پر مہذب انسان لگ رہے تھے جبکہ معلومات کا ایک گنجینہ بھی تھے ۔ مجھے کاروبار سے بڑھ کر انکی شخصیت نے زیادہ متاثر کیا۔ اپنی مسحور کن گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں بھی انکے کالجز ہیں ۔ اور اتنے بڑے نیٹ ورک کے بیرون ممالک تعلیم کے معاملات نبٹا نے کیلئے کسی اچھے اور تجربہ کار ایڈوائزر کی ضرورت ہے ۔ اتنی مرنجا مرنج گفتگو کہ کوئی قربان ہی ہوجائے ، مجھے احساس ہوا کہ ایک اچھی کاروباری ڈیل اور اچھی شخصیت کی مسحور کن ماحول میں انکو کچھ کھلانا پلانا بھول ہی گیا ہوں۔
میں نے فورا ان صاحب کیلئے چائے اور کھانے کا انتظام کیا ۔ کاروباری معاملات پر مزید بات چیت جاری رہی ، ان صاحب سے میری بھی بے تکلفی سی ہونے لگی ، میں نے ان سے انکا وزٹنگ کارڈ مانگا جو فورا انہوں نے پیش کر دیا
Fahim Asad Jaral
M.Sc Chemistry
M.BA Marketing
Cell: ………..
انکے گلابی رنگ کے کارڈ پر نہ تو کسی ادارے کا نام اور نہ ہی ایڈریس لکھا ہوا تھا مگر کمال کی شخصیت اور کمال کی معلومات کہ جو بات کرو جواب حاضر ۔ لہذا میں نے انکے کام کیلئے حامی بھر لی اور باہمی شرائط طے کرنی شروع کر دیں ۔ مگر فہیم اسد جرال صاحب بولے کہ یہ شرائط تو طے ہوتی رہیں گی ، آپ کیونکہ ایک تعلیمی ادارہ بھی چلا رہے ہیں ، لوگوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں اور آپ سے دوستی بھی ہو گئی ہے لہذا میں آپکو ایک اور بزنس بھی دلا دیتا ہوں ، آپ ایک عدد درخواست ہمارے ڈائریکٹر صاحب کے نام لکھ دیں ۔ یہ درخواست ایک ٹینڈر سے متعلق ہے جسکی آخری تاریخ کل ہے ۔
انہوں نے مجھے لکھوانا شروع کر دیا ، بہترین انگلش کے الفاظ کا چناﺅ اور پیراگراف کہ میں حیران ہو گیا۔ درخواست مکمل کر نے کے بعد انہوں نے اس پر میرے دستخط کروائے اور اپنے پاس رکھ لی۔اب گفتگو کسی اور موضوع پر چل پڑی کہ اچانک جرال صاحب نے کہا کہ مجھے ایک ہزار روپیہ عنائیت فرما دیں جو کہ درخواست کے ساتھ بطور فیس جمع کروانا ضروری ہے۔ میں کیونکہ ان کو ایک معتبر اور قابل اعتماد شخصیت مان چکا تھا لہذا کسی اچنبھے کا اظہار نہ کیا اور ایک ہزار روپے کے دینے کی فورا حامی بھر لی۔ پھر بات چیت اپنی دلچسپیوں کی ڈگر پر چل پڑی کہ چند ہی لمحوں میں فہیم جرار صاحب نے یاد دہانی کروائی کہ مجھے انہیں ایک ہزار روپیہ دینا ہے۔
انکے اتنی معمولی رقم کیلئے دوبارہ تذکرے پر کچھ حیرانی ہوئی مگر میں نے بات کرتے ہوئے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔ جرار صاحب نے بھی گفتگو جاری رکھتے ہوئے تیسری بار مجھ سے ایک ہزار روپے کا تذکرہ کیا جو کہ اب واقعی اہمیت کا حامل تھا کہ ایک چھوٹی سی رقم کیلئے اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔ مجھے انکی شخصیت اور کاروباری معاملہ کی نوعیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک ہزار روپیہ دینا کوئی مشکل کام تو نہیں لگا مگر کچھ شک گزرا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔
بات کا پانسا پلٹتے ہوئے میں نے کہا جناب جرار صاحب آپ کیوں فکر کرتے ہیں ، یہ تو معمولی سی رقم ہے ، ہم نے تو ابھی بہت سے بزنس کے معاملات میں آگے چلنا ہے ، آپ ایسے کریں کہ اتنی سی رقم آپ خود سے جمع کروا دیں ۔ یہ سننا تھا کہ جیسے ان کو کرنٹ لگ گیا ہو، انکے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا جو کہ میرے لیے اور بھی حیرت کی بات تھی ۔ اب میری آنکھیں کھلنے لگیں کہ نہ جان نا پہچان اور میں تیرا مہمان ، میں کس شخص سے وقت ضائع کر رہا ہوں جو کہ صرف ایک ہزار کے کھیل میں آسمان کی قلا بیں ملا رہا ہے ۔
جرار صاحب کا طلسم ٹوٹ چکا تھا مگر میں نے محسوس نہیں ہونے دیا ، میرا یہی اصرار تھا کہ وہ خود ہی سے درخواست اور اسکی فیس جمع کروا دیں ۔ اب اس بچارے کی حالت دیکھنے والی تھی ، چہرہ پہ پسنے کے قطرے نمودار ہونے لگے کہ ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور بو کھلائے ہوے بولے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے ، پھر ملاقات ہوگی ۔ اور اپنی فائلیں سنبھالے نکل گئے جبکہ میں انکی آنیاں اور جانیاں ملاحظہ کرتا رہا۔ انکے نکلتے ہی میں نے سوچا کہ دیکھوں موصوف کے پاس کونسی گاڑی ہے لہذا کھڑکی سے ملاحظہ کیا تو جناب سڑک کنارے کھڑے ایک موڑ بائک والے سے لفٹ مانگ رہے تھے ، حالانکہ گپ شپ کے دوران انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انکے پاس ایک عدد گاڑی کا بھی ہے ۔ اب میں نے سوچا انکے وزٹنگ کارڈ پر لکھے ہوئے موبائل تو دیکھوں کہ کسی اور کا نہ ہو،جب فون کیا تو جناب کا فون بند تھا ۔ اس واقع کے بعد کبھی گمان ہوتا تھا کہ میں سمجھنے میں غلطی کر گیا اور کبھی خیال ہو تا کہ ایک ٹھگی سے بچ گیا ، اسی شش و پنج میں ایک روز پھر فون ملایا تو مل گیا ، حضرت موجود تھے اور بولے یار آپ بھی کمال کے شخص ہیں، آجکل میں پنڈی میں موجود ہوں پھر کبھی ملاقات ہوگی خدا حافظ، مختصر سی بات کی اور ۔۔۔ اور پھر کبھی ملاقات نہ ہوئی ۔۔ آج وزٹنگ کارڈز کو ترتیب میں لگاتے ہوئے مجھے پھر وہی کارڈ نظر آیا اور ذہن میں وہی پرانی تصویریں اور واقعات گھومنے لگے کہ جسے میں اکیسویں صدی کا ٹھگ ہی کہوں تو بجا ہوگا۔
انکی تفصیلات اس لئیے لکھ دیں ہیں کہ اگر آپ ان سے مل چکے ہیں تو آپ میری شش و پیج ختم کر دیں اور اگر کبھی شرفِ ملاقات حاصل ہو تو کسی کاروباری دھوکے میں نہ آجائے گا۔۔۔ایسی شخصیات سے ملاقات نصیبوں والوں کو ہی ہوتی ہے اور جن کو یہ شرف حاصل ہو وہ کسی سے تذکرہ بھی نہیں کرتا بلکہ تذکرہ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ لہذا اپنے اردگرد نظر دوڑایں اور شک کی عینک سے دیکھنا شروع کر دیں تو ممکن ہے نظر آجائے کہ ایسا ہی کوئی معاملہ درپیش ہو؟
یہ سارا عمل ایک اصول پر قائم ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ، لہذا لوگ تھوڑا سا پیسا لگا کر بہت سا حاصل کرنے کی لالچ میں تھوڑے سے بھی جاتے ہیں، جیسے پہلے وقتوں میں ایک شخص ایک بڑی سی دوکان کے باہر اپنے ہاتھ میں ایک سکہ لیے کھڑا تھا،دوکاندار نے دیکھا اور نظر انداز کر گیا۔ اب کافی دیر بعد وہ شخص جانے لگا مگر اس نے سکہ دوکاندار کی طرف اچھال دیا تو دوکاندار اسے روک کر پوچھنے لگا ، بھئی یہ کیا ہے ، تو وہ شخص بولا سنا تھا پیسا پیسے کو کھینچتا ہے لہذا میں اپنا سکہ لیکر تمہاری دوکان کے باہر گلے کے پاس کھڑا رہا اور دیکھتا رہا کہ کب میرا سکہ تمہارے گلے سے پیسے کھینچے گا ، مگر کافی دیر کھڑا رہنے کے باوجود کامیابی نہیں ہوئی لہذا مایوس ہو کر میں نے اپنا سکہ بھی تمہارے گلے میں پھینک دیا ۔ اب دوکاندار مسکرایا اور بولا بھئی بات تو ٹھیک ہے کہ پیسہ پیسیے کو کھنچتا ہے مگر زیادہ پیسہ کم پیسے کو کھینچتا ہے نہ کہ کم زیادہ کو ، دیکھو میرے پیسوں نے تمہارے سکے کو کھنچ لیا!!
ان سب معاملات میں کسی قانونی تحفظ کی تو بات دور ، ان معاملات کی گرداب سے بچ نکلنا ہی غنیمت جانئے ۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی لالچ میں اندھا ہو جاتا ہے ہمیشہ اپنا نقصان کرتا ہے ۔ اسی طرح سے جلدی کے تمام معاملات اور انجان لوگوں سے مراسم ہمیشہ کسی اندھے کنوئیں میں لا پھینکتے ہیں۔ یہاں افراد کی تربیت بہت ضروری ہے کہ وہ اس خواہ مخواہ کی پریشانی سے بچ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان ٹھگوں سے بچائے رکھے البتہ اگر آپ اسی طرح کے کسی معاملہ سے گزر چکے ہیں تو امید ہے کہ اسکو دوسروں سے شیئر کریں گے تا کہ آپکے دوست و احباب کسی ناقابل تلافی نقصان سے بچے رہیں ۔


تیرے عشق نچایا

تیرے عشق نچایا

تحریر: محمد الطاف گوہر ۔لاہور
زندگی کے پھول نے محبت کی زمین سے جنم لیا اور اسکی مہک بقا (سلامتی )کا پیغام لیکر ہر سو پھیل گئی جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ نہ صرف مامور ہوا بلکہ محو رقص ہو گیا ۔بقا کی لذت سے سرشار لمحوں نے ابد کا رخت سفر باندھا جبکہ آگاہ لمحوں نے قیام کیا اور خوابیدہ لمحے سیل رواں کے تھپیڑوں میں بہتے کسی کائی کی طرح عدم سدھار گئے ۔
سڑک کنارے پراگندہ بال دمکتا چھرا ایک نوجوان محو رقص نظر آیا میں نے اس کے رقص میں عجب محویت دیکھی وہ کسی انجانے سرور میں مگن لوگوں سے بے پرواہ اپنے ہی اندر ڈوبا ہوا جھوم رہا تھا ۔میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کے پوچھا ،دیوانہ لگتا ہے؟تو وہ آنکھیں کھول کر مسکرایا اور بولا اس کائنات میں کون محو رقص نہیں ہے ؟ یہ کہہ کر وہ اپنی تان میں کھو گیا اور میں ششدر کھڑا اسکی بات پہ غور کرتا رہا کہ اس نے مجھے کونسی دینا دیکھا دی ؟
کیا یہ رقص و ارتعاش واقعی ہماری زندگی کی بقا ہے ۔اگر زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے تو چاند زمین کے گرد اور دونوں سورج کے گر د گھوم رہے ہیں ۔جبکہ سورج اور دیگر ستاروں کے جھرمٹ میں محو ارتعاش ہیں ۔اس کائنات کا ذرہ ذرہ محو رقص ہے ؟ جبکہ ریاضی اور طبعیات کے قوانین تو قوانین حرکت ہیں ۔ایٹم کے اندر الیکٹران نیوکلیئس کے گرد اور ان سب کو محبت کی طاقت نے باند ھ رکھا ہے ۔
تمام قوتیں , اجسام , توانائیاں جبکہ زندگی خود بھی ارتعاشی عمل کی سرگرمی اور فعالیت ہے جو کہ قوانین قدرت کے عین مطابق ہے ۔یہ ارتعاش عمل اپنے بنیادی اور انتہائی درجہ پر سیاروں ،ستاروں ،نظام شمسی ، برقی ، آسمانی و علوی، حرارتی ، صوتی اور رنگ کی دنیا میں جاری و ساری ہے جبکہ ذہن بھی اس ارتعاشی عمل سے خارج ا ز امکان نہیں جسکے باعث انسانی زندگی کا جذبات جاذب و طلسمی ،تصوراتی پہلو حتکہ قسمت کا عمل وقوع پذیر ہوتا ہے ۔
پھولوں میں خوشبو ،پھلوں میں رس، موسم میں انگڑائی، ہواؤں کی اٹھکھیلیاں ،زمین میں جاری چشمے اور سبزہ ،آسمانوں پہ بادل اور چہروں پہ انجان مسرت محبت کی مرہون منت ہے۔ معاملات زندگی میں محبت کا جذبہ انسانیت کیلئے سب سے عظیم تحفہ ہے کیونکہ اس کے باعث تمام دراڑیں اور خلا پر ہو جاتے ہیں جبکہ خیر و شر کی جنگ جو کہ ازل سے ابد کی طرف گامزن ہے، ا س میں بھی اعتدال واقع ہوتا ہے ۔
محبت کا نمو انسان میں ابتدا سے پروان چڑھنے تک زندگی کے سنگ سنگ چلتا ہے جبکہ انسان کبھی اسکے قریب رہتا ہے اور کبھی دور مگر جب کوئی انسان جذبہء محبت کی لذت سرشار رہتا ہے تو یہی اسکی زندگی کا موسم بہار ہے۔ یہ سماں بھی کتنا دلربا ہے کہ لمحات زندگی مسرتوں سے لبریز ہوجاتے ہیں اور لذت کا چشمہ قلب سے جاری ہو جاتا ہے جسکا ادراک صرف اور صرف اس تجربہ سے گزرنے والوں کو ہو سکتا ہے ۔ہر آواز موسیقی کی طرح پرد ہ سماعت پر وارد ہوتی ہے،زندگی اٹھکھیلیاں کرتی نظر آتی ہے ،خوشبو کی طرح فضاؤں میں بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ۔ ممکنات کے دروازے کھلے نظر آتے ہیں جبکہ قاہ او ر آہ میں بھی لذت سے معمور ہوتے ہیں ۔
جس من میں محبت کا پھول کھلتا ہے اسکو ہر طر ف سے محسور کن نظارہء محبوب ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ خوابوں و خیالوں میں بسنے والا تصور کبھی فضاؤں میں نظر آتا ہے اور پھر کبھی اس کے تصور سے لذت بند جاتی ہے ۔ ہر لمحہ ایک تصور سے خیالات منسلک ہو جاتے ہیں جبکہ اس تجربہ زندگی کا بھی عجب سماں ہے ، وصل ہو کہ فراق دونوں میں لذت آتی ہے ۔انسان اپنی ذات کے اندر کئی نئے رابطے کی دریافت کر تا ہے ۔ تلازمہ ء خیال کا عمل وقوع پذیر ہوتا اور شخصیت نکھر آتی ہے جبکہ محبت کے سارے رنگ اس کے چہرے سے عیاں ہوتے ہیں جو اسے لذت لاثانی سے سرشار کر رہے ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات محبت اپنا سفر عادت میں بدل دیتی ہے اور پروان چڑھتے ہی مجازی سے حقیقی کے طرف لوٹ آتی ہے۔ یہی وہ منزل ہے جہاں لذت بیکراں کا وصل حاصل ہوتا ہے ۔


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers