تحریر: محمد الطاف گوہر
عظمت کی بلندیوں پر موجود ایک ہستی جو کبھی ابر کا سایہ بنے تپتی دھوپ میں میرے سر پہ شفقت کی چھاوں کیئے رھتی ، تو کبھی مایوسی کے گرداب میں دھنسنے لگتا تووہ فورا لپک کر ہاتھ تھام لیتی ، اور کبھی راہ میں ٹھوکر لگ جاتی تو آگے بڑھ کر گرنے سے بچا لیتی ، اور کبھی خوف کے بادل چھا جاتے تو وہ ہمت کی کرن بن جاتی ، اور کبھی ناکامی کے کھڈے میں لڑکھنے لگتا تو وہ کامیابی کی رسی کا سرا پکڑادیتی ، ایک بار تو اس نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسکو پچھاڑ دیا۔
قدرت کے اس حسین تحفے کی آج تعریف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر مجھے وہ الفاظ نہیں ملتے کہ جن میں اظہار کروں، ہر لفظ اسکی عظمت کے سامنے چھوٹا لگ رہا ہے ،رشتوں کو پیار کی ڈوری میں پروئے ہوئے ہر لحظہ خیرکی طلبگار وہ ہستی میری ماں ہے جس کے احسانات کا بدلہ کبھی بھی نہ چکا سکوں گا۔ ماں اگر ایک طرف سچائی کے جذبے کا نام ہے تو دوسری طرف محبت کی باز گشت بھی یہیں سے آتی ہے۔
پوری دنیا میں انسانیت پر قدرت کے لازوال تحفے کی حرمت میں آج مدر ڈے منایا جا رہا ہے جبکہ ہر قوم یہ دن اپنے طریقے سے اسے مناتی ہے مگر جذبہ فقط ایک ہی اور وہ اس عظیم ہستی کے انسانیت پر احسانات کو سلام پیش کرنا ہے۔
ماں کیلئے دیگر الفاظ ؛ اماں ، امی ، ممی ، ماما اور مادر وغیرہ کے آتے ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا لفظ دنیا کی متعدد زبانوں میں خاصا یکسانیت رکھنے والا کلمہ ہے، اور اس کی منطقی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ماں کیلئے اختیار کیئے جانے والے الفاظ کی اصل الکلمہ ایک کائناتی حیثیت کی حامل ہے اور اسے دنیا کی متعدد زبانوں میں ، اس دنیا میں آنے کے بعد انسان کے منہ سے ادا ہونے والی چند ابتدائی آوازوں سے اخذ کیا گیا ہے۔ جب بچہ رونے اور چلانے کی آوازوں کی حدود توڑ کر کوئی مخصوص قسم کی آواز نکالنے کے قابل ہوتا ہے اور بولنا سکھتا ہے تو عام طور پر وہ ام ام / ما ما / مم مم / مما مما (پا پا) وغیرہ جیسی سادہ آوازیں نکالتا ہے اور محبت اور پیار کے جذبے سے سرشار والدین نے ان ابتدائی آوازوں کو اپنی جانب رجوع کر لیا جس سے ماں کیلئے ایسی آوازوں کا انتخاب ہوا کہ جو نسبتاً نرم سی ہوتی ہیں یعنی میم سے ابتدا کرنے والی اور باپ کیلئے عموماً پے سے ابتدا کرنے والی آوازیں دنیا کی متعدد زبانوں میں پائی جاتی ہیں۔
ماں کو عربی زبان میں ام کہتے ہیں، ام قرآن مجید میں 84 مرتبہ آیا ہے ، اس کی جمع امھات ہے ، یہ لفظ قرآن مجید میں گیارہ مرتبہ آیا ہے ، صاحب محیط نے کہا ہے کہ لفظ ام جامد ہے اور بچہ کی اس آواز سے مشتق ہے جب وہ بولنا سیکھتا ہے تو آغاز میں ام ام وغیرہ کہتا ہے اس سے اس کے اولین معنی ماں کے ہوگئے ، ویسے ام کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کی اصل ، ام حقیقت میں یہ تین حرف ہیں(امم ) یہ لفظ حقیقی ماںپر بولا جاتا ہے اور بعید ماں پہ بھی۔ بعید ماں سے مراد نانی، دادی وغیرہ یہی وجہ ہے کہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو امنا ( ہماری ماں) کہا جاتا ہے۔
افراد کی تربیت میں اگر بنیادی کردار دیکھا جائے تو وہ صرف ماں کا ہے ، سن شعور کی منزل تک پہنچنے سے پہلے اگر ایک طرف باپ کی شفقت شامل ہے تودوسری طرف ماں بھی ایک تربیت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اعلیٰ تربیت کی بدولت عظیم ماوں نے محمد بن قاسم ، ٹیپوسلطان ، صلاح الدین ایوبی، محمدعلی جناح اور اقبال جیسے سپوت قوم کو دئیے مگر آج یہ قوم ایک لیڈر کو ترس رہی ہے ، کیا ماوں کے دودھ میں وہ طاقت نہیں رہی یا پھر تربیت کسی ملاوٹ کی نظر ہوگئی ہے؟
Category Archives: Pakistan
ماں
سونے کے سکے آپکے لیئے
آج شام کے وقت ایک فون کال موصول ہوئی ، موصوف نے سلام کرتے ہی کسی کا نام لیا یہ بھی نہیں پوچھا کہ آیا وہ اپنے مطلوبہ شخص سے بات کر رہا ہے یا کوئی اور ، مدعا بیان کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
کبیروالہ سے بات کر رہا ہوں ، کچھ عرصہ سے ٹھیکیداری شروع کر رکھی ہے۔ ایک ہفتہ قبل کسی گھر کا ملبہ اٹھانے کا کام مل گیا، مزدور لگائے اور کام شروع کردیا؛ کام کے دوران ایک مزدور اچانک کام سے چلا گیا ؛ چند روز بعد جب ملاقات ہوئی تو اس نے بہانہ بنا لیا کہ بیمار تھا۔۔۔ مگر ٹھیکیدار کو تسلی نہ ہوئی۔۔۔ مزدور نے اصرار پر اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔۔۔ ٹھیکیدار اس مزدور کے گھر گیا۔۔۔۔ گھر پر اس مزدور کی دادی نے اسے ویلکم کیا۔۔۔
دادی نے بات کچھ اس طرح سے کی کہ کھدای کے دوران اس مزدور کو ایک مٹکا ملا ، یہ مزدور اسے اٹھا کر گھر لے آیا۔۔۔ اس مٹکے کو اچھی طرح سے صاف کر کے جب کھولا گیا تو اس میں کچھ سکے ملے جو جنکو صاف کیا تو وہ چمکدار نکل آئے۔۔۔۔۔
اب یہ مزدور ایک سکہ لے کر سنار کے پاس گیا اور بیچنے کی بات کی۔۔۔ سنار نے پہلے اس مزدور کی طرف دیکھا اور پھر اس سکے کی طرف اور پھر اس سکے کا وزن کیا۔ اب سنار نے کہا کہ یہ تو سونے کی اشرفی ہے جو نواردات معلوم ہوتی ہے ، تہارے پاس کہاں سے آئی ، اور کتنے سکے تمہارے پاس ہیں؟
مزدور ڈر گیا اور کہا کہ مجھے یہ سکہ کسی کھدائی میں ملا تھا ، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔ سنار نے کہا کہ بھئی جو بھی نواردات کسی بھی جگہ سے نکلتے ہیں وہ اس گورنمنٹ کی ملکیت ہوتی ہے ، اب کیا میں تمہیں پکڑوا دوں؟ یا پھر یہ سکہ مجھے تین ہزار میں دے دو اور بھاگو یہاں سے۔۔۔
اس طرح مزدور نے اس سنار سے ایک بیش قیمت سونے کا سکہ تین ہزار میں بیچ کر چھڑائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دادی نے تفصیلات بیان کرکے مزدور سے بولی۔۔۔ مٹکا لاو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیکیدار نے مٹکا کھول کر دیکھا تو وہ سونے
کے سکوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے ٹھیکیدار کو کہا کہ اب ہم یہ سکے کبیر والہ میں تو نہیں بیچ سکتے البتہ تم اگر مدد کرو تو یہ کہیں اور بیچے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ٹھیکیدار نے ان سے لاہور کے حاجی صاحب کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ ہماری مدد کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ٹھیکیدار نے حاجی صاحب کو لاہور فون ملایا ( جان بوجھ کر یا غلطی سے مجھ سے بات ہوئی؛۔۔۔۔۔)
ٹھیکیدار نے مجھے آفر کی کہ یہ تمام سکے لاہور بیچنے میں مدد کروں تو وہ مجھے ایک تولے کے عوض بیس ہزار روپے دے گا۔۔۔ اور اس مٹکے میں کم از کم آٹھ دس کلو کے قریب سوانے کے سکے موجود ہیں۔۔۔
ٹھیکیدار نے بات کرتے ہوئے اور معاملے کو انتہائی راز دار میں رکھنے کو کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور معمالات طے کرنے کیلئے اور سکوںکا لائیو ڈیمو دینے کیلئے اپنے یہاں آنے کی دعوت بھی دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ یہ فون کال کافی لمبی ہوگئی۔۔۔۔ اور بات کے دوران ٹھیکیدار کی کال تین چار مرتبہ ڈراپ بھی ہوئی جس پر وہ جھنجلا گئے اور بولے آپ کال کیوں کاٹ رہے ہیں۔۔۔۔ (فون کاٹنا تو درکنار ، اگر میرا بس چلتا تو میں ریکارڈ بھی کر لیتا مگر مجھے اپنے فون سیٹ میں کال ریکارڈ کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا ، )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فون کال کے بعد میں نے اپنے دل کی دھڑکن کو ماپا تو وہ بالکل تبدیل نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ان حالات میں جبکہ ہر طرف سے اخراجات کی بات ہو رہی ہو اور وسائل کم ہوں تو اس طرح کی فون کال کسی تحفے کم نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ہر ماہ بجلی کے بل، فون، انٹرنیٹ ، بچوں کے سکولوں کی فیسیں اور خوشی غمی اور مہمانداری کر کے بعد اگر کچھ بچ جاتا ہے تو وہ ہے صرف ” قرض” جو آنے والے ماہ میں جمع ہو جاتا ہے اور شاندار طریقے سے شانہ بشانہ سفر کر رہا ہے۔۔۔۔
آج ٹھیکیدار کی کال نے کمر ہمت باندھ دی اورایک سوچوں کو ایک نئی انگڑائی دے دی۔۔۔۔ ٹھیکیدار کے بقول۔۔۔۔ دادی نے کہا تھا کہ میرے اب دو ہی بچے بیاہنے والے رہ گئے ہیں۔۔۔ لگتا ہے اللہ نے اس کی سن لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیکیدار کی بات پر جوش تھی ۔۔اور وہ جو خواب مجھے دے رہا تھا اس میں تو غیر یقینی صورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر مجھے تنی ہوئی تیز دھوپ میں کے سامنے یہ چھتری محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شش و پنج میں کہ میں اس آفر کو قبول کروں یا ٹھکرا دوں میں نے اس سے کل تک کا ٹائم مانگ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے کل وہ فون ضرور آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کی رات صرف انتظار کی رات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سونے کے سکے بیچنے والے کا فون نمبر میرے پاس محفوظ ہے اور ضرورت ہے تو لے سکتے ہیں البتہ اگرکسی ٹھگ کے ہتھے چڑھ گئے تو ذمہ داری آپ کی اپنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
کالم نویسی، چربہ سازی اور ٹیمپلیٹ کا استعمال
تحریر : محمد الطاف گوہر
کچھ عرصہ قبل میرے ایک شہرئہ آفاق فیچر ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ‘ کو نہ صرف بہت زیادہ پسند کیا گیا بلکہ تقریباً انٹرنیٹ پر تمام اردوویب سائٹ کی رونق بھی بنا اور مجھے اس بات پر آمادہ بھی کیا گیا کہ اسکا دوسرا حصہ لکھوں ۔ معاملہ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچا کہ آج 29 مئی کو میرے ایک دوست نے فون پر بتایا کہ اب آپکو اپنے اس کالم کا دوسرا حصہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی نے ’ ذرا ہٹ کے‘ عقل کا استعمال کیا ہے اور ٹھگوں کو فرعونوں سے بدل کر آپکی تحریر کوروزنامہ جنگ میں بعنوان ’ چھوٹے چھوٹے فرعون ‘ لکھ کراسے لازوال بنا دیا ہے۔
کمپیوٹر اورانٹرنیٹ نے جہاں کاپی پیسٹ کا رواج پیدا کیا وہاں ٹیمپلیٹ کے استعمال کو بھی فروغ دیا ۔ ٹیمپلیٹ سے مراد ایک بنا بنایا تھیم لیں اوراس میں ٹیکسٹ تبدیل کریں اور بس کام تیار۔ مگر یہ اطوار تو ایسے لوگوں کو زیب دیتے ہیں جو ابھی نووارد ہیں اورجوڑ توڑ سے اپنا کام چلا رہے ہیں البتہ ایسے لوگوںکو جولفظو ں کے کھلاڑی ہوں انکامعیارتو کم ازکم تخلیقی ہونا چاہیے۔ اب بات فرعونوں کی چھڑہی گئی تو کچھ فرعون جو کہ حضرت اپنے کالم میں لکھنا بھول گئے بلکہ پرانے ٹیمپلیٹ میں موجود نہ تھے لہٰذا قلم کی نوک پر نہ آ سکے ، ان کا تزکرہ بھی کئے دیتے ہیں۔
تو بات ہورہی تھی ٹھگوں کی ، سوری فرعونوں کی ، غلطی سے ٹیمپلیٹ سے ٹیکسٹ بھی کاپی کر گیا تھا ، اب محتاط رہونگا۔ جی ہاں! جہاں تزکرہ ہو بہت سے فرعونوں کا وہاں ایک فرعون تو نظروں سے اوجھل رہتاہے ، اوجھل کیوں نہ رہے کیونکہ چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ دراصل سبز رنگ کی عینک پہننے پر ہر شے ہری نظر آتی ہے ، سرخ رنگ کی عینک ہر شے کو سرخ دکھاتی ہے چاہے اشیاءکا رنگ کچھ بھی ہو اور اگر عینک اتار دی جائے تو ہر شے کی اصلی رنگت صاف نظر آجائے گی۔
اس اتری ہوئی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس رنگ کو جو تمام رنگوں کے پیچھے چھپ جاتا ہے اور بات کرتے ہیں ان ’صحافتی فرعونوں ‘ کی جو قلم الٹاچلا دیں یا سیدھا مگر ہرلفظ اس پینٹرکے برش کی آڑھی ترچھی لکیروں کی طرح سے دکھتا ہے جیسے کوئی جداگانہ abstract وجود تخلیق پا گیا ہو ۔ الفاظ کے کھلاڑی ہمیشہ سے مشاق نشانہ باز رہے ہیں جبکہ انکا کوئی تیر خطا نہیں جاتا۔کبھی کبھی تو انکو انسانوں اورجانوروں میں بھی فرق نظر نہیں آتا۔ آج ہی کے ایک اور کالم میں جہاں کتے کی دم سیدہی کی جارہی تھی وہیں جانور بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا تھا یعنی انسانیت کی اتنی تزلیل کہ اس سے آگے قلم لکھنے سے رک جائے۔معاملات کو حل دینے کی بجائے کیٹرے نکالنا اور اس کے بعد صرف تنقید برائے تنقید ۔ لکھاری تو نبیوں کی وراثت کا کام سر انجام دے رہے ہیں ناکہ انسانیت کی تزلیل کا؟
جی تو بات ہو رہی تھی ٹیمپلیٹ کی! اب اگر کسی کے پاس کچھ لکھنے کیلئے نہیں تو اس کا یہ مطب یہ نہیں کہ انٹرنیٹ سے کوئی بھی تھیم یا ٹیمپلیٹ پکڑا اورنئے ٹیکسٹ کو لکھ ڈالا؟ مجھے تو ہوسکتا ہے معلوم نہ ہوتا کہ میرے آرٹیکل بھی ٹیمپلیٹ بن رہے ہیں البتہ میری تحاریر معملول سے پڑھنے والوں کے سیخ پا ہونے پر اندازہ ہواکہ معاملہ کتنا اہمیت کا حامل ہے۔اس چھتری کے نیچے جہاں کسی کو پنپنے کا موقع نہ ملے وہاں نئے ٹیلنٹ کو متعارف ہونے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟
دنیا میں چربہ سازی کوئی نئی بات نہیں البتہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ چربہ کرنے والے کم ازکم اس بات کو تو خیال رکھتے تھے کہ انکی یہ ٹیمپلیٹ والی ٹخلیق کسی دوسری زبان سے ہو یا پھر کسی دوردراز کے علاقے کی تاکہ اسکا خالق چربہ سازی کا پیچھا نہ کرسکے مگر جہاں کاپی ،پیسٹ اور ٹیمپلیٹ تھیم کا رواج بڑھاہے وہاں نہ صرف روابط لامحدود ہو گئے ہیں بلکہ سرچ کے باعث دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے میں دیر نہیں لگتی۔یونی کوڈاردونے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ۔ اب اگر آپ ’ اکیسویں صدی کے جدید ٹھگ ‘ کے بارے میں جاننا چاہیں کہ یہ تحریر پہلے لکھی گئے تھی یا پھر اسکا چربہ ’ چھوٹے چھوٹے فرعون‘ ، تو صرف یونی کوڈ اردو ایڈیٹرسے ان عنوانات کو لکھیں اور کسی بھی سرچ انجن میں کاپی پیسٹ کردیں ۔۔۔۔ پھرحقیقت خودبخود عیاں ہوجائے گی۔
بہت دکھ کے ساتھ مجھے یہ سب کچھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج بھی جبکہ عوام باشعور ہے اور دوسروں کی تحاریر اپنے رنگ میں رنگ کے ’ذرا ہٹ کے‘ انداز میں لکھا جا رہا ہے ۔ اگر کسی اناڑی سے کام سرانجام پاتا تو ہو سکتا ہے اتنی اہمیت کا حامل نہ ہوتا البتہ کسی نامی لکھاری کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسروں کی تحاریر اورآئیڈیاز کو اپنے نام سے لکھیں۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتا ہوںاور آپ سے بھی انصاف کی امید کرتا ہوں کہ کسی لکھاری کا استحقاق مجروح ہونے پرخاموش نہیں رہیں گے۔
لذتِ آشنائی
ایک تعارف کتاب ” لذتِ آشنائی”
انسان اس دنیا میں آنے کے بعد اسی وقت دریافت ہوتا ہے جب اسے اپنی شناخت کا احساس پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا وہ اسکے ابتدائی مراحل میں اپنے نام، کنبے، قبیلے ، قوم و ملت کی حیثیت سے اپنی پہچان حاصل کرتا ہے مگر اسکی تشنگی اسے انسانی ارتقاءکے مراحل کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں اسکے سامنے لاتعداد انسانی نظریا ت کا انبار لگا ہوا ہے جو کسی بھی طرح اک بحر بیکراں سے کم نہیں، یہیں انسانی ذہانت کے علمبردار اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہو ئے جو دنیائیں دریافت کرتے ہیں انکو بھی قلم بند کرکے علم کی ایک شمع روشن اور بلند کرتے ہیں، اور جاتے ہوئے اسے کسی علمی جانشیں کے سپرد کرکے عدم سدھار جاتے ہیں،جبکہ جلتی شمعوں کا یہ قافلہ اپنے اکتسابی عمل کی پیش رفت پر گامزن ہے، جسکے باعث آج دنیا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اور اب دنیا کسی بھی چھوٹے سے بچے کی سامنے انگلی کے صرف ایک اشارے پر موجود ہے یعنی ماﺅس کی ایک کلک کے فاصلے پر آگئی ہے۔
اکیسویں صدی میں افراد جوکہ پہلے زندگی کو دورخی سطح 2D یعنی اپنی ذاتی زندگی اور اپنی تہذیب ، پر گامزن دیکھتے اوراسکے پیچھے چلتے تھے اب انہیں سہہ رخی دنیا3D ،اس وسیع و عریض کرئہ عرض پر پھیلی ہوئی دوسری تہذیبوں سے بھی پالا پڑ رہا ہے جہاںاگر ایک طرف ان تہذیبوں کا ادغام ہے تودوسری طرف معلومات کا سیلاب انکے دروازے پر دستک دے رہا ہے ،البتہ یہاں افراد کا اپنی انفرادی و اکتسابی شناخت کو برقرار رکھنا ایک معنی خیز سوال بن چکا ہے مگر اجتمائی شناخت کے ثمرات اپنا اظہارضرور کرتے نظرآرہے ہیں، کیونکہ اس کرئہ عرض کے لاتعداد انسان ایک لازوال اور مربوط روابط کی بے مثال شرکت کے باعث اب ایک نیا ماورائی معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں، جہاں زندگی کاسفرانسانیت کے انفرادی درجہ سے ہٹ کر اجتمائی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس درجہ پر ماورائی شناخت کے ڈنکے الاًاعلانیہ بج رہے ہیں۔
دوسری افراد کی وہ شناخت ہے جو انسانیت کو الہامی ذرائع سے حاصل ہوئی،جسکے باعث نہ صرف انسان کا تہذیبی ، سماجی اور معاشی پہلو ارتقاءپذیر ہوا بلکہ انسانی شخصیت کی ساخت و پرواخت کاعمل بھی پیش پیش رہا، جبکہ افراد شعوری پستی کے گرداب سے نکل کر علم و آگہی کی کھلی فضا میں آگئے اور انفس و آفاق کی تسخیر پر گامزن ہوگئے، جبکہ اکتسابی عمل کی پیش رفت اور الہامی ذرائع ،دونوں مل کر، انسانیت کیلئے عظمت کی میراج بن گئے جسکے باعث اب زندگی تپتی دھوپ سے گھنی چھاوں میں آگئی ، سسکتی آہوں نے راحت کی ڈگرپرچلنا شروع کردیا اورافراد نے علم و عرفان کی وہ قلابیں ملائیں کہ جسے دیکھ کر عقل د نگ رہ جائے ، جہاں زندگی کا قافلہ صدیوں کو پچھاڑتا ہوا ، فتوحات کے محل تعمیر کرتا ہوا ،ازلی و ابدی جوش و خروش سے کامیابیوں کی ڈگر پر گامزن ہے،مگر یہاں انسان اپنی باطنی اور ذاتی شناخت کو کائناتی محل و وقوع میں تلاش کرنے لگا کہ کیا وہ کسی خود رو سلسلہءزندگی کی ایک کڑی ہے ، یا پھر کسی ایک مکمل نظا م سے مربوط ہے اور اسکا جزولاینفک ہے ؟
اس دنیا میں انسان کی ظاہری شناخت توپیش رفت پر گامزن ہے مگراس کی باطنی اور ذاتی شناخت اپنے اکتسابی عمل میں ابھی تشنہ ہے جس کے پیش نظر میں نے خود ساختہ انسانی ذہنی حدوں کو توڑنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کی کوشش کی ہے ، یہ ایسا ہی ایک عمل ہے جیسے سڑک پر چلتی پرانے ماڈل کی گاڑی ، جسم پر پہنا پرانا لباس ،گھر کا پرانا فرنیچر، پرانا کمپیوٹر حتیٰ کہ پرانا سافٹ ویئر توہمارے لیئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور یکسانیت سے دوچار کرتے ہیں، لہٰذا ہم انہیں اپنی زندگی سے دور پھنکنا پسندکرتے ہیں ،مگر اپنے ذہن میں ذخیرہ کردہ پرانی فرسودہ سوچیں ، مہمل مگر خوبصورتی سے سجائے ہوئے تصورات ، خواہشوں کے گرداب اور لایعنی نظریات کو لادے ہوئے چل رہے ہیں جوکہ نہ صرف انسانی ذہن کی بہتی رو کو کسی بند گلی تک پہنچا دیتے ہیں بلکہ اخلاقی پستی کی طرف لیجانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،جبکہ ہم انکو جاننا تو درکنار تبدیل کرنا بھی پسند نہیں کرتے اور انکے اثرات ہمیں اپنی باطنی اورذاتی شناخت سے دوری کیطرف لیجارہے ہیں ۔
تبدیلی کا عمل ہمیں قدرت کے قوانین سے ہم آہنگی کی نہج پر ڈال دیتا ہے جہاں یکسانیت کی بند گلی نہیں بلکہ جدت کے کھلے میدانوں میں چہل قدمی کا موقع ملتا ہے کیونکہ دن کے بعد رات ، صبح سے شام ، اندھیرے کے بعد روشنی ، خوشی اور غم یہ سب کچھ فطرت کا تبدیلی کی طرف اشارہ اورتسلسل ہے جو کہ ہمیں دعوت ِفکر دیتا ہے ، جبکہ سفرِ زندگی روانی پکڑتا ہے اور انسانی ارتقاءکا عمل بھی ایک صحت مند جذبے سے سرشار رہتا ہے اور اسی کے باعث اپنی ذات کی پہچان حاصل ہوتی ہے ، جبکہ لذتِ آشنائی ، ان افراد کیلئے ایک نسخہ کیمیاءہے جوباطنی شناخت کے عمل سے گزر رہے ہیں ۔
بلا شبہ الفاظ کی کھلاڑی وہ مشاق نشانہ باز ہوتے ہیں کہ انکا کوئی تیر بھی خطا نہیں جاتا ، اگر اسی کھیل ہی کھیل میں وہ ستم نہ ڈھائیں تو انسانیت کے شانے بلند کرتے نظر آتے ہیں اور اگر فاﺅل کھیلیں گے تو انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول دیتے ہیں جسکے ثمرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ، ایک اور طبقہ بھی انسانیت کی جڑوں میں زہر گھول رہا ہے جسکا محور صرف ناکامیوں اور دکھوں کو لذیذ بنا کر پیش کرنا اور کسی لذیذ ڈپریشن کےچنگل میں پھانسنا ہے، جبکہ اس مکتبہ فکر کی راہ مایوسیوں کا گرداب ہے اور بے نشان منزل کا شاخسانہ ہے اور نتیجہ میں حاصل بھی کچھ نہیں۔جبکہ اچھے نصیب کے متلاشی لوگ ناکامیوں اور نفرتوں کی شاموں میں اپنے آپ کو بعض اوقات ایسے ہی گرداب میں پھنسا لیتے ہیں اور جب اس سے بچنے کیلئے جتنے ہاتھ پاوں مارتے ہیں اور اتنا گہرا دھنستے چلے جاتے ہیں، ناکام زندگی سے ہمکنار رہبر اپنی ناکامیوں کو خوبصورت جواز بناتے ہوئے انہیں شیشے کے محل میں بٹھا کر کبھی شعر اور کبھی نثر میں الفاظ کے کھیل کھلواڑ کرتے انسانیت کو ڈس رہے ہیں، مگر ان کے اس چنگل سے دوری کیلئے لذت آشنائی ایک نسخہ کیمیاءسے کم نہیں، اچھی اور تحقیقی تحاریر بےشمار آفاقی حقیقتوں سے ہمکنارکرنے کے ساتھ ساتھ ذہن کے دریچے کھولنے میں، توانائیوں کو خوامخوہ ضائع ہونے سے بچانے میں، اور راہوں کو روشنی کے قمقموں سے سیراب کردینے میں پیش پیش ہوتی ہیں تاکہ کوئی بھٹکا مسافر بھی ان راہوں پہ آجائے تو اسے اپنی منزل کے نشاں مل جائیں، اور ان قمقموں کی روشنی میں شعوری پستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو پچھاڑ دیں کہ کبھی بھولے سے بھی غلط راہوں کی مسافر نہ بنے۔
آئیے زندگی کا ایک نیا محل تعمیر کرتے ہیں جو فقط چار ستونوں پر کھڑا ہو، کامیابی، صحت ، سکون اور محبت ، جی ہاں ! جہاں آپ بچپن سے لیکر آج تک ریت کے جومحلات ناآشنائی کے ماحول میں تعمیر کرتے رہے ہیں انہیں مسمار کریں اور لذتِ آشنائی کی دولت سے ہمکنار ہو کر اک نئی دنیا آباد کریں جہاں ہر طرف کامیابی ،صحت ، سکون اور محبت کا دور دورہ ہو جبکہ آشنائی کی لذت سے معمور لمحوں کو محفوظ کریںاورزندگی کے و ہ پل آشکار کریں جن میں زندگی اپنی لازوال جلوتوں کو نچھاورکرتی نظر آرہی ہو،اور جہاں آشنائی کا ایک ایک لمحہ ءزندگی حقیقتوں سے بھرپور ہو جبکہ زندگی کے وہ پل جو مسرتوں سے لبریز تھے ، مجھ پر آشکار ہوئے تو انہیں میں نے ان آشناءلمحوں میں مقید کیا جو اپنی پہچان کے باعث لازوال ہو گئے اب وہ میری پہلی تصنیف کی شکل میں آپکے سامنے موجود ہیں ۔بلا شبہ افکار ِ تازہ ہمیشہ بہتے پانی کی طرح پاکیزہ اور آئینہ کی طرح شفاف ہوتے ہیں۔یہ کتاب ادارہ دعا پبلیکیشنز(وصی شاہ) نے پبلش کی ہے اور آپ اسے اپنے نزدیک بک اسٹال سے یا دعا پبلیکیشنز سے ( یا مجھ سے بمع میرے دستخط ) حاصل کر سکتے ہیں۔
دعا گو
محمد الطاف گوہر……..لاہور
27 فروری 2010 ء
12 ربیع الاول 1431 ہجری
4700092-0300
4861380-0333
ناشر : وصی شاہ
دعا پبلیکیشنز ، اردو بازار لاہور
7233585-042
E-mail: guhar@msn.com




