Category Archives: Life

درد

درد

تحریر: محمد الطاف گوہر
اک احساس جو دل میں کسی نشتر کی مانندچبھتا ہی چلا جاتا ہے مگر جب پلکوں سے لڑکھتے بن برسات شبنمی موتی بارش کا سماں باندھتے ہیں تو لمحوں کو اس سے شناسائی ہوتی ہے۔ دریا کی موجیں تو اسے دل کا رقص کہتی ہیں مگریہ تو وہ ارتعاش ہے جواپنوں سے کھائی ہوئی ان چوٹوں کی عکاسی کرتا ہے جن کو کبھی بھی زباں پہ لانا ممکن نہ ہوا۔کبھی وعدوں کے ٹوٹنے کا ، کبھی انتظار کی سولی پہ لٹکنے کا اور کبھی امیدوں کے ٹوٹنے کا جو کچھ زبان رکھتا ہے اور پھر آنکھوں کی زبان سے آنسو اس کی آواز بن جاتے ہیں۔
رشتے ، ناطے ، بھروسے، خواب، امیدیں اور نہ جانے کتنے اور جھوٹے سراب جب عیاں ہوتے ہیں تو پھرانسانی زندگی کسی بھی ہچکولے کھاتی ہوئی اس کشتی کی مانند ہوجاتی ہے جو اپنے آپ کو دریا کی بپھری ہوئی موجوں کے رحم و کرم پرپھینکنے پہ مجبور ہوجاتی ہے۔ وہاںبے بسی بھی اس وقت اپنے معانی کھو جاتی ہے جہاں اپنے ہی تیار کردہ ریت کے گھروندے حقیقت کے خورشید کی تاب نہ لاتے ہوئے ہواﺅں میں بکھر جاتے ہیں۔
اورجب کبھی قربت کی باد صبا کاگزر ہجر کی سنگلاخ چٹانوں سے ہو ، جب کبھی بھروسے کسی فرش پر گرئے ہوئے کانچ ٹکڑے کی طرح چکنا چور ہوجائیں ، اور جب کبھی کوئی امیدٹوٹ کر بکھر جائے اور جب کوئی اپنا ، بیگانہ سا لگے ، اور جب کوئی ناطہ منجھدار میں آ کر توڑ دے تو صرف اک احساس وجودپاتاہے جو ان جلتے مچانوں کی بجھتی ہوئی چنگاری بن کر سلگتا رہتا ہے۔
کبھی پیار نشتر بنتا ہے تو کبھی عشق دھوکا دیتا ہے اور کبھی اپنوں سے دوری اور کبھی اولاد کے نشتر بھرے رویے قلب کو پاش پاش کر دیتے ہیں اور انسان باقی ماندہ زندگی اس کی کرچیاں اٹھا اٹھا کر جھولی میں ڈالتا اپنے ماہ و سال پورے کر دیتاہے۔
اے درد! تیری گہرائی ماپتے ماپتے انسان تو ختم ہوجاتا ہے مگر توکبھی ختم نہیں ہوتا!!!
کبھی کبھی لگتا ہوتا ہے کہ ©لیاقت ٹھیک کہتا تھا!!!
عورت کے آنسو اسکی پلکوں کے پیجھے ہوتے ہیں اور کسی بھی لمحے چھلک پٹرتے ہیں مگر مرد کے آنسو تو دل کی گہرائیوں سے آنکھوں تلک اس وقت پہنچتے ہیں جب دل کے سمندر میں جوار بھاٹا آجائے!!!
وہ تو اولاد کو ایک بھی انوسٹمنٹ سمجھتا تھا کہ جسکی دیکھ بھال کسی ایسے درخت کی طرح کی جائے جو زندگی کے پچھلے پہر میں گھنا سایا بنے اورمیٹھا پھل دے!!!
اس کو تو کسی سے پیار نہیں ہوا،اس کے مطابق دولت ہر شے کی کنجی ہے ، اس سے جو چاہو، حاصل کر لو!!!
نہ معلوم کتنے ہی درد اس نے اپنے پہلو میں چھپا رکھے تھے !
کیا کبھی دولت بھی دردِ دل کا مداوا بنی ہے؟


Daily Jang Sunday 11 March 2012 – SEO Training Details

SEO Training & Services

SEO Training - Daily Jang, Sunday  11 March 2012

SEO Training - Daily Jang, Sunday 11 March 2012

Daily Jang , Sunday,March 11, 2012


سونے کے سکے آپکے لیئے

آج شام کے وقت ایک فون کال موصول ہوئی ، موصوف نے سلام کرتے ہی کسی کا نام لیا یہ بھی نہیں پوچھا کہ آیا وہ اپنے مطلوبہ شخص سے بات کر رہا ہے یا کوئی اور ، مدعا بیان کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
کبیروالہ سے بات کر رہا ہوں ، کچھ عرصہ سے ٹھیکیداری شروع کر رکھی ہے۔ ایک ہفتہ قبل کسی گھر کا ملبہ اٹھانے کا کام مل گیا، مزدور لگائے اور کام شروع کردیا؛ کام کے دوران ایک مزدور اچانک کام سے چلا گیا ؛ چند روز بعد جب ملاقات ہوئی تو اس نے بہانہ بنا لیا کہ بیمار تھا۔۔۔ مگر ٹھیکیدار کو تسلی نہ ہوئی۔۔۔ مزدور نے اصرار پر اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔۔۔ ٹھیکیدار اس مزدور کے گھر گیا۔۔۔۔ گھر پر اس مزدور کی دادی نے اسے ویلکم کیا۔۔۔
دادی نے بات کچھ اس طرح سے کی کہ کھدای کے دوران اس مزدور کو ایک مٹکا ملا ، یہ مزدور اسے اٹھا کر گھر لے آیا۔۔۔ اس مٹکے کو اچھی طرح سے صاف کر کے جب کھولا گیا تو اس میں کچھ سکے ملے جو جنکو صاف کیا تو وہ چمکدار نکل آئے۔۔۔۔۔
اب یہ مزدور ایک سکہ لے کر سنار کے پاس گیا اور بیچنے کی بات کی۔۔۔ سنار نے پہلے اس مزدور کی طرف دیکھا اور پھر اس سکے کی طرف اور پھر اس سکے کا وزن کیا۔ اب سنار نے کہا کہ یہ تو سونے کی اشرفی ہے جو نواردات معلوم ہوتی ہے ، تہارے پاس کہاں سے آئی ، اور کتنے سکے تمہارے پاس ہیں؟
مزدور ڈر گیا اور کہا کہ مجھے یہ سکہ کسی کھدائی میں ملا تھا ، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔ سنار نے کہا کہ بھئی جو بھی نواردات کسی بھی جگہ سے نکلتے ہیں وہ اس گورنمنٹ کی ملکیت ہوتی ہے ، اب کیا میں تمہیں پکڑوا دوں؟ یا پھر یہ سکہ مجھے تین ہزار میں دے دو اور بھاگو یہاں سے۔۔۔
اس طرح مزدور نے اس سنار سے ایک بیش قیمت سونے کا سکہ تین ہزار میں بیچ کر چھڑائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادی نے تفصیلات بیان کرکے مزدور سے بولی۔۔۔ مٹکا لاو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیکیدار نے مٹکا کھول کر دیکھا تو وہ سونے کے سکوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے ٹھیکیدار کو کہا کہ اب ہم یہ سکے کبیر والہ میں تو نہیں بیچ سکتے البتہ تم اگر مدد کرو تو یہ کہیں اور بیچے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ٹھیکیدار نے ان سے لاہور کے حاجی صاحب کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ٹھیکیدار نے حاجی صاحب کو لاہور فون ملایا ( جان بوجھ کر یا غلطی سے مجھ سے بات ہوئی؛۔۔۔۔۔)
ٹھیکیدار نے مجھے آفر کی کہ یہ تمام سکے لاہور بیچنے میں مدد کروں تو وہ مجھے ایک تولے کے عوض بیس ہزار روپے دے گا۔۔۔ اور اس مٹکے میں کم از کم آٹھ دس کلو کے قریب سوانے کے سکے موجود ہیں۔۔۔
ٹھیکیدار نے بات کرتے ہوئے اور معاملے کو انتہائی راز دار میں رکھنے کو کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور معمالات طے کرنے کیلئے اور سکوںکا لائیو ڈیمو دینے کیلئے اپنے یہاں آنے کی دعوت بھی دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ یہ فون کال کافی لمبی ہوگئی۔۔۔۔ اور بات کے دوران ٹھیکیدار کی کال تین چار مرتبہ ڈراپ بھی ہوئی جس پر وہ جھنجلا گئے اور بولے آپ کال کیوں کاٹ رہے ہیں۔۔۔۔ (فون کاٹنا تو درکنار ، اگر میرا بس چلتا تو میں ریکارڈ بھی کر لیتا مگر مجھے اپنے فون سیٹ میں کال ریکارڈ کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا ، )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فون کال کے بعد میں نے اپنے دل کی دھڑکن کو ماپا تو وہ بالکل تبدیل نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ان حالات میں جبکہ ہر طرف سے اخراجات کی بات ہو رہی ہو اور وسائل کم ہوں تو اس طرح کی فون کال کسی تحفے کم نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ہر ماہ بجلی کے بل، فون، انٹرنیٹ ، بچوں کے سکولوں کی فیسیں اور خوشی غمی اور مہمانداری کر کے بعد اگر کچھ بچ جاتا ہے تو وہ ہے صرف ” قرض” جو آنے والے ماہ میں جمع ہو جاتا ہے اور شاندار طریقے سے شانہ بشانہ سفر کر رہا ہے۔۔۔۔
آج ٹھیکیدار کی کال نے کمر ہمت باندھ دی اورایک سوچوں کو ایک نئی انگڑائی دے دی۔۔۔۔ ٹھیکیدار کے بقول۔۔۔۔ دادی نے کہا تھا کہ میرے اب دو ہی بچے بیاہنے والے رہ گئے ہیں۔۔۔ لگتا ہے اللہ نے اس کی سن لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیکیدار کی بات پر جوش تھی ۔۔اور وہ جو خواب مجھے دے رہا تھا اس میں تو غیر یقینی صورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے تنی ہوئی تیز دھوپ میں کے سامنے یہ چھتری محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شش و پنج میں کہ میں اس آفر کو قبول کروں یا ٹھکرا دوں میں نے اس سے کل تک کا ٹائم مانگ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے کل وہ فون ضرور آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کی رات صرف انتظار کی رات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سونے کے سکے بیچنے والے کا فون نمبر میرے پاس محفوظ ہے اور ضرورت ہے تو لے سکتے ہیں البتہ اگرکسی ٹھگ کے ہتھے چڑھ گئے تو ذمہ داری آپ کی اپنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔


اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی


کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال

کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔


Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,687 other followers