احساسات کو زباں ہے میسر —!

لکھا تو لکھتا ہی چلا گیا، ہر احساس کو اک لفظ چاہیے اور جب الفاط کی بدلیاں احساسات کے آسماں پہ اکٹھی ہوتیں تو پھر خوب برستیں ہیں، جل تھل ہوجاتا ۔۔۔ قلم احساسات کا بہترین ترجماں ہے جو کبھی خاموش نہیں رہ سکتا، ہر دور میں کسی نہ کسی کی زباں بنتا رہا اور بنتا رہے گا۔ سیکھنے کا عمل ہر لحظہ جاری رہتا ہے چاہے کوئی اس میں شمولیت اختیار کرے یا کنارہ کشی کرے، افراد زندگی کی دوڑ میں ہر نئے دور میں نت نئے تجربات سے گزرتے ہیں اور آنے والی نسلیں گذشتہ نسلوں کا علمی سفر یقیننا” طے کر چکی ہوتی ہیں، اور وہ عہد جدید میں پنپنا خوب جانتے ہیں۔ دنیا کسی واضع تبدلی کی طرف گامنزن ہے، اس عہد میں شاید سچائی پہ کوئی خوبصورت ملمعہ کاری جچ نہ سکے، اب خبر اپنے حقیقی منبع سے اور ذرائع سے افراد تک پہنچتی ہے جسے شاید کوئی رنگ دینا مشکل ہو چکا۔ حالانکہ جدت کے ڈنکے علن علانیہ بج رہے ہیں مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں کچھ جمود بھی اپنا وجود رکھتا ہے۔ شعور ارتقا کی منازل طے کرتا پہچان کی سلطنت میں داخل ہوچکا ہے، وسائل کے انبار لگے ہیں شاید کوئی جستجو بیکار نہ رہے ۔۔۔ (محمد الطاف گوہر)

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 39 other followers